قادیانیت ۔ الطاف حسین کے مغالطے

قادیانیوں کے بارے میں متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ جناب الطاف حسین کے ایک انٹرویو کے بارے میں اخبارات میں اظہارِ خیال کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف دینی حلقوں کی طرف سے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مختلف وجوہ کی بنا پر قادیانیت کا مسئلہ پاکستان کے دینی حلقوں کے ہاں بہت زیادہ حساس مسئلہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ملک کے عوام اور دینی جماعتوں کے نزدیک اس حوالہ سے کسی بھی طرف سے لچک کا اظہار عام طور پر قابل قبول نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ ستمبر ۲۰۰۹ء

حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ

حضر ت مولانا غلام غوث ہزارویؒ سے میرا تعلق مختلف نسبتوں اور حوالوں سے ہے اور میں خود کو ان خوش قسمت افراد میں سمجھتا ہوں جنہیں حضرت مرحوم سے مسلسل استفادہ کا موقع ملا۔ زندگی کے کسی مرحلہ میں موقف اور پالیسی کے بارے میں اختلاف رائے پیدا ہو جانا ایک الگ امر ہے جو انسانی فطرت کا لازمی حصہ ہے، لیکن آج بھی اپنے دل کو ٹٹولتا ہوں تو بحمد اللہ تعالیٰ زندگی کے کسی لمحہ میں کوئی ایسا واضح جھول محسوس نہیں ہوتا جو حضر ت مولانا ہزارویؒ کے ساتھ عقیدت ومحبت اور ان کی دیانت وللہیت پر اعتماد کے حوالے سے خدا نخواستہ پیدا ہو گیا ہو، الحمد للہ علیٰ ذالک ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۱۹۹۳ء

حافظ بشیر احمد مصری مرحوم

روزنامہ جنگ لندن نے ۱۴ جولائی ۱۹۹۲ء کی اشاعت میں یہ خبر شائع کی ہے کہ شاہ جہاں مسجد ووکنگ (لندن) کے سابق امام حافظ بشیر احمد مصری گزشتہ روز ۷۸ برس کی عمر میں لندن کے ایک ہسپتال میں انتقال کرگئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ خبر میں حافظ صاحب مرحوم کا تعارف ماحولیات اور تحفظ حیوانات کے ایک مسلم ماہر کی حیثیت سے کرایا گیا ہے جنہوں نے اس شعبہ میں نمایاں تحقیقی خدمات سرانجام دی ہیں اور اسلام میں حیوانات کے ساتھ برتاؤ کے موضوع پر ان کے مقالہ کو بین الاقوامی شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۱۹۹۲ء

ارشد میر ایڈووکیٹ مرحوم

ارشد میر ایڈووکیٹ پانچ اور چھ اکتوبر کی درمیانی شب اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے، اناللہ وانا الیہ راجعون۔ وہ خاصے عرصے سے ذیابیطیس کے مریض تھے اور سانس کی تکلیف بھی تھی لیکن ان کی وفات اتنی اچانک ہوئی کہ خبر سنتے ہی سناٹے کی سی کیفیت سے دوچار ہونا پڑا ۔ میر صاحب مرحوم میرے گنتی کے چند مخلص دوستوں میں سے تھے، تعلقانہ کی نوعیت دوستانہ سے بڑھ کر برادرا نہ تھی، وہ میرے پڑوسی بھی تھے اور مقتدی بھی، مجھ پر قائم ہونے والے بیشتر مقدمات میں وکیل صفائی رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۱۹۹۱ ء

حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ ۔ مردِ درویش کی چند قلندرانہ باتیں

اس سال لندن آتے ہوئے کراچی میں چند روزہ قیام کے دوران حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اﷲدرخواستی قدس اﷲ سرہ العزیز کے منجھلے فرزند مولانا حاجی مطیع الرحمان درخواستی کے ساتھ بھی کچھ روز کی سفری رفاقت رہی اور اسی موقع پر ان سے حضرت درخواستیؒ کی وہ تاریخی تقریر آڈیو کیسٹ کے ذریعے سننے کا موقع ملا جو انہوں نے امام العلماء حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کی وفات پر ۱۹۶۲ء میں رمضان المبارک کے آخری جمعۃ المبارک کے اجتماع میں خانپور کی عید گاہ میں کی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ نومبر ۲۰۰۰ء

حضرت مولانا محمد اسحاق قادریؒ

گذشتہ دنوں باغبانپورہ لاہور کے بزرگ عالم دین حضر ت مولانا محمد اسحاق قریشی فاضل دیوبند طویل علالت کے بعد رحلت فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حضرت مرحوم قطب الاقطاب حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کے خصوصی تربیت یافتہ حضرات میں سے تھے اور انہوں نے تمام عمر اپنے شیخ کی طرز پر قرآن کریم کی تعلیمات اور اللہ اللہ کا ورد عام کرنے میں بسر کر دی۔ ان کی نماز جنازہ حضرت الامیر مولانا محمد عبد اللہ درخواستی مدظلہ نے پڑھائی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۱۹۹۳ء

سید ذو الکفل بخاریؒ

امیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاری کے اس ہونہار نواسے کی اچانک اور حادثاتی موت نے تو کچھ لمحات کے لیے ذہن پر سکتہ طاری کر دیا۔ وہ مکہ مکرمہ کی ام القریٰ یونیورسٹی میں تدریسی خدمات سرانجام دے رہے تھے اور کئی برسوں سے سعودیہ میں مقیم تھے۔ اس سال اپریل کے دوران مکہ مکرمہ میں حاضری کے دوران میری خواہش رہی کہ ان سے ملاقات ہو جائے مگر میرے میزبان کا ان سے رابطہ نہ ہو سکا۔ اور اب پیر کے روز میں میرپور آزاد کشمیر کے ایک دینی مدرسہ کے اجتماع میں شرکت کے لیے جا رہا تھا کہ برادرم عبد اللطیف خالد چیمہ نے ٹیلی فون پر گلوگیر لہجے میں یہ خبر دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۰ء

حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کا فقہی ذوق

میرے مخدوم و محترم بزرگ استاذ العلماء حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ پرانے اور بزرگ علماء کرام میں سے تھے، گوجرانوالہ کی قدیم مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ کے خطیب اور مدرسہ انوار العلوم کے مہتمم تھے۔ والد بزرگوار حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کے استاذ گرامی تھے اور میں نے والد محترمؒ کو ان کا بے حد احترام کرتے ہوئے اور ان سے مختلف امور میں ہمیشہ راہنمائی حاصل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ مجھے بحمد اللہ تعالیٰ ۱۹۶۹ء سے ۱۹۸۲ء تک مسلسل تیرہ سال مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کی خطابت میں ان کی نیابت و خدمت کا شرف حاصل رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جون ۲۰۱۶ء

ایمل کانسی مرحوم

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمان نے میر ایمل کانسی شہید کے گھر جا کر اور اس کے خاندان سے تعزیت کرکے پورے ملک کے علماء کرام اور دینی حلقوں کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا ہے، ورنہ یہ ملک کے ہر عالم دین اور دینی کارکن کے ذمے تھا کہ وہ میر ایمل کانسی شہید کے گھر جاکر اس خاندان سے تعزیت کرتا اور ایمل کانسی شہید کے بھائیوں کو یقین دلاتا کہ ان کے دلیر اور جرأت مند بھائی نے جس حوصلے اور استقامت کے ساتھ قومی خود مختاری اور ملک کی آبرو کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ نومبر ۲۰۰۲ء

مذاہب اور ان کے عبادت خانے

سینٹ آف پاکستان کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے چیئرمین سینیٹر حافظ حمد اللہ نے گزشتہ روز سینیٹر پروفیسر ساجد میر، سینیٹر ایم حمزہ اور دیگر سینیٹرز کے ایک وفد کے ہمراہ ننکانہ صاحب میں سکھوں کے گوردوارے کا دورہ کیا اور سکھ راہنماؤں کے ساتھ باہمی دلچسپی کے مختلف معاملات پر تبادلۂ خیالات کیا۔ سینٹ کی مذہبی امور کی قائمہ کمیٹی کی تو دستوری ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں رہنے والے تمام غیر مسلموں کے معاملات کی دیکھ بھال کرے، ان سے رابطہ رکھے اور متعلقہ امور میں ان سے مشاورت کا اہتمام کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ نومبر ۲۰۱۷ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter