سیرۃ النبیؐ اور معاشرتی حقوق

   
فروری ۲۰۱۸ء

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ انسان دنیا کی جاندار چیزوں میں سے وہ مخلوق ہے جو اکٹھے مل جل کر زندگی گزارتے ہیں۔ تمدن، محلے، بستیاں، مکانات، شہر، ریاستیں، حکومتیں کسی اور مخلوق میں نہیں ہیں۔ یہ سسٹم نہ شیروں میں ہے، نہ ہاتھیوں میں ہے۔ تمدن یعنی مل جل کر رہنا، ایک دوسرے کی ضروریات پوری کرنا، یہ صرف انسانوں میں ہے، اگرچہ دوسرے جاندار بھی یہ کرتے ہیں لیکن محدود دائرے میں۔ تمدن کو معاشرت بھی کہتے ہیں اور یہ انسان کا خاصہ ہے۔ ایک عام لفظ بولا جاتا ہے کہ انسان مدنی الطبع ہے، انسان میں مدنیت، شہریت، اجتماعیت، معاشرت ہوتی ہے، اور اکٹھے رہنا انسان کی مجبوری بھی ہے، انسان کی ضرورت بھی ہے اور انسان کی عادت بھی ہے۔ اکٹھے رہنے کے لیے ایک دوسرے کے حقوق کا لحاظ رکھنا اور ایک دوسرے کی ذمہ داریاں پوری کرنا ضروری ہے۔ جہاں چند آدمی اکٹھے رہتے ہیں تو انہیں ایک دوسرے کا لحاظ رکھنا پڑے گا، ایک دوسرے کی بات سننی پڑے گی، ایک دوسرے کا کام کرنا پڑے گا، ایک دوسرے سے کام لینا پڑے گا۔ اس کو معاشرت، تمدن اور سماج کہتے ہیں۔

اسلام تمدن اور سماج کا مذہب ہے۔ نبی کریمؐ نے آپس کے جو حقوق بیان کیے ان کی ترتیب یہ ہے کہ:

  1. آپؐ نے سب سے پہلے گھر والوں کے حقوق بیان کیے ہیں، اولاد کے لیے ماں باپ کے حقوق، والدین کے لیے اولاد کے حقوق، بھائیوں کے لیے بہنوں کے حقوق، بہنوں کے لیے بھائیوں کے حقوق، خاوندوں کے لیے بیویوں کے حقوق، بیویوں کے لیے خاوندوں کے حقوق اور پھر دوسرے قریبی رشتہ داروں کے حقوق۔ قرآن کریم نے حقوق اس ترتیب سے بیان کیے ہیں۔ چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ہے ’’اٰت ذا القربی حقہ‘‘ (سورہ الاسراء ۲۶) سب سے پہلا حق ماں باپ، اولاد، بیوی بچوں اور بہن بھائیوں کا ہے۔
  2. اس کے بعد دوسرے قریبی رشتہ داروں کا حق بیان کیا ہے اور اسے ’’حقہ‘‘ کہہ کر بیان کیا ہے کہ قریبی رشتہ داروں کو بھی ان کے حقوق درجہ بدرجہ ادا کرو، اس کو صلہ رحمی کہتے ہیں۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ صلہ رحمی دوہری عبادت ہے۔ ویسے خرچ کرنا صدقہ ہے اور رشتہ داروں پر خرچ کرنا دوہرا صدقہ ہے کہ اس میں صدقہ کے ساتھ صلہ رحمی بھی ہے۔
  3. اس کے بعد جناب نبی کریمؐ نے تیسرا دائرہ پڑوسیوں کا، اردگرد رہنے والوں کا بیان فرمایا۔ ’’والجار ذی القربٰی والجار الجنب والصاحب بالجنب‘‘ (سورہ النساء ۳۶)۔ یہ تین قسم کے پڑوسی بیان کیے ہیں، ایک وہ پڑوسی جو رشتہ دار بھی ہیں، دوسرے وہ پڑوسی جو رشتہ دار نہیں ہیں، اور تیسرے پہلو کا ساتھی جسے کولیگ کہتے ہیں، جیسے کلاس فیلو، سفر کا ساتھی ، کسی کام میں شریک، ملازمت میں ساتھ کام کرنے والا۔ یہ تیسرا دائرہ پڑوسیوں کا ہے۔ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جناب نبی کریمؐ نے پڑوسیوں کے حقوق بیان کیے کہ پڑوسیوں کا لحاظ رکھا کرو، حتٰی کہ اگر گھر میں کوئی اچھی چیز پکائی ہے تو پڑوسیوں کو بھی دو، کہتی ہیں میں نے پوچھا پڑوس کی حد کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا، چاروں اطراف سے دس دس گھر۔ عرض کیا چالیس گھروں میں بھجوانے کے لیے کھانا تو میرے پاس نہیں ہوتا۔ فرمایا، اس گھر میں بھیجو جس کا دروازہ تمہارے دروازے سے زیادہ قریب ہو۔ پڑوسیوں کے حقوق میں یہ بات ہے کہ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہو، خوشی، غمی میں شریک ہو، ایک دوسرے کی ضرورت میں کام آئے۔
  4. اس کے بعد چوتھا دائرہ ہے سوسائٹی کا کہ عمومی معاشرے میں جو محتاج اور ضرورت مند ہیں ان کا خیال رکھا جائے۔ کوئی معذور ہے، کوئی مصیبت زدہ ہے، کوئی پریشان حال ہے تو ان کے حقوق ادا کیے جائیں۔ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا ’’وفی اموالھم حق للسائل والمحروم‘‘ (سورہ الذاریات ۱۹) جو مال میں نے تمہیں دیا ہے وہ سارا صرف تمہارا نہیں ہے اس میں دوسروں کا بھی حصہ اور حق ہے سائل کا بھی اور محروم کا بھی۔ سائل سے مراد وہ ضرورت مند ہے جو اپنی ضرورت کا خود اظہار کرے، سائل سے مراد وہ سوالی نہیں ہیں جو گلیوں میں مانگتے پھرتے ہیں۔ جبکہ محروم سے مراد وہ ہے جو ضرورت مند تو ہے لیکن مانگتا نہیں ہے۔ معاشرے میں بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں، ہمارے اردگرد ہوتے ہیں جو ضرورت مند ہوتے ہیں لیکن شرم و حیا کی وجہ سے، اپنے عزت و وقار کی وجہ سے ہاتھ نہیں پھیلاتے، ایسے لوگوں کو سفید پوش کہا جاتا ہے کہ بظاہر دیکھنے میں ٹھیک ٹھاک ہے، کپڑے اچھے پہنے ہوئے ہیں، مگر اندر کا حال یا وہ جانتا ہے یا خدا جانتا ہے۔ اس کا بھی حق ہے کہ اس پر خرچ کیا جائے۔ اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو مانگتا ہی نہیں ہے، اپنی ضرورت کا اظہار ہی نہیں کرتا، اس کو کیسے پہچانیں گے کہ اس کو اس کا حق دیا جا سکے۔ قرآن کریم نے ان کے بارے میں فرمایا کہ ’’تعرفھم بسیمٰھم لایسئلون الناس الحافا‘‘ (سورہ البقرہ ۲۷۳)۔ سمجھدار آدمی علامتوں سے، اس کے حالات و معمولات سے پہچان لیتا ہے، اور ان کی یہ بھی نشانی ہے کہ وہ لوگوں سے لپٹ کر سوال نہیں کرتے۔ یعنی سوسائٹی کے وہ افراد جو اپنی ضروریات کا اظہار کرتے ہیں، ان کا بھی تم پر حق ہے اور جو افراد باوجود محتاج ہونے کے اپنی ضروریات کا اظہار نہیں کرتے ان کا بھی تم پر حق ہے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ اس سے ایک اور فریضہ بھی عائد ہو جاتا ہے کہ اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر رکھنا کہ کون کس کیفیت میں ہے۔ یہ بھی مسلمان کی ذمہ داری ہے۔

    آج کل ہمارا حال یہ ہے جدید سوسائٹی (پوش کالونیوں) میں تو پڑوسی کا پتہ نہیں ہوتا کہ کون ہے، جب تک اس گھر میں خوشی غمی کا موقع نہ آئے، کئی کئی سال تک کوئی خبر نہیں ہوتی کہ ساتھ کون رہتا ہے، بلکہ شادیاں بھی آج کل شادی ہالوں میں ہوتی ہیں حالانکہ ایک حدیث میں آنحضرتؐ نے ارشاد فرمایا ’’لیس المؤمن الذی یبیت شبعان وجارہ جائع فی جنبہ وھو یعلمہ‘‘ جس کا پڑوسی اس کے پڑوس میں رات بھوکا سویا ہے، اس کو معلوم ہے اور یہ خود پیٹ بھر کے سویا ہے، فرمایا اس کو مومن کہلانے کا حق نہیں ہے۔

میں نے عرض کیا کہ پہلا درجہ اپنے اہل خانہ کا ہے۔ دوسرا درجہ برادری، رشتہ دار، قبیلہ کا ہے۔ تیسرا درجہ پڑوسیوں کا ہے اور چوتھا درجہ سوسائٹی کا ہے۔ قرآن کریم نے تفصیل اور ترتیب کے ساتھ حقوق بیان کیے ہیں۔ یتیموں، مسکینوں، پڑوسیوں، مسافروں اور غلاموں کے حقوق درجہ بدرجہ بیان کیے اور یہ فرمایا کہ یہ تمہارا احسان نہیں ہے بلکہ ان کا حق ہے ’’واٰت ذا القربٰی حقہ والمسکین وابن السبیل‘‘ (سورہ الاسراء ۳۶)۔

آنحضرتؐ نے جانوروں کے حقوق بھی بیان فرمائے ہیں۔ اس زمانے میں اونٹ، گھوڑے اور خچر کی سواری ہوتی تھی، اگر کوئی سوار حضورؐ کے پاس آتا تو حضورؐ پوچھتے تھے سواری کدھر ہے اسے کہاں باندھا ہے؟ ایک مرتبہ آپؐ مسجد میں تھے ایک آدمی آیا، اس نے اونٹ باہر چھوڑا اور خود مسجد میں آ گیا، سلام عرض کیا آپؐ نے اس سے پوچھا کیسے آئے ہو؟ عرض کیا اونٹ پر۔ فرمایا اونٹ کدھر ہے؟ عرض کیا یارسول اللہ! اللہ کے توکل پر باہر چھوڑ دیا ہے۔ فرمایا، نہیں! جا کر پہلے اونٹ کے پاؤں باندھو پھر توکل کرو۔ میزبان کی ذمہ داری ہے کہ پہلے مہمان کے جانور کے چارے کا اور اس کے آرام کا اہتمام کرے۔ حضورؐ اس کا خیال کیا کرتے تھے۔ آج کل مثلًا اگر مہمان موٹر سائیکل یا گاڑی پر آیا ہے تو اس سے پوچھنا چاہیے کہ موٹر سائیکل، گاڑی کہاں کھڑی کی ہے، محفوظ جگہ پر کھڑی کی ہے؟ یہ بظاہر چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن یہ بھی حقوق میں شامل ہیں۔

لوگ آج انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں جناب نبی کریمؐ نے تو راستے کا حق بھی بیان فرمایا ہے۔ حضرت ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا کہ راستے میں مت بیٹھا کرو جہاں لوگ آ جا رہے ہوں، وہاں بیٹھ کر مجلس مت لگاؤ، اس سے آنے جانے والوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا یارسول اللہؐ ’’ما لنا بدّ‘‘ مجبوری ہوتی ہے کوئی ساتھی ملنے کے لیے آگیا اور گھر میں بیٹھنے کی جگہ نہ ہو تو باہر گلی میں ہی بیٹھنا پڑتا ہے۔ اگر کسی مسئلے میں کوئی مجبوری ہوتی تھی تو صحابہؓ عرض کر دیا کرتے تھے کہ یارسول اللہ یہ مجبوری ہے اور حضورؐ مجبوری کا حل بتاتے تھے یا کسی کا بتایا ہوا حل قبول فرماتے تھے۔ مثلًا حضورؐ نے خیبر کے موقع پر پالتو گدھے کی حرمت کا اعلان فرمایا اور حکم فرمایا ’’اھر یقوھا واکسروھا‘‘ ہنڈیا الٹا دو اور توڑ دو جس میں گدھے کا گوشت پک رہا ہے۔ اس پر ایک صحابی نے عرض کیا یارسول اللہ کیا دھونے سے کام چل نہیں جائے گا؟ گوشت پھینک دیتے ہیں لیکن ہنڈیا کی پھر بھی ضرورت پڑے گی تو آپؐ نے اجازت فرما دی کہ ہنڈیا دھو لو۔ اسی طرح جب صحابہؓ نے کہا راستے میں بیٹھنا ہی پڑتا ہے تو آپؐ نے فرمایا ’’اعطوا الطریق حقہ‘‘ اگر راستے میں مجلس لگانا ہی پڑتی ہے تو پھر راستے کا حق ادا کرو۔ عرض کیا گیا یارسول اللہ! کیا راستے کا بھی کوئی حق ہوتا ہے؟ ما حق الطریق گلی اور سڑک کا کیا حق ہوتا ہے؟ آپؐ نے راستے کے یہ حقوق بیان کیے ’’غضوا البصر‘‘ تاک جھانک نہ کرو ’’کفوا الاذی عن الطریق‘‘ راستے میں کوئی تکلیف دہ چیز (روڑا، کیلے کا چھلکا وغیرہ) نظر آئے تو اسے ہٹا دو۔ گویا آنے جانے والوں کا حق ہے کہ ان کو تکلیف سے بچاؤ۔ اور فرمایا ’’ردوا السلام‘‘ سلام کہنے والے کو جواب دو۔ سلام کہنا اور سلام کا جواب دینا راستے کا مستقل حق ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ آخر عمر میں نابینا ہو گئے تھے، ان کے شاگرد ہیں امام التابعین حضرت نافع ؒ۔ یہ کہتے ہیں کہ ایک دن ابن عمرؓ نے مجھے کہا، نافع! مجھے بازار لے جاؤ چکر لگانا ہے، کام ہے۔ میں ساتھ چل پڑا، بازار میں چلتے گئے چلتے گئے ایک جگہ جا کر فرمایا چلو واپس چلتے ہیں۔ نافعؒ نے عرض کیا، حضرت! آپ بازار میں کس کام آئے تھے؟ بازار میں آدمی خرید و فروخت کرتا ہے، آپ نے تو کوئی خریدوفروخت نہیں کی۔ فرمایا میں جس کام آیا تھا وہ کام کر لیا۔ عرض کیا، حضرت میں بھی ساتھ ہی تھا، آپ نے کیا کام کیا ہے؟ فرمایا، بازار جاتے ہوئے کچھ لوگوں کو میں نے سلام کہا، انہوں نے جواب دیا، کچھ نے مجھے سلام کہا، میں نے جواب دیا، میں اسی کام کے لیے بازار آیا تھا کہ کافی عرصہ ہوا تھا میں گھر سے بازار نہیں آیا تھا اور راستے کا سلام جواب نہیں ہوا تھا جو کہ حضورؐ کی سنت ہے۔

اسی طرح آنحضرتؐ نے راستے کا ایک یہ حق بیان کیا ’’الامر بالمعروف والنھی عن المنکر‘‘ نیکی کا حکم کرنا، نیکی کے کام میں کسی کو کوتاہی کرتے ہوئے دیکھ کر اسے تنبیہ کرنا اور برائی سے منع کرنا، یہ بھی راستے کے حقوق میں سے ہے۔

جناب نبی کریمؐ نے معاشرتی حقوق بیان فرمائے، اس کے میں نے کچھ دائرے بیان کیے ہیں، گھر، رشتہ دار، پڑوسی، عمومی سوسائٹی، راستہ اور سڑک وغیرہ۔ آپؐ نے حقوق بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک دوسرے کی عزت و احترام کرو، کوئی ایسی بات یا ایسا کام نہ کرو بلکہ کوئی ایسا اشارہ بھی نہ کرو جس سے دوسرے کی توہین ہوتی ہو۔ ام المؤمنین حضرت صفیہؓ کا قد چھوٹا تھا، ایک دن ان کا ذکر ہوا تو ام المؤمنین حضرت عائشہؓ نے اشارہ کیا کہ وہ چھوٹے قد والی، زبان سے کچھ نہیں کہا۔ اس پر حضورؐ سخت ناراض ہوئے کہ عائشہ کیا کر رہی ہو، ایسا کر کے اس کی توہین کر رہی ہو۔ اسی طرح طنز اور استہزا سے منع فرمایا، البتہ ہلکا پھلکا مزاح کرنے کی اجازت دی۔ مزاح اور طنز میں فرق ہے، مزاح وہ ہے جس میں دوسرا محسوس کرے کہ میرے ساتھ دل لگی کی ہے، اور طنز یہ ہے کہ دوسرے کی عزت خراب ہوتی ہو اور وہ اس سے اپنی توہین محسوس کرے۔

دوسرے کی ضروریات کا خیال رکھنا بھی حقوق میں شامل ہے۔ مثلًا مہمان آیا ہے، کھانے کا وقت ہو تو اسے کھانا کھلانا، چائے پلانا، حقہ نسوار دینا۔ ہمارے بنگلہ دیش کے ایک دوست مولانا شمس الدین قاسمیؒ تھے۔ ایک دفعہ وہ مشرقی پاکستان سے میرے پاس بطور مہمان آئے، میں اپنی حیثیت کے مطابق ان کی مہمانی کرتا رہا۔ ایک دو روز کے بعد کہنے لگے آپ نے ہماری مہمانی نہیں کی۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ اپنی طرف سے تو پوری مہمانی کی ہے۔ میں نے پوچھا حضرت! کیا کمی رہ گئی ہے؟ کہنے لگے ارے بھائی! پان تو آپ نے کھلایا نہیں۔ چنانچہ مہمان کی ان ضروریات کا خیال کرنا بھی حقوق میں شامل ہے۔

جناب نبی کریمؐ نے حکم فرمایا کہ ایک دوسرے کو ترجیح دیا کرو۔ وہ مشہور واقعہ آپ نے کئی بار سنا ہو گا، یہاں بھی دیکھ لیں کہ حضورؐ نے ہمیں کیا معاشرت سکھلائی ہے، احد کی جنگ کے موقع پر پانی پلایا جا رہا تھا، ایک زخمی نے آواز دی پانی! اس کے پاس پانی لے کر پہنچے کہ ادھر سے دوسرے کی آواز آئی پانی! انہوں نے کہا، پہلے ان کو پلاؤ۔ وہ اس کے پاس پہنچے، ایک تیسرے کی آواز آئی پانی! انہوں نے کہا پہلے ان کو پلاؤ۔ وہاں تک پہنچتے پہنچتے وہ شہید ہوگئے۔ اسی طرح تینوں نے جان دے دی۔ یہ ہے ایک دوسرے کا احساس، ایک دوسرے کی خوشی، غمی کو محسوس کرنا، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا۔ یہ معاشرتی بنیاد ہے جو قرآن کریم نے بیسیوں آیات میں بیان کی ہے اور جناب نبی کریمؐ نے سینکڑوں احادیث میں ارشاد فرمائی ہے۔

اصولی اور خلاصے کی بات یہ ہے کہ معاشرت کے آداب اور حقوق، ایک دوسرے کا لحاظ، ایک دوسرے کی عزت و احترام سب سے زیادہ قرآن کریم نے اور جناب نبی کریمؐ نے سکھایا ہے۔ اس کی سب سے زیادہ جامع تعلیم جناب نبی کریمؐ نے دی ہے۔ ایک دوسرے کا لحاظ کرنے کی اس حد تک تلقین فرمائی کہ اگر تم گھر میں بچوں کے لیے کوئی پھل لائے ہو تو پھل کھا کر چھلکے دروازے سے باہر مت پھینکو کہ پڑوسی کے بچے دیکھیں گے اور گھر جا کر ضد کریں گے کہ ہم نے بھی کھانے ہیں۔ اگر ان کی حیثیت نہیں ہوئی تو وہ پریشان ہوں گے جس کا سبب تم بنے ہو، اب یا تو وہ بچوں کو ڈانٹ دیں گے یا خود کوئی غلط حرکت کریں گے۔ آپؐ نے یہ تلقین فرمائی کہ ایک دوسرے کے لیے اذیت اور تکلیف کا ذریعہ نہ بنو کہ یہ حق تلفی ہے۔

2016ء سے
Flag Counter