دعوتِ اسلام کا فریضہ اور اس کے تقاضے

   
۲۲ ستمبر ۱۹۹۸ء

ماہنامہ الفرقان لکھنو کے ایڈیٹر مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی ان دنوں ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری کی دعوت پر برطانیہ آئے ہوئے ہیں اور مختلف شہروں میں علماء کرام کے خصوصی اجتماعات اور عوامی تقریبات سے خطاب کر رہے ہیں۔ ’’الفرقان‘‘ برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش کے قدیم دینی جرائد میں سے ہے جس کا اجرا عالم اسلام کی معروف علمی شخصیت حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ نے کیا تھا اور کم و بیش پون صدی سے یہ جریدہ جنوبی ایشیا کی دینی صحافت میں وقار اور سنجیدگی کے ساتھ اسلام کی ترجمانی کے فرائض سر انجام دے رہا ہے۔ مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ کے فرزند ہیں، دارالعلوم دیوبند اور مدینہ یونیورسٹی کے فیض یافتہ ہیں، اور اسلام کی دعوت و تبلیغ کا خصوصی ذوق رکھتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے بھارت میں تبلیغی جماعت کے ذمہ دار حضرات میں شمار ہوتے تھے مگر اسلام کی دعوت و تبلیغ کے حوالہ سے ایک محدود دائرے پر قناعت نہ کر سکے اور مسلمانوں کو دین کی طرف واپس لانے اور ان کی دینی تربیت کے کام کو تبلیغی جماعت کے سپرد کرتے ہوئے خود غیر مسلموں کو اسلام کی طرف راغب کرنے اور ان تک اسلام کا پیغام پہنچانے کا کام سنبھال لیا۔

اس خطۂ زمین میں اسلام کی دعوت و تبلیغ کا عمل حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ اور حضرت سید علی ہجویریؒ المعروف داتا گنج بخش جیسے عظیم صوفیاء کرام کا ورثہ ہے۔ ان مشائخِ امت نے محبت اور اخلاق کے ذریعے اسلام کا پیغام اس سرزمین کے باشندوں تک پہنچایا اور لاکھوں پیاسے دلوں کو سیراب کر گئے۔ مگر بدقسمتی سے اس روایت کا تسلسل قائم نہ رہا اور ہم مسلمانوں نے صدیوں تک جنوبی ایشیا میں سیاست اور اقتدار پر اپنی گرفت کو ہی سب کچھ سمجھتے ہوئے محبت اور کردار کے ذریعہ اسلام کی دعوت و تبلیغ کی بساط لپیٹ کر ایک طرف رکھ دی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آٹھ سو سال کے بعد جب بادل چھٹے تو پورے جنوبی ایشیا میں پھیلاؤ کے باوجود ہم سیاست و اقتدار کے حوالہ سے شمال اور مشرق کے دو محدود دائروں میں سمٹنے پر مجبور ہوگئے۔

اسلام پوری نسل انسانی کا مذہب ہے اور اسے نسل انسانی کے ہر طبقہ، گروہ اور فرد تک پہنچانا ہم مسلمان کہلانے والوں کی ذمہ داری ہے۔ دنیا بھر کے انسانوں تک اسلام کا پیغام پہنچانے اور انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دینے کے لیے جو کچھ ہمیں کرنا چاہیے، یا معروضی حالات میں جو کچھ ہو سکتا ہے، سچی یہ بات ہے کہ اس وقت روئے زمین پر موجود ہم مسلمانوں سے اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہو پا رہا ہے۔ اور اگر کسی جگہ شخصی یا محدود تنظیمی سطح پر کچھ ہو بھی رہا ہے تو اس پر دعوت کے تقاضوں کی بجائے ہماری داخلی ترجیحات غالب ہیں اس لیے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے۔

بھارت کے داخلی حالات کے تناظر میں اس رخ پر کام کی ضرورت کا احساس ماضی قریب میں دیوبند کے ایک درد مند عالم دین اور دانشور مولانا شمس نوید عثمانیؒ نے اجاگر کیا جو پاکستان کے شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کے بھتیجے تھے۔ ماہانہ تجلی دیوبند کا مطالعہ کرنے والے حضرات ان سے بخوبی واقف ہیں۔ ان کا موقف اور تحقیق یہ ہے کہ ہندو مذہب قدیم ترین آسمانی مذاہب میں سے ہے اور ہندوؤں کی مذہبی کتاب ’’وید‘‘ کی تعلیمات بھی وہی ہیں جو دیگر آسمانی کتابوں توراۃ، انجیل، زبور اور قرآن کریم کی تعلیمات ہیں۔ لیکن برہمنوں اور پنڈتوں نے وید کو عام ہندو کی دسترس سے دور رکھا ہوا ہے تاکہ وہ اصل حقیقت سے آشنا نہ ہو سکیں۔ مولانا شمس نوید عثمانی مرحوم نے اپنی کتاب ’’اب بھی نہ جاگے تو‘‘ میں اپنی اس تحقیق کو دلائل کے ساتھ پیش کیا ہے اور بتایا ہے کہ دوسری آسمانی کتابوں کی طرح ’’وید‘‘ میں بھی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی واضح پیش گوئیاں موجود ہیں۔ اور دنیا کے نجات دہندہ کے حوالہ سے ایسی تصریحات پائی جاتی ہیں جو حضرت محمدؐ کے سوا تاریخ انسانی کی کسی دوسری شخصیت پر صادق نہیں آتیں۔ چنانچہ انہوں نے اسی تحقیق کی بنیاد پر بھارت کے ہندو معاشرے میں ماضی کے عظیم صوفیاء کرامؒ کی طرز پر ایک دعوتی تحریک کا آغاز کیا اور اہل علم کو دعوت دی کہ وہ اپنے اسلاف کی روایات کو زندہ کرتے ہوئے عام انسانوں کے ساتھ ربط بڑھائیں، ان کے دکھ درد میں شریک ہوں، اور انہیں اس بات کا احساس دلائیں کہ اسلام فی الواقع انسانیت کا مذہب ہے اور انسان کو دنیا کی فلاح اور آخرت کی نجات کی راہ دکھاتا ہے۔

مولانا سجاد نعمانی اسی فکر کے علمبردار ہیں اور مولانا شمس نوید عثمانی مرحوم کی وفات کے بعد اس تحریک کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی صدیوں کی مسلم ہندو کشمکش اور اس سے پیدا ہونے والی تلخیوں کے پس منظر میں اس کام کو آگے بڑھانا بہت مشکل دکھائی دے رہا تھا لیکن اس کی ضرورت بہرحال موجود تھی۔ اور یہ وقت کا تقاضہ تھا جسے اللہ تعالیٰ کے مقدس نام کے ساتھ شروع کیا گیا اور اس کے انتہائی حوصلہ افزا نتائج سامنے آرہے ہیں۔ اس تحریک کے دو میدان ہیں۔ ایک خدمت خلق کا میدان ہے کہ کسی قسم کی تفریق اور امتیاز کا لحاظ کیے بغیر معاشرہ کے نادار افراد کی خدمت اور انہیں ہر ممکن طور پر بنیادی ضروریات بالخصوص طبی سہولتیں فراہم کرنا۔ اس کے تحت یہ تحریک گزشتہ سال چالیس ہزار سے زائد افراد کو علاج معالجہ کی فری سہولتیں مہیا کر چکی ہے۔ جبکہ دوسرا میدان لوگوں کو مرنے کے بعد کی زندگی کی بہتری اور نجات کا بھولا ہوا سبق یاد دلانا اور سادہ انداز میں اسلام کی بنیادی تعلیمات سے روشناس کرانا ہے۔

مولانا سجاد نعمانی کا کہنا ہے کہ اس تحریک کے نتیجے میں ہزاروں لوگ متوجہ ہو رہے ہیں اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے حضرات مسلسل اسلام قبول کر رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے متعدد واقعات سنائے جن میں سے ایک کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک بار ٹرین میں سفر کر رہے تھے کہ نصف شب کے قریب کسی اسٹیشن سے سادھوؤں کا ایک گروہ ٹرین پر ان کے ڈبے میں سوار ہوا۔ ان میں ایک ضعیف العمر سادھو تھا جو ضعف اور سردی کے مارے کپکپا رہا تھا۔ انہوں نے اس بوڑھے سادھو کے لیے اپنی برتھ چھوڑ دی اور اسے کہا کہ وہ اس پر آرام کرے۔ پہلے تو ان سادھوؤں کو اس بات کا یقین ہی نہیں ہوا کہ کوئی مسلمان بالخصوص ایک مذہبی راہنما اور عالم دین نظر آنے والا مسلمان کسی ہندو سادھو کے لیے اپنی جگہ چھوڑ سکتا ہے۔ اس لیے ہچکچاہٹ اور تذبذب کی فضا کچھ دیر قائم رہی لیکن پھر ان کے اصرار پر وہ بوڑھا ہندو سادھو آرام کے لیے ان کی برتھ پر لیٹ گیا۔ صبح منزل مقصود پر پہنچ کر ٹرین سے اترے تو پلیٹ فارم پر وہ بوڑھا سادھو مولانا نعمانی کا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف لے گیا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ اور پھر اس کے ساتھ ہی اس کے منہ سے یہ جملہ نکلا کہ

’’لگتا ہے وہ وقت آگیا ہے-‘‘

مولانا کہتے ہیں کہ میں نے اس سے پوچھا کہ کون سا وقت آگیا ہے؟ تو اس نے ٹالنے کی کوشش کی کہ نہیں کوئی بات نہیں لیکن ان کی طرف سے اصرار بڑھا تو اس نے کہا کہ ہم اس وقت کا ایک عرصہ سے انتظار کر رہے ہیں کہ جب تم مسلمان یہاں کے عام لوگوں کے ساتھ وہی رویہ اختیار کرو گے جو تمہارے پیغمبر کا عام انسانوں کے ساتھ تھا اور اس کے نتیجہ میں تمہارے پیغمبر کا مذہب یہاں کے لوگوں میں پھیل جائے گا۔ یہ کہہ کر سادھو رخصت ہوگیا اور مولانا نعمانی کہتے ہیں کہ اس کے ان جملوں سے ان کا اپنے مشن کی صداقت پر یقین پہلے سے بڑھ گیا اور یوں محسوس ہوا کہ جیسے یہ سارا عمل کسی منظم منصوبہ بندی کا حصہ ہے جو دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہا ہے۔

مولانا سجاد نعمانی مختلف محافل میں عام مسلمانوں کے ساتھ ساتھ علماء کرام کو بھی ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلا رہے ہیں اور مختلف مفید نکات اٹھا رہے ہیں جن میں سے دو کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے علماء کرام سے کہا کہ وہ اس طرز عمل پر نظر ثانی کریں کہ ہم لوگ اپنے ماحول میں دین کی بات اسلام اور امت کی اجتماعی ضرورت کو سامنے رکھ کر نہیں کر رہے بلکہ اپنی اور اپنے مخاطبین کی سہولت کو بنیاد بنا کر کر رہے ہیں۔ اسی وجہ سے اسلام کے ہمہ گیر پہلوؤں کو موضوعِ گفتگو بنانے کی بجائے اپنے اپنے ذوق اور سہولت کے مطابق چند باتوں پر قناعت کیے ہوئے ہیں، جو بحیثیت عالم دین اپنے منصب اور ذمہ داریوں کے ساتھ انصاف نہیں، بلکہ یہ کم از کم الفاظ میں خیانت ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی اور اپنے مخاطبین کی سہولت نہ دیکھیں بلکہ دین اور ملت کی اجتماعی ضرورت کو سامنے رکھ کر اس کے مطابق بات کریں تاکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت کی ذمہ داریوں سے کسی نہ کسی حد تک عہدہ برآ ہو سکیں۔

دوسری بات انہوں نے یہ کہی کہ ہمارا یہ مزاج بن گیا ہے کہ دین کے جس شعبے یا دائرے میں ہم کام کر رہے ہیں اس کے سوا باقی سب شعبوں کی نفی اور تحقیر کے بغیر ہماری بات مکمل نہیں ہوتی۔ یہ سراسر زیادتی کی بات ہے اور دین کے اجتماعی تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ مولانا نعمانی نے اس سلسلہ میں دورِ صحابہؓ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اکابر صحابہ کرامؓ میں سے ہر بزرگ کا ذوق اور دائرہ کار الگ تھا۔ حضرت عمرؓ کا ذوق اور دائرہ کار الگ تھا جبکہ ان کے حقیقی بیٹے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کا ذوق اور دائرہ کار ان سے بالکل مختلف تھا۔ حضرت ابوہریرہؓ الگ شعبہ کے بزرگ تھے اور حضرت خالد بن ولیدؓ کا شعبۂ عمل ان سے بالکل مختلف تھا۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کی تگ و تاز کا میدان اور تھا جبکہ حضرت حسان بن ثابتؓ نے اس سے قطعی طور پر الگ شعبے کو اپنی سرگرمیوں کے لیے چنا تھا۔ یہ فطرت کی تقسیم تھی۔ اور اگر کسی میں حوصلہ ہے تو ان میں سے کسی ایک کے کام اور ذوق کو غلط کہہ کر دکھائے۔ مولانا نے کہا کہ اگر آپ میں سے کوئی شخص یہ چاہے کہ دین کے کام کا جو ذوق اور دائرہ کار اس کا ہے دنیا کے سب لوگ اسی میں آجائیں تو نہ صرف یہ کہ ایسا ممکن نہیں ہے بلکہ فطرت کے بھی خلاف ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کے قانون اور سنت کو تبدیل کرنے کے مترادف ہے جو کبھی اور کسی کے لیے نہیں بدلتی۔ اس لیے ہر شخص کو اس کے اپنے ذوق کے مطابق اس کے شعبہ کار میں کام کرنے دیجیے اور اس کی راہنمائی کر کے اسی شعبہ میں اس سے دین کا کام لیجیے۔ یہی فطرت کا راستہ ہے اور یہی جناب نبی اکرمؐ کی سنت ہے۔

مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی کے بارے میں کچھ عرصہ سے مختلف لوگوں سے طرح طرح کی باتیں سنتے آرہے تھے اور کچھ دوستوں کا یہ شکوہ بھی پیش نظر تھا کہ انہوں نے دین کی خدمت کا معروف راستہ چھوڑ کر الگ لائن اختیار کر لی ہے۔ لیکن جب ان سے ملاقات ہوئی، مختلف مجالس میں ان کی باتیں سنیں، اور باہمی گفتگو میں سوال و جواب کے مراحل سے گزرے تو یہ حقیقت سامنے آئی کہ انہوں نے لگے بندھے روایتی طریق کار کا دائرہ ضرور توڑا ہے لیکن کوئی نیا راستہ اختیار نہیں کیا۔ بلکہ وہ تو بہت پیچھے اور بہت ہی پیچھے خواجہ معین الدین چشتیؒ اور سید علی ہجویریؒ کی طرف لوٹ گئے ہیں جو شاید صرف ان کا فیصلہ نہیں، تاریخ اور فطرت کا تقاضہ بھی ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter