مسلم پرسنل لاء اور موجودہ عالمی صورتحال

   
۳۱ اگست ۱۹۹۹ء

۲۰ اگست ۱۹۹۹ء کو مرکزی جامع مسجد گلاسگو برطانیہ میں جمعیۃ اتحاد المسلمین کے زیراہتمام ایک نشست میں ’’مسلم پرسنل لاء‘‘ کے حوالہ سے کچھ گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا ان کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

کچھ عرصہ سے یورپ میں مختلف حلقوں کی طرف سے یہ آواز بلند ہو رہی ہے کہ مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کو پرسنل لاء میں اپنا جداگانہ تشخص تسلیم کرانے کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔ سرکردہ علماء کرام کی یورپی کونسل نے دو ماہ قبل جرمنی میں معروف سکالر ڈاکٹر محمد یوسف قرضاوی کی زیر صدارت اجلاس منعقد کر کے اس تجویز کی طرف دینی اداروں کو توجہ دلائی ہے اور برطانوی دارالامراء کے مسلمان رکن لارڈ نذیر احمد نے بھی ایک حالیہ تقریر میں اس کا تذکرہ کیا ہے۔ اس لیے اس بارے میں کچھ معروضات پیش کرنا چاہ رہا ہوں لیکن قبل اس کے کہ غیر مسلم اکثریت کے ملکوں میں مسلم اقلیتوں کے لیے مسلم پرسنل لاء کی اہمیت پر کچھ عرض کروں خود مسلم ممالک میں جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں اور جہاں مسلمانوں کی اپنی حکومتیں قائم ہیں مسلم پرسنل لاء کی صورتحال کے بارے میں گزارش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ کیونکہ ہمارے شخصی قوانین اور فیملی لاز خود مسلم ممالک میں خطرے میں ہیں اور مسلم حکومتوں پر بین الاقوامی طور پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنے ممالک میں عمومی قوانین اور خاص طور پر پرسنل لاء یعنی نکاح و طلاق اور وراثت سے متعلقہ قوانین کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لیے قرآن و سنت کے بیان کردہ ضابطوں میں تبدیلی کریں اور انہیں عالمی معیار کے مطابق بنائیں۔

اس سلسلہ میں بین الاقوامی معیار سے مراد اقوام متحدہ کا بنیادی حقوق کا چارٹر اور اس کی تشریح میں اقوام متحدہ کے مختلف اداروں اور کانفرنسوں کی قراردادیں ہیں جن کی بہت سی باتیں نکاح و طلاق اور وراثت کے بارے میں قرآن و سنت کے صریح احکام سے متصادم ہیں۔ اسی لیے بین الاقوامی اداروں اور لابیوں کی طرف سے مسلم ممالک سے یہ کہا جا رہا ہے کہ جب وہ اقوام متحدہ کے رکن ہیں اور اقوام متحدہ کے چارٹر پر دستخط کر چکے ہیں تو انہیں اس کے مطابق اپنے قوانین میں ترمیم کرنی چاہیے اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور اس کے اداروں کے فیصلوں کا احترام کرنا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کی بنیاد پر مروجہ بین الاقوامی قوانین اور قرآن و سنت کے شرعی احکام میں کیا فرق اور تضاد ہے؟ اس کو واضح کرنے کے لیے دو تین باتوں کو بطور مثال ذکر کرنا چاہوں گا۔

  1. بین الاقوامی قوانین کے مطابق کوئی بھی مرد اور عورت رنگ و نسل اور مذہب کے کسی امتیاز کے بغیر آپس میں آزادانہ مرضی سے شادی کر سکتے ہیں، مگر اسلام میں مسلمان عورت کا نکاح کسی غیر مسلم مرد سے نہیں ہو سکتا، اسی طرح مسلمان مرد بھی اہل کتاب کے علاوہ کسی اور مذہب سے تعلق رکھنے والی خاتون سے شادی نہیں کر سکتا۔ یہ ایک بنیادی فرق ہے جس کا اظہار آپ کے سامنے اس وقت ہوتا ہے جب یہاں کسی مغربی ملک میں کوئی مسلمان لڑکی کسی غیر مسلمان نوجوان کے ساتھ عدالت کے ذریعہ شادی کر لیتی ہے، لیکن جب آپ عدالت سے رجوع کرتے ہیں کہ اسلام اس شادی کی اجازت نہیں دیتا تو یہاں کی عدالت آپ کا اعتراض سننے کے لیے تیار نہیں ہوتی اور مروجہ بین الاقوامی معیار کے مطابق نہ صرف اس شادی کو جائز قرار دے دیتی ہے بلکہ یہاں کا سسٹم اس شادی کو مکمل تحفظ بھی فراہم کرتا ہے۔
  2. اسی طرح نکاح کا رشتہ ختم کرنے میں مروجہ بین الاقوامی قانون خاوند اور بیوی کا یکساں حق تسلیم کرتا ہے کہ دونوں میں سے جو بھی چاہے اس رشتہ کو ختم کر سکتا ہے۔ جبکہ اسلام نے نکاح کا رشتہ غیر مشروط طور پر ختم کرنے کا حق خاوند کو دیا ہے جسے قرآن کریم نے ’’بیدہ عقدۃ النکاح‘‘ کے ساتھ بیان کیا ہے۔ جبکہ عورت کو یہ حق براہ راست اور غیر مشروط طور پر نہیں دیا گیا بلکہ خلع کے عنوان سے عورت کا یہ حق عدالتی پراسیس کے ذریعہ تعلیم کیا گیا ہے۔ اس کی وجوہ کچھ بھی ہوں مگر یہ حقیقت ہے کہ اسلام عورت کو نکاح کا رشتہ ختم کرنے کا حق غیر مشروط طو رپر نہیں دیتا اور یہ بات مروجہ بین الاقوامی قانون سے متصادم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں برطانیہ میں کوئی مسلمان خاتون اپنے خاوند کو طلاق دے دے ؔتو کوئی عدالت خاوند کا یہ اعتراض سننے کے لیے تیار نہیں ہوگی کہ چونکہ شرعی قوانین کی رو سے طلاق دینے کا حق صرف اسے ہے اس لیے یہ طلاق واقع نہیں ہوئی۔ چنانچہ قانونی طور پر وہ طلاق واقع ہو جائے گی اور یہاں کا سسٹم اس طلاق کا تحفظ بھی کرے گا۔
  3. اس کے علاوہ وراثت کے معاملہ میں بھی قرآن کریم نے حصوں کی جو تقسیم کی ہے وہ واضح طور پر غیر مساویانہ ہے۔ خاوند کے فوت ہوجانے کی صورت میں بیوی کو ایک صورت میں آٹھواں اور دوسری صورت میں چوتھا حصہ ملتا ہے، اور بیٹی کا حصہ ہر صورت میں بیٹے سے نصف ہوتا ہے۔ جبکہ بین الاقوامی قانون اس سلسلہ میں برابری کا متقاضی ہے اور قرآن کریم کے بیان کردہ غیر مساویانہ حصوں کو غیر منصفانہ قرار دیتا ہے۔ لہٰذا جب وراثت کے قوانین کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کی بات کی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے بیان کردہ حصوں پر نظر ثانی کر کے ان میں ترمیم کی جائے۔

یہ تین مثالیں میں نے اس لیے دی ہیں تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ نکاح، طلاق اور وراثت کے باب میں قرآن و سنت کے بیان کردہ قوانین آج کے مروجہ بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہیں اس لیے اقوام متحدہ کے مختلف اداروں سمیت بین الاقوامی حلقوں کی طرف سے مسلم ممالک پر یہ دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنے قوانین میں رد و بدل کر کے انہیں بین الاقوامی معیار کے مطابق بنائیں۔

اس پر مسلم ممالک اور حکومتوں کا رد عمل تین طرح کا ہے۔

  1. ایک ردعمل ترکی کا ہے کہ اس نے پون صدی قبل ہی قرآن و سنت کے احکام سے اعلانیہ دستبرداری اختیار کر کے مغربی قوانین کو قبول کر لیا تھا اور وہ اپنے اس فیصلہ پر سختی کے ساتھ قائم ہے۔ بلکہ اگر ترکی میں اس حوالہ سے قرآن و سنت کے احکام کی طرف واپسی کا معمولی سا رجحان بھی نظر آنے لگتا ہے تو ریاستی قوانین اور ادارے اسے روکنے کے لیے پوری طرح سرگرم ہو جاتے ہیں۔
  2. دوسرا ردعمل امارت اسلامی افغانستان میں طالبان کی اسلامی حکومت کا ہے کہ وہ قرآن و سنت کے احکام کے ساتھ بے لچک وابستگی قائم رکھتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر اور اس کی بنیاد پر تشکیل پانے والے مروجہ بین الاقوامی قوانین کو قبول کرنے سے صاف انکار کر رہے ہیں۔ اور ان کا یہ انکار بھی اس بات کی ایک بڑی وجہ ہے کہ افغانستان کے ایک بڑے حصے پر کنٹرول اور دارالحکومت کا قبضہ حاصل کرنے اور اپنے زیر تسلط علاقے میں مکمل امن قائم کر لینے کے باوجود ان کی حکومت کو اقوام متحدہ میں تسلیم نہیں کیا جا رہا اور انہیں اقوام متحدہ میں افغانستان کی نشست سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
  3. ترکی اور افغانستان کے فیصلے تو دوٹوک اور غیر مبہم ہیں جو سب کے سامنے ہیں۔ لیکن ایک تیسرا ردعمل بھی ہے جو پاکستان سمیت بیشتر مسلم ممالک کا ہے کہ قرآن و سنت پر عملدرآمد کا ٹائٹل بھی ہاتھ میں رہے اور مغرب کو بھی مطمئن رکھا جائے۔ اس کے لیے ایک الگ راستہ اختیار کیا گیا کہ قرآن و سنت کے احکام و قوانین کی ایسی تعبیر و تشریح کی جائے جس سے قوانین کو مغرب کے معیار کے قریب تر لایا جائے۔ ہمارے ہاں اس سلسلہ میں سب سے پہلی کوشش صدر محمد ایوب خان مرحوم کے دور میں مسلم فیملی لاز آرڈیننس یعنی عائلی قوانین کے نفاذ کی صورت میں ہوئی تھی جس کی متعدد دفعات کو ملک کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے متفقہ طور پر قرآن و سنت سے متصادم قرار دیا لیکن اس کے باوجود وہ نافذ ہوئے اور ابھی تک ریاستی قوت کے بل بوتے پر مسلسل نافذ العمل ہیں۔ ان قوانین میں سے صرف ایک کی مثال دوں گا کہ نکاح کے فارم میں خاوند کی طرف سے عورت کو طلاق کا حق تفویض کر دینے کا خانہ رکھ کر ہم نے مغرب کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہم نے پاکستان میں عورت کو بھی طلاق کا حق دے دیا ہے۔ اسی سے باقی قوانین کے رخ کا بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

اب اقوام متحدہ کی قاہرہ اور بیجینگ میں ہونے والی خواتین کانفرنسوں کے بعد ان کی قراردادوں اور فیصلوں کی روشنی میں اگلے مرحلوں کی طرف پیش رفت ہو رہی ہے۔ اس سلسلہ میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک حاضر سروس جسٹس کی سربراہی میں قائم ہونے والی ’’خواتین حقوق کمیشن‘‘ نے کچھ عرصہ قبل جو سفارشات پیش کی ہیں وہ قانون سازی کے لیے وزارت قانون کی میز پر ہیں۔ ان میں واضح طور پر سفارش کی گئی ہے کہ عورت کو بھی مرد کی طرح طلاق کا مکمل حق دیا جائے اور وراثت کے حصوں کی غیر مساویانہ تقسیم ختم کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی عدالتوں میں بھی اس نوعیت کے فیصلے ہونے لگے ہیں مثلاً لاہور ہائیکورٹ نے ایک فیصلہ میں خلع کو عورت کا مساوی حق طلاق قرار دیا ہے اور سندھ ہائیکورٹ نے ایک فیصلہ میں وراثت میں بیٹی کے نصف حصے کو انصاف کے منافی قرار دے دیا ہے۔ اس طرح ہم نے قرآن و سنت کا ٹائٹل برقرار رکھتے ہوئے بین الاقوامی معیار کے قریب آنے کے لیے شرعی احکام کی نئی اور من مانی تعبیر و تشریح کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔

اس سلسلہ میں ایک بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ بین الاقوامی قوانین کے معیار کو پورا کرنے اور مغربی اداروں کو مطمئن کرنے کے لیے قرآن و سنت کے احکام و قوانین کی نئی تعبیر و تشریح کا یہ عمل مسلم ممالک کی حکومتوں اور حکومتی اداروں کا ہے جبکہ عام مسلمانوں اور ملت اسلامیہ کی رائے عامہ نے اس عمل کو قبول نہیں کیا۔ کیونکہ ہر مسلمان ملک میں دینی حلقے اور عام مسلمان قرآن و سنت کے احکام و قوانین کی اسی تعبیر و تشریح پر سختی سے عمل پیرا ہیں جو چودہ سو سال سے اجماعی طور پر چلی آرہی ہے اور وہ اس میں کسی قسم کا ردوبدل قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ دینی ادارے ہر جگہ اس کی مزاحمت کر رہے ہیں۔ چنانچہ ابھی بنگلہ دیش سے لندن آئے ہوئے ہمارے پرانے بزرگ مولانا محی الدین خان نے بتایا ہے کہ بنگلہ دیش کی ہائیکورٹ نے کومیلا کے ایک مقدمہ میں طلاق یافتہ خاتون کو سابقہ خاوند کی طرف سے زندگی بھر نان و نفقہ دیے جانے کا حکم صادر کر دیا تو سرکردہ علماء کرام نے شریعت کونسل قائم کر کے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور عدالت عظمیٰ نے علماء کرام کا موقف سننے کے بعد ہائیکورٹ کے فیصلے کو قرآن و سنت کے منافی قرار دے دیا۔

الغرض یہ ایک الگ کشمکش ہے جو مسلمان حکومتوں اور دینی حلقوں کے درمیان جاری ہے اور عام مسلمان ہر ملک میں قرآن و سنت کے حوالہ سے علماء کرام اور دینی حلقوں کے ساتھ ہیں۔

یہ قدرے تفصیل میں نے اس لیے عرض کی ہے تاکہ آپ حضرات کے سامنے وہ صورتحال واضح ہو جو اس وقت مسلم ممالک میں نکاح و طلاق اور وراثت کے اسلامی قوانین کے حوالہ سے مسلمانوں کو درپیش ہے۔ اسی بنیاد پر میں نے عرض کیا ہے کہ مسلم پرسنل لاء خود مسلم ممالک میں خطرہ میں ہیں اور انہیں مغربی ممالک کے قوانین سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک مسلسل عمل جاری ہے۔ اور صرف پرسنل لاء اور خاندانی قوانین کی بات نہیں بلکہ قرآن و سنت کے بہت سے دیگر احکام و قوانین بھی مغربی دباؤ کی زد میں ہیں۔ مثلاً اقوام متحدہ کے چارٹر کی ایک دفعہ میں کہا گیا ہے کہ کسی مجرم کو دی جانے والی سزا اہانت، ذہنی اذیت اور جسمانی تشدد سے خالی ہونی چاہیے۔ یعنی سزا ایسی ہو کہ اس میں مجرم کی توہین نہ ہوتی ہو، وہ ذہنی اذیت کا شکار نہ ہو اور اسے جسمانی تشدد کا نشانہ بھی نہ بننا پڑے۔ چنانچہ اس بنیاد پر ہاتھ کاٹنے، سنگسار کرنے، کوڑے مارنے اور کھلے بندوں عام لوگوں کے سامنے سزا دینے کے سب قواعد و ضوابط اس بین الاقوامی معیار کے منافی قرار پاتے ہیں۔جرائم کی شرعی سزاؤں کی بین الاقوامی اداروں کی طرف سے جو مخالفت ہوتی ہے اس کی وجہ یہی ہے اور جرائم کی شرعی سزاؤں کو بعض سیاسی لیڈروں کی طرف سے وحشیانہ اور ظالمانہ قرار دیے جانے کا پس منظر بھی یہی ہے۔

اس حوالہ سے مغرب والوں کا موقف تو سمجھ میں آتا ہے کہ بہت سے اسلامی احکام و قوانین ان کے بقول آج کے بین الاقوامی معیار کے منافی ہیں اس لیے اگر مسلم ممالک نے بین الاقوامی برادری کے ساتھ رہنا ہے تو انہیں اس کے احکام و ضوابط بھی قبول کرنا ہوں گے۔ اسی طرح بین الاقوامی اداروں کی یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ جن مسلم ممالک نے اقوام متحدہ کی رکنیت قبول کر کے اس کے چارٹر پر دستخط کیے ہوئے ہیں انہیں اس بین الاقوامی معاہدہ کی پابندی کرنی چاہیے۔ البتہ ان مسلم حکومتوں کا طرز عمل سمجھ سے بالاتر ہے جو بین الاقوامی معیار اور قرآن و سنت کے قوانین کو ساتھ ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کر رہی ہیں اور اس کوشش میں شرعی احکام کا حلیہ بگاڑ دینا چاہتی ہیں۔ اس سلسلہ میں ہمیں ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کی وہ بات پسند آئی ہے جو انہوں نے اقوام متحدہ کی پچاس سالہ تقریبات کے موقع پر مسلم حکومتوں کے سامنے رکھی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے بارے میں اقوام متحدہ کے دوہرے طرز عمل پر احتجاج کے طور پر مسلم ممالک کو اقوام متحدہ کی پچاس سالہ تقریبات کا بائیکاٹ کرنا چاہیے اور اقوام متحدہ کے چارٹر پر نظر ثانی کر کے اسے ازسرنو مرتب کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے، کیونکہ یہ چارٹر پچاس سال قبل ترتیب دیا گیا تھا جب اکثر مسلم ممالک غلامی کی حالت میں تھے جبکہ آج صورتحال بدل گئی ہے اس لیے عالم اسلام کے موقف اور پوزیشن کو سامنے رکھتے ہوئے اس چارٹر پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگرچہ اس وقت مہاتیر محمد کی یہ بات مسلم حکومتوں نے قبول نہیں کی لیکن یہی موقف حقیقت پسندانہ ہے اور مسلم ممالک کو بالآخر اسی موقف پر آنا ہوگا۔

یہ تو ہے صورتحال مسلم پرسنل لاء کے حوالہ سے خود مسلم ممالک کی۔ اب آئیے ان ممالک کی طرف جہاں مسلمان اکثریت میں نہیں ہیں۔ اس سلسلہ میں بھارت کے مسلمان مبارکباد کے مستحق ہیں کہ وہ تمام تر مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود اپنے خاندانی قوانین کا تحفظ کیے ہوئے ہیں اور حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کی سربراہی میں تمام مکاتب فکر کا مشترکہ ’’آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ‘‘ پوری قوت کے ساتھ مسلمانوں کے پرسنل لاء کے تحفظ کی جنگ لڑ رہا ہے۔ بھارت میں ’’کامن سول کوڈ‘‘ کے نفاذ کے نام سے مسلمانوں کے جداگانہ شخصی قوانین کو ختم کرنے کی مہم ایک عرصہ سے چل رہی ہے اور مسلمانوں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ قومی یکجہتی کی خاطر نکاح و طلاق اور وراثت میں اپنے جداگانہ مذہبی قوانین سے دستبردار ہو کر کامن سول کوڈ قبول کرلیں۔ چنانچہ یہاں بھی کامن سول کوڈ سے مراد وہی بین الاقوامی قوانین اور معیار ہے جس کا تذکرہ میں نے پہلے اقوام متحدہ کے چارٹر کے حوالہ سے کر دیا ہے۔ مگر انڈین مسلمان اس معاملہ میں بالکل بے لچک ہیں اور پرسنل لاء میں اپنے مذہبی احکام و قوانین کے تحفظ کا پوری طرح عزم کیے ہوئے ہیں جس پر وہ بلاشبہ تبریک و تحسین اور حوصلہ افزائی کے مستحق ہیں۔

جہاں تک مغربی ممالک کا تعلق ہے، میں نے چند ایسے مسائل کا ابتداء میں ذکر کر دیا ہے جن کا سامنا آپ حضرات کو یہاں درپیش ہے۔ مثلاً مسلمان لڑکی کی غیر مسلم لڑکے سے شادی، مسلمان بیوی کا عدالتی سسٹم کے ذریعہ خاوند کو طلاق دینا، اور وراثت کےحصوں کی غیر مساویانہ تقسیم۔ اس قسم کے مسائل آپ حضرات کو مسلسل پیش آتے ہیں اور آپ جب مذہب اور اپنی روایات کے حوالہ سے بات کرتے ہیں تو آپ کی بات قطعی طور پر نہیں سنی جاتی۔ لڑکیاں گھروں سے بھاگ جاتی ہیں، لڑکے باغی ہو جاتے ہیں، انہیں اس سلسلہ میں ریاستی سسٹم کی طرف سے مکمل تحفظ و پشت پناہی مہیا ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں بہت سے مسلم خاندان تتربتر ہو کر رہ جاتے ہیں۔

جبکہ عالمی صورتحال یہ ہے کہ پرسنل لاء اور کلچر میں ہر قوم کے جداگانہ تشخص کے حق کو اصولی طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ امریکہ میں یہودیوں کو پرسنل لاء بلکہ بزنس لاء میں بھی اپنے مذہبی قوانین پر عمل کرنے اور ان کے لیے الگ عدالتیں قائم کرنے کا حق حاصل ہے۔ یہاں برطانیہ میں بھی یہودیوں کو جداگانہ پرسنل لاء کا تحفظ حاصل ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو بھی پرسنل لاء میں اپنے جداگانہ تشخص کو تسلیم کرانے کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔ میں نہیں سمجھتا کہ یہاں کی حکومت کو اس سے کوئی انکار ہوگا کیونکہ اسی برطانیہ نے جب برصغیر پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور برما پر مشتمل متحدہ ہندوستان میں مغلوں سے اقتدار حاصل کیا تھا تو مغلوں کے دور سے چلا آنے والا عدالتی نظام ختم کر دیا تھا۔ اس وقت متحدہ ہندوستان کی عدالتوں میں فتاویٰ عالمگیری نافذ تھا جس کے مطابق مقدمات کے فیصلے ہوتے تھے۔ انگریزوں نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد اس عدالتی نظام کو ختم کر کے انگریزی قوانین نافذ کر دیے تھے جو اب تک چلے آرہے ہیں۔ لیکن انہوں نے پرسنل لاء یعنی نکاح و طلاق اور وراثت کے باب میں مسلمانوں کا یہ حق اس وقت بھی بحال رکھا تھا کہ وہ ان معاملات میں اپنے مذہبی قوانین پر عمل کر سکتے ہیں اور ’’محمڈن لاء‘‘ کے نام سے پرسنل لاء اور خاندانی قوانین میں مسلمانوں کا جداگانہ تشخص تسلیم کیا گیا تھا۔ چنانچہ اس دور میں جبکہ ہم برطانوی استعمار کے غلام تھے اور برطانیہ کی نوآبادی تھے ہمارے اس حق سے انکار نہیں کیا گیا تھا تو آج برطانیہ میں رہنے والے مسلمان غلام نہیں بلکہ برابر کے شہری ہیں تو ان کے اس حق کو تسلیم نہ کرنے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔

اس کے ساتھ میں یہ بھی عرض کرنا چاہوں گا کہ مسلم ممالک میں غیر مسلموں کو پرسنل لاء میں جداگانہ تشخص فراہم کیا گیا ہے۔خود پاکستان کے دستور میں ان کا یہ حق تسلیم کیا گیا ہے اور سب سے پہلے علماء کرام نے ۲۲ متفقہ دستوری نکات میں اس اصول کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا کہ پرسنل لاء میں تمام اقلیتوں کو اپنے مذہبی احکام پر عمل کرنے کی آزادی ہوگی۔ اس لیے جب پاکستان میں عیسائی اقلیت اور دیگر اقلیتوں کو یہ حق دینے سے انکار نہیں کیا گیا تو برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک میں مسلمانوں کا یہ حق تسلیم کرنے میں بھی کوئی حجاب نہیں ہونا چاہیے۔

ان گزارشات کے ساتھ میں مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں سے عرض کروں گا کہ وہ اپنے خاندانی نظام کے تحفظ کی طرف توجہ دیں اور پرسنل لاء میں اپنا جداگانہ تشخص تسلیم کرانے کے لیے منظم جدوجہد کا آغاز کریں کیونکہ اس کے بغیر وہ خاندانی نظام کے حوالہ سے درپیش ان مسائل اور مشکلات سے نجات حاصل نہیں کر سکیں گے جنہوں نے مغرب میں رہنے والے ہر حساس اور دیندار مسلمان خاندان کو پریشان کر رکھا ہے۔ لیکن جدوجہد سے میرا مقصد لڑائی جھگڑا اور بے تکا شور و غوغا نہیں ہے بلکہ جدوجہد سے مراد یہ ہے کہ معقولیت اور منطق کے ساتھ اپنا موقف متعلقہ اداروں اور شخصیات کے سامنے پیش کیا جائے، اس کے لیے لابنگ کی جائے، بریفنگ کی جائے اور رائے عامہ کو موثر طریقہ سے ہموار کر کے مغرب کی حکومتوں کو اس کے لیے آمادہ کیا جائے کہ وہ مسلمانوں کے اس مسلمہ حق کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے اپنے ملکوں میں اسے دستوری تحفظ فراہم کریں۔

   
2016ء سے
Flag Counter