دینی مقاصد کے لیے جدید الیکٹرانک میڈیا کا استعمال

   
۱۱ و ۱۲ نومبر ۲۰۰۸ء

مختلف اخبارات میں اے پی پی کے حوالے سے خبر شائع ہوئی ہے کہ گزشتہ دنوں مکہ مکرمہ میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے سربراہ حضرت مولانا عبد الحفیظ مکی کی زیرصدارت منعقد ہونے والے اجلاس میں تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے ٹی وی چینل کے اجراء کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے اور اس کے انتظامات کی تیاری ہو رہی ہے۔

دینی مقاصد کے لیے ٹی وی چینل کی ضرورت ایک عرصے سے اس پس منظر میں محسوس کی جا رہی ہے کہ آج کے دور میں ٹی وی ابلاغ کا سب سے مؤثر اور وسیع ذریعہ ہے، بلکہ مسلمانوں اور مغرب کے درمیان نظریاتی اور تہذیبی کشمکش میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مسلسل استعمال ہونے والا سب سے زیادہ مؤثر اور خوفناک ہتھیار ہے، جس کے ذریعے اسلام کے عقائد و احکام کے خلاف نفرت انگیز مہم روز بروز وسیع ہوتی جا رہی ہے اور مسلمانوں بالخصوص دینی حلقوں کی کردار کشی کی جا رہی ہے۔ ظاہر بات ہے کہ ہتھیار کا جواب ہتھیار سے ہی دیا جا سکتا ہے اور جنگ کا مسلمہ اصول ہے کہ دشمن کے پاس جو ہتھیار موجود ہو اس سے زیادہ مؤثر ہتھیار حاصل کرنا یا کم از کم اس درجے کا ہتھیار مہیا کرنا ضروری ہوتا ہے ورنہ مقابلہ مشکل ہو جاتا ہے۔

چند سال قبل ہم نے بھی ورلڈ اسلامک فورم کے تحت اس کے لیے کوشش کی تھی کہ اسلام کی دعوت و تبلیغ اور تحفظ و دفاع کے لیے عالمی سطح پر کوئی ٹی وی چینل قائم کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے ہم نے لندن میں متعدد سیمینار کیے اور مولانا محمد عیسیٰ منصوری، مولانا مفتی برکت اللہ اور راقم الحروف نے متعدد دیگر علماء کرام کے ساتھ مل کر اس کے لیے لابنگ کی، باقاعدہ اس کی فزیبلٹی رپورٹ تیار کرائی اور مسلسل کئی سال تک مہم چلائی مگر ہم وسائل اور انتظامات کے تقاضے پورے نہ کر سکنے کی وجہ سے اس میں کامیاب نہ ہوئے۔ اس لیے اب اگر مولانا عبد الحفیظ مکی اور ان کے رفقاء اس کی کوشش کر رہے ہیں تو ہمیں اس پر بے حد خوشی ہے اور ہم ان کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں، آمین یا رب العالمین۔

جن دنوں ہم ورلڈ اسلامک فورم کے تحت اس کے لیے کوشش کر رہے تھے تو بہت سے دوستوں نے ٹی وی کے جواز اور عدم جواز کے حوالے سے سوال اٹھایا مگر اس وقت ہم نے یہی عرض کیا کہ جہاں اجتماعی ضروریات کی بات ہو، خاص طور پر حالت جنگ کا مرحلہ ہو تو ضروریات کا ایک مرحلہ ایسا آتا ہے جہاں فقہاء کرام ’’الضرورات تبیح المحظورات‘‘ کے اصول کے تحت جواز اور عدم جواز سے چشم پوشی کر لیتے ہیں۔ جس کی ایک واضح مثال ہمارے سامنے موجود ہے کہ اسلام نے جہاد و قتال اور جنگ کے جو اصول و ضوابط اور احکام و قواعد بیان کیے ہیں اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلہ میں جو واضح ہدایات دی ہیں ان کی رو سے ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ اور بلا تفریق پوری آبادی کو تہس نہس کر دینے والے یہ ہتھیار اسلام کے اصول جنگ سے قطعاً مطابقت نہیں رکھتے لیکن چونکہ یہ ہتھیار دشمن کے پاس موجود ہیں اور ان سے بچاؤ کے لیے ہمارے پاس بھی اسی قسم کے ہتھیاروں کی موجودگی ضروری ہے اس لیے پوری دنیائے اسلام میں جواز اور عدم جواز کی بحث میں پڑے بغیر ایٹمی قوت کو بطور ہتھیار اختیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اور کہیں سے یہ آواز نہیں اٹھ رہی کہ چونکہ ایٹمی ہتھیار اسلام کے اصول جنگ اور جناب رسول اکرمؐ کی ہدایات و تعلیمات کے معیار پر پورے نہیں اترتے اس لیے ان کے حصول کی کوشش ترک کر دی جائے۔ بلکہ دینی حلقے عالم اسلام اور مسلم ممالک پر ایٹمی قوت بننے کے لیے زیادہ زور دے رہے ہیں۔

اسی طرح اگر ٹی وی اسکرین کو بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سب سے زیادہ اور سب سے مؤثر طور پر استعمال ہونے والا ایک ہتھیار سمجھ لیا جائے تو میرے خیال میں جواز اور عدم جواز کی بحث کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ کیونکہ آج کے دور میں فقہائے اسلام کے مسلمہ اصول ’’الضرورات تبیح المحظورات‘‘ کے اطلاق کا اس سے زیادہ صحیح محل اور مصداق شاید اور کوئی معاملہ نہ ہو۔ مگر چونکہ ان دنوں علمی حلقوں میں ٹی وی سکرین کے جواز اور عدم جواز کی بحث جاری ہے اور دونوں اطراف میں اصحاب علم اور ارباب فتویٰ اس کے بارے میں اپنا اپنا موقف دلائل کے ساتھ پیش کر رہے ہیں اس لیے ہم بھی اس حوالے سے چند ’’طالب علمانہ گزارشات‘‘ اہل علم کی خدمت میں پیش کرنے کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں، اس امید پر کہ اہل علم و دانش علمی بنیاد پر اور ملی ضروریات کے پیش نظر ان معروضات کا جائزہ لیں گے اور اس بحث کو کسی منطقی نتیجے تک پہنچنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

ٹی وی اسکرین کے عدم جواز پر اصولی طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ چونکہ یہ تصویر ہے اور جناب نبی اکرمؐ نے تصویر کو صراحتاً حرام قرار دیا ہے اس لیے یہ بھی تصویر کے حکم میں ہے اور ناجائز ہے۔ یہاں دو باتوں پر غور ضروری ہے:

  1. ایک یہ کہ تصویر کا شرعی حکم کیا ہے؟
  2. اور دوسری یہ کہ کیا ٹی وی اسکرین پر دیکھی جانے والی انسانوں کی نقل و حرکت واقعتاً تصویر کے حکم میں ہے؟

جہاں تک تصویر کا مسئلہ ہے اس میں کوئی کلام نہیں کہ تصویر حرام ہے اور امت کے اہل علم کا کوئی طبقہ بھی اصولی طور پر اس کے جواز کا قائل نہیں ہے۔ لیکن کیا تصویر کی اس حرمت کا اطلاق تصویر کی تمام صورتوں پر ہوتا ہے؟ اس میں بہرحال اختلاف موجود ہے اور یہ اختلاف حضرات صحابہ کرامؓ کے دور سے چلا آرہا ہے:

  • بخاری شریف میں ہے کہ حضرت زید بن خالد جہنیؓ نے جناب رسول اکرمؐ کا یہ ارشاد روایت کیا ہے کہ جس گھر میں تصویر ہو اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ لیکن بسر بن سعیدؓ فرماتے ہیں کہ ایک موقع پر حضرت زید بن خالدؓ بیمار ہوئے اور ہم ان کی عیادت کے لیے گئے تو ان کے دروازے پر لٹکے ہوئے پردے پر تصویریں تھیں۔ میں نے وہاں موجود ام المومنین حضرت میمونہؓ کے ربیب حضرت عبید اللہؓ سے دریافت کیا کہ حضرت زید بن خالد جہنیؓ نے تو جناب رسول اللہؐ کا یہ ارشاد خود ہم سے بیان کیا تھا، پھر یہ تصویروں والا پردہ کیوں لٹکا ہوا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ کیا تم نے حضرت زید بن خالدؓ سے مذکورہ ارشاد نبویؐ سنتے وقت یہ جملہ نہیں سنا تھا کہ ’’الا الرقم فی الثوب‘‘ یعنی وہ تصویر جو کپڑے میں نقش ہو وہ ممانعت سے مستثنیٰ ہے۔
  • اسی طرح ترمذی شریف میں روایت ہے کہ حضرت سہل بن سعدؓ حضرت ابو طلحہ انصاریؓ کی بیمار پرسی کے لیے گئے تو انہوں نے وہاں موجود ایک صاحب سے کہا کہ ان کے نیچے جو گدا بچھا ہوا ہے اسے نکال دے۔ حضرت سہلؓ نے وجہ دریافت کی تو فرمایا کہ اس میں تصویریں ہیں۔ حضرت سہلؓ نے فرمایا کہ کیا جناب نبی اکرمؐ نے تصویر کی حرمت بیان کرتے ہوئے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ’’الا الرقم فی الثوب‘‘ کپڑے پر نقش تصویر اس سے مستثنیٰ ہے۔ تو حضرت ابو طلحہ انصاریؓ نے فرمایا کہ جناب رسول اللہؐ نے یہ فرمایا تو تھا مگر میں اپنے لیے زیادہ بہتر صورت پسند کرتا ہوں۔

بخاری شریف کی مذکورہ روایت کے حوالے سے حاشیہ میں حضرت مولانا احمد علی سہارنپوریؒ نے اس سلسلہ میں مختلف فقہاء کرام کے اقوال و مذاہب نقل کیے ہیں۔ اور قاضی ابن العربی کا یہ تجزیہ بھی نقل کیا ہے کہ تصویروں کے بارے میں احکام کا خلاصہ یہ ہے کہ جسم رکھنے والی صورتیں یعنی مجسمے تو امت کے اجماع کی رو سے حرام ہیں لیکن کپڑے یا کاغذ پر نقش تصویروں کے بارے میں فقہاء کرام کے چار اقوال ہیں: (۱) ایک یہ کہ وہ بھی مطلقاً ممنوع ہیں۔ (۲) دوسرا یہ کہ مطلقاً جائز ہیں۔ (۳) تیسرا یہ کہ اگر تصویر کی ہیئت و شکل باقی ہے تو حرام ہے اور اگر اس کا سر کاٹ دیا گیا ہے اور اجزاء الگ الگ کر دیے گئے ہیں تو جائز ہے۔ (۴) اور چوتھا قول یہ کہ اگر تصویر کو احترام کے ساتھ رکھا گیا ہے تو ناجائز ہے اور اگر اس کی تعظیم و تکریم نہیں کی جاتی تو جائز ہے۔ قاضی ابن العربی نے ان چاروں میں سے تیسرے قول کو ترجیح دی ہے کہ اگر تصویر کی شکلی ہیئت تبدیل کر دی جائے تو جائز ہے ورنہ نہیں۔ لیکن حضرت مولانا احمد علی سہارنپوریؒ مؤطا امام محمد کے حوالے سے احناف کا موقف حضرت امام محمدؒ کے الفاظ میں یوں بیان کرتے ہیں:

’’ہم اس قول کو لیتے ہیں کہ اگر تصویر بستر پر یا چٹائی پر یا تکیے پر ہو جس کا احترام نہیں کیا جاتا تو کوئی حرج نہیں ہے۔ ہاں جو تصویر سیدھی کھڑی کی گئی ہو یا پردے پر لٹکی ہوئی ہو تو وہ مکروہ ہے۔ یہ قول حضرت امام ابوحنیفہؒ کا ہے اور ہمارے یعنی احناف کے عام فقہاء کا قول بھی یہی ہے۔ بخاری شریف کے حنفی شارع حضرت علامہ بدر الدین العینیؒ نے بھی عمدۃ القاری میں حضرت امام ابوحنیفہؒ کا یہ قول نقل کیا ہے بلکہ وہ فرماتے ہیں کہ امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام سفیان ثوریؒ اور امام ابراہیم نخعیؒ کا قول بھی یہی ہے۔‘‘

دلائل کی زیادہ تفصیل میں جائے بغیر ہم نے چند حوالے صرف اس نکتے کو واضح کرنے کے لیے پیش کیے ہیں کہ تصویر کی حرمت پر اصولی طور پر پوری امت کا اجماع و اتفاق موجود ہونے کے باوجود مختلف شکلوں پر اس کے اطلاق کے حوالے سے اختلاف صحابہ کرامؓ کے دور سے چلا آرہا ہے اور یہ اختلاف دو حوالوں سے ہے:

  1. ماہیت کے حوالے سے کہ کاغذ یا کپڑے پر نقش تصویر پر حرمت کا اطلاق ہوتا ہے یا نہیں؟
  2. مقصد کے حوالے سے کہ جو تصویر احترام کے پہلو سے خالی ہے اور اس کا ادب و احترام نہیں کیا جاتا وہ حرمت میں شامل ہے یا نہیں؟

جبکہ اس سلسلہ میں احناف کا موقف یہ ہے کہ وہ ادب و حرمت کے پہلو سے فرق ملحوظ رکھتے ہیں اور جس تصویر میں ادب و حرمت کا پہلو نہیں پایا جاتا اس میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ فقہاء متقدمین کے درمیان پائے جانے والے اس واضح اختلاف کی موجودگی میں اس معاملے میں اس قدر سختی کی کوئی گنجائش ہے کہ عدم جواز کے قول پر ’’حرمت قطعیہ‘‘ کا حکم صادر کر دیا جائے۔

اس مسئلہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ٹی وی اسکرین پر نظر آنے والی نقل و حرکت پر تصویر کا اطلاق ہوتا ہے یا نہیں؟ یہ ایک تکنیکی اور فنی بحث ہے اور بہرحال اجتہادی مسئلہ ہے جس میں مفتیان کرام کے لیے دلائل اور مصالح کے حوالے سے دونوں طرف گنجائش موجود ہے۔ ہمارے نزدیک یہ کم و بیش اسی طرح کی بحث ہے جیسا کہ نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے جواز اور عدم جواز پر کم و بیش نصف صدی بحث جاری رہی ہے۔ لاؤڈ اسپیکر جب نیا نیا آیا تو ہمارے علمی حلقوں میں یہ بحث چل پڑی کہ اس کا نماز میں استعمال جائز ہے یا نہیں؟ اور جو مقتدی صرف لاؤڈ اسپیکر کی آواز پر امام کی اقتداء کر رہا ہے اس کی نماز ہو جاتی ہے یا نہیں؟ اس اختلاف کی بنیاد اس نکتہ پر تھی کہ لاؤڈ اسپیکر سے آنے والی آواز امام کی اصل آواز ہے یا اس کی صدائے بازگشت ہے۔ اگر اصل آواز ہے تو نماز درست ہے اور اگر اس سے مختلف نئی آواز ہے تو محض اس آواز پر امام کی اقتداء کرنے والے مقتدی کی نماز درست نہیں ہے۔ اب جن مفتیان کرام کی تحقیق یہ تھی کہ امام کی اصل آواز لاؤڈ سپیکر کے ذریعے بلند اور وسیع ہو کر سامعین تک پہنچ رہی ہے، ان کے نزدیک نماز میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال جائز تھا۔ اور جن کی تحقیق میں لاؤڈ اسپیکر کی آواز امام کی آواز سے مختلف تھی، وہ عدم جواز کا فتویٰ دیتے تھے۔

خود ہمارے ہاں مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں ہمارے بزرگ و محترم اور مخدوم حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ عدم جواز کے قائل تھے اور جمعۃ المبارک کے اجتماع میں لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے سے منع کیا کرتے تھے۔ لیکن ان کے نائب کے طور پر ۱۹۷۰ء میں جب میں یہاں آیا تو میں نے استعمال شروع کر دیا۔ کچھ عرصہ تک حضرت مفتی صاحبؒ نے ایک درمیان کی راہ نکالی کہ وہ لاؤڈ اسپیکر کے ساتھ ساتھ دو یا تین مکبرین بھی کھڑے کر دیا کرتے تھے لیکن میرے خیال میں اس تکلف کی کوئی ضرورت نہیں تھی اس لیے رفتہ رفتہ وہ بھی ختم ہوگئی۔ ہمارے تبلیغی جماعت کے حضرات ابھی تک رائے ونڈ کے اجتماع میں نماز کے دوران لاؤڈ اسپیکر کا استعمال نہیں کرتے لیکن عمومی طور پر اب کم و بیش ہر جگہ لاؤڈ اسپیکر کا نماز میں استعمال ہو رہا ہے۔

اس سلسلہ میں ایک لطیفہ کی بات کا ذکر شاید نامناسب نہ ہو کہ چند سال قبل مانسہرہ (ہزارہ) میں ’’سائنس اور مذہب‘‘ کے حوالے سے ایک سیمینار ہوا جس کا اہتمام ہمارے فاضل دوست پروفیسر ڈاکٹر عبد الماجد صاحب نے کیا تھا جو مذہب اور سائنس کے درمیان ڈائیلاگ کے موضوع پر باقاعدہ ایک ادارہ قائم کر کے عالمی سطح پر کام کر رہے ہیں۔ اس سیمینار کی ایک نشست میں مجھے مہمان خصوصی کا اعزاز بخشا گیا۔ اس موقع پر ایک نوجوان نے بڑے تند و تیز لہجے میں سوال کیا کہ مولوی صاحبان کا کیا ہے وہ تو کل تک لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو حرام قرار دیتے رہے اور اب کوئی مولوی لاؤڈ اسپیکر کے بغیر نماز نہیں پڑھاتا۔ میں نے اس کے جواب میں عرض کیا کہ لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو کبھی کسی مولوی نے حرام قرار نہیں دیا البتہ نماز میں اس کے استعمال پر اختلاف رہا ہے اور اس میں مولوی صاحب کا قصور نہیں ہے۔ اس لیے کہ مسئلہ تکنیکی نوعیت کا تھا جس کی وضاحت کے لیے علماء کرام نے اصحاب فن سے رجوع کیا۔ اب جن اصحاب نے یہ بتایا کہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز بولنے والے کی اصل آواز ہوتی ہے، ان کی تحقیق پر اعتماد کرتے ہوئے علماء کرام کے ایک گروہ نے جواز کا فتویٰ دے دیا۔ اور جن کو یہ بتایا گیا کہ اصل آواز نہیں ہوتی انہوں نے عدم جواز کا فتویٰ دے دیا۔ اس لیے اصل اختلاف تو اصحاب فن کا تھا جو مفتیان کرام کے فتوؤں میں اختلاف کا باعث بن گیا۔

ٹی وی اسکرین کے بارے میں اختلاف پر بھی میری رائے اسی نوعیت کی ہے۔ جن اصحاب علم کی رائے میں یہ تصویر ہے ظاہر ہے کہ ان کے نزدیک حرام ہی ہوگی۔ لیکن جو حضرات اسے تصویر نہیں سمجھتے وہ اس کے جواز کی بات کریں گے۔ ہم اس سلسلہ میں زیادہ تفصیل میں جانے کی بجائے مفتیٔ اعظم ہند حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ کے چند فتاویٰ کا حوالہ دینا چاہیں گے جن کے نزدیک ٹی وی اسکرین پر نظر آنے والی نقل و حرکت پر تصویر کا اطلاق نہیں ہوتا۔ کفایت المفتی جلد نہم میں تصویر اور اسکرین دونوں کے حوالے سے حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ کے متعدد فتاویٰ موجود ہیں جن کا اہل علم کو ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔ ہم ان میں سے تین چار کا ذکر کریں گے۔ جہاں تک تصویر کا تعلق ہے حضرت مفتی صاحبؒ کا موقف وہی ہے جو جمہور علماء کا ہے، چنانچہ ایک فتویٰ میں وہ فرماتے ہیں کہ:

’’تصویر کھینچنا اور کھنچوانا ناجائز ہے، خواہ دستی ہو یا عکسی ہو۔ دونوں تصویریں ہیں اور تصویر کا حکم رکھتی ہیں۔ تصویر سے مراد جاندار کی تصویر ہے، خواہ انسان کی ہو یا حیوان کی، البتہ مکانات کے نقشے اور درختوں کی تصویریں ناجائز نہیں ہیں‘‘۔

جبکہ فتویٰ میں تصویر کے بارے میں ارشاد ہے کہ:

’’تصویر بنانے کا حکم جداگانہ ہے اور تصویر رکھنے اور استعمال کرنے کا حکم جداگانہ ہے۔ تصویر بنانے اور بنوانے کا حکم تو یہ ہے کہ وہ مطلقاً حرام ہے خواہ چھوٹی تصویر بنائی جائے یا بڑی۔ کیونکہ علت ممانعت دونوں میں یکساں پائی جاتی ہے اور علت ممانعت مضاہات لخلق اللہ ہے۔ اور تصویر رکھنے اور استعمال کرنے کا حکم یہ ہے کہ اگر تصویر چھوٹی اور غیر مستبین الاعضاء ہو تو اس کو ایسے طور پر رکھنا کہ تعظیم کا شبہ نہ ہو، جائز ہے۔ یا ضرورت کے وقت استعمال کی جائے جیسے سکے کی تصویر، تو جائز ہے۔ باقی بڑی تصویریں بلا ضرورت استعمال کرنا یا ایسی ضرورت میں رکھنا کہ تعظیم کا شبہ ہو، ناجائز ہے۔‘‘

لیکن جب حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ سے سینما کی اسکرین کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے ایک جگہ یہ فرمایا کہ:

’’سینما اگر اخلاق سوز اور بے حیائی کے مناظر سے خالی ہو اور اس کے ساتھ گانا بجانا اور ناجائز امر نہ ہو تو فی حد ذاتہ مباح ہوگا۔ لیکن ہمارے علم میں کوئی فلم کسی نہ کسی ناجائز امر سے خالی نہیں ہوتی۔‘‘

جبکہ ایک اور فتویٰ میں ان کا ارشاد گرامی یہ ہے کہ:

’’سینما میں بہت سی باتیں غیر مشروع ہوجاتی ہیں مثلاً گانا بجانا، غیر محرم صورتیں، رقص، عریاں مناظر۔ اور ان باتوں کی وجہ سے ان کی مجموعی کیفیت کہ لہوولعب اور تہیج شہوات نفسانیہ اس کا ادنیٰ نتیجہ ہے۔ ان وجوہ سے سینما دیکھنا ناجائز ہے، بعض صورتوں میں حرام اور بعض میں مکروہ ہے۔‘‘

تصویر اور اسکرین دونوں کے بارے میں حضرت مفتی صاحبؒ کے ارشادات کا مطالعہ کیا جائے تو نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں نکلتا کہ وہ تصویر اور اسکرین دونوں کو الگ الگ سمجھتے ہیں، ان کے نزدیک اسکرین پر تصویر کا اطلاق نہیں ہوتا اور اگر دیگر ممنوعہ امور سے خالی ہو تو سکرین ’’فی حد ذاتہ مباح‘‘ کا درجہ رکھتی ہے۔

ہماری ایک برگزیدہ علمی شخصیت اور جامعہ اشرفیہ کے سابق صدر مفتی حضرت مولانا مفتی جمیل احمد تھانویؒ کا موقف بھی یہی ہے جیسا کہ ماہنامہ نور علیٰ نور فیصل آباد نے شوال المکرم ۱۴۲۹ھ کے شمارے میں اس مسئلہ کے بارے حضرت مفتی صاحبؒ کا ایک تفصیلی مضمون شائع کیا ہے جس کے آخر میں اس کے خلاصہ کے طور پر حضرت مولانا مفتی جمیل احمد تھانویؒ خود یوں فرماتے ہیں کہ:

’’خلاصہ یہ ہے کہ ٹی وی اور وی سی آر اُن آلات میں سے نہیں ہیں جو صرف لہو و لعب یا گانے بجانے اور کسی گناہ کے لیے بنائے گئے ہیں بلکہ ریڈیو، ٹیلی فون اور تار کی طرح آواز اور شکلوں کو دور تک پہنچانے کے لیے ہیں۔ خواہ ان سے اچھے کاموں میں کام لیا جائے یا برے کاموں میں۔ جائز میں یا ناجائز میں۔ ان کا حکم آلاتِ لہو و لعب اور گانے کے آلات کا نہیں ہو سکتا کہ جس پر نیک کاموں کی بے حرمتی بنتی ہو۔ ان میں ہر مباح کام بھی جائز اور نیک کام بھی جائز ہے۔ قاعدہ فقہیہ یہ ہے کہ جس کے استعمالات بعض حلال اور بعض حرام ہوں، یا کچھ حلال اور بہت کچھ حرام بھی ہوں، تو حلال صورت کی وجہ سے اس کا رکھنا، مرمت کرنا، خرید کرنا، فروخت کرنا سب جائز ہے۔ اسی قاعدے سے خشخاش کی کاشت، افیون کی بناوٹ، ان کا خریدنا، فروخت کرنا اور بلانشہ کی دواؤں میں استعمال سب جائز ہوگا۔ نشے کا استعمال حرام ہے اور باقی جائز ہے۔ ایسے میں یہاں لہو و لعب، گانے بجانے اور سب ناجائز کام حرام گناہ ہیں۔ باقی مباحات، طاعات اور عبادات جائز ہیں۔‘‘

جبکہ استاذ العلماء حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کے بارے میں ان کے ایک شاگرد اور آزاد کشمیر کے معروف مفتی حضرت مولانا مفتی محمد رویس خان آف میرپور نے ایک بار بتایا کہ حضرت کاندھلویؒ سے ٹی وی اسکرین کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ:

’’میاں! یہ چاقو ہے۔ اس سے خربوزہ کاٹو گے تو جائز ہے اور کسی کا پیٹ پھاڑو گے تو ناجائز ہے۔‘‘

اس کا مطلب واضح ہے کہ ان بزرگوں کے نزدیک سینما یا ٹی وی اسکرین کا حکم تصویر اور فوٹو سے مختلف ہے اور وہ اس کے جواز یا عدم جواز کی بات ماہیت کے حوالے سے نہیں بلکہ مقاصد کے حوالے سے کرتے ہیں، جیسا کہ خود تصویر کے بارے میں بھی حضرت امام محمدؒ کے بقول احناف کا ذوق یہی معلوم ہوتا ہے۔

اس لیے ہماری طالب علمانہ رائے میں اس قسم کے اجتہادی مسائل میں جہاں دونوں طرف گنجائش موجود ہو، زیادہ سختی سے کام نہیں لینا چاہیے اور دلائل کے ساتھ ساتھ ملی مصالح اور ضروریات کا لحاظ بھی رکھنا چاہیے۔ ہم نے ایک جگہ پڑھا تھا اور اپنے ایک تفصیلی مضمون میں اس کا حوالہ بھی دیا تھا کہ مزارعت (یعنی بٹائی پر زمین کاشت کے لیے دینا) کو حضرت امام ابوحنیفہؒ ناجائز کہتے ہیں اور صاحبین یعنی حضرت امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ اس کے جواز کے قائل ہیں۔ اس پر معروف حنفی محدث و فقیہ حضرت ملا علی قاریؒ نے دونوں طرف کے دلائل کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے فرمایا تھا کہ دلائل کے حوالے سے حضرت امام صاحبؒ کا موقف قوی ہے لیکن چونکہ مصلحت عامہ صاحبین کے قول میں ہے اس لیے فتویٰ صاحبین کے قول پر دیا جاتا ہے۔

اسکرین کے مسئلہ پر ہمارے خیال میں مصلحتِ عامہ کا تعلق دونوں طرف ہے۔ ایک جانب عام مسلمانوں کو بے حیائی، گانے بجانے اور فحاشی کے ماحول سے بچانے کا جذبہ ہے اور مسلم معاشرے میں دینی ماحول کا تحفظ مقصود ہے جو ظاہر ہے کہ بہت مبارک جذبہ ہے اور مفتیان کرام کی دینی ذمہ داریوں میں سے ہے۔ لیکن دوسری طرف اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ٹی وی چینلز کے ذریعے پھیلائے جانے والے شکوک و شبہات کا ازالہ، اسلامی عقائد و احکام کا دفاع اور مسلمانوں کے عقائد و نظریات کا تحفظ بنیادی ہدف ہے۔ یہ بھی ہماری ملی اور دینی ضروریات میں سے ہے۔ عام مسلمانوں کی مصلحت اور مفاد کا تعلق دونوں طرف ہے اور دلائل بھی یقیناً دونوں طرف موجود ہیں اس لیے دلائل اور ترجیحات کی بحث میں پڑے بغیر ہم ارباب دانش اور اصحابِ فتویٰ سے یہ گزارش کرنا چاہیں گے کہ وہ دونوں طرف سے دلائل اور مصالح عامہ کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی ایسا متوازن اور باوقار راستہ نکالنے کے لیے اپنی اجتہادی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں کہ ’’سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے‘‘۔

یہ آج کے دور میں ہمارے اربابِ علم و فضل کی اجتہادی صلاحیت و بصیرت کا امتحان ہے اور ہمیں امید ہے کہ ہمیشہ کی طرح ہمارے آج کے مفتیانِ کرام بھی امت کی علمی و فکری رہنمائی کا کوئی متوازن اور عملی راستہ نکالنے میں ضرور کامیاب ہوں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

   
2016ء سے
Flag Counter