’’اسلام اور مسلمانوں کا غدار‘‘

اسامہ بن لادن اسلام اور مسلمانوں کا غدار ہے اور اس کی سعودی شہریت منسوخ کی جا چکی ہے اس لیے اگر اسے امریکہ کے حوالہ کر دیا جائے تو سعودی حکومت کو کوئی تشویش نہیں ہوگی۔ خبر کے مطابق سعودی وزیردفاع نے یہ بات واشنگٹن میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ہے۔ اسامہ بن لادن کے خلاف امریکہ نے ایک عرصہ سے جو مہم چلا رکھی ہے اس کے پس منظر میں سعودی شہزادے کی یہ بات کسی طور پر بھی خلاف توقع نہیں ہے اور موجودہ حالات کے تناظر میں اس کے علاوہ وہ کچھ اور کہہ بھی نہیں سکتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ نومبر ۱۹۹۹ء

اقبالؒ کے نادان دوستوں سے!

علامہ محمد اقبال مرحوم کو پاکستان کے عوام ایک مخلص قومی مفکر اور راہنما کی حیثیت سے پہچانتے ہیں جس نے برصغیر پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں بسنے والے مسلمانوں کے ملی جذبات کو ابھارنے اور ان میں عظمت رفتہ کی بحالی کا احساس اجاگر کرنے کے لیے مسلسل محنت کی اور اس خطۂ زمین کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کا تصور پیش کر کے تحریک پاکستان کی فکری بنیاد رکھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ نومبر ۱۹۸۷ء

ایم آر ڈی اور علماء حق

ایم آر ڈی کے حالیہ اجلاس نے ان حلقوں کی خوش فہمی کو ختم کر دیا ہے جو یہ آس لگائے بیٹھے تھے کہ تحریک بحالیٔ جمہوریت کے نام سے متضاد نظریات رکھنے والی سیاسی جماعتوں کا یہ گٹھ جوڑ انتخابی اتحاد میں تبدیل ہو کر آئندہ انتخابات میں کوئی مؤثر کردار ادا کر سکے گا۔ اور کراچی کے اجلاس میں ایم آر ڈی میں شامل جماعتوں کی ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی نے یہ بات اور زیادہ واضح کر دی ہے کہ یہ سیاسی اتحاد اپنی طبعی عمر پوری کر چکا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ دسمبر ۱۹۸۷ء

زندہ باد افغان مجاہدین

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک بار پھر افغانستان سے روسی افواج کی مکمل واپسی کا مطالبہ کیا ہے اور اس دفعہ یہ مطالبہ پہلے سے زیادہ اکثریت کے ساتھ کیا گیا ہے جو یقیناً افغان مجاہدین کی عظیم اصولی اور اخلاقی کامیابی ہے۔ روسی حکومت اور کابل کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے کچھ عرصہ سے جنگ بندی کی یکطرفہ پیشکش اور قومی افغان مصالحت کے عنوان سے سیاسی حربے اختیار کر کے دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش شروع کر رکھی تھی کہ روس اپنی افواج واپس بلانے کے لیے تیار ہے لیکن افغان مجاہدین قومی مصالحت کی طرف پیش رفت نہ کر کے روسی افواج کی واپسی میں تاخیر کا باعث بن رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ نومبر ۱۹۸۷ء

دینی قوتوں کے باہمی اتحاد و اشتراک عمل کی ضرورت

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر قاضی حسین احمد شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر سے ملاقات کے لیے گکھڑ تشریف لائے اور ان کی بیمار پرسی کے علاوہ دینی جماعتوں کے درمیان مفاہمت و اشتراک عمل کی ضرورت پر ان سے تبادلہ خیال کیا۔ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل سید منور حسن اور جمعیۃ اتحاد العلماء پاکستان کے سربراہ مولانا عبد المالک خان بھی ان کے ہمراہ تھے۔ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر راقم الحروف کے والد محترم ہیں اور دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والی اکثریتی دینی و سیاسی جماعتوں کے متحدہ محاذ ’’مجلس عمل علماء اسلام پاکستان‘‘ کے سربراہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ فروری ۱۹۹۹ء

مسندِ حدیث و فتویٰ اور خواتینِ اسلام

ان دنوں واشنگٹن پوسٹ کی اس رپورٹ کا عام چرچا ہے جس میں حیدرآباد دکن انڈیا کے ایک دینی مدرسہ جامعۃ المومنات کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ اس مدرسہ کے منتظمین نے اپنی تین خاتون عالمات فاضلات کو فتویٰ نویسی کی تعلیم و تربیت سے بہرہ ور کر کے خواتین کے لیے ان تینوں پر مشتمل مفتی پینل بنا دیا ہے جس سے عورتیں براہ راست رجوع کر کے مسائل دریافت کرتی ہیں اور وہ انہیں متعلقہ مسائل پر فتویٰ دیتی ہیں۔ مجھ سے ایک دوست نے گزشتہ روز دریافت کیا کہ کیا یہ درست ہے اور کیا اس سے قبل بھی اس کی کوئی مثال ملتی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اکتوبر ۲۰۰۳ء

ایماندار افسران کی تلاش

آج ایک قومی اخبار کے گوجرانوالہ ایڈیشن میں مقامی صفحہ کی اس بڑی سرخی نے بار بار اپنی طرف متوجہ کیا کہ ’’ایماندار ایس ایچ اوز کی تلاش، ریجن بھر کے پولیس انسپکٹروں کے کوائف طلب‘‘۔ ہمارے موجودہ معاشرتی ماحول میں یہ کوئی بہت بڑی خبر نہیں ہے کیونکہ صرف پولیس نہیں بلکہ کم و بیش ہر شعبہ اور ادارہ میں اسی قسم کی صورتحال کا سامنا ہے کہ ایماندار افراد تلاش کرنا پڑتے ہیں۔ اس پر اسلامی تاریخ کے دو حوالے ذہن میں آگئے ہیں اور جی چاہتا ہے کہ انہیں قارئین کی خدمت میں پیش کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اکتوبر ۲۰۱۷ء

برطانیہ کے چند مذہبی اداروں میں حاضری

گزشتہ ہفتے کے دوران برطانیہ میں ندوۃ العلماء لکھنو کے استاذ الحدیث مولانا سید سلمان حسنی ندوی کے ساتھ جن اداروں میں جانے کا اتفاق ہوا ان میں سے چند کا تذکرہ قارئین کی معلومات کے لیے مناسب معلوم ہوتا ہے۔ جامعہ الہدٰی نوٹنگھم میں ہمارا قیام تھا اور اس کے پرنسپل مولانا رضاء الحق سیاکھوی ہمارے میزبان تھے۔ یہ ادارہ نوٹنگھم کے وسط میں ’’فارسٹ ہاؤس‘‘ نامی ایک بڑی بلڈنگ خریدکر قائم کیا گیا ہے جہاں پہلے محکمہ صحت کے دفاتر تھے۔ خوبصورت اور مضبوط بلڈنگ ہے، چار منزلہ عمارت میں اڑھائی سو کے لگ بھگ کمرے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جون ۱۹۹۸ء

ساؤتھال لندن میں مسلمانوں کی مذہبی جدوجہد

مغربی لندن میں ساؤتھال کا علاقہ ایشین آبادی کا علاقہ کہلاتا ہے جہاں پاکستان اور بھارت سے آئے ہوئے لوگوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے اور آبادی کی اکثریت انہی لوگوں پر مشتمل ہے۔ ان میں مسلمان، ہندو اور سکھ تینوں مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں، زیادہ تعداد سکھ کمیونٹی کی بتائی جاتی ہے اس کے بعد مسلمان اور ہندو ہیں۔ اور اب صومالیہ سے آنے والے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کے اس علاقہ میں آباد ہونے سے آبادی میں مسلمانوں کا تناسب خاصا بڑھ گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ جولائی ۱۹۹۸ء

لندن میں ’’ریلی فار اسلام‘‘

’’المہاجرون‘‘ نے ۲۶ جولائی کو ٹریفالیگر اسکوائر لندن میں ’’ریلی فار اسلام‘‘ کے نام سے ایک ریلی کا اہتمام کیا جس میں راقم الحروف نے بھی شرکت کی۔ المہاجرون مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے پرجوش نوجوانوں کی تنظیم ہے جس کے سربراہ شیخ عمر بکری محمد ہیں۔ شیخ عمر کا تعلق شام سے ہے اور دینی حلقوں کے خلاف ریاستی جبر سے تنگ آکر انہوں نے برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کر رکھی ہے۔ شافعی المذہب سنی عالم ہیں، شریعہ کالج کے نام سے لندن میں ادارہ قائم کر رکھا ہے جس میں نوجوانوں کو قرآن و سنت، فقہ اور اسلام کے اجتماعی نظام کی تعلیم دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ اگست ۱۹۹۸ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter