اقتدار کی کرسی اور اللہ کا قانون

   
مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ
۱۵ اکتوبر ۱۹۹۹ء

(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)

ان پچاس سالوں میں بحیثیت قوم ہم نے کرسی کی جنگ اور پیسے کی لوٹ مار کے سوا کوئی اور کام بھی کیا ہے؟ طریقۂ واردات ہر شخص کا اور ہر گروہ کا مختلف ہے، ورنہ پچاس سال میں ہمارے ہاں خود ہمارے ہی ووٹوں اور نعروں سے، ہماری حمایت سے بننے والی حکومتوں نے، اقتدار میں آنے والے لوگوں نے، پارلیمنٹ میں بیٹھنے والے ہمارے نمائندگان نے لوٹ کھسوٹ اور اقتدار و کرسی کی خاطر ملک کا بیڑا غرق کرنے کے سوا کیا کیا ہے؟ آج ہم تاریخ کے عجیب و غریب ترین بحران سے دوچار ہیں۔ آج ہم از حد پریشان ہیں کہ یا اللہ! ہوگا کیا؟ کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا۔

پرسوں فیصل آباد میں ایک جلسہ میں میری تقریر تھی، ایک صاحب نے رقعہ دیا کہ مولوی صاحب یہ ہمارے وطن میں کیا ہو رہا ہے، آپ اس پر کچھ تبصرہ کریں۔ میں نے کہا کہ میں کیا تبصرہ کروں گا، ہماری حالت تو یہ ہے کہ ہماری قوم کے راہنماؤں کو بھی یہ پتہ نہیں ہے کہ انہوں نے ملکی صورتحال پر کیا تبصرہ کرنا ہے۔ جن لوگوں نے ملک کی راہنمائی کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے انہیں یہ سمجھ نہیں آرہی ہے کہ کیا کہنا ہے اور کیا نہیں کہنا۔ میں نے کہا کہ میری سمجھ میں تو یہ بات آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ اللہ رب العزت تکبر کو پسند نہیں کرتے، یہ اللہ تعالیٰ کا ضابطہ ہے۔ پہلے بھی یہی ہوا تھا کہ حاکمِ وقت نے کہا تھا کہ میری کرسی بہت مضبوط ہے، اور پھر اس کے چند ہی دنوں بعد کرسی وہاں پڑی تھی۔

میں نے عرض کیا کہ میرا تو دو جملوں کا تبصرہ ہے، گزشتہ دنوں بھی میں نے عرض کیا تھا کہ ہمارے پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف صاحب نے ایک پریس کانفرنس میں طالبان پر الزامات لگائے تھے۔ ان غریبوں پر، ان مسکینوں پر، جو ساری دنیا کی نعمتیں اور ساری دنیا کی پیشکشیں ٹھکرا کر قرآن کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں کہ ہم قرآن کو نہیں چھوڑیں گے۔ ہمیں اقوامِ متحدہ کی امداد نہیں چاہیے، ہمیں امریکہ کے پیسے نہیں چاہئیں، ہمیں آئی ایم ایف کی دولت نہیں چاہیے، ہمیں ورلڈ بینک کی امداد نہیں چاہیے۔ آٹھ سو، نو سو روپے کی تنخواہ پر ان کے وفاقی وزیر کام کر رہے ہیں، سائیکلوں پر ان کے گورنر سفر کر رہے ہیں۔ ان غریبوں اور مسکینوں پر میاں صاحب نے دہشت گردی کے الزامات لگائے۔ اور پھر جب افغان وزیر نے اپنی پوزیشن کی وضاحت کے لیے وقت مانگا کہ جناب میں حاضر ہونا چاہتا ہوں اور بتانا چاہتا ہوں کہ ہماری پوزیشن کیا ہے، ہم دہشت گردی میں ملوث نہیں ہیں، تو انہیں جواب ملا کہ آپ کے ساتھ مذاکرات کے لیے میرے پاس وقت نہیں ہے۔

میں اپنے جذبۂ ایمان کے ساتھ یہ بات کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اسی وقت فرما دیا کہ میرے پاس بھی تمہارے لیے وقت نہیں ہے۔ پندرہ بیس سال سے قربانیاں دینے والے اور اسلام کا پرچم بلند رکھنے والے لوگوں پر الزامات کی بارش کی، ان کے خلاف پلاننگ کی، اخبارات، ریڈیو، ٹی وی اور میڈیا ان کے خلاف مسلسل مہم میں مصروف ہوگئے، اور جب ان کے نمائندے نے وضاحت کے لیے ملاقات کا وقت مانگا تو ان سے کہا کہ ہمارے پاس ملاقات کے لیے وقت نہیں ہے۔ اللہ بڑا بے نیاز ہے، اللہ تعالیٰ نے کہا کہ میرے پاس بھی وقت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔ آمین۔

2016ء سے
Flag Counter