قومی خود مختاری، ملک کا اسلامی تشخص اور بین الاقوامی معاہدات

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۲۰ نومبر ۲۰۱۲ء کی خبر کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ’’ریکوڈک معاہدہ‘‘ کے بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور آبزرویشن دی ہے کہ بلوچستان حکومت کو معاملہ اسمبلی میں لے جانا چاہیے تھا، اگر کوئی بین الاقوامی معاہدہ ملک کے قوانین کے خلاف ہے تو اسے تحفظ حاصل نہیں ہوتا، پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور اس کے ساتھ عالمی معاہدوں میں ملک کے قوانین کا پورا پورا خیال رکھا جانا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۲ء

علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ کی المناک وفات

گزشتہ شمارہ کے ادارتی صفحات میں ہم نے لاہور کی اہل حدیث کانفرنس میں بم کے دھماکے کی المناک واردات پر تبصرہ کرتے ہوئے اس میں زخمی ہونے والے دو اہل حدیث راہنماؤں علامہ احسان الٰہی ظہیر اور مولانا حبیب الرحمان یزدانی کے لیے دعائے صحت کی اپیل کی تھی لیکن مشیت ایزدی سے دونوں راہنما زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مکمل تحریر

۳ اپریل ۱۹۸۷ء

قرآن و سنت کی تعلیم و تدریس میں حکومتی ذمہ داری

پنجاب اسمبلی نے گزشتہ دنوں ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے حکومت سے سفارش کی ہے کہ قرآن کریم کو سرکاری تعلیمی اداروں کے نصاب تعلیم کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے اور اس کی تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے وسائل فراہم کیے جائیں۔ روزنامہ اسلام لاہور ۹ مارچ ۲۰۱۲ء کی خبر کے مطابق یہ قرار داد ایک خاتون رکن اسمبلی محترمہ عاصمہ ممدوٹ نے پیش کی ہے جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۲ء

اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۱۹ مارچ ۲۰۱۲ء میں شائع ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ ’’اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے پارلیمنٹ کو بھجوائی گئی ۹۵ ہزار کے قریب سفارشات اور ۷۰ کے لگ بھگ رپورٹیں قانون سازی کا حصہ بننے کی بجائے کاغذوں کی نذر ہو کر رہ گئی ہیں اور ان رپورٹوں کو اب تک کسی ایجنڈے کا حصہ نہیں بنایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۲ء

نو مسلم خواتین کے مسائل اور تحفظات

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۸ مارچ ۲۰۱۲ء کی ایک خبر کے مطابق نو مسلم خواتین کے حقوق اور مسائل کے حوالہ سے کام کرنے والے ادارہ ’’شرکت گاہ‘‘ کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن فوزیہ وقار اور عورت فاؤنڈیشن لاہور ریجن کی نسرین زہرہ اور ممتاز نے کہا ہے کہ: ’’پاکستان میں مذہب تبدیل کرنے والی خواتین کو مکمل تحفظ اور حقوق حاصل نہیں ہو سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۲ء

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ اور قادیانی

ملک کے ممتاز صحافی اور کالم نویس جناب خوشنود علی خان نے اپنے ایک حالیہ کالم میں انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد میں وسیع تر اراضی پر تعمیر ہونے والے نئے امریکی سفارت خانہ کی تعمیر و منصوبہ بندی کا کام قادیانیوں کے حوالہ کر دیا گیا ہے اور کم و بیش دو سو قادیانیوں پر مشتمل عملہ اس منصوبہ میں مصروف عمل ہے۔ اسلام آباد میں نئے امریکی سفارت خانے کی تعمیر کی جو تفصیلات اخبارات کے ذریعے سامنے آئی ہیں ان پر بجائے خود عوامی حلقوں کی طرف سے تحفظات کا اظہار ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۲ء

سزائے موت ختم کرنے کی تیاری

روزنامہ ایکسپریس فیصل آباد ۲۴ مئی ۲۰۱۲ء میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ پاکستان میں سزائے موت ختم کر دی جائے گی، اس ضمن میں مسوّدہ قانون تیاری کے آخری مراحل میں ہے، انہوں نے کہا کہ نئے مجوزہ قانون کے تحت تعزیرات میں سزائے موت ختم کر دی جائے گی جبکہ حدود قوانین میں بدستور یہ سزا قائم رہے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۲ء

غریبوں کے قرضوں پر تین گنا سود

روزنامہ اسلام لاہور ۲۴ اپریل کی خبر کے مطابق جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الغفور حیدری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اگلے بجٹ میں غریب عوام کے لیے رہائشی سہولیات اور بینکوں سے حاصل کردہ قرضوں پر سود کی معافی کی سکیم کا اعلان کرے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت غریب عوام کو ریلیف دینے کی بجائے انہیں بے گھر کر رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سیاستدانوں، وڈیروں اور جاگیرداروں کے اربوں روپے کے قرضے معاف کر دیے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۲ء

عالمی رابطہ ادب اسلامی

۱۲ اپریل کو پنجاب یونیورسٹی کے شیخ زاید اسلامک سنٹر میں عالمی رابطہ ادب اسلامی کے زیر اہتمام ’’اخلاقی ادب اور قیام امن کا چیلنج‘‘ کے عنوان پر منعقدہ ایک روزہ قومی سیمینار میں شرکت اور اس کی ایک نشست میں بطور مہمان خصوصی کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع ملا۔ عالمی رابطہ ادب اسلامی مسلم ارباب فکر و دانش کا عالمی سطح کا فورم ہے جس کا قیام اپریل ۱۹۸۱ء کے دوران ندوۃ العلماء لکھنو میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کی دعوت پر منعقد ہونے والے ایک عالمی سیمینار کے موقع پر عمل میں لایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۲ء

سرکاری دفاتر میں اردو زبان کی ترویج کا مسئلہ

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۴ اپریل کی خبر کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شیخ عظمت سعید نے اردو کو دفتری زبان قرار دینے کے لیے دائر درخواست پر وفاقی حکومت سے دس روز میں جواب جبکہ اٹارنی جنرل آف پاکستان کو عدالتی معاونت کے لیے طلب کر لیا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل اےکے ڈوگر نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان میں اب بھی انگریزی کو دفتری زبان کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۲ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter