مسئلہ کشمیر اور سردار محمد عبد القیوم خان

   
۳۰ جون و یکم جولائی ۲۰۰۰ء

گزشتہ کالم میں آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار محمد عبد القیوم خان کے ساتھ ایک دو ملاقاتوں کے دوران ان کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں قارئین کو شریک کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ سردار صاحب کے ساتھ میری ملاقاتوں کا سلسلہ بہت پرانا ہے۔ مظفر آباد کے اقتدار کے لیے ان کی آنکھ مچولی کی سیاست بسا اوقات میری سمجھ سے بالاتر ہو جاتی ہے لیکن آج کے سیاستدانوں کی مجموعی کھیپ کو سامنے رکھتے ہوئے دو حوالوں سے ان کا وجود غنیمت محسوس ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ باخبر اور صاحب مطالعہ سیاست دان ہیں، کسی مسئلہ پر رائے قائم کرنے اور اظہار خیال کرنے سے پہلے اس کے تمام ممکنہ پہلوؤں کا جائزہ لینے کے عادی ہیں، اور مشاہدات و تاثرات کو ایک طرف لپیٹ کر رکھ دینے کی بجائے ان سے استفادہ کرتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ بنیادی دینی اور ملی معاملات میں وہ کسی لچک اور سمجھوتے کے قائل دکھائی نہیں دیتے۔ حتیٰ کہ میری اب تک کی معلومات کے مطابق اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بارے میں حالیہ ایک دو ڈھیلے بیانات کے علاوہ کسی بنیادی اور اصولی مسئلہ میں انہوں نے کبھی لچک نہیں دکھائی۔ البتہ اقتدار کی سیاست کے معاملات جدا ہیں اور اس میدان میں جب وہ اپنے معاصر اور حریف سیاستدانوں کے ساتھ ’’گلی ڈنڈا‘‘ کھیلتے ہیں تو منظر کچھ مختلف سا دکھائی دینے لگتا ہے۔

بہرحال گزشتہ دنوں دھیر کوٹ آزاد کشمیر میں ’’گروپ آف ایسوسی ایٹڈ جرنلسٹس‘‘ کی ایک تقریب میں خاصے عرصے بعد سردار محمد عبد القیوم خان سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے پرانے تعلقات کی یاد تازہ کرتے ہوئے دوسرے روز صبح اپنے گھر غازی آباد میں ناشتے کی دعوت دیتے ہوئے اس پر اصرار کیا تو مجھے اپنے پروگرام میں کچھ ردوبدل کرنا پڑا اور وعدہ کے مطابق جمعیۃ علماء اسلام آزاد جموں و کشمیر کے راہنما اور میزبان مولانا عبد الحئی آف دھیر کوٹ کے ہمراہ ناشتہ کے لیے سردار صاحب کے ہاں جا پہنچا۔

ان ملاقاتوں میں سردار صاحب کے ساتھ جن امور پر گفتگو ہوئی اور انہوں نے جن خیالات کا اظہار کیا ان سب امور کا تو اس کالم میں احاطہ مشکل ہے البتہ بعض اہم معاملات کے بارے میں ان کے خیالات کو اپنے الفاظ میں قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا۔

کارگل کا مشن

کارگل کے مسئلہ پر انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کو وہ بالکل صحیح سمجھتے ہیں اور اس میں مجاہدین اور دیگر متعلقہ اداروں نے جو کامیابی حاصل کی ہے اور بے پناہ ایثار، جدوجہد اور قربانیوں کے ساتھ وہ جس ہدف تک پہنچے ہیں وہ کشمیر کی تحریک آزادی کا ایک روشن باب ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی کارگل سے واپسی کے بارے میں میاں محمد نواز شریف کے فیصلے کو بھی وہ صحیح اور بروقت سمجھتے ہیں کیونکہ موسمی حالات کے پیش نظر مجاہدین کے لیے ہفتہ عشرہ سے زیادہ کارگل کی چوٹیوں پر مزید رہنا ممکن نہیں تھا اس لیے خود واپس آنے کی بجائے ہفتہ دس دن پہلے کسی کے کہنے پر واپس آجانے میں وہ کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ بالخصوص اس آپریشن کے ذریعہ دنیا کو مسئلہ کشمیر کی طرف توجہ دلانے کا ہدف حاصل کیا جا چکا تھا اور صدر امریکہ تک کے لیے اس میں دلچسپی کا اظہار ضروری ہوگیا تھا۔ البتہ میاں محمد نواز شریف نے کارگل کے بارے میں حال ہی میں جو بیان دیا ہے وہ غلط ہے اور یہ بیان دے کر انہوں نے نہ صرف اپنے اوپر بلکہ اپنے دوستوں اور مجموعی طور پر سیاستدانوں پر ظلم کیا ہے۔

خودمختار کشمیر کی تجویز

جموں و کشمیر کی خودمختاری کے سوال پر سردار صاحب نے کہا کہ انہوں نے کبھی ’’خودمختار کشمیر‘‘ کی حمایت نہیں کی بلکہ خودمختاری کے اس تصور کے خلاف رائے عامہ اور بین الاقوامی فورم پر کشمیری عوام کے جذبات کی ترجمانی سب سے زیادہ انہوں نے کی ہے اور وہ اس تصور کو کشمیری عوام کے خلاف سازش سمجھتے ہیں۔ اس لیے اگر وہ بھی خودمختاری کی بات کرنے لگیں گے تو پھر پیچھے کیا رہ جائے گا؟ البتہ مذاکرات کی میز پر کسی استثناء اور شرط کو وہ مناسب نہیں سمجھتے اور ان کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ جب ہمارا موقف بالکل واضح اور بے غبار ہے اور ہم اپنے موقف پر ناقابل تردید دلائل رکھتے ہیں تو ہمیں مسئلہ کشمیر کے بارے میں کسی بھی تجویز پر گفتگو سے انکار نہیں کرنا چاہیے اور دنیا کو یہ تاثر دینے سے گریز کرنا چاہیے کہ ہم کسی بھی حوالہ سے مذاکرات سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ اس طرح انکار کی ذمہ داری ہم پر آئے گی اور اس کا فائدہ بھارت کو ہوگا۔ مجھے یقین اور اعتماد ہے کہ مذاکرات کی میز پر بھارت کے ساتھ گفتگو کا آغاز کسی بھی تجویز سے ہو بالآخر حق خودارادیت کے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اصول پر ہی آئے گی اور اس کے سوا مسئلہ کے حل کا کوئی راستہ ممکن نہیں ہوگا۔ اس لیے ہم کسی تجویز پر بات کرنے سے کیوں گبھرائیں اور مذاکرات سے گریز کی ذمہ داری اپنے سر لینے کی بجائے اسے بھارت کے کھاتے میں کیوں نہ ڈالیں؟

’’خودمختار کشمیر‘‘ کے بارے میں سردار صاحب نے بتایا کہ ان سے ایک بڑے ملک کے نمائندہ نے اس سلسلہ میں بات کی تو انہوں نے کہا کہ ہم اس پر گفتگو کے لیے تیار ہیں لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ اس کے لیے تقسیم ہند کے اس بنیادی فارمولے پر نظر ثانی کرنا پڑے گی جس کے تحت برصغیر کی سینکڑوں ریاستوں کو پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کا حق دیا گیا تھا۔ اگر بھارت اس فارمولے پر نظر ثانی کرنے اور اسے ازسرنو طے کرنے کے لیے تیار ہے تو ہم بھی اس پر غور کرنے کے لیے حاضر ہیں۔ لیکن بھارت کو اس کے لیے تیار کرنے کی ذمہ داری ان قوتوں کی ہے جو مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے مجوزہ مذاکرات کے ایجنڈے میں خودمختاری کی تجویز کو شامل کرنے کے خواہشمند ہیں۔ اگر وہ بھارت کو تقسیم ہند کا فارمولا ازسرنو طے کرنے پر رضامند کر لیں تو ہم بھی اس پر گفتگو سے انکار نہیں کریں گے۔ لیکن اگر تقسیم ہند کا فارمولا بدستور موجود اور نافذ العمل ہے اور اس میں کسی ترمیم اور نظر ثانی کی گنجائش نہیں ہے تو پھر مسئلہ کشمیر بھی اس فارمولے کے تحت طے کرنا ہوگا اور اس کے لیے الگ راستہ اختیار کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

سردار محمد عبد القیوم خان کا کہنا ہے کہ کسی مسئلہ پر اپنے موقف سے دستبرداری اور اپنے موقف کے خلاف کسی تجویز پر گفتگو کے لیے آمادگی اس سے بالکل مختلف ہے۔ ان کے معترض کو ان دو باتوں میں فرق کرنا چاہیے اور محض کسی اخبار میں شائع ہونے والے ادھورے بیان کی بنیاد پر مخالفانہ بیان بازی پر نہیں اتر آنا چاہیے۔

مسئلہ کشمیر اور سازشیں

سردار محمد عبد القیوم خان نے مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے سازشوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ہمیں دشمن کی سازشوں سے خبردار ضرور رہنا چاہیے لیکن ان کو زیادہ شکوہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ دشمن کا تو کام ہی یہی ہے کہ اسے جب موقع ملے گا وہ سازش کرے گا، اس لیے ہر وقت سازشوں کا واویلا کرتے رہنا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ ہمارا کام یہ ہے کہ دشمن کو سازش کا موقع نہ دیں کیونکہ اسے زیادہ تر سازشوں کا موقع ہماری کمزوریوں اور غفلت کی وجہ سے ملتا ہے۔ اگر ہم اپنا کردار صحیح رکھیں گے اور چوکنا رہیں گے تو دشمن کو بھی سازشوں کو پروان چڑھانے کی گنجائش کم ملے گی۔

سردار صاحب نے سازشوں کا ذکر کرتے ہوئے کشمیر کے مسئلہ پر پاکستان اور بھارت کی پہلی جنگ بندی کا تذکرہ کیا اور کہا کہ یہ جنگ بندی بھی سازش تھی اور اس میں پاکستان کو جان بوجھ کر نقصان پہنچایا گیا۔ وہ خود جس بریگیڈ میں تھے اس کے سامنے بارہ مولا سے آگے تک کوئی رکاوٹ نہیں تھی اور کافی دور تک کا علاقہ کسی مزاحمت کے بغیر قبضہ میں لیا جا سکتا تھا لیکن انہوں نے قادیانی بریگیڈیئر سے پیش قدمی کی اجازت مانگی تو انہیں اجازت نہ دی گئی اور اس طرح ہم اچھے خاصے علاقے سے محروم ہوگئے۔ اس قسم کی سازشوں کی چھان بین ہونی چاہیے اور اہل قلم کو اس سلسلہ میں محنت کر کے انہیں بے نقاب کرنا چاہیے۔

اس ضمن میں سردار صاحب نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے متحرک عالمی اداروں اور مختلف ملکوں کے سفارتکاروں کی سرگرمیوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ ان میں سے ہر کوشش کو سازش تصور کرلینا درست نہیں ہے کیونکہ دنیا میں بہت سے حلقے ایسے موجود ہیں جو فی الواقع جنوبی ایشیا میں امن کے خواہاں ہیں اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مخلصانہ کوششیں کر رہے ہیں، اس لیے ہر کوشش کو سازش قرار دے کر مسترد کر دینا درست طرز عمل نہیں ہے۔ جبکہ یہ بات طے ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل اسی قسم کی بین الاقوامی کوششوں سے ہی نکلے گا اس لیے اگر ہم اپنے موقف پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہیں اور پورے شعور، ادراک اور آگہی کے ساتھ بین الاقوامی کوششوں سے استفادہ کریں تو ان مجموعی کوششوں کے درمیان میں سے اپنے لیے راستہ نکالنا کوئی مشکل بات نہیں ہے۔

جہاد کشمیر اور مجاہدین

جہاد کشمیر میں مجاہدین کی قربانیوں اور شہداء کے خون کا ذکر کرتے ہوئے سردار صاحب نے کہا کہ یہ ہماری تاریخ کا روشن باب ہے، ان عظیم مجاہدین کے ایثار اور قربانیوں کے نتیجہ میں ہی آج مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر زندہ ایشو کے طور پر موجود ہے اور صدر امریکہ سمیت عالمی رہنماؤں کو اس مسئلہ کے حل کے لیے پیش رفت کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر ستر ہزار شہداء کا تذکرہ کیا جاتا ہے لیکن ان شہداء کی تعداد کافی بڑھ چکی ہے جو میرے اندازے کے مطابق ایک لاکھ سے کم نہیں ہوگی۔ ان شہداء نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے آزادیٔ کشمیر کی جدوجہد میں نئی روح پھونک دی ہے اور ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ سردار صاحب نے کہا کہ جہاد کے حوالہ سے دو تین باتوں کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے۔

  1. ایک یہ کہ جہاد کا مطلب پوری دنیا کے کفر کو للکارنا اور اس کے خلاف صف آراء ہو جانا نہیں ہے اور نہ ہی دور نبوتؐ سمیت کسی دور میں ایسا ہوا ہے۔ ہماری جنگ ان کفار سے ہے جو ہمارے خلاف برسر جنگ ہیں اور یہ جہاد ہماری دینی ذمہ داری ہے۔ مگر پوری دنیائے کفر کے خلاف محاذ آراء ہو جانا ہمارے لیے ضروری نہیں ہے۔ اگر ہم شرعی اصولوں کے مطابق یہ بات واضح طور پر کہیں گے کہ دنیا کے ہر کافر کے خلاف ہماری جنگ نہیں ہے بلکہ ہم صرف ان کافروں کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں جو ہمارے خلاف صف آراء ہیں اور ہمارے جائز حقوق غصب کیے ہوئے ہیں تو عالمی سطح پر جہاد کے خلاف جو پراپیگنڈا ہو رہا ہے اس کا زور بھی ہم کم کر سکیں گے۔
  2. دوسری بات یہ ہے کہ میدان جنگ میں جہاد کے شرعی احکام اور آداب کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلہ میں واضح طور پر ہدایات دی ہیں کہ کون سے کافر کو مارنے کی اجازت ہے اور کسے مارنے کی اجازت نہیں ہے۔ غیر متعلقہ لوگوں کو تنگ کرنا، نہتے لوگوں کو قتل کرنا، اور بلاوجہ خوف و ہراس کی فضا قائم کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔ اگر ہم جہاد میں شرعی احکام اور آداب کو ملحوظ رکھیں گے تو ہمارے خلاف دنیا کو غلط پراپیگنڈا کا موقع نہیں ملے گا اور ہم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت اور برکات کے مستحق بھی ہوں گے۔
  3. تیسری بات یہ کہ مجاہدین کے مختلف گروہوں کی باہمی مخاصمت بالخصوص مسلکی فرق کے حوالہ سے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی خواہش بہت بڑے نقصان کا باعث بن سکتی ہے اور اس سلسلہ میں مجھے مستقبل قریب میں بہت بڑے خطرات و خدشات دکھائی دے رہے ہیں۔ اس لیے مجاہدین کے مختلف گروپوں کے قائدین کو صورتحال پر کڑی نظر رکھنا ہوگی۔ اس ضمن میں سردار محمد عبد القیوم خان نے بتایا کہ ۱۹۴۸ء کے جہاد کشمیر میں معروف مجاہد رہنما مولانا فضل الٰہی وزیرآبادیؒ نے، جو خود اہل حدیث مسلک سے تعلق رکھتے تھے، جب ہمارے ایک گروپ کو جہاد کے لیے رخصت کیا تو ہمارے گروپ میں شامل ایک پرجوش اہل حدیث مجاہد حافظ محمد یوسف گکھڑوی مرحوم کو بطور خاص یہ تلقین کی کہ آپ لوگ جس علاقہ میں جہاد کے لیے جا رہے ہیں وہ حنفیوں کا علاقہ ہے اس لیے وہاں رفع یدین اور آمین بالجہر جیسے فروعی مسائل چھیڑنے سے گریز کرنا ورنہ مشکلات پیدا ہوں گی اور جہاد کو نقصان پہنچے گا۔ اس تلقین کو آج پھر زندہ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ جہاد کشمیر میں ہر مسلک اور فقہی مکتب فکر کے لوگ شریک ہیں اور کشمیر کے عوام کی اکثریت پہلے سے ایک فقہی مسلک پر قائم ہے۔ اس لیے اگر مسلکی بنیاد پر کام کرنے والے مختلف جہادی گروہ جہاد کے عمل کے ساتھ ساتھ مسلک کی ترویج اور دوسرے مسالک کی مخالفت کے مشن کو بھی شامل کر لیں گے تو اس سے فساد پیدا ہوگا اور باہمی محاذ آرائی سے خوفناک صورتحال پیدا ہو جائے گی۔

سردار صاحب سے اور بھی بہت سے امور پر گفتگو ہوئی مگر طوالت کے خدشہ کے پیش نظر سب باتوں کا تذکرہ مشکل ہے۔ اور ضروری نہیں کہ سردار صاحب کے ان خیالات میں سے ہر بات سے ہمیں اتفاق ہو مگر ایک تجربہ کار، جہاندیدہ اور باخبر بزرگ سیاستدان کے طور پر ان کے ارشادات پر غور کرنا اور ان سے راہنمائی حاصل کرنا یقیناً ہمارے لیے فائدہ کی بات ہوگی۔

   
2016ء سے
Flag Counter