اسلامی نظام کے نفاذ میں رکاوٹ کیا ہے؟

   
تاریخ اشاعت: 
اپریل ۱۹۹۸ء

ہفت روزہ تکبیر کراچی نے ۱۹ مارچ ۱۹۹۸ء کی اشاعت میں اپنے لاہور کے نمائندہ جناب نصر اللہ غلزئی کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے والد محترم میاں محمد شریف صاحب نے گزشتہ دنوں خاندان کا ایک اجلاس منعقد کر کے اپنے دونوں فرزندوں کو حکم دیا ہے کہ فوری طور پر ملک میں اسلام نافذ کر دیں خواہ ان کی حکومت رہے نہ رہے۔

ہم اس سے پہلے بھی بعض ذرائع سے یہ رپورٹ سن چکے ہیں کہ میاں محمد شریف صاحب نے مذکورہ اجلاس میں اپنے بیٹوں سے اس بات پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے کہ وہ ایک سال گزرنے کے باوجود اسلامی نظام کے بارے میں ابھی تک کچھ نہیں کر سکے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف خود بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ ملک میں اسلامی نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ اور صدر محترم جناب محمد رفیق تارڑ نے گزشتہ دنوں اپنے دورہ گوجرانوالہ کے موقع پر سرکٹ ہاؤس میں شہر کے سرکردہ علماء کرام سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ منصبِ صدارت سنبھالنے کے بعد وزیراعظم سے دو بار اسلامی نظام کے نفاذ کے بارے میں بات کر چکے ہیں اور وزیراعظم نے ان سے مکمل اتفاق کا اظہار کیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ جب وزیراعظم خود بھی اسلامی نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں، صدر محترم بھی اس مختصر عرصہ میں ان سے دو مرتبہ بات کر چکے ہیں، وزیراعظم کے والد محترم بھی انہیں سختی کے ساتھ اس کی تاکید کر رہے ہیں، اور انہیں اسمبلی میں مطلوبہ اکثریت اور بھاری مینڈیٹ بھی حاصل ہے تو پھر اسلامی نظام کی راہ میں رکاوٹ کیا ہے؟ ہم وزیراعظم سے گزارش کریں گے کہ اگر وہ واقعی نفاذِ اسلام میں مخلص اور سنجیدہ ہیں اور کوئی رکاوٹ فی الواقع ان کی راہ میں حائل ہے تو اس رکاوٹ کی نشاندہی کریں اور ملک کے عوام اور دینی حلقوں کو اس کے بارے میں اعتماد میں لیں۔ ہم انہیں یقین دلاتے ہیں کہ اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے، خواہ وہ کوئی بھی ہو، ملک کے عوام اور دینی حلقے ان کے ساتھ ہوں گے اور اس مقصد کے لیے کسی قربانی سے گریز نہیں کریں گے۔

   
2016ء سے
Flag Counter