خدمات دارالعلوم دیوبند کانفرنس کے اہم پہلو

   
۱۶ اپریل ۲۰۰۱ء

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے زیراہتمام تین روزہ ’’خدمات دارالعلوم دیوبند کانفرنس‘‘ پشاور میں ’’مجلس تنسیق الاسلامی‘‘ کے قیام کے اعلان اور امارت اسلامی افغانستان کے خلاف عائد پابندیاں ختم کرنے کے مطالبہ کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی ہے۔ اس کانفرنس میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا مرغوب الرحمان کی قیادت میں اساتذہ دارالعلوم کا ایک بھرپور وفد شریک ہوا، جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ مولانا اسعد مدنی نے شرکت کی اور ان کے علاوہ مختلف ممالک کے سینکڑوں مندوبین کانفرنس میں شرکت کے لیے تشریف لائے، جبکہ پاکستان بھر سے ہزاروں علماء کرام اور لاکھوں دینی کارکنوں نے مسلسل تین روز تک کانفرنس کو رونق بخشی۔

حکومت پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کی پاسداری کرتے ہوئے امارت اسلامی افغانستان کے سرکاری وفد کو کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان آنے کی اجازت نہیں دی البتہ امیر المومنین ملا محمد عمر کا ریکارڈ شدہ پیغام کانفرنس میں سنایا گیا، پاکستان میں امارت اسلامی افغانستان کے سفیر مولوی عبد السلام ضعیف نے کانفرنس سے خطاب کیا اور طالبان حکومت کے بعض سرکردہ حضرات نے غیر سرکاری طور پر کانفرنس میں شرکت کی۔ جمعیۃ علماء اسلام کے تنظیمی دائرہ سے ہٹ کر کانفرنس میں شرکت کرنے والی دینی اور سیاسی شخصیات میں نوابزدہ نصر اللہ خان، راجہ محمد ظفر الحق، قاضی حسین احمد اور ڈاکٹر اسرار احمد بطور خاص قابل ذکر ہیں اور جمعیۃ علماء اسلام کے دوسرے دھڑے کے قائد مولانا سمیع الحق کا کانفرنس سے خطاب بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔

راقم الحروف نے کانفرنس کی دو نشستوں میں حاضری دی۔ پہلے روز پاکستان شریعت کونسل پنجاب کے سیکرٹری جنرل مولانا قاری جمیل الرحمان اختر، مولانا انیس الرحمان قریشی اور مولانا ذکاء الرحمان اختر کے ہمراہ مغرب کے بعد کی نشست میں عمومی پنڈال میں بیٹھ کر مولانا محمد خان شیرانی اور مولانا سمیع الحق کے خطابات سنے۔ جبکہ دوسرے روز صبح کی نشست میں پاکستان شریعت کونسل کے امیر حضرت مولانا فداء الرحمان درخواستی اور سیکرٹری اطلاعات مولانا صلاح الدین فاروقی کے ہمراہ اسٹیج پر حاضری دی اور خصوصی مہمانوں کے کیمپ میں کچھ وقت گزارا۔ مجھے ایک دو روز پہلے سے نزلہ و زکام کی شکایت تھی جس میں سفر کی وجہ سے اضافہ ہوتا نظر آرہا تھا اس لیے دوسرے روز کی پہلی نشست میں شرکت کے بعد حضرت مولانا فداء الرحمان درخواستی سے اجازت لے کر میں نے واپسی کرلی اور گوجرانوالہ پہنچنے تک باقاعدہ بخار نے آلیا جس کے اثرات دو روز بعد بھی باقی ہیں اور اسی کیفیت میں یہ سطور لکھ رہا ہوں۔

خدمات دارالعلوم دیوبند کانفرنس اس لحاظ سے کامیاب رہی کہ مولانا فضل الرحمان اور ان کے رفقاء کئی ماہ کی مسلسل محنت کے بعد دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام، دینی کارکنوں اور عام مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو جمع کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور دیوبندی مکتب فکر کی بیشتر جماعتوں اور علمی حلقوں کے نمائندے ایک مدت کے بعد اس اسٹیج پر یکجا ہوئے ہیں جس پر مولانا فضل الرحمان اور ان کی پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔ اس کانفرنس سے جہاں پاکستان کی دینی جماعتوں اور خاص طور پر امام ولی اللہ دہلویؒ کے علمی و فکری حلقہ سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کو حوصلہ ہوا ہے کہ وہ ابھی تک اس عوامی اور تحریکی قوت سے پوری طرح بہرہ ور ہیں جو دینی تحریکات میں عالم اسباب کی حد تک ان کا سب سے بڑا اثاثہ رہی ہے اور جس کے بل بوتے پر وہ استعماری قوت اور ہر حکومت کو للکارتے رہے ہیں، وہاں پشاور سے چند میل کے فاصلے پر افغانستان کی اسلامی حکومت اور طالبان تحریک کے اس اعتماد کو بھی نیا رخ ملا ہے کہ پاکستان کی دینی رائے عامہ بدستور ان کی پشت پر ہے۔ اور اگرچہ حضرت مولانا عبد اللہ درخواستیؒ، حضرت مولانا عبد الحقؒ اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ دنیا میں موجود نہیں ہیں لیکن ان کی معنوی اولاد آج بھی اسی دم خم او رجوش و خروش کے ساتھ افغان بھائیوں کی حمایت میں اپنے اکابر کے مشن کا پرچم اٹھائے ہوئے ہے اور ان کے ہوتے ہوئے افغانستان کی اسلامی حکومت کو پاکستان کے عوام اور دینی حلقوں کی طرف سے کسی قسم کی پریشانی کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

اس کانفرنس سے امریکہ بہادر پر بھی یہ بات ایک بار پھر واضح ہوگئی ہے کہ عالم اسلام اور جنوبی ایشیا کے بارے میں اس کے ایجنڈا ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ کا راستہ صاف نہیں ہے بلکہ اس کا راستہ روکنے کے لیے ایک مضبوط اور بے لچک نظریاتی اور فکری قوت میدان میں موجود ہے۔ وہی قوت جس کے ہاتھوں جنوبی ایشیا میں برطانوی استعمار کو ہزیمت اٹھانا پڑی تھی اور وہی قوت جس نے افغانستان اور وسطی ایشیا سے روسی استعمار کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اس لیے اسے نہ صرف عالم اسلام اور جنوبی ایشیا بلکہ مشرق وسطیٰ کے حوالہ سے بھی اپنی پالیسیوں، طرز عمل اور ترجیحات پر نظرثانی کرنا ہوگی اور عالم اسلام کے خلاف معاندانہ اور منتقمانہ رویہ ترک کر کے ملت اسلامیہ کے جداگانہ وجود، تشخص اور حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے مذاکرات اور مکالمہ کی میز پر آنا ہوگا۔

میرے نزدیک اس کانفرنس کا سب سے اہم پہلو ’’مجلس تنسیق اسلامی‘‘ کا قیام ہے جس کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ وہ عالم اسلام میں وحدت کے جذبات کو فروغ دینے کے لیے کام کرے گی اور ایک اسلامی بلاک کے قیام کی راہ ہموار کرے گی۔ اگر کانفرنس کے منتظمین بالخصوص مولانا فضل الرحمان اس مقصد میں سنجیدہ ہیں اور اسے محض ایک ٹائٹل کے اضافے تک محدود نہیں رکھنا چاہتے تو فی الواقع یہ وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے اور مولانا فضل الرحمان اسے عملاً کر بھی سکتے ہیں۔ بشرطیکہ اس کا آغاز عالم اسلام کی دینی تحریکات اور علمی حلقوں کے مابین رابطہ و مفاہمت کے فروغ سے ہو اور مسلم ممالک کے سرکاری حلقوں کو سردست نظر انداز کیا جائے۔ اس وقت ملت اسلامیہ کی حقیقی قیادت انہی اسلامی تحریکات اور علمی مراکز کے پاس ہے مگر وہ باہمی ربط و تعاون اور مفاہمت و اشتراک کے فقدان کی وجہ سے قیادت کے عملی مقام سے محروم ہیں۔ اس لیے جو جماعت یا حلقہ انہیں اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوگا وہ اسلامی بلاک کے قیام کی راہ ہموار کرنے میں بھی یقیناً کامیابی سے ہمکنار ہوگا۔

   
2016ء سے
Flag Counter