بات ملّا محمد عمر یا مولوی فضل ہادی شنواری کی نہیں ۔۔۔

   
تاریخ : 
اکتوبر ۲۰۰۴ء

ہفت روزہ ضربِ مومن کراچی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے صدارتی انتخاب میں ایک امیدوار کو نا اہل قرار دینے پر سپریم کورٹ کے مولوی فضل ہادی شنواری صاحب کی ملازمت خطرے میں پڑ گئی ہے اور افغانستان میں امریکی سفیر زلمے خلیل زاد نے ان کے اس فیصلے کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان کے صدارتی الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں میں سے ایک صاحب نے گزشتہ دنوں کسی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے انسانی حقوق کے حوالے سے قرآن کریم کے بعض احکام پر تنقید کی اور کہا کہ قرآن کریم کی یہ آیات ان حقوق کے عالمی تصور سے متصادم ہیں، اور وہ برسرِ اقتدار آنے کی صورت میں ان آیات پر عمل کرنے کی بجائے انسانی حقوق کی پاسداری کا اہتمام کریں گے۔ افغانستان کی عدالتِ عظمیٰ کے سربراہ مولوی فضل ہادی شنواری نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے اس امیدوار کو صدارتی الیکشن میں حصہ لینے سے روک دیا ہے اور نااہل قرار دیا ہے۔ جس پر امریکی سفیر نے سخت ردعمل اور غصہ کا اظہار کیا ہے اور کرزئی حکومت سے کہا ہے کہ مولوی صاحب موصوف کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے منصب پر فائز رکھنے کی پالیسی پر نظرثانی کی جائے۔

مولوی فضل ہادی موصوف اس سے پہلے بھی اُس موقع پر مغربی حکمرانوں کی تنقید اور غصہ کا نشانہ بنے تھے جب انہوں نے کابل میں مغربی حکمرانوں اور این جی اوز کی طرف سے پھیلائے جانے والے ویڈیو سنٹروں اور کیبل نیٹ ورک کے مرکز کو فحاشی اور بے حیائی کے فروغ کا باعث قرار دے کر بند کرنے کا حکم دیا تھا، اور اپنے حکم پر عملدرآمد کراتے ہوئے ان مراکز کو بند کرنے کا اہتمام بھی کیا تھا۔

مولوی فضل ہادی شنواری طالبان کے شدید مخالفین میں سے ہیں اور اس وجہ سے بھی کرزئی حکومت میں انہیں یہ اعلیٰ منصب ملا ہے، لیکن بہرحال مولوی ہیں اور دینی تعلیمات سے بہرہ ور ہیں، اس لیے قرآن و سنت کے احکام و قوانین کی نفی اور افغانستان میں فحاشی، بے حیائی اور مغرب کی عریاں ثقافت کے فروغ کو برداشت کرنا ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ انہوں نے اس کا عملاً اظہار کر دیا ہے جس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں اور اس کے ساتھ ہم ان کی استقامت کے لیے بھی دعاگو ہیں۔

مگر اس کے ساتھ ایک اور بات بھی پھر سے واضح ہو گئی ہے کہ افغانستان میں امریکہ کا اصل ہدف طالبان یا ان کی حکومت نہیں تھی بلکہ اسلام اور اس کی اقدار ہیں۔ طالبان چونکہ اسلامی نظام اور اقدار کی نمائندگی کرتے تھے اس لیے وہ زد میں آگئے، ورنہ افغانستان میں جو بھی اسلام کی بات کرے گا یا قرآن و سنت کے احکام و قوانین کے تحفظ کی طرف پیشرفت کرے گا، وہ کسی بھی طبقہ اور گروہ سے تعلق رکھتا ہو، امریکہ اور مغرب کے غیض و غضب کا نشانہ ہو گا۔ بات ملا عمر کی یا مولوی فضل شنواری کی نہیں، اسلام کی ہے۔ اور عالمِ اسلام میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی موجودہ ہمہ گیر مہم کا اصل ہدف اسلام اور اس کی تہذیب و ثقافت ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter