امریکہ، روس اور چین میں سے پاکستان کا سچا دوست کون سا ہے؟

جہاں تک سچی دوستی کا تعلق ہے، کوئی کافر کسی مسلمان کا سچا دوست نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اسلام کا مقصد دنیا میں کفر و ظلم کا خاتمہ اور عدل و انصاف کے خدائی نظام کا قیام ہے، اور کفر دنیا میں کسی نوعیت کا بھی ہو، اسلام اس کا حریف ہے۔ اس لیے اگر واقعی پاکستان کے قیام کا مقصد اسلام کے عدل و انصاف کا نفاذ و اجرا ہے تو وہ کفر انتہائی احمق ہو گا جو پاکستان سے سچی دوستی کی حامی بھرے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۱۹۷۶ء

پاک افغان کشیدگی: تین گزارشات

افغانستان اور پاکستان کی جنگ شروع ہو گئی ہے، اللہ پاک معاف فرمائے۔ تین باتیں گزارش کروں گا: (۱) ایک بات تو یہ کہ پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت، سرحدوں کا پہرا، سرحدوں میں مداخلت روکنا پاک افواج کی ذمہ داری ہے اور ہم ان کے ساتھ ہیں۔ یہ مداخلت انڈیا سے ہو تب، افغانستان سے ہو تب، یا بسا اوقات ایران سے بھی شکایت ہو جاتی ہے۔ ملک کی سرحدوں کی حفاظت، ملک کے اندر دخل اندازی کو روکنا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ فروری ۲۰۲۶ء

صحابہ کرامؓ اور اہل بیت عظامؓ کا تذکرہ

حضرت مولانا علیم الدین شاکر کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اس مبارک محفل میں حاضری، علماء کرام کی زیارت، آپ حضرات سے ملاقات اور کچھ عرض کرنے کا موقع فراہم کیا۔ اللہ رب العزت ہمارا مل بیٹھنا قبول فرمائیں، کچھ مقصد کی باتیں کہننے سننے کی توفیق عطا فرمائیں، اور دینِ حق کی جو بات علم میں آئے، سمجھ میں آئے، اللہ پاک عمل کی توفیق سے بھی نوازیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۲۵ء

امام اہل سنتؒ کی تصانیف کی اشاعت اور مکتبہ صفدریہ گوجرانوالہ کا آئندہ نظم

والد گرامی امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تصانیف کی طباعت و اشاعت کا شرعی و قانونی حق اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو ’’وقف علی الاولاد‘‘ کے طور پر سپرد کر کے مکتبہ صفدریہ گوجرانوالہ قائم فرمایا تھا اور اس کا انتظام برادر عزیز مولانا عبد القدوس خان قارن رحمہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا تھا جو اپنی زندگی میں تمام بھائیوں اور بہنوں کے اعتماد اور مشاورت کے ساتھ چلاتے رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ مارچ ۲۰۲۶ء

جرم کے اسباب اور ان کا ازالہ

پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں محمد شہباز شریف نے گزشتہ دنوں لاہور میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبہ میں امن و امان کی صورتحال پر روشنی ڈالی ہے اور اس سلسلہ میں اپنے بعض اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت جرم کے وجوہ و اسباب کے ازالہ کے لیے بھی اقدامات کر رہی رہے۔ معلوم نہیں کہ میاں صاحب موصوف نے یہ بات کس پس منظر میں کہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ اپریل ۱۹۹۹ء

ظاہر شاہ کو استعمال کرنے کا امریکی منصوبہ

افغانستان کے سابق فرمانروا ظاہر شاہ ایک بار پھر منظر عام پر نمودار ہوئے ہیں اور ان کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ظاہر شاہ افغانستان میں امن کے قیام کے لیے طالبان اور ان کے مخالف شمالی اتحاد کے پاس الگ الگ وفود بھیجنے والے ہیں تاکہ ’’لوئی جرگہ‘‘ کے انعقاد کی راہ ہموار کی جا سکے جو اُن کے نزدیک افغانستان میں قیامِ امن کے لیے ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ مئی ۱۹۹۹ء

’’ختمِ نبوت اور ردِ قادیانیت: افادات امامِ اہلِ سنتؒ‘‘

حافظ محمد ثاقب صاحب رحمۃ اللہ علیہ گوجرانوالہ کے دینی و علمی حلقوں کی ایک معروف شخصیت تھے، جن کی ساری زندگی تحریکِ ختمِ نبوت میں جدوجہد کرتے ہوئے گزری اور سیالکوٹی دروازہ کے دفتر ختمِ نبوت میں عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کی سرگرمیوں میں ان کی زندگی کا خاصا حصہ بسر ہوا۔ ان کا تعلق ایک لدھیانوی خاندان سے تھا جو پاکستان کے قیام کے وقت ہجرت کر کے گوجرانوالہ میں آباد ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۲۰ء

سماج کی تعلیمی ضروریات اور ہمارے دینی مدارس

دارالعلوم انوریہ کے سالانہ اجتماع میں بیٹھے ہیں، اس حوالے سے کہ ایک دینی درس گاہ کا پروگرام ہے، بچے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرتے ہیں، دینیات پڑھتے ہیں، یہ ایک مستقل حوالہ ہے۔ اور یہ ایک مستقل حوالہ ہے کہ ہمارے چند بزرگوں کی یادگار ہے یہ۔ حاجی عبد الکریم صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہمارے بزرگ تھے، قاری عبد اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہمارے بزرگ تھے، ان کا صدقہ جاریہ ہے اور ان کی یادگار ہے یہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ اپریل ۲۰۲۲ء

قرآن و سنت کی دستوری بالادستی اور ہماری اعلیٰ عدالتیں

گزشتہ روز ایوانِ اقبال لاہور میں ڈاکٹر اسرار احمد کی تحریکِ خلافت پاکستان کے زیراہتمام ’’انٹرنیشنل خلافت کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق چیف جسٹس جناب جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں اسلامی نظام کے عملی نفاذ کے لیے دستوری طور پر قرآن و سنت کی بالادستی کا اہتمام ضروری ہے۔ ان سے قبل اسی کانفرنس میں جنرل (ر) حمید گل نے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ فروری ۲۰۰۱ء

’’مضامین و مقالات امام اہل سنت شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ‘‘

والد گرامی امام اہلِ سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر نور اللہ مرقدہ کے علوم و فیوض، درس و تدریس اور وعظ و خطابت کے ساتھ ساتھ تحریری ماحول میں بھی لاکھوں مسلمانوں کی راہ نمائی اور استفادے کا ذریعہ بنے رہے اور عام مسلمانوں کے علاوہ علماء کرام اور طلبہ بھی ان سے فیض یاب ہوتے چلے آ رہے ہیں، جو قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں ان کے دروس و مواعظ کے مختلف مجموعوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ فروری ۲۰۲۶ء

حقوقِ انسانی کا تصور قرآن و حدیث کی روشنی میں

پاکستان شریعت کونسل پنجاب بالخصوص ہمارے نائب امیر حضرت مولانا قاری عبید اللہ عامر صاحب کا اور ان کی ٹیم کا شکرگزار ہوں کہ اس محفل کا انعقاد کیا، آپ حضرات سے ملاقات اور کچھ مقصد کی باتیں کہنے سننے کا موقع عنایت کیا۔ اللہ رب العزت ہمارا مل بیٹھنا قبول فرمائیں اور دنیا اور آخرت کے مقاصد کے لیے بارآور فرمائیں۔ عنوان جیسا کہ آپ کو بتایا گیا ہے، مولانا امجد محمود معاویہ صاحب نے بتایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ نومبر ۲۰۲۳ء

’’الفرقان بریلی کا مجدد الف ثانیؒ نمبر‘‘

مجدد الف ثانی حضرت شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ تعالیٰ جنوبی ایشیا کے اکابر علماء اسلام میں ایک ممتاز شخصیت ہیں جنہوں نے علومِ نبوت کی ترویج اور تزکیہ و احسان کے ساتھ ساتھ اسلامی عقائد و احکام کے تحفظ و دفاع میں بھی لائقِ رشک و تقلید خدمات سرانجام دیں اور حوصلہ و قربانی کے ساتھ الحادی افکار و رجحانات کے سامنے سدِ سکندری بن گئے۔ خاص طور پر اکبر بادشاہ کے خود ساختہ ’’دینِ الٰہی‘‘ کو اپنے علم و فضل ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جنوری ۲۰۲۶ء

امام بخاریؒ کا رسالہ ’’الوُحدان‘‘ اور تعلیم و تعلّم کی نبویؐ ہدایت

حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ، ان کی معروف کتاب تو ’’الجامع الصحیح‘‘ ہے جس کو ہم بخاری شریف کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بہت سی کتابیں ہیں ان کی، مختلف پہلوؤں پر، ان میں سے ایک رسالہ ہے ’’الوُحدان‘‘۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ رسالہ لکھا، وہ صحابیؓ جن سے ایک ہی روایت ہے۔ ان صحابہؓ کے نام اکٹھے کیے ہیں جن سے صرف ایک روایت ہے۔ بعض سے ہزاروں ہیں، بعض سے سینکڑوں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ دسمبر ۲۰۲۵ء

مصالحت کی خاطر قرآنی احکام میں ردوبدل کا مطالبہ

جناب سرور کائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلیٰ آلہ وصحبہ وسلم کو مکہ مکرمہ کی تیرہ سالہ زندگی میں، نبوت کے بعد، جن معاملات کا سامنا کرنا پڑا، جو حالات پیش آئے، ان میں سے ایک آدھ کا ذکر کیا تھا۔ بیسیوں نوعیت کی باتیں ہیں، ان میں سے ایک بات کا آج ذکر کروں گا۔ مخالفت بھی ہوتی تھی، اذیتیں بھی ہوتی تھیں، آپؐ کے ساتھیوں کو مارا بھی جاتا تھا، توہین بھی ہوتی تھی، استہزاء بھی ہوتا تھا، ہر حربہ استعمال کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم فروری ۲۰۱۹ء

حضور اکرمؐ کی سیرت اور علماء کی ذمہ داری

فیصل آباد میں دیوبندی مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی تمام جماعتیں ’’تنظیم العلماء اہل السنت والجماعت حنفی دیوبندی‘‘ کے نام سے متحد ہو گئی ہیں اور انہوں نے اسلامی اقدار و روایات کے تحفظ، مدارس و مراکز کی حفاظت اور مسلکی امور کے حوالہ سے مشترکہ جدوجہد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ انتہائی خوش آئند ہے اور ملک کے دیگر شہروں کے علماء کو بھی اس کی پیروی کرنی چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جون ۲۰۰۱ء

ہمارے ملی و قومی مسائل اور اسلام آباد کے علماء کرام

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میں جمعیت اہل سنت، ہمک، ماڈل ٹاؤن کا اور خطیب محترم مولانا حافظ سید علی محی الدین صاحب کا شکرگزار ہوں کہ میری اسلام آباد حاضری کے موقع پر آپ حضرات کے ساتھ اس ملاقات کا اہتمام فرمایا۔ آپ حضرات سے کچھ مسائل میں تبادلۂ خیالات بھی ہو گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہماری ملاقات اور حاضری کو قبول فرمائیں اور ہماری جو دینی و ملی جدوجہد ہے اسے بار آور فرمائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ جنوری ۲۰۲۶ء

تحریکِ آزادئ ہند کا نامور سپوت ٹیپو سلطان شہید

اخباری اطلاعات کے مطابق بھارتی شہر میسور میں سلطان ٹیپو شہید کی دو سو سالہ تقریبات منائی گئیں اور مسلمانوں کی مختلف تنظیمیں اس سلسلہ میں سرگرمِ عمل رہی ہیں، جبکہ انتہاپسند اور جنونی ہندو تنظیمیں ان تقریبات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش میں سرگرداں رہیں۔ سلطان فتح علی ٹیپو شہید برصغیر کی اسلامی تاریخ کا ایک روشن اور غیور کردار ہے جس نے آج سے دو سو برس قبل اس خطہ میں برطانوی استعمار کے بڑھتے ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جون ۱۹۹۹ء

شاہ ولی اللہؒ اور علمِ حدیث

محدثین کرامؒ حدیث میں تین باتیں شامل کرتے ہیں، پوری تعریف یہی ہے، ’’قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم او فعلہ او تقریرہ‘‘۔ لیکن ایک بات اور بھی محدثین نے شامل کی ہے جو عام طور پر ہم ذکر نہیں کرتے۔ کسی صحابی کا قول حضورؐ کی وفات کے بعد جو غیر قیاسی ہو، وہ مرفوع حدیث پر محمول ہوتا ہے۔ صحابی نے بات کی ہے، حضورؐ کے بعد کی ہے، قیاسی نہیں ہے، یعنی اس کا تعلق وحی سے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جنوری ۲۰۲۶ء

دینی جماعتوں کو وزیر داخلہ کا چیلنج

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۸ ستمبر ۲۰۰۱ء کی خبر کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ جناب معین الدین حیدر نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دینی جماعتوں کے پاس اگر اسلامی نظام کا کوئی خاکہ ہے تو پیش کریں۔ ان کے اس ارشاد سے یہ تاثر ملتا ہے کہ دینی جماعتوں کے پاس اسلامی نظام کا کوئی خاکہ موجود نہیں ہے اور وہ اسلام کے نفاذ کا جو مطالبہ کر رہی ہیں وہ محض ایک نعرہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ ستمبر ۲۰۰۱ء

لاہور کے چند روزے اور سید سلمان گیلانیؒ

اِن دنوں چار پانچ روز کے لیے جوہر ٹاؤن لاہور میں عزیزم ڈاکٹر عمار خان ناصر سلّمہ کے گھر میں ہوں۔ میرے بڑے پوتے حافظ طلال خان ناصر کا معمول ہے کہ وہ رمضان المبارک میں اپنے گھر میں تراویح میں قرآن کریم سناتا ہے اور اس کا تقاضہ ہوتا ہے کہ میں بھی چند روز ان کے ساتھ تراویح میں شریک ہو کر چار پانچ پارے سنوں۔ چنانچہ دو تین سال سے معمول بن گیا ہے کہ رمضان المبارک کے پہلے عشرہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ فروری ۲۰۲۶ء

آہ! الحاج سید سلمان گیلانیؒ

شاعرِ اسلام الحاج سید سلمان گیلانی بھی ہم سے رخصت ہو گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ اپنے والد محترم شاعرِ حریت و ختم نبوت الحاج سید امین گیلانی رحمہ اللہ تعالیٰ کے ذوق و فن، مشن اور روایات کے امین تھے اور پوری عمر انہوں نے اسی ماحول میں بسر کی۔ وہ شعر و شاعری اور حق کے پرچار و خدمت کے ساتھ ساتھ مجلس آرائی کے ذوق و اسلوب سے بھی مالامال تھے اور بذلہ سنجی میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ فروری ۲۰۲۶ء

سورج اور چاند کی گردش کا اسلامی اعتبار

سال تین قسم کے ہیں۔ ایک شمسی اعتبار سے: جنوری، فروری، مارچ، سورج کی گردش کے حساب سے یہ سال۔ ایک قمری اعتبار سے: محرم، صفر، ربیع الاول، ربیع الثانی، یہ چاند کی گردش کے اعتبار سے۔ ایک دیسی مہینوں کا: پوہ، ماگھ، بیساکھ، یہ ہمارے دیسی، موسموں کے اعتبار سے۔ ہمارے ہاں تینوں مروج ہیں۔ زمینداروں میں عام طور پہ یہ موسمی سال جو ہوتا ہے، یہ پوہ مہینہ ہے، یہ ماگھ کا ہے، یہ ہاڑ کا ہے، یہ جیٹھ کا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ دسمبر ۲۰۲۲ء

غلبۂ اسلام کی جدوجہد اور اسوۂ ابراہیمیؑ

سیدنا ابراہیمؑ کی یاد کا مہینہ شروع ہو گیا ہے، دنیا بھر میں کروڑوں مسلمان اپنی اپنی جگہ ابراہیم علیہ السلام کی سنت قربانی کو تازہ کرنے کے علاوہ عرفات کے میدان میں حج کے روز لاکھوں کی تعداد میں مسلمان جمع ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے مقدس گھر کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر کے حضرت ابراہیمؑ کی اہلیہ محترمہ حضرت ہاجرہؓ کی سنت کو زندہ کریں گے۔ مکمل تحریر

۲۴ مارچ ۱۹۹۹ء

مغربی فکر و فلسفہ کی ترویج اور نتائج قرآن و حدیث کی روشنی میں

شیخ الہندؒ اکادمی واہ کینٹ میں وقتاً‌ فوقتاً‌ حاضری کا موقع ملتا رہتا ہے اور میں شکرگزار ہوں اکادمی کے منتظمین کا کہ ایک بار پھر موقع ملا اور ہم آپس میں کچھ دینی، علمی، فکری مسائل پر گفتگو کرنے کے لیے بیٹھے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارا مل بیٹھنا قبول فرمائیں، کچھ مقصد کی باتیں کہنے سننے کی توفیق عطا فرمائیں، اور جو بات بھی علم میں آئے، سمجھ میں آئے، اللہ پاک عمل کی توفیق سے نوازیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ جنوری ۲۰۲۴ء

سیاست میں علماء کرام کا کردار

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ علماء کرام کا سیاست سے کیا تعلق ہے اور سیاست میں علماء کرام کا کیا کردار ہے؟ اس حوالے سے مختصراً‌ دو تین پہلوؤں سے بات کرنا چاہوں گا۔ ایک تو اس لیے کہ علماء نمائندگی کرتے ہیں حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کی۔ اور حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کی تعلیمات اور پروگرام بنیادی طور پر زندگی کے تمام پہلوؤں کے لیے تھا اور اس میں سیاست بھی ایک اہم رول تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ فروری ۲۰۲۴ء

فضلائے مدارسِ دینیہ سے وابستہ توقعات اور ان کی سماجی حیثیت

دینی مدارس اور ان کے فضلاء کے حوالے سے گفتگو اور مکالمہ کا یہ پروگرام ’’ادارۃ العلم والتحقیق، کراچی‘‘ کے زیر اہتمام ترتیب دیا گیا ہے، جو اعلیٰ تعلیم اور ٹیکنالوجی کے لیے کام کر رہا ہے۔ ہمارے فاضل دوست ڈاکٹر سید عزیز الرحمٰن صاحب کی نگرانی میں یہ ایک شعبے میں مفید اور مسلسل کام ہو رہا ہے، جن کے پیچھے حضرت مولانا سید زوار حسین شاہ صاحب نقشبندیؒ کی نسبت اور ان کا روحانی فیض، اور ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کا فکر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ جون ۲۰۲۱ء

عالمی استعمار کا ایجنڈا اور ہماری دینی قیادت

قوم پرست جماعتوں کے متحدہ محاذ ’’پونم‘‘ نے پاکستان کے دستور پر نظرثانی کے لیے جو دستوری ترامیم کا پیکج دیا ہے اس میں لسانی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ ساتھ ملک کے نام سے ’’اسلامی‘‘ کا لفظ حذف کر دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ اور پونم کے جس اجتماع میں یہ آئینی پیکج پیش کیا گیا اس میں ایک سندھی قوم پرست لیڈر نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ وہ راجہ داہر کو قومی ہیرو سمجھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اپریل ۱۹۹۹ء

اسلامی نظامِ سیاست کے خدوخال عصری تناظر میں

سب سے پہلے تو اس بات پر خوشی کا اظہار کرنا چاہوں گا کہ ’’الکہف‘‘ کے اس ادارے اور نظم کے تحت بچیاں اس قدر تعداد میں دینی تعلیم حاصل کر رہی ہیں، الحمد للہ، اللہ پاک مزید برکات سے نوازیں اور ترقیات و ثمرات سے بہرہ ور فرمائیں۔ پھر یہ ذوق کہ دین اور دینی تقاضے، اس کے ساتھ ساتھ دنیا کے ماحول اور آج کی جو عصری صورتحال ہے، اس سے واقف ہونے کا شوق، یہ بھی دین کا تقاضہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ جنوری ۲۰۲۶ء

پاکستان کی ایٹمی قوت اور عالمِ اسلام کے جذبات

بھارت کے ایٹمی دھماکے کے بعد پاکستان کے ایٹمی دھماکے کا انتظار تو تھا مگر یہ خدشہ بھی تھا کہ بین الاقوامی حلقے اور ملک کے اندر ان کی نمائندہ لابیاں جس طرح کا مسلسل دباؤ ڈال رہی ہیں اور پاکستان کو ایٹمی قوت بننے سے روکنے کے لیے جو سازشیں کی جا رہی ہیں وہ کہیں اپنا رنگ دکھا نہ دیں۔ چنانچہ اس تذبذب کے عالم میں گوجرانوالہ کے ایک صحافی دوست نے فون پر پاکستان کے ایٹمی دھماکوں اور ان کی کامیابی کی خبر دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جون ۱۹۹۹ء

پاکستانی قبائل میں امریکہ کی دلچسپی

گزشتہ ہفتے پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمٰن درخواستی کے ہمراہ ڈیرہ اسماعیل خان میں دو روز گزارنے اور مختلف اجتماعات میں شرکت کا موقع ملا۔ کلاچی اور موسیٰ زئی شریف میں جانا ہوا۔ بزرگ عالمِ دین حضرت مولانا قاضی عبد الکریم مدظلہ کے علاوہ جمعیت علماء اسلام (س) صوبہ سرحد کے امیر مولانا قاضی عبد اللطیف اور پاکستان شریعت کونسل صوبہ سرحد کے امیر صاحبزادہ شمس الدین آف موسیٰ زئی شریف ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ مئی ۱۹۹۹ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter