انجمن خدام الدین کی سرگرمیاں، حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کے قلم سے

اجتماع میں مسلسل پانچ روز تک روحانی تربیتی محافل ہوتی رہیں، ذکر الٰہی، درود شریف اور مراقبہ کے روحانی اعمال کا سلسلہ جاری رہا۔ اس موقع پر انجمن خدام الدین کے مقاصد اور سرگرمیوں کے حوالہ سے حضرت مولانا عبید اللہ انور قدس اللہ سرہ العزیز کا تحریر فرمودہ ایک مضمون تقسیم کیا گیا۔ حضرت رحمہ اللہ تعالیٰ میرے شیخ و مرشد تھے اور میں انہی کے حوالہ سے راشدی کہلاتا ہوں۔ اس لیے برکت کی خاطر ان کی تحریر کو من و عن اپنے کالم کا حصہ بنا رہا ہوں۔ حضرت شیخ ؒ فرماتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ جولائی ۲۰۱۶ء

جرمن وزیرخارجہ کے اعلان کا خیرمقدم

سب سے پہلے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اس وقت اسلام اور مغرب کے درمیان کشمکش کی جو فضا موجود ہے اور جس کی سنگینی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس کے اسباب کیا ہیں، اور کیا صرف مذہبی تعلیمات کی وجہ سے یہ تصادم رونما ہوا ہے؟ ہمارے خیال میں اصل صورتحال یہ نہیں ہے اور بنیادی طور پر اس نکتہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اصل قصہ یہ ہے کہ مغرب نے مذہب کو ’’آؤٹ آف ڈیٹ‘‘ قرار دے کر کباڑ خانے میں پھینک دیا ہے اور مغرب کے پورے نظام، فکر و فلسفہ اور معاشرت کی بنیاد لا مذہبیت پر بلکہ مذہب کے معاشرتی کردار کی نفی پر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ فروری ۲۰۰۳ء

سعودی عرب کی مجوزہ سیاسی اصلاحات

جب بھی اسلامی نظام حکومت کی بات ہوتی ہے ایک شخص،گروہ، یا خاندانی آمریت کا تصور ہی ذہنوں میں ابھرتا ہے اور اس حقیقت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ اسلام کا آئیڈیل نظام مذکورہ حکومتیں نہیں بلکہ خلافت راشدہ کا نظام ہے۔ خاندانی خلافتوں اور طاقت کے بل پر قائم ہونے والی حکومتوں کو مختلف ادوار میں برداشت ضرور کیا گیا ہے جس طرح ہمارے ہاں نظریۂ ضرورت بلکہ نظریۂ مجبوری کے تحت آئین سے ماورا حکومتوں کو برداشت کر لیا جاتا ہے۔ لیکن ایسی حکومتوں کو نہ تو آئیڈیل تسلیم کیا جا سکتا ہے اور نہ اسلامی دستور کی تشکیل میں انہیں بنیاد بنایا جا سکتاہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ فروری ۲۰۰۳ء

جنوبی ایشیا میں دینی مدارس کے معاشرتی کردار پر ایک سرسری نظر

دینی مدارس کی ان خدمات کی وجہ سے مغربی استعمار انہیں اپنی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے اور ان مدارس کو ختم کرنے یا سرکاری کنٹرول میں لا کر بے اثر بنانے کے لیے وقتاً فوقتاً منصوبے بنتے رہتے ہیں۔ جبکہ یہ دینی مدارس سمجھتے ہیں کہ ان کی مذکورہ بالاخدمات اور کارکردگی کا تسلسل و اثرات صرف اسی صورت میں باقی رہ سکتے ہیں جب وہ سرکاری مداخلت سے آزاد ہوں، مالی طور پر خود مختار ہوں، اور نصاب و نظام کے معاملات خود ان کے اپنے کنٹرول میں ہوں۔ ورنہ ورلڈ اسٹیبلشمنٹ کے زیر اثر ریاستی مشینری کو مداخلت کا موقع دینے سے دینی مدارس کا یہ سارا نظام مجروح ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ فروری ۲۰۰۳ء

ترکی اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ایک اجلاس

ضرورت اس امر کی ہے کہ ایران اور سعودی عرب دونوں سے اس مسئلہ پر بات کی جائے، دونوں کی باہمی شکایات کا جائزہ لیا جائے اور اس تنازعہ کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے دونوں کو ایک میز پر لایا جائے۔ ظاہر بات ہے کہ عالمی قوتوں سے اس بات کی توقع نہیں کی جا سکتی اس لیے کہ وہ خود اس آگ کو بھڑکانے میں خاص دلچسپی رکھتی ہیں اور اسی میں وہ اپنا مفاد سمجھتی ہیں۔ اس لیے عالم اسلام کو ہی اس سلسلہ میں کوئی کردار ادا کرنا ہوگا اور اس کے لیے سب سے اہم کردار او آئی سی کا بنتا ہے کہ وہ خاموش تماشائی بنے رہنے کی بجائے اس معاملہ میں متحرک ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جولائی ۲۰۱۶ء

دنیا نیوز کا انٹرویو

خواتین کے معاملے میں مذہبی ردعمل کی بات تو کی جاتی ہے لیکن مثبت باتوں کو عوام تک نہیں آنے دیا جاتا۔ اسلامی معاشرے میں خواتین کا کردار کم از کم وہ نہیں ہو سکتا جو مغرب چاہتا ہے۔ کیونکہ اسلام عورت کو ایک فطری دائرے میں رکھتا ہے جسے نظر انداز کرنے کی وجہ سے مغرب کا اپنا خاندانی نظام تباہ ہو چکا ہے اور اب وہ خواتین کے حقوق کے نام پر ہمارے خاندانی نظام کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔ مغرب کے دانشور خود خاندانی نظام کی طرف واپس جانا چاہتے ہیں مگر ہمیں اس نظام سے محروم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ جولائی ۲۰۱۶ء

مغربی روٹ پر ایک روحانی سفر

ہمارے سفر کی اصل منزل چودھواں ہی تھی کہ برادرم مولانا عبد القیوم حقانی کے ارشاد پر دارالعلوم عربیہ حنفیہ کے سالانہ جلسہ میں حاضری کا وعدہ کر رکھا تھا جو ہمارے بزرگوں مولانا مفتی عطاء محمدؒ ، مولانا عبد المنانؒ ، مولانا عبد الحقؒ ، اور قاری محمد رفیقؒ کی یادگار ہے۔ اور یہ ادارہ مولانا مفتی محمد یونس کی محنت و کاوش سے بنین و بنات دونوں شعبوں میں ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ دستار بندی کے ساتھ ساتھ بخاری شریف کے افتتاحی سبق کا پروگرام بھی تھا۔ فیصل آباد کے مولانا اصغر علی نے یہ فریضہ سر انجام دیا اور اس سے دارالعلوم مذکور میں پہلی بار دورۂ حدیث کا آغاز ہوگیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جولائی ۲۰۱۶ء

عبد الستار ایدھی مرحوم

عبد الستار ایدھی مرحوم کی زندگی سماجی خدمت سے عبارت تھی۔ خدمت، خدمت اور خدمت ان کا واحد مقصد تھا۔ وہ اسی کے لیے جیے اور اسی راہ میں چلتے چلتے سفر آخرت پر روانہ ہوگئے۔ وہ نہ تو پڑھے لکھوں میں شمار ہوتے تھے اور نہ ہی مال و دولت میں ایک عام شخص سے زیادہ کوئی مقام رکھتے تھے۔ انہیں ان کی داڑھی اور سادگی کے باعث مولانا ایدھی کہہ دیا جاتا تھا لیکن وہ نماز روزے کی واجبی تعلیم سے زیادہ دین کا علم نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی انہیں اس کا دعویٰ تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ جولائی ۲۰۱۶ء

نام کے بھی اثرات ہوتے ہیں!

جہاز کی کپتان محترمہ کیپٹن عائشہ رابعہ کی طرف سے اعلان ہوا کہ جہاز اتارنے کے لیے لاہور کا موسم سازگار نہیں ہے اس لیے اگر مناسب موقع نہ ملا تو ہم کراچی واپس چلے جائیں گے۔ میں پہلے ہی اپنے طے شدہ شیڈول سے لیٹ ہوگیا تھا، جبکہ میرے لیے طے شدہ پروگرام میں گڑبڑ سب سے مشکل مسئلہ ہوتی ہے، اس لیے پریشانی ہوئی کہ ایک دن اور لیٹ ہو جاؤں گا۔ دل میں کئی بار خیال آیا کہ کیپٹن عورت ذات ہے شاید رسک نہ لے۔ پھر خیال آیا کہ نام عائشہ ہے ممکن ہے ہمت کر ہی لے۔ اسی شش و پنج میں کم و بیش نصف گھنٹہ تک جہاز فضا میں بادلوں کے اوپر چکر کاٹتا رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ جولائی ۲۰۱۶ء

شعر و شاعری کی اہمیت و ضرورت

شعر فی نفسہٖ حضورؐ نے استعمال بھی کیاہے اور اس کی تعریف بھی کی ہے، آپؐ نے شعر سنے بھی ہیں اور سنائے بھی ہیں۔ نفی کا مطلب مطلقاً نفی نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ شاعر ہونا حضورؐ کے شایان شان نہیں۔ مطلقاً شعر کا وجود ایک ذریعہ ہے جو اظہار کے طور پر پہلے بھی موجود رہا ہے، آج بھی ہے اور قیامت تک رہے گا۔ آنحضرتؐ نے شعر وشاعری کو اسلام کی دعوت و دفاع کے لیے استعمال کیا ہے، حضورؐ خود شعر نہیں کہتے تھے لیکن شعر کو حُدی، رجز اور غزل کے طور پر آپؐ کے سامنے پڑھا گیا ہے جس پر آپؐ داد بھی دیتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۴ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter