بہائی گروہ کا پس منظر اور بڑھتی ہوئی سرگرمیاں

   
تاریخ اشاعت: 
اپریل ۱۹۹۸ء

روزنامہ خبریں لاہور نے ۸ مارچ ۱۹۹۸ء کے ادارتی نوٹ میں بہائی گروہ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کا نوٹس لیا ہے اور بتایا ہے کہ ایران کے مذہبی انقلاب (۱۹۷۹ء) کے بعد بہائیوں کے بہت سے خاندان وہاں سے ترکِ وطن کر کے پاکستان کے مختلف حصوں میں آباد ہو گئے تھے، جو رفتہ رفتہ منظم شکل اختیار کر گئے ہیں اور متعدد شہروں میں مراکز تعمیر کر کے اپنی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کرتے جا رہے ہیں۔ حتیٰ کہ اس سال انہوں نے اپنی مذہبی کتاب ’’کتابِ اقدس‘‘ کی رونمائی کی تقریبات بعض بڑے شہروں میں منعقد کی ہیں جن میں پاکستان کی کچھ مقتدر شخصیات نے بھی شرکت کی ہے۔

قادیانیوں کی طرح بہائی گروہ بھی ختم نبوت کا منکر اور ایک نئے مدعی نبوت کا پیروکار ہے جس نے کم و بیش ڈیڑھ سو سال قبل ایران میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ اس کا تعلق اہلِ تشیع سے تھا اور اسی حوالے سے ایک معروف دانشور نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’بہائی اہلِ تشیع کے قادیانی ہیں‘‘۔

اس گروہ کا بانئ اول کا نام علی محمد ہے جو ۲۰ اکتوبر ۱۸۱۹ء کو ایران کے شہر شیراز میں پیدا ہوا۔ اس نے نوجوانی میں یہ دعویٰ کیا کہ وہ ’’باب‘‘ ہے۔ یعنی اہلِ تشیع کے بارہویں امام (امامِ غائب کہلاتے ہیں) تک پہنچنے کا دروازہ اور راستہ ہے اور لوگ اس کے ذریعے بارہویں امام سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس مذہب کو ’’بابی‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

علی محمد باب نے دسمبر ۱۸۴۴ء میں مکہ مکرمہ پہنچ کر حجاج کے اجتماع میں اپنے ’’مامور من اللہ‘‘ ہونے کا دعویٰ کیا اور ایران واپس آ کر اپنے نئے مذہب کی تبلیغ شروع کر دی۔ جس پر علماء اس کے مخالف ہو گئے، چنانچہ اسے گرفتار کر لیا گیا اور ۹ جولائی ۱۸۵۰ء کو تبریز کی فوجی چھاؤنی میں سزائے موت دے دی گئی۔

اس کے بعد اس کے ایک ہوشیار مرید اور شاگرد مرزا بہاء اللہ نے مذہب کی ترویج کا بیڑا اٹھایا اور دعویٰ کیا کہ علی محمد باب تو صرف بشارت دینے کے لیے آیا تھا، اصل مامور من اللہ وہ یعنی بہاء اللہ ہے۔ اس نے قرآن کریم کے منسوخ ہونے اور اپنی نئی وحی کا اعلان کیا، فلسطین کے ایک شہر ’’عکہ‘‘ کو نیا قبلہ قرار دیا، قیامت کا انکار کر کے تناسخ کے عقیدہ پر زور دیا، اور اس کے امتیوں نے دعویٰ کیا کہ (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ کی روح بہاء اللہ میں حلول کر گئی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا مظہر ہے۔ بہائیوں کے عقائد کے حوالے سے پاکستان میں اس گروہ کے آرگن ماہنامہ نفحات لاہور کی اکتوبر ۱۹۹۶ء کی اشاعت میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے دو اقتباسات کا حوالہ دینا مناسب معلوم ہوتا ہے:

’’اہلِ بہاء مانتے ہیں کہ خدا کا کلام نازل ہوتا رہے گا، اس کے احکام آتے رہیں گے، پیغمبرانِ الٰہی کا سلسلہ منقطع نہیں ہو گا، جب تک نوعِ انسانی موجود ہے تب تک وقتاً فوقتاً پیغمبر آتے رہیں گے، وحئ الٰہی نازل ہوتی رہے گی۔ پیغمبروں کا آنا رحمت ہے، وحئ الٰہی خدائی عنایت ہے، گمراہی کے وقت نوعِ انسانی کو راہِ راست دکھانا الٰہی فطرت و سنت ہے، اور سنت اللہ تبدیل نہیں ہوتی۔ جو لوگ سنت اللہ کو بند سمجھے ہیں وہ روحانی زندگی کے سرچشمہ سے دور ہو گئے ہیں، وہ خشک ہوتے جا رہے ہیں، ان کے باطن میں تعلقِ الٰہی کی روح مفقود ہو چکی ہے، وہ قوتِ یقین سے خالی اور مقامِ عرفان سے محروم ہو رہے ہیں۔‘‘

’’اہلِ بہاء تمام پیغمبروں اور اوتاروں کو مانتے ہیں اور سب کی سچائی دنیا کو سمجھاتے ہیں۔ تمام مقدس کتابوں کے حقائق اور اسرار اہلِ بہاء کے روبرو منکشف ہو رہے ہیں۔ الواحِ الٰہی کی روشنی میں سب کتابوں کے بھید کھل گئے ہیں۔ تمام اہلِ مذاہب جو ایک دوسرے کو جھوٹا بتاتے ہیں، ظلمت میں ہیں، اندھیرے میں ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔ جب وہ بصیرت حاصل کرتے ہیں تو دیکھ لیتے ہیں کہ تمام مذاہب دراصل ایک ہی مذہب ہیں۔ سب مقدس کتابیں اصل میں ایک ہی کتاب ہیں۔ سب احکام و فرمان ایک ہی حاکم علی الاطلاق کے احکام ہیں۔ سب کی غرض انسان کو ترقی و فلاح کے معراج پر پہنچانا ہے۔ اور اب تمام مذاہبِ عالم دینِ بہائی میں اس طرح جذب ہو گئے ہیں جس طرح نہریں دریا میں پہنچ کر ایک ہو جاتی ہیں۔ حضرت بہاء اللہ کا ظہور تمام پیغمبروں کا ظہور ہے مگر نئی اور اعلیٰ تجلیات کے ساتھ۔ الواحِ حضرت بہاء اللہ میں تمام کتبِ الٰہیہ جمع ہو گئی ہیں، جس طرح عطر میں بہت سے پھول جمع ہو جاتے ہیں مگر نئی قوت و شان کے ساتھ۔‘‘

مرزا بہاء اللہ شیرازی کی وحی کو ’’الواح‘‘ کہا جاتا ہے، اور انہی کے مجموعہ ’’کتابِ اقدس‘‘ کی رونمائی کی تقریبات کا روزنامہ خبریں کے مذکورہ ادارتی نوٹ میں حوالہ دیا گیا ہے۔ بہائی گروہ کے افراد دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں اور مختلف شہروں میں اس کے بڑے بڑے مراکز موجود ہیں۔ امریکہ کے شہر شکاگو میں بہائی گروہ کا مذہبی مرکز راقم الحروف نے دیکھا ہے اور اس کے ذمہ دار حضرات سے گفتگو بھی کی ہے۔

بادشاہت کے دور میں ایران میں بہائی گروہ کو خاصا عروج حاصل رہا ہے اور وزارتِ عظمیٰ سمیت بہت سے کلیدی مناصب پر اس گروہ کے افراد فائز رہے۔ اسی وجہ سے مذہبی انقلاب کے بعد انقلابی حکومت کے عتاب کا زیادہ نشانہ وہی بنے، اور سرکاری مناصب سے برطرف ہونے کے علاوہ بہائیوں کی ایک بڑی تعداد انقلابی حکومت کے ہاتھوں سزائے موت سے دوچار ہوئی۔ اسی دوران اس گروہ کے بہت سے خاندان ایران چھوڑ کر دنیا کے مختلف ملکوں میں چلے گئے، اور ان کی ایک اچھی خاصی تعداد پاکستان میں آ گئی جو اب یہاں اپنے مذہب کی تبلیغ و ترویج کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔

اس پس منظر میں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بہائیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں فی الواقع باعثِ تشویش ہیں، اور ہم روزنامہ خبریں کے موقف کی تائید کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان کے ساتھ ساتھ ملک کے دینی حلقوں سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ ان سرگرمیوں کا نوٹس لیا جائے اور پاکستان کے سادہ دل مسلمانوں بالخصوص نئی نسل کو گمراہی سے بچانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter