عالمی استعمار کا ایجنڈا اور ہماری دینی قیادت

   
۲۸ اپریل ۱۹۹۹ء

قوم پرست جماعتوں کے متحدہ محاذ ’’پونم‘‘ نے پاکستان کے دستور پر نظرثانی کے لیے جو دستوری ترامیم کا پیکج دیا ہے اس میں لسانی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ ساتھ ملک کے نام سے ’’اسلامی‘‘ کا لفظ حذف کر دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ اور پونم کے جس اجتماع میں یہ آئینی پیکج پیش کیا گیا اس میں ایک سندھی قوم پرست لیڈر نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ وہ راجہ داہر کو قومی ہیرو سمجھتے ہیں اور فاتح سندھ محمد بن قاسم ان کے نزدیک ڈاکو اور لٹیرا تھا۔

پونم میں شامل ایک اہم جماعت اے این پی نے اچھا کیا ہے کہ ان دونوں باتوں سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے، چنانچہ اے این پی کے سربراہ سنیٹر اجمل خٹک نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ محمد بن قاسم کو جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کا عظیم محسن سمجھتے ہیں اور انہیں لٹیرا قرار دینے کی مذمت کرتے ہیں۔ جبکہ ان کی جماعت کے ایک اور مرکزی راہنما قاضی محمد انور نے اعلان کیا ہے کہ اے این پی پاکستان کے نام سے ’’اسلامی‘‘ کا لفظ حذف کرنے کی حمایت نہیں کرتی اور دستور میں ان دیگر بنیادی تبدیلیوں کے حق میں بھی نہیں ہے جن کا پونم کے آئینی پیکج میں ذکر کیا گیا ہے۔

پاکستان کے بارے میں یہ تاریخی حقیقت ہے کہ اس ملک کا قیام نصف صدی قبل صرف اس نعرے کی بنیاد پر عمل میں آیا تھا کہ مسلمان ہندوؤں سے الگ قوم ہیں اور انہیں اپنے مذہب اور کلچر پر عمل کے لیے الگ ملک کی ضرورت ہے۔ اسی لیے تحریکِ پاکستان میں ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللہ‘‘ کا نعرہ جنوبی ایشیا کے طول و عرض میں گونجا تھا اور لاکھوں مسلمانوں نے اسلام کے نام پر اس نئے وطن کے قیام کے لیے قربانیاں پیش کی تھیں۔

چنانچہ جب پاکستان وجود میں آیا تو اس کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے ۱۹۴۹ء میں ’’قراردادِ مقاصد‘‘ منظور کر کے ملک کی نظریاتی حیثیت متعین کر دی تھی کہ حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے اور عوام کے منتخب نمائندے اللہ تعالیٰ اور اس کے آخری رسولؐ کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے ملک کا نظام چلائیں گے۔ اس کے بعد ۱۹۵۶ء میں جب ملک میں پہلا دستور نافذ ہوا تو اس میں قراردادِ مقاصد کے اعلیٰ اصول کی بنیاد پر وطنِ عزیز کو ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ قرار دیا گیا تھا۔ مگر یہ دستور دو سال بعد مارشل لاء کے ہاتھوں منسوخ ہو گیا اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جناب محمد ایوب خان مرحوم نے ۱۹۶۲ء میں ملک کو نیا دستور دیا تو اس میں ملک کو صرف ’’جمہوریہ پاکستان‘‘ قرار دے کر ’’اسلامی‘‘ کا لفظ اس کے نام سے الگ کر دیا گیا تھا۔ اس پر ملک میں شدید احتجاج ہوا، مختلف دینی و سیاسی جماعتیں متحرک ہوئیں اور عوام نے پاکستان کو اسلام سے الگ کرنے کی اس کوشش کو مسترد کر دیا۔ جس کی وجہ سے صدر محمد ایوب خان مرحوم کو اپنا یہ فیصلہ واپس لینا پڑا اور ملک ایک بار پھر ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ قرار پایا۔ اس کے بعد جنرل محمد یحیٰی خان کے ہاتھوں یہ دستور بھی موت کے گھاٹ اتر گیا۔

مشرقی پاکستان کے الگ ہو جانے کے بعد ملک کی نئی دستور ساز اسمبلی بیٹھی تو حکمران جماعت پیپلز پارٹی تھی جس کے منشور کا سب سے امتیازی حصہ ’’سوشلزم‘‘ تھا۔ مگر اسے دستور ساز اسمبلی میں مولانا مفتی محمود، مولانا عبد الحق، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا محمد ذاکر، مولانا عبد المصطفیٰ ازہری اور پروفیسر غفور احمد (رحمہم اللہ) جیسی جاندار شخصیات کا سامنا تھا۔ اور اسمبلی میں اپوزیشن کی قیادت مولانا مفتی محمود کر رہے تھے جنہوں نے رائے عامہ کے دباؤ اور سرحد و بلوچستان میں اپنی سیاسی قوت کو اس خوبصورتی کے ساتھ استعمال کیا کہ ۱۹۷۳ء کے دستور میں ملک کا نام ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ بحال رہنے کے علاوہ ملک کا سرکاری مذہب ’’اسلام‘‘ قرار پایا۔ اور دستور میں اس امر کی ضمانت شامل کرنا پڑی کہ ملک میں رائج تمام قوانین کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھال دیا جائے گا۔ اس ضمانت پر اگرچہ ابھی تک عمل نہیں ہوا مگر دستور کی یہ دفعات ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کی جدوجہد کی ایک بہت بڑی بنیاد ہیں اور اسی وجہ سے اسلام دشمن لابیوں اور حلقوں کے حلق میں کانٹے کی طرح اٹک کر رہ گئی ہیں۔

دستورِ پاکستان کی اسلامی دفعات اور ملک کا اسلامی نام صرف پونم کے لیے قابلِ اعتراض نہیں ہے بلکہ عالمی استعمار اور اس کی نمائندگی کرنے والے بہت سے دیگر حلقے بھی ان کے بارے میں اپنی تکلیف کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ چنانچہ آپ انسانی حقوق کے حوالہ سے پاکستان کے بارے میں امریکی وزارت خارجہ، اقوام متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی گزشتہ آٹھ دس سال کی سالانہ رپورٹوں کا گہری نظر سے مطالعہ کریں تو اس حقیقت سے آپ کو شناسائی ہو گی کہ ان میں سب سے زیادہ دستورِ پاکستان کی اسلامی دفعات اور پاکستان میں برائے نام نافذ چند اسلامی احکام و قوانین کو ہدفِ تنقید بنایا گیا ہے اور ان کی منسوخی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ حال ہی میں ملک میں وکلاء برادری کی نمائندگی کرنے والے بہت بڑے فورم ’’پاکستان بار کونسل‘‘ نے ایک باضابطہ قرارداد کے ذریعہ وفاقی شرعی عدالت اور حدود آرڈیننس کے خاتمہ کا مطالبہ کر دیا ہے اور بعض غیر سرکاری تنظیمیں (این جی اوز) نے اس سلسلہ میں باضابطہ مہم کا آغاز کر رکھا ہے۔

اس پس منظر میں پونم کا یہ مطالبہ بھی اسی عالمی مہم کا ایک حصہ معلوم ہوتا ہے جس کا مقصد پاکستان کی اسلامی نظریاتی حیثیت ختم کر کے اسے سیکولر ملک بنانا ہے کیونکہ عالمی قوتیں اور لابیاں اس نتیجہ پر پہنچ گئی ہیں کہ عالمِ اسلام کی دینی تحریکات اور نفاذِ اسلام کے حلقوں کو اگر کوئی ملک فکری اور نظریاتی قیادت کے ساتھ ساتھ اخلاقی سپورٹ اور سیاسی مرکزیت فراہم کر سکتا ہے تو وہ صرف پاکستان ہے۔ اس لیے وہ سرے سے اس بنیاد کو ہی ختم کر دینا چاہتی ہیں تاکہ ترکی اور الجزائر کی طرح پاکستان کی ریاستی قوت بھی اسلام اور اسلامی تحریکات کے کام آنے کی بجائے ان کے خلاف کھل کر استعمال ہو اور عالمِ اسلام کی دینی تحریکات کو صحیح رخ پر آگے بڑھنے کو روکا جا سکے۔

مگر سوال یہ ہے کہ عالمی استعمار اپنے ایجنڈے کے مطابق مسلسل آگے بڑھ رہا ہے، اس کے جواب میں ہماری دینی قیادت کی منصوبہ بندی اور ترجیحات کیا ہیں؟ اور پھر ایک نازک سا سوال اور بھی ہے کہ اگر مولانا فضل الرحمٰن، مولانا سمیع الحق، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا عبد الستار خان نیازی، پروفیسر ساجد میر، مولانا معین الدین لکھوی، قاضی حسین احمد، اور ڈاکٹر اسرار احمد اپنی اپنی دفلی اسی طرح الگ الگ بجاتے رہے تو امریکی وزارتِ خارجہ، اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، پونم، پاکستان بار کونسل، اور این جی اوز کے ان مطالبات کا راستہ کون روکے گا؟

   
2016ء سے
Flag Counter