ہمارا تعلیمی نظام و نصاب اور آج کے تقاضے

   
تاریخ اشاعت: 
۲۱ دسمبر ۲۰۲۲ء

برصغیر پاک و ہند اوربنگلہ دیش و برما میں دینی مدارس کا موجودہ نظام اس تسلسل کا ایک حصہ ہے جس کا آغاز ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی میں برصغیر کے مسلمانوں کی شکست کے بعد ہوا تھا۔ انگریز حکمرانوں نے جنگِ آزادی کو کچلنے کے بعد پورے برصغیر پر تعلیمی و تہذیبی یلغار کر دی تھی، مسلمانوں کے تعلیمی ادارے تباہ برباد کر دیے تھے ،اور مروجہ زبان، قانون اور نظامِ تعلیم کو یکسر تبدیل کر کے پرانے تعلیمی نظام کی عملی افادیت کو ختم کر کے رکھ دیا تھا۔ اس وقت چند مردانِ باخدا نے امدادِ باہمی اور عوامی تعاون کی بنیاد پر دینی مدارس کے قیام کی طرف قدم بڑھایا۔ ابتدا میں دیوبند، سہارنپور اور مراد آباد میں چند دینی مدرسے قائم ہوئے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پورے برصغیر میں ان مدارس کا جال بچھ گیا۔ ان مدارس میں فارسی اور عربی زبان کے ساتھ قرآن و حدیث، فقہ، اصول فقہ، ادب، منطق، فلسفہ اور دیگر متعلقہ علوم کو نصاب میں سمو دیا گیا اور ملّا نظام الدین سہالویؒ کے مرتب کردہ ’’درسِ نظامی‘‘ کے دائرہ میں رہتے ہوئے دینی ضروریات اور ترجیحات کا ایک ہدف متعین کر دیا گیا۔ اب تک ہمارے دینی مدارس اسی دائرے میں کام کر رہے ہیں اور معاشرہ ان کی جدوجہد کے ثمرات سے بہرہ ور ہو رہا ہے۔

تاریخ کے طالب علم اور نفاذِ شریعت کی جدوجہد کے نظریاتی کارکن کی حیثیت سے یہ بات عرصہ سے ذہن میں گردش کر رہی تھی کہ آزادیٔ وطن کے بعد دینی تعلیم کے اس پرانے نصاب و نظام کو جوں کا توں قائم رکھنے کی ضرورت باقی نہیں رہی، کیونکہ یہ نظام دورِ غلامی کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر ترتیب دیا گیا تھا اور آزادی کے بعد وہ تقاضے بدل گئے ہیں، اس لیے پورے تعلیمی نظام و نصاب میں اجتہادی تبدیلیوں بلکہ انقلاب کی ضرورت ہے۔ حتٰی کہ حکومتِ پاکستان کے قائم کردہ تعلیمی کمیشن کے ایک سوالنامہ کے جواب میں راقم الحروف نے یہ لکھا تھا کہ علی گڑھ کا نظامِ تعلیم اور دیوبند کا نظامِ تعلیم دونوں دورِ غلامی کی یادگار ہیں اور دونوں کی بنیاد خوف اور تحفظات پر تھی:

  • ایک طبقہ کے سامنے یہ خوف تھا کہ اگر مسلمان نوجوانوں نے جدید تعلیم اور انگریزی زبان سے بے اعتنائی برتی تو قومی زندگی کی دوڑ میں ہندو آگے بڑھ جائے گا اور قومی نظام زندگی کی باگ پر مسلمان کی گرفت قائم نہیں رہے گی، اس لیے اس طبقہ نے علی گڑھ کے نظام کی بنیاد رکھی۔
  • دوسری طرف ایک طبقے کو یہ خوف تھا کہ اگر دینی علوم کی تعلیم و تدریس کا مناسب انتظام نہ ہو سکا تو قرآن و سنت اور ان سے متعلقہ علوم رفتہ رفتہ مسلمانوں کی زندگی سے نکل جائیں گے، نیز مسلمانوں کو مساجد میں نماز اور قرآن کریم پڑھانے والے ائمہ اور حفاظ میسر نہیں آئیں گے تو دین کے ساتھ ان کا تعلق قائم نہیں رہے گا اور رفتہ رفتہ یہ خطہ بھی اسپین بن جائے گا، اس لیے اس طبقہ نے دینی مدارس کے قیام کا سلسلہ شروع کر دیا۔

دونوں خوف اپنی اپنی جگہ بجا تھے اور ان کی بنیاد پر قائم ہونے والے دونوں تعلیمی نظاموں نے معاشرہ کی خدمت کی اور اپنے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے تاریخی کردار ادا کیا، لیکن آزادی اور قیامِ پاکستان کے بعد ان دونوں کو ختم ہو جانا چاہیے تھا کیونکہ اب ضرورت بالکل نئے نظامِ تعلیم کی ہے۔ جس کا خاکہ میرے نزدیک یہ ہے کہ کہ میٹرک تک تعلیم ہر شہری کے لیے لازمی قرار دی جائے جس میں مندرجہ ذیل امور شامل ہوں: (۱) علاقائی زبان (۲) اردو بحیثیت قومی زبان (۳) عربی بطور دینی زبان (۴) انگلش بطور بین الاقوامی زبان (۵) لکھنا پڑھنا (۶) روز مرہ ضروریات کا حساب (۷) جغرافیہ (۸) تاریخ (۹) سائنس و ٹیکنالوجی (۱۰) ضروریاتِ دین۔ یہاں تک تعلیم ہر شہری کے لیے ضروری ہو، اس کے لیے ایک ہی طرز کے تعلیمی ادارے ہوں جن میں کسی قسم کی طبقاتی ترجیحات نہ ہوں۔ میٹرک کے بعد تعلیم کو انجینئرنگ، میڈیکل، علمِ دین، تاریخ، سائنس، ٹیکنالوجی اور دیگر ضروری شعبوں میں تقسیم کر دیا جائے اور ہر شعبہ کی ضروریات کے مطابق قومی تعلیمی پالیسی کی منصوبہ بندی کی جائے۔

یہ خلاصہ ہے ان گزارشات کا جو ایک سوالنامہ کے جواب میں قومی تعلیمی کمیشن کو میں نے بھیجیں۔ اس کے ساتھ یہ احساس بھی رہا کہ ’’چھوٹا منہ بڑی بات‘‘ والی بات ہو گئی ہے، مگر مولانا مفتی محمد رفیع عثمانیؒ سے یہ معلوم کر کے بے حد مسرت ہوئی کہ ان کے والد محترم مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ نے قیامِ پاکستان کے بعد کم و بیش اسی نوعیت کے خیالات کا اظہار تعلیماتِ اسلامیہ بورڈ میں فرمایا تھا اور ان کا نقطۂ نظر بھی لگ بھگ یہی تھا۔ تفصیلات میں جائے بغیر صرف ایک مثال سے بات واضح کرنے کی کوشش کروں گا۔ دینی مدارس نے دورِ غلامی میں بنیادی طور پر تین چار اہم خدمات سرانجام دی ہیں:

  1. ایک یہ قرآن و حدیث اور ان سے متعلقہ علوم و فنون کی حفاظت کی ہے۔
  2. دوسری یہ کہ مسلمانوں کو مساجد اور مدارس آباد رکھنے کے لیے ائمہ، حفاظ اور مدرسین مہیا کرتے رہے ہیں۔
  3. تیسری یہ کہ مسلّمہ دینی عقائد و احکام کے خلاف اٹھنے والے ہر نظریاتی فتنہ کا تعاقب کیا ہے۔
  4. اور چوتھی یہ کہ تحریکِ آزادی کو تربیت یافتہ قائدین اور کارکنوں کی کھیپ فراہم کی ہے۔

اب اس حوالے سے قیامِ پاکستان کے بعد ملک میں شریعتِ اسلامیہ کی بالادستی اور نفاذ کی تحریک کی فکری و علمی قیادت بھی دینی مدارس کی ذمہ داری تھی اور دو کام انہوں نے بہرحال کرنا تھے:

  1. ایک یہ کہ اپنے طلبہ کو نفاذِ اسلام کے حوالے سے پیش آمدہ فکری و عملی مسائل سے مانوس کراتے، اور حدیث و فقہ کی تدریس میں جدید تہذیبی، نظریاتی اور معاشرتی مسائل کو زیر بحث لایا جاتا۔ تاکہ علماء میں ان مسائل پر قرآن و سنت کی روشنی میں بحث و تمحیص اور استنباط و استخراج کا ذوق بیدار ہوتا۔
  2. اور دوسرا یہ کہ طلبہ و علماء کو ذہنی طور پر تیار کیا جاتا تاکہ وہ معاشرہ میں شریعت کی بالادستی کی جدوجہد کی قیادت کریں۔

لیکن یہ دونوں کام ہمارے مدارس میں ضرورت کے مطابق نہیں ہوئے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ قومی سیاست تو اپنی جگہ، خود نفاذِ شریعت کی جدوجہد بھی فکری انارکی کا شکار ہے، اور اس پر سنجیدہ دینی حلقوں کی گرفت نہیں ہے۔ ہمارے ہاں حدیث کی کتابوں میں رفع یدین اور آمین بالجہر جیسے فروعی مباحث پر ہفتوں صرف ہو جاتے ہیں، مجھے ان ضروریات سے انکار نہیں، اپنی ضرورت کے دائرہ میں ہر علمی بحث کی اہمیت مسلّم ہے، اور حدیث کے اسباق میں حسبِ ضرورت میں بھی یہ خدمت سرانجام دیتا ہوں، لیکن میں اس وقت اپنے جذبات کو قابو میں نہیں رکھ سکتا جب دیکھتا ہوں کہ قانون سازی کی حدود، آبادی کے کنٹرول، سود، نظریہ ارتقا، جدلی معاشیات، اباحیتِ مطلقہ، اسلامی حکومت کی سیاسی بنیاد، اور انسانی حقوق کے حوالے سے جو مسائل قدم قدم پر دامن پکڑے ہمارا منہ چڑا رہے ہیں، ان پر کوئی بحث و مباحثہ نہیں ہوتا، حالانکہ حدیث و فقہ کی کتابوں میں ان کے بارے میں بھی وافر مقدار میں مواد موجود ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہزار میں سے نو سو ننانوے علماء کو جب عملی طور پر ان میں سے کسی مسئلہ کا سامنا درپیش ہوتا ہے تو وہ رائج الوقت منطق و استدلال سے تہی دامن ہوتے ہیں، مجبور ہو کر فتویٰ اور طعن و تشنیع کی زبان کا سہارا لیتے ہیں، اور کرکٹ کی اصطلاح میں ’’ایل بی ڈبلیو‘‘ ہو کر رہ جاتے ہیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter