کیا طالبان تنہا ہو گئے؟

   
تاریخ : 
۵ جنوری ۲۰۰۰ء

افغانستان میں امریکی اتحاد کی پشت پناہی سے قائم ہونے والی نئی حکومت کے سربراہ حامد کرزئی نے کہا ہے کہ ’’ملا محمد عمر مجرم ہیں، اس لیے اگر وہ گرفتار ہوئے تو انہیں عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے گا‘‘۔ ادھر امریکی اتحاد کا ترجمان بھی بار بار کہہ رہا ہے کہ ’’ملا محمد عمر کا بچ نکلنا ہمیں منظور نہیں ہے، اس لیے نئی حکومت کو انہیں بہرحال گرفتار کرنا ہوگا‘‘۔ جبکہ ملا محمد عمر نے اپنے رفقاء سے صلاح و مشورہ کرنے کے بعد قندھار خالی کر کے شہر کا کنٹرول ایک پرانے مقامی کمانڈر ملا نقیب اللہ کے سپرد کر دیا ہے، اور اب شہر کے کنٹرول کے لیے ملا نقیب اللہ اور اس کے حریف کمانڈروں کے درمیان جنگ جاری ہے۔

طالبان قیادت سردست روپوش ہو گئی ہے اور ہتھیار ڈالنے کے بجائے ہتھیار، گاڑیاں اور دیگر سامان ساتھ لے کر پہاڑوں کی طرف نکل گئی ہے۔ اس لیے اب اس بات کا امکان بڑھتا جا رہا ہے کہ طالبان نے حکومت سے دستبرداری اختیار کر کے اپنے لیے گوریلا جنگ کا میدان چن لیا ہے اور اگرچہ انہیں دوبارہ منظم ہونے میں اور گوریلا وار کا آغاز کرنے میں ابھی کچھ وقت لگے گا، لیکن یہ وقفہ عارضی ہو گا، اور وہ پہاڑوں میں بیٹھ کر امریکی اتحاد کی فوجوں اور ان کی پشت پناہی سے قائم ہونے والی کابل حکومت کے خلاف اسی طرز کی جنگ لڑیں گے جو انہوں نے افغانستان میں روسی تسلط کے بعد فوجوں اور ان کی حمایت سے قائم ہونے والی حکومت کے خلاف لڑی تھی۔

عام طور پر کہا جاتا ہے کہ اگر طالبان نے امریکی اتحاد کے خلاف گوریلا جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا تو انہیں باہر سے کوئی تعاون نہیں ملے گا اور وہ یہ جنگ مؤثر طریقہ سے نہیں لڑ سکیں گے، لیکن یہ غلط ہے، کیونکہ

  • اگر امریکی اتحاد اپنی بنائی ہوئی حکومت کو چھوڑ کر واپس چلا جاتا ہے تو اس حکومت میں اپنا وجود برقرار رکھنے اور طالبان کا سامنا کرنے کی سکت نہیں ہو گی۔ اور اس صورت میں طالبان کو اپنی سابقہ پوزیشن کی بحالی کے لیے زیادہ سازگار ماحول مل جائے گا۔
  • اور اگر امریکہ اور روس کے اتحادی اپنے اہداف و مقاصد کے حصول اور اپنی حکومت کے تحفظ کے لیے افغانستان میں مستقل ڈیرے ڈال لیتے ہیں، جیسا کہ ان کے اقدامات و اعلانات سے نظر آ رہا ہے، تو اردگرد کے جن ممالک کے لیے امریکی اتحاد کی افغانستان میں موجودگی خطرہ کا باعث بن سکتی ہے، ان کے لیے مزاحمتی قوت کو سپورٹ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ اور انہیں خواہی نخواہی پر اس تحریک اور جدوجہد کا ساتھ دینا ہو گا جو افغانستان میں امریکی تسلط کے خاتمہ کے لیے مصروفِ عمل ہوگی۔

اس لیے وقتی مشکلات اور عارضی پسپائی کے باوجود مستقبل کا نقشہ اتنا مایوس کن نہیں ہے۔ اور اگر طالبان قیادت نے نئی صف بندی کے ساتھ اس خطہ میں امریکی افواج کی موجودگی کے خلاف گوریلا طرز کی مزاحمت کا فیصلہ کیا، اور کچھ دیر تک تنہا مزاحمت کر کے دنیا کو یقین دلا دیا کہ وہ اس مزاحمت میں سنجیدہ ہیں، تو وہ میدان میں تنہا نہیں ہوں گے۔ اور انہیں امریکہ مخالف قوتوں کی حمایت اور تعاون اسی طرح حاصل ہو گا جس طرح روس کے خلاف تنہا لڑنے کے بعد کچھ عرصہ تک انہیں روس مخالف قوتوں کا وسیع تر تعاون حاصل ہو گیا تھا۔ یہ مفادات کی دنیا ہے اور علاقہ میں مفادات کا ارتکاز صرف امریکی کیمپ میں نہیں ہے، مفادات کے اور بھی کئی رخ ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امریکی بمباروں کی دھول بیٹھتے ہی جب منظر واضح ہو گا تو اس وقت نئی صف بندی اور محاذ آرائی اپنی اصلی صورت میں دنیا کو نظر آنے لگے گی، اور تب پتہ چلے گا کہ طالبان کی یہ پسپائی اپنے نتائج و عواقب کے حوالے سے افغانستان کی تاریخ میں کیا مقام حاصل کرتی ہے۔

افغانستان میں قائم ہونے والی نئی حکومت کے سربراہ حامد کرزئی نے طالبان حکومت کے سربراہ ملا محمد عمر مجاہد کو مجرم قرار دیتے ہوئے انہیں عدالت کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا اظہار بھی کیا ہے۔ اس میں وہ تنہا نہیں، بلکہ امریکی اتحاد اور اقوام متحدہ کے ترجمان بھی ملا محمد عمر کو مجرم قرار دینے میں ان کے ہم زبان ہیں۔ آئیے ہم ان ’’جرائم‘‘ پر ایک نظر ڈالتے ہیں جن کے حوالے سے ملا محمد عمر کو مجرم قرار دیا جا رہا ہے:

  1. ملا محمد عمر کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ انہوں نے افغانستان میں مختلف گروپوں کے کمانڈروں کی مسلسل خانہ جنگی سے تنگ آئے ہوئے شہریوں کو اس باہمی محاذ آرائی سے نجات دلائی۔ اور نہ صرف قندھار کو بلکہ اس کے بعد اس افغانستان کے نوے فی صد علاقہ کو کمانڈروں کی لوٹ مار، خانہ جنگی، عصمت دری اور قتل و غارت کی دلدل سے نکال کر امن فراہم کیا۔
  2. ملا عمر کا دوسرا قصور یہ ہے کہ انہوں نے روس کے خلاف جہاد میں جانیں دینے والے لاکھوں شہداء سے وفاداری کرتے ہوئے افغانستان کو کمیونسٹ نظام سے نجات دلائی، اور اسے یکسر ختم کر کے قرآن و سنت کے احکام و قوانین کی عملداری کا اہتمام کیا۔
  3. ملا عمر کا تیسرا قصور یہ ہے کہ انہوں نے افغان عوام سے ہتھیار واپس لے کر ’’ویپن لیس‘‘ سوسائٹی قائم کرنے کا محیر العقول کارنامہ سر انجام دیا اور قیامِ امن کو یقینی بنایا۔
  4. ملا عمر کا چوتھا بڑا جرم یہ ہے کہ انہوں نے افغانستان کو صرف ایک آرڈر کے ذریعے سے پوست کی کاشت سے پاک کر دیا۔ اور منشیات کے خاتمہ کی جو مہم عالمی ادارے ایک عرصہ سے چلا رہے تھے، اسے انہوں نے صرف ایک حکم نامہ کے ذریعے تکمیل تک پہنچا دیا۔
  5. ملا عمر کا پانچواں بڑا جرم یہ ہے کہ انہوں نے بیرونی ملکوں سے قرضے لینے کی حوصلہ شکنی کی پالیسی اختیار کر کے افغانستان کو عالمی مالیاتی اداروں کی شکار گاہ سے بچایا۔
  6. ملا عمر کا ایک قصور یہ بھی ہے کہ انہوں نے حالتِ جنگ میں بھی افغانستان کی تجارت کو ٹیکس فری رکھا۔ اور شدید اقتصادی ناکہ بندی کے دوران بھی افغانستان کے عوام کو اشیائے ضرورت اردگرد کے ممالک کی بہ نسبت سستی ملتی رہیں۔
  7. ملا عمر نے ایک خوفناک جرم یہ بھی کر ڈالا کہ اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی اداروں کے مطالبات کو قبول کرنے کے بجائے یہ واضح کیا کہ ان کی حکومت کی بنیاد قرآن و سنت کے احکام و قوانین پر ہے، اس لیے وہ شرعی احکام کے منافی کسی منشور و قرارداد اور مطالبہ کو قبول نہیں کریں گے۔ اور اس طرح انہوں نے مغربی تہذیب و ثقافت اور سیکولر نظریات و فلسفہ کو مسترد کرنے کے ساتھ ساتھ ان مسلم حکمرانوں کو بھی آئینہ دکھا دیا جو ’’اسلام اسلام‘‘ کی مالا جپتے ہوئے بھی مغرب کے نظام و فلسفہ اور تہذیب و ثقافت کے سامنے سر جھکائے کھڑے ہیں۔
  8. ملا عمر کا ایک جرم یہ بھی ہے کہ انہوں نے پروٹوکول، پرسٹیج، تعیش اور حکمرانی کی دیگر معروف و مروج سہولتوں کو مسترد کرتے ہوئے دنیا کو ایک بار پھر ایک صحیح اور باکردار مسلم حکمران کی عملی زندگی کا نقشہ دکھا دیا۔
  9. ملا عمر کے خوفناک جرائم میں اس بات کو بھی شامل کر لیں کہ انہوں نے کشمیر اور فلسطین و چیچنیا سمیت دنیا کے ہر خطہ میں آزادی کی جنگ لڑنے والی مسلح جہادی تحریکات کے حوالے سے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے کے بجائے ان کی کھل کر اخلاقی و سیاسی حمایت کی اور انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کیا۔ اسی طرح خلیج عرب میں امریکی افواج کی مسلسل اور ناجائز موجودگی پر دوسرے مسلم حکمرانوں کی طرح خاموش تماشائی بننے کے بجائے اس کی ہمیشہ مزاحمت کی، اور خلیج عرب میں امریکی افواج کے تسلط کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے عرب مجاہد الشیخ اسامہ بن لادن اور ان کے مفاد کی نہ صرف حمایت کی بلکہ اپنی حکومت اور ہزاروں افغانوں کی قربانی دے کر بھی آخری امکانی حد تک ان کی پشت پناہی کی۔

میرے خیال میں ملا محمد عمر کو مغربی تہذیب کا مجرم اور ورلڈ سسٹم کا باغی قرار دینے کے لیے اتنے جرائم کافی ہیں۔ اس لیے ہم نے امریکی اتحاد کے نمائندہ حامد کرزئی کے ریمارکس کو تردید کے بغیر نقل کر دیا ہے۔ البتہ ہمیں جو نقشہ نظر آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ جیسے ناک کٹوں کے شہر میں کوئی ناک والا گھس آیا تھا جسے نک کٹوں نے ’’نکو‘‘ قرار دے کر لاٹھیوں، ڈنڈوں اور خنجروں کے خوفناک حملہ کے ساتھ شہر سے نکل جانے پر مجبور کر دیا ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter