آفاتِ سماوی احادیثِ رسولؐ کی روشنی میں

   
تاریخ : 
۱۱ و ۱۲ نومبر ۲۰۰۵ء

کسی مسئلہ پر قرآن کریم اور احادیثِ نبویہ علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام کا مطالعہ کرنے سے قبل اگر ہمارے ذہن میں پہلے سے ایک رائے جگہ پکڑ چکی ہو، اور اس کو سامنے رکھ کر ہم قرآن پاک اور حدیثِ نبویؐ کا مطالعہ کرنا چاہیں، تو اکثر اوقات الجھن اور کنفیوژن کا شکار ہو جاتے ہیں، پھر اس الجھن کو اپنی عقل و فہم کے ساتھ دور کرنے کی کوشش اس میں مزید اضافہ کرتی چلی جاتی ہے۔ اس کی بجائے اگر کوئی رائے قائم کیے بغیر رہنمائی حاصل کرنے کے لیے قرآن و سنت سے رجوع کیا جائے، اور اس مسئلہ پر قرآنی آیات اور احادیثِ نبویہؐ کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد رائے قائم کرنے کی کوشش کی جائے تو ایسی بہت سی الجھنوں سے بچا جا سکتا ہے۔

  • پہلی صورت میں ہم قرآن و حدیث سے اپنی رائے کی تائید حاصل کرنا چاہتے ہیں،
  • جبکہ دوسری صورت میں قرآن و سنت کی روشنی میں رائے قائم کرنا ہمارا مقصود ہوتا ہے، یہی فطری اور اصولی طرز عمل ہے۔

ہماری رائے ہمیشہ محدود معروضی حالات اور تناظر کی بنیاد پر تشکیل پاتی ہے جس کی محدودیت کا دائرہ بتدریج وسیع ہوتا رہتا ہے اور معروضیت کو بھی کہیں قرار نہیں ہوتا۔ اس لیے محدودیت اور معروضیت میں تغیر و وسعت کے ساتھ ساتھ رائے بھی تغیر کے عمل سے گزرتی رہتی ہے۔ مگر قرآن و سنت کی بنیاد وحی کے قطعی علم پر ہے، اس لیے ان کی تصریحات کو ہمیشہ دوام حاصل ہوتا ہے۔ اور عقل و مشاہدہ کی بنیاد پر قائم ہونے والی رائے کو بالآخر قرآن و سنت کے قطعی علم کے سامنے سپرانداز ہونا پڑتا ہے۔ اس کی بہت سی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں، مگر ہم اس موقع پر اپنی بات کو واضح کرنے کے لیے صرف ایک مثال پر اکتفا کریں گے۔

قرآن کریم نے متعدد مقامات پر یہ بتایا ہے کہ قیامت کے دن اعمال کے وزن کے لیے ترازو قائم کیے جائیں گے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مختلف احادیث میں اعمال کو تولنے والے ترازوؤں کا ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ قیامت کے روز اُن ترازوؤں پر اعمال کا وزن کیا جائے گا۔ مگر معتزلہ نے، جن کے نزدیک قرآن پاک کی تشریح و تعبیر کی بنیاد صرف عقلِ عام اور مشاہدہ و تجربہ پر تھی، اُس دور کے محدود علمی و مشاہداتی تناظر کی بنیاد پر یہ کہہ کر وزنِ اعمال کا انکار کر دیا کہ چونکہ اعمال و اقوال کا کوئی ٹھوس وجود نہیں ہوتا، وہ کیفیات و اعراض کے قبیل سے ہوتے ہیں، جن کو ریکارڈ میں لانا اور ان کا وزن کرنا ممکن نہیں ہے، اس لیے قرآن کریم کی ایسی آیات کی اس انداز میں تاویل کرنا ہو گی جو عقل و مشاہدہ کے دائرہ میں آ سکے۔

اس پر اہلِ سنت اور معتزلہ کے درمیان صدیوں علمی و فکری معرکہ آرائی رہی تاآنکہ سائنسی تجربات نے بتا دیا کہ اقوال اور اعمال بھی ریکارڈ میں آ سکتے ہیں اور کیفیات و اعراض کا وزن بھی کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ آڈیو اور ویڈیو کے ذریعے گفتگو اور عمل کو محفوظ کیا جاتا ہے، اور سائنسی آلات کے ذریعے حرارت و برودت کا وزن کیا جاتا ہے۔ تب جا کر اس معرکہ آرائی کا زور ٹوٹا اور وقت نے ثابت کر دیا کہ قرآن و سنت کو کسی ایک دور کے محدود علمی تناظر اور عقل و مشاہدہ کی حدود میں پابند کر دینا درست طرزعمل نہیں تھا۔ صحیح بات اہلِ سنت ہی کی تھی کہ عقلِ عام اور مشاہدہ سے قرآن و سنت کی تشریح میں استفادہ ضرور کیا جائے، لیکن جہاں ٹکراؤ کی صورت دکھائی دینے لگے وہاں عقل و مشاہدہ کے تناظر کی محدودیت کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن و سنت کی صراحت کو صحیح مانتے ہوئے اس کی عقلی و مشاہداتی تشریح کو مستقبل کے وسیع امکانات کے حوالے کر دیا جائے۔

اس گزارش کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ پاکستان کے شمالی علاقوں اور آزاد کشمیر میں حالیہ زلزلہ کی تباہ کاریوں کے حوالے سے جو علمی و فکری بحث چھڑ گئی ہے اس میں بھی اسی نوعیت کی الجھن اور کنفیوژن کی کارفرمائی نظر آ رہی ہے۔ ہمارے بعض دانشور بزرگوں کے ارشادات سے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم نے آج کے مشاہداتی اور عقلی تناظر کے ساتھ قرآن و سنت کی ہر حال میں مطابقت پیدا کرنے کی ٹھان لی ہے۔ حالانکہ قرآن و سنت سابقہ ادوار کی طرح آج کے محدود عقلی و سائنسی تناظر کے بھی پابند نہیں، اور نہ ہی آئندہ کسی دور میں انہیں اس کا پابند کیا جا سکتا ہے۔ قرآن کریم کی تصریحات اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریحات وحئ الٰہی کے حوالے سے ہیں، جو زمانے کی حدود سے ماورا ہیں، اور علمِ قطعی ہونے کی وجہ سے وہی کسی بات کے صحیح اور حق ہونے کا اصل معیار ہیں۔

ہمارے بعض دوستوں کے ذہنوں میں اشتباہ پیدا ہوا ہے کہ چونکہ اس زلزلہ میں زیادہ تر عام اور نیک لوگ تباہی کا شکار ہوئے، اس لیے اسے سزا اور عذاب سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ عادل ہیں اور ان کے عدل سے یہ بات بہت بعید ہے کہ وہ بے گناہ اور غیر متعلق لوگوں کو اس قدر خوفناک سزا دیں، اس لیے یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے بلکہ فطری قوانین اور عوامل کی کارفرمائی ہے۔ اس پر ہماری طرف سے یہ سوال اٹھایا گیا کہ جن لوگوں کے نزدیک فطری قوانین اور نیچرل سورسز ہی اس کائنات کے اصل محرک ہیں اور ان کے پیچھے کسی اور قوت کا وجود وہ لوگ تسلیم نہیں کرتے، ان کی طرف سے یہ بات کہی جائے تو کسی حد تک سمجھ میں آتی ہے، لیکن ہمارے نزدیک تو فطری قوانین اور نیچرل سورسز کی حیثیت محض اسباب کی ہے، جن کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی قدرت کارفرما ہے۔ اور ہمارا عقیدہ ہے کہ کائنات میں کوئی بھی چیز اللہ تعالیٰ کی مرضی اور علم کے بغیر حرکت نہیں کرتی۔ اس عقیدہ اور ایمان کے بعد ان اسباب کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟

اس کی مثال تو ایسی ہے کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کو رائفل کی گولی سے ہلاک کر دیا تو اس کا قاتل صرف رائفل کو قرار دے دیا جائے اور اسے چلانے والے کو نظر انداز کر دیا جائے۔ اس لیے اگر یہ ظلم ہے تو اس کی ذمہ داری صرف اسباب پر ڈال دینے سے کام نہیں چلے گا بلکہ اس کے پیچھے کارفرما اصل قوت کے بارے میں بھی کوئی رائے قائم کرنا ہو گی۔ ایک بزرگ دانشور کی طرف سے اس کے جواب میں کہا گیا ہے کہ فطری قوانین ’’فیڈ‘‘ کیے ہوئے پروگرام کے مطابق چلتے ہیں۔ مگر اس جواب سے بھی بات نہیں بن رہی، اس لیے کہ پروگرام فیڈ کرنے والی قوت اسے فیڈ کرنے کے بعد نہ تو بے اختیار ہو گئی ہے اور نہ ہی اس پروگرام کے عمل اور نتائج سے وہ بے خبر ہے۔ لہٰذا اگر ہم ان فطری قوانین اور نیچرل سورسز کو ہی کائنات کا اصل محرِّک اور عامل نہیں سمجھتے، اور ان کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے اختیار و مرضی کے قائل ہیں، تو یہ تسلیم کیے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہے، اور جو کچھ ہوا ہے اس کی مرضی اور منشا کے مطابق ہوا ہے۔

اب رہا یہ سوال کہ اگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہے تو کیا یہ سزا اور عذاب ہے؟ اور اگر یہ سزا اور عذاب ہے تو اس کا نشانہ زیادہ تر وہ لوگ کیوں بنے ہیں جو ایسے جرائم کے سرے سے مرتکب ہی نہیں تھے، جن پر اس قسم کا عذاب آیا کرتا ہے؟ اس سوال کے جواب کے لیے ہمیں قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنا ہو گا۔ ہم اس موقع پر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند ارشادات مبارکہ کا تذکرہ کرنا چاہتے ہیں، جنہیں اگر رہنمائی حاصل کرنے کی نیت سے زیرغور لایا جائے تو ہمیں اس سوال کا جواب بہت آسانی سے مل جائے گا۔

  1. مسلم شریف میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے تین باتوں کا سوال کیا، دو چیزیں اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرما دیں مگر ایک سے انکار کر دیا۔ میں نے سوال کیا کہ یااللہ! میری امت خشک سالی اور قحط کی وجہ سے ہلاک نہ ہو جائے، اللہ تعالیٰ نے میری یہ استدعا منظور فرما لی ہے۔ میں نے گزارش کی، میری امت غرق نہ ہو جائے، اللہ تعالیٰ نے یہ بھی قبول کر لی۔ میں نے عرض کیا کہ یا اللہ ! میری امت آپس میں نہ لڑے، اللہ تعالیٰ نے یہ درخواست قبول نہیں فرمائی۔
  2. طبرانی میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ امام ہیثمیؒ نے اس کے راویوں کو ثقہ قرار دیا ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لیے چار باتیں مانگیں، جن میں سے تین مجھے عطا کی گئیں اور ایک سے انکار کر دیا گیا۔ میں نے سوال کیا کہ میری امت ساری یکبارگی کفر اختیار نہ کر لے، یہ بات قبول کر لی گئی۔ میں نے عرض کیا کہ میری امت پر غیروں میں سے کوئی دشمن مسلط نہ کیا جائے، یہ گزارش بھی مان لی گئی۔ میں نے درخواست کی کہ میری امت کو پہلی امتوں جیسا عذاب نہ دیا جائے، یہ درخواست بھی قبول ہوئی۔ میں نے عرض کیا کہ میری امت آپس میں نہ لڑے، مگر یہ درخواست قبول نہ ہوئی۔
  3. ابو داؤد شریف میں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری یہ امت مرحومہ ہے، اس کے لیے آخرت میں عذاب نہیں، بلکہ اس کا عذاب دنیا میں ہی ہے جو فتنوں، زلزلوں اور باہمی قتل و قتال کی صورت میں ہو گا۔
  4. ترمذی شریف میں حضرت حذیفہ بن یمانؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ضرور سرانجام دو گے، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر عذاب نازل کرے، پھر تم دعائیں کرو گے تو تمہاری دعائیں بھی قبول نہیں ہوں گی۔
  5. ابوداؤد شریف میں سیدنا حضرت صدیق اکبرؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب لوگ معاشرہ میں منکرات یعنی نافرمانی کے اعمال کو دیکھیں اور انہیں تبدیل کرنے کی کوشش نہ کریں تو قریب ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا عمومی عذاب نازل ہو جائے۔ جب لوگ کسی ظالم کو ظلم کرتا دیکھیں اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ظلم سے نہ روکیں تو اللہ تعالیٰ کے عمومی عذاب کا شکار ہو سکتے ہیں۔
  6. ترمذی شریف میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، بخدا! تم نیکی کا حکم ضرور دو گے، برائی سے ضرور منع کرو گے، اور ظالم کا ہاتھ پکڑ کر اسے ظلم سے ضرور روکو گے، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کو ایک دوسرے پر مار دے گا، اور تم پر اسی طرح لعنت کرے گا جیسا کہ پہلی امتوں پر اس نے لعنت فرمائی تھی۔
  7. ابن ماجہ شریف میں حضرت ابو مالک اشعریؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے بعض لوگ شراب پی رہے ہوں گے اور اس کا نام انہوں نے کچھ اور رکھا ہو گا۔ اور ان کے سروں پر گانے کے آلات بج رہے ہوں گے اور گانے والی گا رہی ہوں گی کہ اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے گا اور ان میں سے کچھ کو بندروں اور خنزیروں کی شکل میں مسخ کر دے گا۔
  8. طبرانی میں حضرت عرس بن عمیرہؓ سے روایت ہے کہ امام ہیثمیؓ نے اس کے راویوں کو ثقہ قرار دیا ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کے اعمال پر عام لوگوں کو عذاب میں مبتلا نہیں کرتے، لیکن جب بعض لوگ اللہ تعالیٰ کی نا فرمانی کے اعمال کر رہے ہوں، اور باقی لوگ انہیں روکنے کی طاقت رکھنے کے باوجود روکنے کی کوشش نہ کریں، تو اس وقت اللہ تعالیٰ سب لوگوں کو ہلاک کرنے کی اجازت دے دیتے ہیں۔
  9. مسلم شریف میں ام المؤمنین حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک بار جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نیند کی حالت میں جسم کو ایسی حرکت دی جیسا کہ آپؐ کا معمول نہیں تھا۔ بیدار ہونے پر ہم نے دریافت کیا تو فرمایا کہ مجھے خواب میں عجیب چیز دکھائی گئی ہے کہ قریش کا ایک آدمی بیت اللہ میں پناہ لیے ہوئے ہو گا اور میری امت ہی کا لشکر اس کی طلب میں مکہ مکرمہ پر چڑھائی کے ارادے سے آئے گا، مگر وہ مدینہ منورہ کے قریب کھلے میدان میں ہو گا کہ سارا لشکر زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ ہم نے سوال کیا کہ راستے میں تو ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ان میں سے کچھ ایسے بھی ہوں گے جو اپنے ارادے اور مرضی سے آئے ہوئے ہوں گے، کچھ لوگ مجبوری کی وجہ سے ساتھ ہوں گے، اور کچھ ان سے الگ راہگیر بھی ہوں گے۔ مگر اس ہلاکت میں اب سب ایک ساتھ شریک ہوں گے، البتہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کی نیت کے مطابق اٹھائیں گے۔
  10. مسلم شریف میں ہی روایت ہے کہ حارث بن ابی ربیعہؓ، عبید اللہ بن القطبیۃؓ اور عبد اللہ بن صفوانؓ نامی تین اصحاب ام المؤمنین حضرت ام سلمہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سوال کیا کہ وہ لشکر کون سا ہو گا جو زمین میں دھنسا دیا جائے گا؟ ام المؤمنینؒ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک پناہ لینے والا حرمِ مکہ میں پناہ لے گا اور اس کو پکڑنے کے لیے لشکر بھیجا جائے گا جو راستے میں ہی زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ میں نے دریافت کیا کہ جو شخص ان سے کراہت و نفرت کرتا ہو گا اس کا کیا بنے گا؟ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ وہ بھی ان کے ساتھ زمین میں دھنسا دیا جائے گا، لیکن قیامت کے دن اپنی نیت پر اٹھے گا۔
  11. بخاری شریف میں ام المؤمنین حضرت زینب بنت جحشؓ سے روایت ہے کہ ایک روز جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے تو آپؐ کا چہرہ مبارک سرخ تھا اور آپؐ عرب میں پیش آنے والی ہلاکتوں کا ذکر فرما رہے تھے۔ میں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! نیک لوگ ہم میں موجود ہوں گے، تب بھی ہم عمومی ہلاکتوں کا شکار ہوں گے؟ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ ہاں جب بھی خباثتوں کی کثرت ہو گی تو ایسا ہی ہو گا۔
  12. بخاری شریف میں حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عمومی عذاب نازل کرتے ہیں تو سب لوگ اس عذاب کا شکار ہوتے ہیں، پھر وہ قیامت کے دن اپنے اعمال پر اٹھائے جائیں گے۔
  13. حافظ ابن حجر عسقلانیؓ فتح الباری میں حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اپنے درمیان اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے کسی عمل کو قرار نہ پکڑنے دیں ورنہ سب پر عذاب نازل ہو گا۔
  14. مسند ابن حبان میں حضرت جریر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب کوئی شخص کسی قوم میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے اعمال کھلم کھلا کرنے لگے اور لوگ روکنے کی قدرت کے باوجود اسے نہ روکیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سب موت سے پہلے سزا پائیں گے۔
  15. موطا امام مالک میں حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ ہم بزرگوں سے سنا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کے اعمال پر سب لوگوں کو عذاب میں مبتلا نہیں کرتے ،لیکن جب نافرمانی کے اعمال کھلم کھلا ہونے لگیں تو پھر سب لوگ سزا کے مستحق ہو جاتے ہیں۔

ان روایات پر ایک بار پھر نظر ڈال لیں تو آپ پر یہ بات یقیناً واضح ہو جائے گی کہ اللہ تعالیٰ نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ وعدہ ضرور کیا ہے کہ ان کی امت بحیثیت مجموعی کسی دور میں بھی اجتماعی عذاب، گمراہی، تباہی اور مغلوبیت کا شکار نہیں ہوگی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ امت محمدیہؐ کے افراد یا طبقات پر دنیا میں کوئی عذاب ہی نہیں آئے گا۔ اس بات میں بھی کوئی ابہام نہیں رہا کہ جب اللہ تعالیٰ عمومی عذاب کا فیصلہ کرتے ہیں تو نیک و بد سب اس کی زد میں آتے ہیں اور پھر قیامت کے دن ہر ایک سے اس کے ایمان اور اعمال کے مطابق معاملہ ہو گا۔ اس لیے اس بات سے ہمیں اتفاق ہے کہ زلزلہ کا شکار ہونے والوں کے بارے میں یہ کہنا درست نہیں ہے کہ وہ اپنے گناہوں کی وجہ سے اس تباہی میں مبتلا ہوئے ہیں، لیکن یہ بات بھی بہرحال درست ہے کہ قوم کے اجتماعی گناہوں، بداعمالیوں اور بدعہدیوں کی سزا اس کے ایک حصے کو بھگتنا پڑی ہے، اور وہ اپنے نہیں بلکہ ہمارے گناہوں کی سزا کا شکار ہوئے ہیں۔

اس کے بعد ہم ایک روایت اور پیش کرنا چاہتے ہیں جو ہمارے لیے بہرحال آئینے کی حیثیت رکھتی ہے، اگر اس میں بھی ہمیں اپنی قومی زندگی کا چہرہ نظر نہ آئے تو پھر اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے ہدایت اور بصیرت، بلکہ بصارت کی دعا مانگنی چاہیے کہ قوم کے بے حس اور بے بصیرت ہو جانے کا آخری درجہ یہی ہوتا ہے۔

  1. ترمذی شریف میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب ایسا وقت آجائے کہ (۱) غنیمت کے مال کو ہاتھوں ہاتھ لوٹا جانے لگے (۲) امانت کو غنیمت کا مال سمجھ لیا جائے (۳) زکوٰۃ کو تاوان اور بوجھ سمجھا جانے لگے (۴) تعلیم حاصل کرنے میں دین کے مقصد کو پس پشت ڈال دیا جائے (۵) خاوند اپنی بیوی کا فرمانبردار ہو جائے (۶) بیٹا اپنی ماں کا نافرمان ہو جائے (۷) بیٹا اپنے باپ کو خود سے دور رکھے اور دوستوں کو قریب کرے (۸) مسجدوں میں شور و غل ہونے لگے (۹) قبیلے کا سردار اس کا فاسق شخص ہو (۱۰) قوم کا لیڈر ان کا رذیل ترین آدمی بن جائے (۱۱) کسی شخص کی عزت صرف اس کے شر سے بچنے کے لیے کی جانے لگے (۱۲) ناچنے والیاں اور گانے بجانے کے آلات عام ہو جائیں (۱۳) شرابیں پی جانے لگیں اور (۱۴) اس امت کے آخر والے لوگ پہلے لوگوں پر لعن طعن کرنے لگیں۔ تو پھر خدا کے عذاب کا انتظار کرو، جو (۱) سرخ آندھی (۲) زلزلہ (۳) زمین میں دھنسائے جانے (۴) شکلوں کے مسخ ہونے (۵) پتھر برسنے، اور ایسی دیگر نشانیوں کی صورت میں ہو سکتا ہے، جو اس طرح لگاتار ہوں گی جیسے کسی ہار کی ڈوری ٹوٹ جائے اور موتی لگاتار زمین پر گرنے لگیں۔

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات مبارکہ کی روشنی میں ہمیں اپنی موجودہ معاشرتی صورتحال اور نصف صدی کی گزشتہ تاریخ پر ایک نظر ڈال لینی چاہیے کہ آزادی کے حصول اور پاکستان کے نام سے ایک نئی ریاست کے قیام کے بعد ہم نے ان مقاصد کی طرف کتنی پیشرفت کی ہے؟ جن کا ہم نے آزادی اور قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں بار بار اظہار کیا تھا، اور جن کی خاطر قوم کے مختلف طبقات نے آزادی اور پاکستان کی تحریکات میں بے پناہ قربانیاں دی تھیں۔ اس کے ساتھ مذکورہ بالا روایات میں سے آخری روایت کے مطابق جناب نبی کریمؐ کی طرف سے زلزلوں اور قدرتی آفات کی صورت میں عذابِ الٰہی کے جو باطنی اور روحانی اسباب بیان ہوئے ہیں، ان کی فہرست بھی ایک بار پھر پڑھ لینی چاہیے کہ عذابِ الٰہی کے ان باطنی اسباب میں سے کونسے سبب کو پورا کرنے میں ہم پیچھے رہے ہیں؟ بات زلزلے کا شکار ہونے والوں کے گناہوں کی نہیں کہ وہ تو اپنی بے گناہی اور ناگہانی آفت کے ذریعے موت کے باعث یقیناً شہداء میں شمار ہوں گے۔ بات قوم کے اجتماعی کردار، گناہوں اور بدعہدی کی ہے کہ ہماری اجتماعی بد اعمالیوں کی سزا ہمارے بھائیوں، بہنوں، بزرگوں اور بچوں کو بھگتنا پڑی ہے۔ اسے یوں ہی سمجھ لیجئے کہ جسم کا ایک حصہ جرم کرتا ہے مگر سزا دوسرے حصے کا مقدر بن جاتی ہے۔ جرم کا ارتکاب زبان کرتی ہے مگر کوڑے پشت کو کھانے پڑتے ہیں۔ قوم کو ایک جسم اور ایک وجود تصور کر کے بات کی جائے تو اس کو سمجھنا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے۔

اس پس منظر میں ہم یہ گزارش کرنا چاہیں گے کہ اس عظیم سانحہ کے بعد

  • ہماری سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد اور بحالی کے لیے اپنے پورے وسائل اور توانائیاں بروئے کار لائیں اور اس سلسلہ میں کام کرنے والوں سے ہر ممکن تعاون کریں۔ بے گھر ہونے والوں کی دوبارہ آبادکاری، زخمیوں کا علاج، معذوروں کے لیے باوقار زندگی کے اسباب فراہم کرنا، اور منہدم ہو جانے والی بستیوں میں زندگی کی رونقیں واپس لانے کی محنت کرنا ہماری دینی و قومی ذمہ داری ہے، جس سے کسی طبقہ، فرد اور گروہ کو پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔
  • لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس سانحہ کے باطنی اور روحانی اسباب کی طرف توجہ کرنا، قوم میں اجتماعی بداعمالیوں کا احساس اجاگر کرتے ہوئے اسے توبہ و استغفار کی طرف لانا، اور کوتاہیوں کی تلافی پر آمادہ کرنا بھی ہمارا دینی و قومی فریضہ ہے۔ اور اس سلسلہ میں سب سے ہم کردار علماء کرام، سیاسی رہنما، دانشور، صحافی ، اساتذہ اور میڈیا ماہرین ادا کر سکتے ہیں۔
  • آخر میں خاص طور پر اربابِ دانش سے یہ دست بستہ گزارش ہے کہ اگر اس حوالے سے قوم کے کسی طبقہ یا مجموعی طور پر قوم کے افراد میں توبہ و استغفار کا تصور اجاگر ہوتا ہے، اور اصلاحِ احوال کی طرف ان کا ذہن جاتا ہے تو علم و دانش کو اس کا راستہ روکنے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے کہ یہ بہرحال علم و دانش کا تقاضا اور قوم کے ساتھ انصاف نہیں ہے۔
   
2016ء سے
Flag Counter