شیخ التفسیر حضرت احمد علی لاہوریؒ: حیات و خدمات

   
تاریخ اشاعت: 
۱۸ اکتوبر ۲۰۲۳ء

شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ ایک نو مسلم خاندان کے فرد تھے۔ ان کے والد محترم جو گکھڑ منڈی کے قریب بستی جلال کے رہنے والے تھے،سکھ مذہب سے مسلمان ہوئے تھے، اور اللہ رب العزت نے ان کو یہ مقام عطا فرمایا کہ ان کے بیٹے مولانا احمد علی لاہوریؒ کا شمار برصغیر کے چوٹی کے علماء اور اہل اللہ میں ہوتا ہے۔ حضرت لاہوریؒ نے قرآن کریم کی ابتدائی تعلیم مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں حضرت باواجی عبد الحقؒ سے حاصل کی تھی جو کسی زمانے میں ہندو پنڈت تھے اور تلونڈی کھجور والی میں ایک دھرم شالہ چلاتے تھے۔ باواجی عبد الحقؒ تقریباً‌ پچاس سال اس مسجد کے امام رہے، جبکہ مجھے بھی الحمد للہ اس مسجد میں چار سے زائد عشروں سے خطیب کے طور پر خدمت سرانجام دینے کی سعادت حاصل ہے۔ حضرت لاہوریؒ کے بڑے بیٹے حضرت مولانا حافظ حبیب اللہؒ فاضلِ دیوبند تھے، ان کی زیارت میں نہیں کر سکا کہ وہ میرے ہوش سنبھالنے سے پہلے ہجرت کر کے مکہ مکرمہ چلے گئے تھے، اسی وجہ سے وہ ’’مہاجر مکی‘‘ کہلاتے تھے، وہیں زندگی گزاری اور ان کا انتقال بھی وہیں ہوا۔ حضرت لاہوریؒ کے دوسرے بیٹے حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ میرے شیخ اور مربی تھے۔ جبکہ حضرت لاہوریؒ کے تیسرے بیٹے حضرت مولانا حافظ حمید اللہؒ تھے، شیرانوالہ لاہور میں ان کی متعدد بار زیارت کر چکا ہوں۔

حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کا شمار تحریکِ آزادی کے قائدین میں ہوتا ہے، وہ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے مشن کے آدمی تھے اور انہوں نے اپنی تحریکی زندگی کا آغاز امامِ انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے ساتھ جمعیۃ الانصار کے پلیٹ فارم سے کیا تھا۔ حضرت لاہوریؒ ولی اللہی تحریک کے اہم رکن تھے اور دلی میں کچھ عرصہ امام ولی اللہ کی تعلیمات کی روشنی میں درسِ قرآن کریم کا سلسلہ انہوں نے جاری رکھا۔ حضرت شیخ الہندؒ نے قرآنی تعلیمات کے عام سطح پر فروغ، مختلف طبقات اور علمی حلقوں کے درمیان اختلاف کو کم کرنے، اور دینی مدارس اور یونیورسٹیوں کے فضلاء و طلبہ کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کو اپنی جدوجہد کے اہم اہداف بنایا تھا۔ اور پھر اس رُخ پر جب کام شروع ہوا تو مولانا سندھیؒ اور حضرت لاہوریؒ نے دلی میں نظارتِ قرآنیہ کے عنوان سے فکری تربیتی مرکز کی بنیاد رکھی جو حالات زمانہ کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ مختلف مراحل سے گزرتی ہوئی متعدد فکری مراکز کی شکل اختیار کر گئی۔

اس ولی اللہی قافلے کا تحریکی مرکز دلی میں ہی تھا، جہاں سے برطانوی حکومت نے حضرت لاہوریؒ کو گرفتار کیا اور لاہور میں لا کر اس خیال سے نظر بند کر دیا کہ یہاں ان کا کوئی والی وارث نہیں ہے، ان کا کوئی حلقہ اور جماعت نہیں ہے، یہ باقی زندگی گزار کر یہیں فوت ہو جائیں گے اور معاملہ ختم ہو جائے گا۔ یہ ۱۹۱۷ء کا زمانہ تھا، کچھ عرصہ لاہور جیل میں نظر بند رہنے کے بعد انگریز سرکار نے حضرت لاہوریؒ سے شخصی نیک چلنی کی ضمانت طلب کی کہ آپ یہاں بغاوت نہیں کریں گے۔ ملک لال خان گوجرانوالہ کی ایک معروف شخصیت تھے، نوشہرہ روڈ پر مسجد لال خان انہی کی ہے، یہاں کے علماء کے مشورے سے انہوں نے لاہور جا کر حضرت لاہوریؒ کی ضمانت دی۔ اس کے بعد حضرت لاہوریؒ نے شیرانوالہ گیٹ میں پولیس لائن کی مسجد سبحان خان میں ڈیرہ لگا لیا، یہ چھوٹی سی مسجد تھی جہاں سے انہوں نے کام شروع کیا، رفتہ رفتہ یہ کام ترقی کرتا گیا یہاں تک کہ انہوں نے انجمن خدام الدین کی بنیاد رکھی جو آج تک دین کی تبلیغ و اشاعت میں مصروف ہے۔ اس انجمن کے تحت حضرت لاہوریؒ کے زمانے سے ہفت روزہ خدام الدین شائع ہوتا چلا آ رہا ہے۔ حضرت لاہوریؒ نے قرآن کریم کا ترجمہ اور اس پر حواشی لکھے جن پر تمام مکاتب فکر کے علماء کی تصدیقات ہیں۔ وہ بنیادی طور پر سیاست کی بجائے علم و فکر اور تبلیغ و اصلاح کے میدان کے آدمی تھے اور انہوں نے ان شعبوں میں ولی اللہی مشن کی خوب خدمت کی۔

تقسیمِ ہند سے قبل حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کا تعلق حضرت مولانا حسین احمدؒ مدنی کی جمعیت علماء ہند سے تھا ۔ قیامِ پاکستان کے بعد ۱۹۵۶ء میں ملک کے پہلے دستور کے نفاذ کے بعد اس بات کی ضرورت شدت کے ساتھ محسوس کی گئی کہ جمعیت علماء اسلام کو ازسرنو منظم و فعال بنایا جائے اور عوامی سطح پر اس کی تنظیم نو کی جائے۔ چنانچہ ۱۹۵۷ء میں ملتان میں مغربی پاکستان کی سطح پر علماء کرام کا ایک قومی کنونشن طلب کر کے ’’جمعیت علماء اسلام مغربی پاکستان‘‘ کی تنظیم نو کا فیصلہ کیا گیا اور حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کو امیر منتخب کیا گیا جن کے ساتھ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کو نائب امیر اور حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کو جنرل سیکرٹری چنا گیا، جبکہ دیگر راہنماؤں میں مولانا محمد یوسف بنوریؒ اور مولانا شمس الحق افغانی جیسے بزرگ شامل تھے۔ اس نئی ٹیم نے ملک بھر میں ازسرنو رابطے اور دورے کر کے ہر سطح پر جمعیت علماء اسلام کے حلقے اور شاخیں قائم کر دیں اور علماء کرام کو ملک کے ہر خطہ میں عملی سیاست میں سرگرم حصہ لینے کے لیے تیار کیا۔پاکستان قائم ہونے کے بعد اس کی مخالفت کرنے والے علماء کرام نے اسے بنانے والوں سے بھی زیادہ اپنا عزیز وطن سمجھا اور اس کی سالمیت کے لیے جدوجہد کی، اور جب بھی ملک پر کوئی مشکل وقت آیا تو ولی اللّٰہی گروہ کے تمام ارکان نے بلاتمیز ملک کے تحفظ کے لیے قربانیاں دیں۔ حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی ملکی سالمیت پر تقاریر، پاکستان میں رہنے والوں کے لیے حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کی ہدایات، اور سقوطِ ڈھاکہ سے قبل ملک کی تقسیم کو روکنے کے لیے حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی مخلصانہ مساعی اس حقیقت کا واضح اور ناقابلِ تردید ثبوت ہیں۔

شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کو جب لاہور لایا گیا تھا تو ان کی حیثیت ایک نظر بند کی تھی کیونکہ تحریک آزادی کے نامور راہنما شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کا شاگرد اور مفکرِ انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا تربیت یافتہ عالم دین اور رفیق کار ہونے کی وجہ سے انہیں اس ضمانت پر لاہور کی حدود میں پابند کر دیا گیا تھا کہ وہ انگریز سرکار کے خلاف سرگرمیوں میں شریک نہیں ہوں گے۔ ویسے بھی تحریک ریشمی رومال کی خفیہ تگ و دو کا راز کھل جانے کے باعث وقتی طور پر ایسی سرگرمیوں کا کوئی امکان باقی نہیں رہا تھا۔ چنانچہ حضرت لاہوریؒ نے اپنا رُخ تعلیمی جدوجہد کی طرف موڑ لیا اور شیرانوالہ گیٹ کے ساتھ ایک چھوٹی سی مسجد میں قرآن کریم کا درس دینا شروع کیا جو ان کی نئی علمی و فکری محنت کا نقطۂ آغاز تھا اور پھر وہ ۱۹۶۲ء تک اسی راستے پر چلتے ہوئے اپنے مالک حقیقی کے حضور پیش ہوئے۔

حضرت لاہوریؒ کا یہ درس قرآن کریم عوام کے لیے ہوتا تھا لیکن وہ علماء کرام اور جدید تعلیم یافتہ حضرات کے لیے ان کی سطح پر بھی درس قرآن کریم کا اہتمام کرتے تھے اور اس کے ساتھ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فلسفہ و فکر، خاص طور پر ان کی معرکۃ الآراء کتاب ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ کی تعلیم و تدریس بھی ان کے اس مشن کا حصہ تھا۔ ان سے اس دوران قدیم و جدید طبقات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں ارباب علم نے استفادہ کیا جن میں مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ ، علامہ علاء الدین صدیقیؒ اور ڈاکٹر سید محمد عبد اللہؒ جیسی عظیم شخصیات شامل ہیں۔ قرآن فہمی میں ان کا طرز حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی طرح حالات زمانہ پر قرآن کریم کی آیات و احکام کی تطبیق کا تھا اور وہ دورِ حاضر کی اصطلاحات و ماحول کو سامنے رکھ کر قرآن کریم کی تفسیر و تشریح کے ساتھ ساتھ عقلی و منطقی اور سماجی تعبیرات و تاویلات بھی پیش کرتے تھے جس پر ابتدا میں بعض اہل علم کی طرف سے تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا لیکن دھیرے دھیرے دینی حلقے اس طرز سے مانوس ہوتے چلے گئے اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ حضرت لاہوریؒ کا یہ حلقۂ درس جنوبی ایشیا کی سطح پر فہم قرآن کریم کے بڑے مراکز میں شمار ہونے لگا۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے دین کی اشاعت و تعلیم کے لیے خود اسباب پیدا کرتا ہے اور اگر مسلمانوں میں ذوق نہ رہے تو کافر گھرانوں سے افراد چن کر انہیں اس کام پر لگا دیا کرتا ہے۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے بارے میں سنا ہے کہ لاہور میں تقریر کرتے ہوئے کبھی موج میں آتے تو حضرت لاہوریؒ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے تھے کہ

’’لاہوریو! دیکھ لو اگر تم قرآن سے منہ پھیر لو گے تو اللہ تعالیٰ کو تمہاری کوئی پرواہ نہیں ہوگی۔ وہ ایک سکھ کے پوتے کو لاہور میں بٹھا کر اس سے قرآن کریم کی خدمت لینے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔‘‘

میرا بیعت کا تعلق حضرت لاہوریؒ کے فرزند و جانشین حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ سے تھا جنہوں نے زندگی بھر شفقت و اعتماد سے نوازا۔ ان کی وفات کے بعد حضرت لاہوریؒ کے خلفاء میں سے مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کے ساتھ فکری ہم آہنگی اور طبعی مناسبت سب سے زیادہ تھی اس لیے ان سے یہ تعلق قائم ہو گیا۔ حضرت لاہوریؒ کی وفات کے بعد ان کے سلسلۂ درس کو تادیر قائم رکھنے میں ان کے جانشین حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کے ساتھ جن علماء کرام نے مسلسل محنت کی ان میں حضرت مولانا محمد اسحاق قادریؒ اور حضرت مولانا حمید الرحمن عباسیؒ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ مولانا محمد اسحاق قادریؒ دارالعلوم دیوبند کے ممتاز فضلاء میں سے تھے، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد تھے، جبکہ میرے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے ساتھ دورۂ حدیث میں ہم سبق تھے۔ انہوں نے حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کی خدمت میں سالہا سال رہ کر ان سے قرآن فہمی کا یہ ذوق سیکھا اور پھر ان کے جانشین حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کی معاونت میں اپنے شیخ کی مسند پر بیٹھ کر سالہا سال تک اس سلسلۂ درس کو جاری رکھا۔

حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کی خدمات کا ایک دائرہ پاکستان میں نفاذِ اسلام اور تحفظِ ختم نبوت کی تحریکات بھی تھا، اور وطن عزیز میں انکار حدیث کے فتنہ کے تعاقب کے لیے بھی ان کی جدوجہد سب سے نمایاں رہی ہے۔ انہوں نے علماء کرام کی ایک بڑی اور تاریخی جماعت جمعیت علماء اسلام کی تشکیلِ نو کی سرپرستی کی اور الحاد و تجدد کے بہت سے رجحانات کے سامنے سدِ سکندری ثابت ہوئے۔ وہ بزرگ عالم دین، شیخ کامل، باشعور راہنما، اور متحرک قائد ہونے کے ساتھ ساتھ دینی تحریکات کے کارکنوں کے لیے سرپرست کی حیثیت رکھتے تھے، کارکنوں کی نہ صرف حوصلہ افزائی فرماتے تھے بلکہ خود بھی عملی محنت میں پیش پیش رہتے تھے۔ دینی تحریکات کے حوالہ سے حضرت لاہوریؒ کے ذوق و کردار کی ایک جھلک اس واقعہ میں دیکھی جا سکتی ہے جو مسجد حرام مکہ مکرمہ کے مدرس فضیلۃ الشیخ مولانا محمد مکی حجازی حفظہ اللہ تعالیٰ نے اپنے درس میں بیان فرمایا تھا کہ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں ممتاز شیعہ راہنما سید مظفر علی شمسی گرفتار ہو کر چند ماہ جیل میں رہے اور جب رہا ہو کر وہ گھر پہنچے تو انہیں سب سے زیادہ فکر اس بات کی تھی کہ ان کی غیر موجودگی میں ان کے گھر کا خرچہ کیسے چلتا ہوگا؟ مگر انہیں گھر جا کر معلوم ہوا کہ لاہور کے ایک بزرگ ان کے گھر راشن پہنچاتے رہے ہیں، بعد میں پتہ چلا کہ وہ حضرت لاہوریؒ تھے۔ شمسی صاحب ان کی خدمت میں اظہار تشکر کے لیے حاضر ہوئے تو حضرتؒ نے فرمایا کہ آپ لوگ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے جو قربانیاں دے رہے ہیں، ان پر ہمارا یہ حق تو بنتا ہے کہ ہم آپ لوگوں کے گھروں کی دیکھ بھال کریں۔ حضرت لاہوریؒ کا ایک معروف مقولہ ہے کہ

’’اللہ تعالیٰ کو عبادت سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطاعت سے، اور مخلوقِ خدا کو خدمت سے سے راضی کرو، یہی سارے دین کا خلاصہ ہے۔‘‘

حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ حضرت علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کے معاصرین میں سے تھے۔ حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ سے ایک واقعہ سنا کہ حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ نے ایک دور میں شیرانوالہ لاہور میں اکابر علماء دیوبند کے اجتماع کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر حضرت مولانا حسین علیؒ آف واں بھچراں اور حضرت دین پوریؒ جیسے عظیم اکابر کے ساتھ ساتھ شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی بھی تشریف فرما تھے۔ اجتماع میں لاہور کے سرکردہ حضرات کو بھی مدعو کیا گیا تھا جن میں سرفہرست علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ تھے۔ اس اجتماع میں جب علامہ شبیر احمدؒ عثمانی نے خطاب شروع کیا تو علامہ محمد اقبالؒ اسٹیج پر تشریف فرما تھے لیکن چند لمحوں کے بعد وہ اٹھ کر یہ کہتے ہوئے سامعین میں جا بیٹھے کہ اس پیکرِ علم کا خطاب سامنے بیٹھ کر طالب علموں کی طرح سننا چاہیے۔ یہ علامہ عثمانیؒ کی علمی عظمت کا اعتراف ہے اور اس سے ان کے علمی مقام و مرتبہ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں جب قادیانیت کی گمراہ کن سرگرمیوں اور سازشوں میں اضافہ ہوا تو علماء کرام نے ۱۹۵۳ء میں عظیم الشان تحریک چلائی جس میں ہزاروں مسلمانوں نے خون کی قربانی دی۔ اس تحریک میں جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں نے بھی قائدانہ کردار ادا کیا اور گرفتار ہوئے۔ ۱۹۵۷ء حضرت مولانا مفتی محمود صاحب کی تحریک پر ملتان میں پورے ملک کے علماء کرام کا ایک نمائندہ اجتماع ہوا جس میں جمعیت علماء اسلام کو ازسرنو منظم کرنے اور ملکی سالمیت میں فعال اور مؤثر کردار ادا کرنے کا فیصلہ ہوا۔ چنانچہ امام الاولیاء حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کو جمعیت کا سربراہ چنا گیا اور ان کی سربراہی میں اس قافلہ نے سفر نو کا آغاز کیا۔ اس وقت ملک میں ۱۹۵۶ء کا دستور نافذ تھا، جمعیت علماء اسلام کی دستوری کمیٹی نے مولانا مفتی محمود کی سرکردگی میں اس دستور کی غیر اسلامی شقوں کی نشاندہی کر کے اسلامی دستور و نظام کے لیے جدوجہد کا آغاز کیا اور آئندہ انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کا اعلان کر دیا۔ مگر ۱۹۵۸ء میں جنرل محمد ایوب خان کے مارشل لاء کی وجہ سے یہ انتخابات نہ ہو سکے اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ جمعیت علماء اسلام کو بھی خلافِ قانون قرار دے دیا گیا۔ علماء حق کے اس قافلہ نے حضرت لاہوریؒ کی سربراہی میں ’’نظام العلماء‘‘ کے نام سے ایک مذہبی پلیٹ فارم قائم کر لیا اور اس پلیٹ فارم سے خلافِ اسلام حرکات کے خلاف جدوجہد جاری رکھی۔ چنانچہ جب ایوب خان نے عائلی قوانین نافذ کیے تو نظام العلماء نے انہیں خلافِ اسلام قرار دے دیا۔ مارشل لاء کے دوران دہلی دروازے لاہور میں جلسہ عام کر کے حضرت لاہوریؒ نے ان قوانین کو کھلم کھلا چیلنج کیا۔ اسی طرح جب ایوب خان نے نئے دستور کی تیاری کا اعلان کیا تو نظام العلماء نے اسلامی دستور کا خاکہ مرتب کر کے پیش کیا اور اس کے لیے ملک بھر میں دستخطوں کی مہم چلائی۔ میں اس وقت بہت چھوٹا تھا البتہ اتنی سرگرمیاں اس دور کی ذہن کی یادداشت کے خانے میں محفوظ ہیں کہ نئے دستور کے لیے حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کی قیادت میں نظام العلماء پاکستان نے کچھ تجاویز مرتب کی تھیں جنہیں عرضداشت کے طور پر وزارتِ قانون کو مختلف شہروں سے خطوط کی شکل میں بھجوانے کی مہم جاری تھی اور گکھڑ میں اس پر دستخط کرانے کے لیے میں نے بھی تھوڑا بہت کام کیا تھا۔ اس کے علاوہ ضلعی سطح پر علماء کا ایک وفد جس میں حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ، والد محترم حضرت مولانا سرفراز خان صفدؒر اور مولانا احمد سعید ہزارویؒ شامل تھے، سرکردہ سیاسی زعماء سے ملاقاتیں کر رہا تھا، میرے ذہن میں اس اجلاس کا نقشہ گھوم رہا ہے جس میں ان تینوں بزرگوں نے ممتاز مسلم لیگی لیڈر چوہدری صلاح الدین چٹھہ مرحوم سے ملاقات کے لیے احمد نگر جانے کا پروگرام بنایا تھا۔

شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے اس مایہ ناز شاگرد کو برطانوی حکومت نے اس خیال سے لاہور میں نظربند کیا تھا کہ تحریکِ آزادی کا یہ مفکر اور متحرک راہنما ایک انجانے شہر میں اپنی سرگرمیاں جاری نہیں رکھ سکے گا۔ مگر اس مرد درویش نے ایک چھوٹی سی مسجد میں خاموشی کے ساتھ اپنی تعلیمی اور اصلاحی جدوجہد کا آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کے اثرات دنیا کے مختلف اطراف تک پھیلتے چلے گئے، اور آج دنیا کا کوئی براعظم ایسا نہیں جہاں شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کے شاگردوں اور ان کے شاگردوں کے تعلیمی و اصلاحی اثرات دکھائی نہ دے رہے ہوں۔ مجھے دنیا کے درجنوں ممالک میں جانے کا موقع ملا ہے اور میرے یہ بیرونی اسفار کم و بیش تین عشروں کا تسلسل رکھتے ہیں، جس کے دائرے میں ایشیا، یورپ، افریقہ اور امریکہ چاروں براعظم شامل ہیں، میں نے کم و بیش ہر جگہ حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ سے براہ راست یا بالواسطہ استفادہ کرنے والے دیکھے ہیں، جو اپنی اپنی جگہ ان برکات و فیوض کو پھیلانے میں مصروف ہیں۔

حضرت لاہوریؒ کو جب گرفتار کیا گیا تھا تو کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہوگا لیکن جب ان کا جنازہ اٹھا تو لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔ ۱۹۶۲ء میں جمعیت علماء اسلام پاکستان کے امیر شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کا انتقال ہوا تھا تو ان کے جنازہ میں شرکت کے بعد حضرت مولانا عبد اللہ درخواستیؒ نے مدرسہ مخزن العلوم میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ

’’اہل باطل خوش نہ ہوں کہ حق کہنے والے چلے گئے۔ نہیں، بلکہ ایک جائے گا تو دوسرا اس کی جگہ حق کہنے والا کھڑا ہوگا اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ ہمارے لیے سعادت کی بات ہوگی کہ ہم جانے والوں کے مشن کو سینے سے لگائے رکھیں اور انہی کی طرح محنت اور جدوجہد کرتے ہوئے ان سے جا ملیں‘‘۔

   
2016ء سے
Flag Counter