ایم آر ڈی کے مذہبی رفقاء کے لیے لمحۂ فکریہ

   
۶ اکتوبر ۱۹۸۹ء

روزنامہ جنگ لندن یکم اکتوبر کی ایک خبر کے مطابق پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بیگم بے نظیر بھٹو نے امریکی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسلامی قوانین کی تبدیلی میں جلدی نہیں کریں گی کیونکہ اس سے دباؤ بڑھے گا۔ خبر کے مطابق پی پی حکومت کے وزیر قانون سید افتخار گیلانی نے بھی انٹرویو میں اپنے اس سابقہ موقف کا اعادہ کیا ہے کہ زنا کے جو قوانین پاکستان میں نافذ ہیں وہ غیر منصفانہ اور غیر منطقی ہیں۔

پی پی کی حکومت پہلے دن سے اسلامی قوانین کو وحشیانہ، ظالمانہ، غیر منصفانہ اور انسانی حقوق کے منافی قرار دینے پر نہ صرف مصر ہے بلکہ جو چند قوانین گزشتہ حکومت کے دور میں نافذ کیے گئے تھے انہیں ختم کرنے کی راہ تلاش کر رہی ہے۔ اور مذکورہ بالا انٹرویو کے مندرجات اس امر کی شہادت دیتے ہیں کہ حدود آرڈیننس اور اس قسم کے دیگر شرعی قوانین کی منسوخی میں اگر کوئی رکاوٹ ہے تو وہ صرف عوامی دباؤ اور مخالفت میں اضافہ کا خوف ہے ورنہ حکومت کی اپنی پالیسی بہرحال انہیں ختم کرنے کی ہے۔

ہمیں تو پہلے دن سے ہی پی پی کی قیادت سے اسلام کے حوالے سے کوئی توقع نہیں تھی اس لیے ہم نے ایم آر ڈی میں شمولیت اور پی پی کی خاندانی قیادت کا سہارا بننے سے انکار کر دیا تھا۔ لیکن جو لوگ اس خوش فہمی کا شکار رہے ہیں اور کسی حد تک اب بھی ہیں کہ وہ پی پی کی قیادت کو اسلام کے نفاذ میں مثبت رویہ اپنانے پر آمادہ کر سکیں گے ان کی آنکھیں بہرحال کھل جانی چاہئیں اور حالات کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ اپنے گزشتہ آٹھ سالہ سیاسی رول پر نظرثانی کرتے ہوئے حضرت الامیر مولانا محمد عبد اللہ درخواستی مدظلہ کے بصیرت افروز موقف اور درویشانہ قیادت کے دامن میں واپس آجائیں کیونکہ اس کے سوا اب اور کوئی راستہ باقی نہیں رہ گیا۔

   
2016ء سے
Flag Counter