ڈاکٹر جان جوزف کی مبینہ خودکشی اور امریکی مطالبہ

   
تاریخ اشاعت: 
جون ۱۹۹۸ء

بشپ آف فیصل آباد ڈاکٹر جان جوزف کی مبینہ خودکشی کی کہانی ابہام کا شکار ہوتی جا رہی ہے، اور اسے نہ صرف مسلمان راہنماؤں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے بلکہ بعض سرکردہ مسیحی لیڈروں نے بھی اس کہانی کو مشکوک قرار دیا ہے۔ مبینہ طور پر ڈاکٹر جان جوزف نے ساہیوال میں سیشن کورٹ کی اس عدالت کے سامنے رات کی تاریکی میں دو افراد کی موجودگی میں احتجاجاً خودکشی کی ہے جس میں عدالت نے توہینِ رسالتؐ کے ملزم ایوب مسیح کو گزشتہ دنوں موت کی سزا سنائی تھی۔

لیکن ساہیوال کے معروف قانون دان اور پنجاب بار کونسل کے ممبر عبد المتین چوہدری ایڈووکیٹ نے اس کہانی کو مشکوک قرار دیتے ہوئے واقعہ کی عدالتی تحقیقات کے لیے باضابطہ درخواست دائر کر دی ہے۔ جبکہ لاہور کے ایک بشپ جناب کینتھ لیزلی نے اسی نوعیت کی عدالتی تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ اور ’’پاکستان مسیح پریم پارٹی‘‘ کے سربراہ جناب دانی ایل بھٹی اور ساہیوال کے ایک مسیحی راہنما ڈاکٹر جارڈن پیٹرک نے بھی اس مبینہ کہانی کے بارے میں شک و شبہ کا اظہار کیا ہے۔ ان حضرات کا کہنا ہے کہ اگر ڈاکٹر جان جوزف کو عدالت کے سامنے احتجاجاً خودکشی کرنا تھی اس کا معروف طریقہ یہ تھا کہ دن کے وقت عدالت کے ٹائم میں سب موجود لوگوں کے سامنے خودکشی کرتے تاکہ ان کا احتجاج دن کی روشنی میں سب لوگ دیکھتے۔ رات کی تاریکی میں اپنے ایک ساتھی اور ڈرائیور کے سامنے خودکشی کرنے کی بات سمجھ سے بالاتر ہے، اور یوں لگتا ہے کہ انہیں کسی اور جگہ قتل کر کے ان کی لاش اندھیرے میں عدالت کے سامنے ڈال دی گئی ہے تاکہ اسے خودکشی کا رنگ دیا جا سکے۔

اس سلسلہ میں اصل حقائق جلد سامنے آجائیں گے لیکن اس واقعہ پر امریکی حکومت نے جس فوری ردعمل کا اظہار کیا ہے، اور پاکستان کی حکومت سے توہین رسالتؐ کی سزا کا قانون منسوخ کرنے کا مطالبہ دہرانے میں جس عجلت سے کام لیا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دال میں کچھ کالا کالا ضرور ہے، اور امریکی حکومت اگر اس واقعہ کی پلاننگ میں شریک نہیں ہے تو اسے کم از کم اس قسم کے کسی واقعہ کا انتظار ضرور تھا، تاکہ وہ اسے بہانہ بنا کر توہینِ رسالتؐ کی سزا کے قانون کے بارے میں پاکستان پر دباؤ بڑھا سکے، اور ملک میں اس قانون کے خلاف اقلیتوں کی طرف سے مظاہروں کی ایک نئی مہم شروع کی جا سکے۔

اس سلسلہ میں صدر محمد رفیق تارڑ، وزیر مذہبی امور راجہ محمد ظفر الحق، اور جناب اعجاز الحق نے جس ردعمل کا اظہار کیا ہے وہ نہ صرف حکومتی حلقوں بلکہ ملک بھر کے غیور مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے، اور ہمارے لیے مزید اطمینان کا پہلو یہ ہے کہ قوم کے تمام طبقات اور سب مذہبی مکاتب فکر نے امریکی مداخلت کے خلاف یکساں جذبات کا اظہار کیا ہے۔ اور فیصل آباد سمیت متعدد شہروں میں تاجروں اور عوام نے کامیاب ہڑتالیں کر کے امریکی مطالبے کا عملی جواب دیا ہے کہ پاکستان کے غیور مسلمان تحفظِ ناموسِ رسالتؐ کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہیں اور وہ اس معاملہ میں کسی لچک اور نرمی کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter