حضرت مولانا محمد طیب کشمیری کی وفات

حضرت مولانا محمد طیب کشمیری (خطیب سبیل مسجد، گورومندر چوک، کراچی) کی وفات کی خبر پڑھ کر بے حد صدمہ ہوا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ میرے پرانے دوست تھے اور جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں طالب علمی کے دور میں کئی برس ہماری رفاقت رہی ہے۔ آزاد کشمیر کے بزرگ عالم دین حضرت مولانا امیر الزمان خان رحمہ اللہ تعالیٰ کے بھتیجے تھے اور سرگرم و متحرک عالمِ دین تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ مئی ۲۰۲۶ء

بین الاقوامی تعلقات اور اسوۂ ابراہیمیؑ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایک بار پھر یہ تقاضہ سامنے آیا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور دیگر مسلم ممالک ’’ابراہیمی اکارڈ‘‘ پر دستخط کر کے اس معاہدہ میں شریک ہو جائیں جو صدر ٹرمپ نے اپنے گزشتہ دورِ صدارت میں کرایا تھا اور جس کا مقصد اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا کہ مسلم ممالک بالخصوص عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کر لیں تاکہ وہ اپنے ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے ایجنڈے کو نعوذ باللہ تکمیل تک پہنچا سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ مئی ۲۰۲۶ء

قوم کی حالت پر توجہ نہیں دی جا رہی!

میں اس احتجاجی مظاہرہ کے اہتمام پر جمعیۃ علماء اسلام گوجرانوالہ کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ قوم کے دکھ درد میں شریک ہونا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔ اور الحمد للہ ہر موقع پر، کسی بھی حوالے سے قوم پر کوئی مشکل آئی ہے، مصیبت آئی ہے، علماء نے ہمیشہ قوم کا ساتھ دیا ہے۔ اور آج بھی یہ ملک میں جو مہنگائی کا بڑھتا ہوا طوفان ہے ہم اس پر احتجاج کر رہے ہیں کہ حکومت کو جو ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مئی ۲۰۲۶ء

’’تذکرۃ الابرار‘‘

والد گرامی امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر قدس اللہ سرہ العزیز کا ذوق و معمول تھا کہ اپنے مضامین و تصانیف میں کسی بھی حوالہ سے اکابر اہلِ علم اور بزرگانِ دین میں سے کسی شخصیت کا ذکر کرتے تو ان کے سنِ وفات کا اہتمام کے ساتھ تذکرہ کرتے جس سے اس شخصیت کے دور اور اس ماحول میں ان کی خدمات کا صحیح پس منظر میں اندازہ کرنا آسان ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ مئی ۲۰۲۶ء

دعا کی برکتیں اور علم کے تقاضے

جامعہ بیت النور میں وقتاً فوقتاً حاضری کا موقع ملتا ہے۔ مولانا عثمان آفاق، مولانا محمد اویس اور ان کے دوستوں کی محنت دیکھ کر خوشی ہوتی ہے اور دل سے بے ساختہ دعائیں نکلتی ہیں، اللہ پاک قبول فرمائیں اور برکات و ترقیات سے بہرہ مند فرمائیں۔ مولانا عثمان صاحب کا تقاضہ ہے کہ میں کبھی کبھی آیا کروں اور علماء اور اساتذہ و طلبہ سے کچھ گفتگو ہو جایا کرے۔ میں بھی تعلیمی لائن کا آدمی ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ جون ۲۰۲۲ء

امت کے لیے رسولِ رحمتؐ کی دردمندی

طبرانی کی روایت ہے، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے اللہ رب العزت سے چار باتوں کی گزارش کی، اللہ پاک نے تین قبول فرما لیں، ایک کے بارے میں فرمایا کہ نہیں۔ میں نے گزارش کی کہ یا اللہ میری امت ساری کی ساری اکٹھی کہیں تباہ نہ ہو جائے۔ فرمایا، نہیں ہو گی۔ عذاب آتے رہیں گے، کبھی ادھر کبھی ادھر، لیکن امت باقی رہے گی، امت بحیثیت امت تباہ نہیں ہو گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ دسمبر ۲۰۲۳ء

پاکستان کی اصل منزل!

آج چودہ اگست ہے، پاکستانی قوم پاکستان میں، اور دنیا میں جہاں کہیں بھی پاکستانی شہری بستے ہیں، اپنا آزادی کا اور قیامِ پاکستان کا دن منا رہے ہیں۔ اس دن پاکستان قائم ہوا تھا، اس دن ہمیں برطانوی استعمار کی غلامی سے آزادی ملی تھی۔ اور ایک آزاد خودمختار قوم کی حیثیت سے، ملک کی حیثیت سے، ریاست کی حیثیت سے، ہم نے نئی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ یہ دن ہر سال ہم مناتے ہیں اور یہ قوموں کے دن ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ اگست ۲۰۲۰ء

مہمان کا احترام اور دینی و ملی حمیت

کلنٹن صاحب پاکستان میں پتہ نہیں کن مقاصد کے لیے آرہے ہیں، ان کے اپنے مفادات ہیں، لیکن ہمیں یہ سبق دیا جا رہا ہے کہ تم کوئی بات نہ کہنا، وہ ہمارے مہمان ہیں۔ بھئی ہم کب انکار کرتے ہیں کہ وہ ہمارے مہمان نہیں ہیں، لیکن میں ایک اسلامی روایت کا حوالہ ضرور دینا چاہوں گا کہ مہمان کی مہمان نوازی اپنی جگہ لیکن اسلام کی غیرت اپنی جگہ۔ ضرور مہمان نوازی کرو، احترام کرو اور پروٹوکول دو، ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ مارچ ۲۰۰۰ء

بامقصد زندگی عقیدے کے بغیر ممکن نہیں ہے

انسان دنیا کی جاندار چیزوں میں سب سے زیادہ عقل مند، ہوش مند، باصلاحیت اور سب سے زیادہ متحرک مخلوق ہے۔ اور اس کے اِن سارے اوصاف کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کو اپنا تعارف حاصل ہو کہ میں کون ہوں؟ مجھے کس لیے بنایا گیا ہے؟ بنانے والا کون ہے؟ میرا ایجنڈا کیا ہے؟ میرے اندر یہ ساری باتیں کیوں فِٹ کی گئی ہیں؟ اتنا وسیع نیٹ ورک مجھے کیوں دیا گیا ہے؟ اس تعارف کے بغیر انسان اس کائنات میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ اگست ۲۰۱۴ء

قرآن کریم کی تفسیر ’’الفلاح‘‘ اور نصابِ تعلیم ’’صراطِ مستقیم‘‘

الشمس ٹرسٹ گلیانہ ضلع گجرات کی طرف سے تعلیمی مقاصد کے لیے مرتب کردہ قرآن کریم کی تفسیر ’’الفلاح‘‘ نظر سے گزری اور اس کے ساتھ مختلف مراحل کے لیے ’’صراطِ مستقیم‘‘ کے عنوان سے مرتبہ نصابِ تعلیم کے کچھ حصے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ نظر کی مسلسل کمزوری کے باعث مطالعہ تو نہیں کر سکا مگر بعض مقامات سرسری دیکھنے سے اندازہ ہوا کہ اچھے ذوق اور اسلوب کے ساتھ نئی نسل کی دینی تعلیم و تربیت ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مئی ۲۰۲۶ء

ملکی دستور، عسکری قوت اور تہذیبی تحفظ کے حوالے سے مکاتب فکر کے مطالبات

شہر کی دینی جماعتوں نے مشترکہ طور پر یہ مطالبہ کیا ہے کہ (۱) دستور کی اسلامی دفعات کے تحفظ کا اعلان کیا جائے (۲) سی ٹی بی ٹی پر دستخط نہ کیے جائیں (۳) بسنت کی سرپرستی نہ کی جائے (۴) اور تفریحی میلے کے نام پر یہ جوے کا کاروبار بند کیا جائے۔ ان میں سے ایک مسئلہ پر تو وضاحت آگئی ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے جو دستور معطل کیا ہے، اس میں اسلامی دفعات، ختمِ نبوت کے حوالے سے دفعات ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ فروری ۲۰۰۰ء

چیچنیا کے مسلمانوں کی جدوجہد اور ہمارے حکمران

آپ حضرات خدا کے گھر میں بیٹھے ہیں، جمعۃ المبارک کا دن ہے، یہ بتائیں کہ چیچنیا کے مظلوم مسلمانوں اور مجاہدوں کی حمایت انصاف کی بات ہے یا ظلم کی؟ آخر ان کا قصور کیا ہے اور روس کس جرم میں چیچنیا کے مسلمانوں کا قتلِ عام کر رہا ہے، اس لیے کہ وہ مسلمان ہیں؟ اللہ تعالیٰ چیچنیا کے مسلمانوں کو استقامت عطا فرمائے، انہیں سلامت رکھے، اور اللہ تعالیٰ انہیں کامیابی نصیب فرمائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ فروری ۲۰۰۰ء

میٹرک کے نصاب سے سورہ توبہ کا ترجمہ نکالنے کی مہم

چند دن ہوئے مجھے ایک دوست نے اسلام آباد سے فون کیا اور پوچھا کہ مولانا کیا آپ کے علم میں ہے کہ ہماری وزارتِ تعلیم میں ایک مسئلے پر غور ہو رہا ہے کہ سرکاری سکول کے نصاب میں سے سورہ توبہ کو نکال دیا جائے۔ سورہ توبہ وہ سورت ہے جو ساری کی ساری جہاد کے احکامات پر، جہاد کی تحریض پر، مسلمانوں کو جہاد کے لیے ابھارنے پر اور منافقین کی منافقت کے بیان پر ہے۔ میں نے پوچھا کیوں؟ مکمل تحریر

۲۸ جنوری ۲٠٠٠ء

خفیہ نکاح کے جواز کا عدالتی فیصلہ

آپ حضرات نے یہ خبر پڑھی ہو گی کہ ہماری وفاقی شرعی عدالت نے باقاعدہ فیصلہ دیا ہے کہ ایک مرد و عورت بند کمرے میں آپس میں خفیہ طور پر نکاح کا معاہدہ کرتے ہیں اور گواہ بھی نہیں رکھتے، تو کوئی حرج کی بات نہیں ہے، نکاح ہوگیا ہے، گواہوں کی ضرورت نہیں ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ہم اب یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ خفیہ نکاح جائز ہوگیا ہے اور نکاح کے لیے جو کم از کم دو گواہوں کی شرط تھی وہ بھی ختم ہو گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جنوری ۲۰۰۰ء

ہماری ہدایات کا سرچشمہ کون ہے؟

آج کل ہم نے ایک مسئلہ بنا لیا ہے کہ ہم پر جو مغرب کی طرف سے اعتراض ہوتا ہے ہم اس کا حل نکالنے کی کوشش کرتے ہیں اجتہاد کے نام سے۔ مغرب والے اعتراض کرتے ہیں کہ وراثت میں بیٹے اور بیٹی کا حق برابر ہونا چاہیے۔ پھر کہا جاتا ہے کہ مولوی صاحب! آپ اجتہاد کیوں نہیں کرتے، اجتہاد کر کے آپ یہ حق برابر کیوں نہیں کرتے؟ مغرب کا تقاضا ہے کہ بیوی کو نصف جائیداد ملنی چاہیے، اس پر کہا جاتا ہے کہ مولوی صاحب ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جنوری ۲۰۰۰ء

سودی نظام کے خاتمے کے لیے عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ

آج سپریم کورٹ آف پاکستان نے جو فیصلہ کیا ہے، پاکستان کا کوئی مسلمان ایسا نہ ہوگا جو اس پر خوش نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ان ججوں کو جزائے خیر دے۔ وفاقی شرعی عدالت کو، سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بینک کو، جنہوں نے یہ تاریخی فیصلہ صادر کیا ہے اور ایک امید کی راہ دکھائی ہے۔ ابھی رکاوٹیں تو باقی ہیں اور نظر ثانی کی اپیل ہوگی، لیکن اصولی فیصلہ تو بہرحال آگیا ہے، الحمد للہ۔ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ دسمبر ۱۹۹۹ء

جہادِ افغانستان کے علمبرداروں سے مغربی دنیا کی نا انصافی

آج دیکھیے کہ افغانستان کے ہمارے مجاہد بھائی گھیرے میں ہیں۔ ان کے خلاف بھی الزام یہ ہے کہ ورلڈ کلچر کو قبول نہیں کر رہے، اقوامِ متحدہ کے منشور پر دستخط نہیں کر رہے، آج کے جو عالمی تقاضے ہیں انہیں قبول نہیں کر رہے۔ یہ عورت کے پردے کی بات کیوں کرتے ہیں؟ یورپ کی جو تمام بے حیائی اور فحاشی ہے، یہ یہاں پر اسے قبول کیوں نہیں کر رہے؟ دنیا میں ایک خطہ ایسا کیوں ہے جو انسانی خواہشات ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ دسمبر ۱۹۹۹ء

القدس: تاریخی پس منظر اور دعویدار اقوام

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ۲۰۱۸ء کے دوران امریکہ نے اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کیا تھا، انہی دنوں مجلس صوت الاسلام کراچی کے زیر اہتمام ایک نشست میں اس پر گفتگو کا موقع ملا جس کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ بیت المقدس، جسے القدس بھی کہتے ہیں اور عبرانی زبان میں اسے یروشلم کہا جاتا ہے، فلسطین کا وہ تاریخی شہر ہے جس پر صدیوں سے بین الاقوامی تنازعہ جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۸ء

انسانی حقوق کے نام پر خاندانی نظام کی بربادی

یہ بات کہنے کی نہیں ہے، منبرِ رسول پر بیٹھا ہوں، لیکن بات سمجھنے کی غرض سے بات کرنی پڑتی ہے۔ مغرب نے اخلاقیات اور جنسی آزادی میں جو انارکی پھیلائی ہے، اکثر مغربی ممالک میں یہ قانون ہے کہ مرد اور مرد آپس میں اگر جنسی تعلقات قائم کرنا چاہیں تو یہ ان کا حق ہے۔ جس لواطت پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کو زمین سے اکھاڑ کر آسمان سے واپس اُلٹا پٹکا دیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ نومبر ۱۹۹۹ء

دینی منصوبہ جات کی معاونت میں ثروت مند علاقوں کا کردار

گلگت، بلتستان، شمالی علاقہ جات، آپ حضرات جانتے ہیں کہ پاکستان کا یہ سب سے آخری حصہ ہے جو چین کے ساتھ ملتا ہے۔ وہاں ہمارے اہلِ سنت بھائی ہمیشہ مظلومیت کا شکار رہے ہیں، اور آج بھی ہیں۔ این جی اوز کی سرگرمیوں کا وہاں بہت وسیع دائرہ ہے۔ وہاں بین الاقوامی تنظیمیں مالی امداد، فنڈز اور ہسپتالوں کے قیام کے ذریعے لوگوں کو اپنے زیر اثر لانے کے لیے مسلسل مصروفِ عمل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ نومبر ۱۹۹۹ء

مومن کی معراج اور بیت المقدس کی پکار

آج کے دن دنیا بھر میں معراج کا ذکر ہوتا ہے، ہمارا ہاں بھی جمعۃ المبارک کے اور دیگر اجتماعات میں، دروس میں بھی، اخبارات و رسائل میں بھی۔ اس میں ہمارے لیے لمحۂ فکریہ دو باتیں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس معجزہ میں، معراج کے اِس سفر میں، ہمارے لیے فکر اور غور کی دو باتیں ہیں۔ ایک بات تو یہ ہے کہ جناب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے یہ جو سفر کروایا، ہمارے لیے اس میں اللہ تعالیٰ نے کیا دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ نومبر ۱۹۹۹ء

اقتدار کی کرسی اور اللہ کا قانون

ان پچاس سالوں میں بحیثیت قوم ہم نے کرسی کی جنگ اور پیسے کی لوٹ مار کے سوا کوئی اور کام بھی کیا ہے؟ طریقۂ واردات ہر شخص کا اور ہر گروہ کا مختلف ہے، ورنہ پچاس سال میں ہمارے ہاں خود ہمارے ہی ووٹوں اور نعروں سے، ہماری حمایت سے بننے والی حکومتوں نے، اقتدار میں آنے والے لوگوں نے، پارلیمنٹ میں بیٹھنے والے ہمارے نمائندگان نے لوٹ کھسوٹ اور اقتدار و کرسی کی خاطر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اکتوبر ۱۹۹۹ء

فرقہ وارانہ فساد اور انتظامیہ کی نااہلی

ملک بھر میں فرقہ وارانہ دہشت گردی جو ہو رہی ہے اس پر ملک کا ہر شہری پریشان ہے۔ ابھی کل ہمارے ہاں ایک شیعہ راہنما قتل ہوگئے ہیں، ضلعی امن کمیٹی کے ممبر تھے، معروف وکیل اعجاز حسین رسول نگری۔ اس سے پہلے کئی سنی راہنما قتل ہوئے۔ یہ شیعہ سنی حوالے سے جو فرقہ وارانہ طرفین کا قتل ہے، میں اس سے پہلے بھی اس کے متعلق کئی بار عرض کر چکا ہوں کہ اس میں فریقین بھی ملوث ہوں گے لیکن ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اکتوبر ۱۹۹۹ء

انکارِ حدیث کا فتنہ اور جدید دانش کا فکری تضاد

گزشتہ دنوں کویت میں، جو ہمارا مسلمان بھائی ملک ہے، وہاں انکارِ حدیث کے حلقے اس بنیاد پر سامنے آئے ہیں کہ صرف قرآن کریم ہی کافی ہے، حدیث و سنت کی ضرورت نہیں ہے، حدیث اختلاف اور جھگڑے پیدا کرتی ہے اس لیے اسے چھوڑ کر صرف قرآن کریم پر ایمان لائیں۔ قرآن اور عقل، بس یہی دو باتیں ہماری ضرورت ہیں۔ یعنی قرآن کریم کا جو معنی ٰ ہماری سمجھ میں آجائے ٹھیک ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ ستمبر ۱۹۹۹ء

دینی مدارس کے اساتذہ کرام سے چند باتیں

میرے لیے یہ سعادت کی بات ہے، جامعہ بیت النور میں حاضری ہوتی رہتی ہے اور استفادہ بھی کرتا ہوں، کچھ کاموں میں شریک بھی ہوتا ہوں۔ آج تعلیمی سال کا آغاز ہے جو اپنی برادری اساتذہ کے ساتھ ہو رہا ہے۔ استاذ ایک برادری ہے۔ آپ اساتذہ کرام ہیں ما شاء اللہ اور میری بہنیں اور بیٹیاں فاضلات اور معلمات ہیں۔ تدریسی ماحول کی ایک مجلس سے ہم تعلیمی سال کا آغاز کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ مارچ ۲۰۲۱ء

سید سلمان گیلانیؒ کی یاد میں تعزیتی سیمینار

گزشتہ روز ایوانِ اقبالؒ لاہور میں شاعرِ اسلام الحاج سید سلمان گیلانی رحمہ اللہ تعالیٰ کی یاد میں منعقد ہونے والے تعزیتی اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی جس کا اہتمام جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے کیا تھا اور جمعیۃ کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمٰن، مولانا خواجہ خلیل احمد، مولانا عبد الغفور حیدری، مولانا سعید یوسف خان، مولانا سید کفیل بخاری اور دیگر زعماء کے علاوہ علماء کرام، دینی کارکنوں اور دیگر طبقات ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اپریل ۲۰۲۶ء

جہادِ فلسطین کا حالیہ دَور اور اہلِ پاکستان کی ذمہ داری

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اس وقت عالمِ اسلام کے بہت سے مسائل میں سب سے فرنٹ پر فلسطین کا مسئلہ، بیت المقدس کا مسئلہ، فلسطینیوں کا مسئلہ، اس وقت پوری دنیا میں زیربحث بھی ہے اور تمام لوگ اس کے بارے میں کچھ نہ کچھ فکرمند بھی ہیں اپنے اپنے دائرے میں۔ فلسطین کی یہ موجودہ لڑائی جو ہے، یہ تو تقریباً‌ سو سال پہلے شروع ہوئی تھی، جب پہلی جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ نے فلسطین کو اپنی تحویل میں لیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ جون ۲۰۲۴ء

برطانوی استعمار اور برصغیر کا دینی تعلیمی نظام

مولانا عبد الرؤف فاروقی صاحب کا شکر گزار ہوں کہ جب سے یہ کام کر رہے ہیں مجھے بھی انہوں نے ساتھ رکھا ہوا ہے اور میں حاضر ہوتا رہتا ہوں کہ شرکت ہو جاتی ہے اور حصہ پڑ جاتا ہے۔ اللہ پاک ان کی مساعی کو قبولیت و برکات سے بہرہ ور فرمائیں اور ہماری شرکت و حاضری کے تسلسل کو قائم رکھیں۔ آج ایک خوشی کا اظہار کرنا چاہوں گا کہ بزرگوں سے سنا کرتے ہیں کہ خیر اور نیکی کا کوئی کام اگر اگلی نسل سنبھال لے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ اپریل ۲۰۲۶ء

پاکستان فلسطین فورم کا عوامی قافلہ اور ہماری ذمہ داری

سنیٹر (ر) محترم جناب مشتاق احمد خان کے قائم کردہ ’’پاکستان فلسطین فورم‘‘ کا ایک وفد گزشتہ دنوں گوجرانوالہ آیا تو وفد نے الشریعہ اکادمی میں مجھ سے بھی ملاقات کی اور اپنے پروگرام سے آگاہ کرتے ہوئے اس میں تعاون کے لیے کہا۔ مسجد اقصیٰ اور فلسطین کے مسئلہ پر بحمد اللہ تعالیٰ ۱۹۶۷ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دور سے ہی کچھ نہ کچھ کہتے اور کرتے رہنے کی سعادت حاصل ہوتی چلی آ رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اپریل ۲۰۲۶ء

ابلاغ کے ذرائع، دعوت کا اُسلوب اوراسلامی نظام کی بنیادیں

جامعۃ الرشیدیۃ، چوک فاروق اعظم، لودھراں میں ۲۶ مارچ (۲۰۲۶ء) سے خطابت کورس طلبہ اور علماء کے لیے شروع ہے جو ۳ اپریل تک جاری رہے گا۔ میں اس کورس کے اہتمام پر مولانا سعید احمد شاہ کاظمی کو مبارکباد دیتا ہوں۔ یہ اچھی کاوش ہے، اس قسم کے کورس وقتاً‌ فوقتاً‌ ہوتے رہنے چاہئیں جو ہمارے نوجوان علماء اور فضلاء کو آج کے تقاضوں، اسلوب اور طریقِ دعوت و تبلیغ سے آگاہ کرتے رہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اپریل ۲۰۲۶ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter