امریکہ اور خودمختار کشمیر

   
تاریخ اشاعت: 
اگست ۱۹۹۶ء

نوائے وقت لاہور ۲۲ جولائی ۱۹۹۶ء نے خبر رساں ایجنسی این این آئی کے حوالے سے مسئلہ کشمیر کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ نے خودمختار کشمیر کا منصوبہ بنا لیا ہے اور اس کے لیے اس کے سفارتکار متحرک ہو گئے ہیں۔

مسئلہ کشمیر کے ساتھ امریکہ اور دیگر مغربی قوتوں کی دلچسپی صرف اس قدر رہی ہے کہ وہ اسے جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت کے درمیان حالتِ جنگ کو مسلسل برقرار رکھنے کے لیے ایک ضرورت سمجھتے رہے ہیں، اور ان کی اب تک کی پالیسیاں اسی ضرورت کے گرد گھومتی رہی ہیں۔ لیکن اب کچھ عرصہ سے امریکہ بہادر کی طرف سے اس مسئلہ کو حل کرنے کی خواہش سامنے آ رہی ہے۔ اس کے پس منظر میں بھی امریکہ کی ایک ضرورت صاف جھلک رہی ہے کہ اسے چین سے نمٹنے کے لیے اس کے پڑوس میں ایک مضبوط فوجی بیس درکار ہے، جو ظاہر ہے کہ کشمیر سے بہتر کوئی اور نہیں ہو سکتا۔

چنانچہ اس قسم کی تجاویز سامنے آ رہی ہیں کہ کشمیر کا جو علاقہ پاکستان کے پاس ہے وہ اس کے پاس رہنے دیا جائے، اور جموں کا علاقہ بھارت کو دے کر وادئ کشمیر کو خودمختار ریاست بنا دیا جائے۔ ظاہر بات ہے کہ نوزائیدہ خودمختار کشمیر کو اپنے تحفظ اور بقا کے لیے عالمی طاقتوں کی امداد اور سہارے کی ضرورت ہو گی، اور امریکہ بہادر اسے اپنی گود میں لے کر یہ تحفظ آسانی کے ساتھ فراہم کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین پاکستان کے ساتھ اپنے بہتر تعلقات کے باوجود عالمی فورم پر کچھ عرصہ سے کھچا کھچا سا نظر آ رہا ہے۔

گزشتہ چند ہفتوں سے مسئلہ کشمیر کے بارے میں امریکی سفارت کاروں کی سرگرمیوں میں جس طرح اضافہ ہوا ہے اس کے پیش نظر آزادکشمیر کے وزیراعظم سردار محمد عبد القیوم خان بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ ’’کشمیر میں ضرور کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے‘‘۔ اور لگتا ہے کہ امریکہ بہادر اب اس مسئلہ کو آخری انجام تک پہنچانے کا فیصلہ کر چکا ہے۔

ہمیں کشمیری عوام اور مجاہدین سے ہمدردی ہے جو نصف صدی سے اپنے دینی تشخص کے تحفظ اور خود ارادیت کے مسلّمہ حق کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، اور ہم نے ان کی جدوجہد کی ہمیشہ حمایت کی ہے، لیکن ان کی طویل جدوجہد اور بے پناہ قربانیوں کے اس انجام سے بھی ڈر لگ رہا ہے۔ گزشتہ روز جہادِ کشمیر کے محاذ پر کام کرنے والے ایک راہنما سے اس مسئلہ پر گفتگو ہوئی تو انہوں نے اس خدشہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اب چونکہ خود کشمیری عوام جہاد میں شریک ہیں اس لیے ان کی مرضی کے بغیر کوئی حل ان پر مسلط نہیں کیا جا سکے گا۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا ہی کر دیں کہ ان کے ہاں کوئی بات مشکل نہیں ہے، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter