دستور پاکستان اور قرآن و سنت کی بالادستی

   
نومبر ۱۹۹۷ء

روزنامہ جنگ لاہور ۱۵ اکتوبر ۱۹۹۷ء کی خبر کے مطابق پنجاب اسمبلی نے انجینئر ظفر اقبال ملک ایم پی اے کی پیش کردہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے جس میں وفاقی حکومت سے سفارش کی گئی ہے کہ دستورِ پاکستان میں ترمیم کر کے قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لا قرار دیا جائے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور میں اسلام کو مملکت کا سرکاری مذہب قرار دے کر اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ ملک میں قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نافذ نہیں کیا جائے گا اور موجودہ تمام قوانین کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالا جائے گا۔ لیکن اس دستوری ضمانت کے باوجود ملک میں نہ صرف قرآن و سنت کے منافی قوانین موجود ہیں بلکہ نئے غیر اسلامی قوانین کے نفاذ کا راستہ بھی بدستور کھلا ہوا ہے۔ حالانکہ اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین جناب اقبال احمد خان کے اعلان کے مطابق کونسل ملک میں رائج تمام قوانین کے بارے میں ایک جامع اور مکمل رپورٹ حکومت کو پیش کر چکی ہے اور مروجہ قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کے لیے ضروری مسودات بھی مرتب کر کے حکومت کے حوالے کر چکی ہے، مگر کونسل کی سفارشات اور مسودات وزارتِ قانون کی فائلوں میں دب کر رہ گئے ہیں۔

اسلامی نظریاتی کونسل ایک دستوری ادارہ ہے جسے اسلامی قوانین کی تشکیل و تدوین ہی کی غرض سے قائم کیا گیا ہے، اور کونسل نے اسلامی قوانین کے نفاذ کو حقیقی بنانے کے لیے یہ سفارش پیش کر رکھی ہے کہ ’’قراردادِ مقاصد‘‘ کو ملک کے دستور میں بالاتر حیثیت دی جائے تاکہ اس کے منافی قوانین کے خاتمے کی راہ ہموار ہو۔ ’’قرارداد مقاصد‘‘ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے ۷ مارچ ۱۹۴۹ء کو شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کی مساعی سے منظور کی تھی جس میں کہا گیا ہے:

’’اللہ تعالیٰ ہی کُل کائنات کا بلا شرکتِ غیر حاکمِ مطلق ہے، اور اس نے جمہور کی وساطت سے مملکتِ پاکستان کو اختیارِ حکمرانی اپنی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کے لیے نیابتاً عطا فرمایا ہے۔‘‘

جبکہ اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ دستور کے آرٹیکل ۲ (الف) میں یہ اضافہ کیا جائے کہ

’’قراردادِ مقاصد میں مندرجہ احکام و اصول کو ملک کے جملہ قانونی اور دستوری احکام کی کسوٹی قرار دیا جاتا ہے، اور دستور میں موجود کسی بھی حکم کے علی الرغم ملک کے قوانین و دستوری احکام کے معانی و مفاہیم قراردادِ مقاصد کی روشنی میں متعین کیے جائیں گے۔‘‘

اس کے علاوہ قومی اسمبلی آف پاکستان نے ۱۶ اکتوبر ۱۹۸۵ء کو ایک قرارداد کے ذریعے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لا قرار دینے کے لیے مستقل آئینی ترمیم لائی جائے گی۔ چنانچہ اس کے بعد جولائی ۱۹۸۶ء میں سینٹ آف پاکستان نے نویں آئینی ترمیمی بل کے عنوان سے قرآن و سنت کو ملک کا بالاتر قانون قرار دینے کے لیے آئینی ترمیم منظور بھی کر لی تھی، مگر وہ مقررہ وقت (۹۰ دن) کے اندر قومی اسمبلی میں پیش نہ ہونے کی وجہ سے غیر مؤثر ہو گئی۔

اس پس منظر میں پنجاب اسمبلی کی مذکورہ قرارداد ایک اچھی یاددہانی ہے۔ جس کا خیر مقدم کرتے ہوئے ہم موجودہ حکومت سے گزارش کریں گے کہ اس کے پاس قومی اسمبلی میں مطلوبہ اکثریت موجود ہے، اس لیے پنجاب اسمبلی کی سفارش بلکہ خود قومی اسمبلی کے وعدے کو پورا کرتے ہوئے قرآن و سنت کو ملک کا غیر مشروط طور پر بالاتر قانون قرار دینے کے لیے جلد از جلد دستوری ترمیم لائی جائے تاکہ ملک میں اسلامی احکام و قوانین کے عملی نفاذ کی طرف پیشرفت ممکن ہو۔

   
2016ء سے
Flag Counter