(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)
جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کے سامنے ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ ملک کے جو حالات ہیں وہ آپ حضرات دیکھ رہے ہیں اور آئندہ جو حالات آنے والے ہیں وہ ہم دیکھ رہے ہیں۔ حالات کیسے بھی ہوں، نہ پہلے ہم کبھی گبھرائے ہیں، نہ آئندہ ان شاء اللہ العزیز گبھرائیں گے، صورتحال کیسی بھی ہو اس کا سامنا کریں گے۔ بہت سے دوست مجھ سے صدارتی ریفرنڈم کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا کیا ہو گا؟ میں عرض کرتا ہوں کہ بھئی آپ ریفرنڈم کے لیے جائیں گے تب بھی یہ ہو جائے گا، نہیں جائیں گے تب بھی ہو جائے گا، حمایت کریں گے تب ہو جائے گا، مخالفت کریں گے تب ہو جائے گا، یہ ریفرنڈم تو رسم پوری کرنے والا معاملہ ہے، اصل بات تو طے ہو ہی گئی ہے۔
لیکن اس کے بعد کیا ہونے والا ہے، یہ ہمارے سوچنے کی بات ہے۔ اس کی ایک جھلک یہ ہے کہ ابھی تین دن ہوئے کہ پشاور ضلع کونسل میں ایک قرارداد آئی ہے، ملک کی خبر رساں ایجنسی این این آئی نے یہ جاری کی ہے۔ پشاور کی ضلع کونسل کی ایک با غیرت خاتون کونسلر کی طرف سے یہ قرارداد آئی ہے، اللہ تعالیٰ اسے جزائے خیر دے کہ اس نے ایک فتنے کی نشاندہی کی ہے۔ اس نے یہ بتایا ہے کہ صوبہ سرحد کے محکمہ تعلیم میں وزیر تعلیم کی تجویز پر اس کا فیصلہ ہوگیا ہے کہ سرکاری سکولوں میں قاری کلاس اور اسلامیات کے ٹیچرز کی اسامیاں ختم کر کے ان کی جگہ میوزک اور بیوٹیشن کی اسامیاں کھولی جائیں۔ قاری کی جگہ میوزک آئے گا اور اسلامیات کی جگہ بیوٹی پارلر چلانے کی تعلیم دی جائے گی۔ اس خاتون نے قرارداد میں کہا ہے کہ خدا کا خوف کرو، ہم اپنی بیٹیوں کو میڈونا نہیں بنانا چاہتے، ہم اپنی بیٹیوں کو مسلمان رکھنا چاہتے ہیں، تم نے یہ خرافات کرنی ہیں تو سرکاری سکولوں میں قاری کلاس اور اسلامیات کی سیٹیں ختم کر کے ان کی جگہ میوزک اور بیوٹیشن کی سیٹیں مت لاؤ۔
اس قرارداد کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے، اس کے متعلق تو ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا، لیکن اس سے ایک بات کی نشاندہی ہوئی ہے کہ ریفرنڈم کے بعد کیا ہونے والا ہے۔ کیا آپ حضرات یہ بات سمجھ رہے ہیں کہ حکمران اپنے پاؤں پکے کر کے کیا کرنا چاہ رہے ہیں، ان کا ایجنڈا کیا ہے، آگے ملک میں کیا ہونے والا ہے؟ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں اور ذہنی طور پر تیار رہیں کہ اس ملک میں اسلام، اسلامی اقدار، اسلامی عقیدہ، اسلامی احکام، ان کو بچانے کے لیے آپ کو ایک لمبی جنگ لڑنی پڑے گی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہمیں حوصلہ عطا فرمائیں، اور اس کے لیے وسائل نصیب فرمائیں، اور اس جنگ کو لڑنے کی توفیق عطا فرمائیں۔

