غلط خبریں انتشار کا باعث بنتی ہیں

   
اپریل ۲۰۲۵ء

روزنامہ اوصاف لاہور ۲۴ مارچ ۲۰۲۵ء میں شائع شدہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی غلط معلومات پاکستان میں انتشار پھیلا رہی ہیں اس لیے ذرائع ابلاغ کے حوالہ سے اصلاحات جاری کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ ہماری پرانی معاشرتی شکایت ہے کہ غلط اور ادھوری معلومات کے ذریعہ مختلف حلقوں اور طبقات میں غلط فہمیاں پیدا کی جاتی ہیں جو مختلف نوع کے انتشار بلکہ خلفشار کا باعث بنتی ہیں جبکہ ہمارے ہاں یہ کام باقاعدہ پلاننگ اور ایجنڈے کے تحت ہوتا ہے جس کی ایک جھلک تین عشرے قبل امریکہ کی ’’قومی سلامتی کونسل‘‘ کے جاری کردہ ایک منصوبہ میں دیکھی جا سکتی ہے جو روزنامہ جنگ لاہور نے ۱۵ جولائی ۱۹۹۲ء کو شائع کیا تھا اور اس بارہ نکاتی منصوبے کی آخری تین دفعات درج ذیل ہیں:

  • ضروری ہو گیا ہے کہ مسلم ممالک کے نظامِ تعلیم اور ثقافت کو تبدیل کیا جائے اور ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے پروگراموں کا وقت بڑھایا جائے۔
  • اسلامی اور دینی جماعتوں مثلاً‌ سلفی اور اخوانی کے مابین اختلافات کی حوصلہ افزائی کر کے انہیں زیادہ بڑھایا جائے۔
  • اسلامی فکر و کردار رکھنے والی حکومتوں مثلاً‌ پاکستان اور سوڈان کو پسماندگی اور مشکلات کا شکار رہنے دیا جائے۔

اس امریکی منصوبے کا حوالہ دینے کی اس لیے ضرورت پڑی ہے کہ ہمیں صرف غلط معلومات اور ان کے تلخ نتائج کا سامنا نہیں بلکہ اس کے پیچھے کارفرما منظم منصوبے کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو پاکستان کو مشکلات سے دوچار رکھنے اور خلفشار کا ماحول قائم رکھنے کے لیے پاکستانی قوم کو درپیش ہے، اس لیے اصلاحات کے بارے میں سوچتے ہوئے ہمارے ذمہ دار اداروں اور حکام کو بہت زیادہ سنجیدگی اور گہرائی کے ساتھ قومی سطح کی کوئی حکمت عملی طے کرنا ہو گی۔

اس موقع پر دورِ نبوی علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام کے دو واقعات کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے جن سے راہنمائی حاصل کر کے ہم ذرائع ابلاغ کے حوالہ سے کوئی مناسب اور مؤثر حکمت عملی اختیار کر سکتے ہیں۔

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنو مصطلق کی طرف زکوٰۃ و صدقات وصول کرنے کے لیے نمائندہ بھیجا تو قبیلہ والوں نے اس کی خبر ملنے پر استقبال کا پروگرام بنایا اور استقبال کے لیے مسلح ہو کر راستہ میں آ کھڑے ہوئے، اس نمائندہ نے جب بڑی تعداد میں مسلح لوگ راستے میں کھڑے دیکھے تو گھبرا کر واپس ہو گئے اور مدینہ منورہ پہنچ کر لوگوں سے کہا کہ وہ تو مجھے قتل کرنے کے درپے تھے بڑی مشکل سے جان بچا کر آیا ہوں۔ یہ سن کر مدینہ منورہ میں کہرام مچ گیا اور لوگ اس قبیلہ کے خلاف جہاد کے لیے جمع ہونا شروع ہو گئے، اتنے میں قبیلہ کے سردار حضرت حارث رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ آ گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہم تو استقبال کے لیے جمع ہوئے تھے آپ کا نمائندہ ہتھیاروں کی نمائش دیکھ کر کوئی بات پوچھے بغیر واپس آ گیا ہے۔ اس پر قرآن کریم کا یہ ارشاد نازل ہوا کہ ’’ان جاءکم فاسق بنبا فتبینوا‘‘ اگر کوئی غیر ذمہ دار شخص خبر لائے تو کوئی کاروائی کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کر لیا کرو تاکہ بلاوجہ کسی قوم کے خلاف کاروائی نہ کر بیٹھو جو بعد میں تمہارے لیے ندامت کا باعث بن جائے۔

بخاری شریف کی ایک روایت کے مطابق جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک دفعہ کسی یہودی نے جادو کر دیا جس کے اثرات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے معمولات میں محسوس ہونے لگے، اللہ تعالیٰ نے خواب کے ذریعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے باخبر کر دیا جس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چیزوں کے ذریعہ جادو کیا گیا تھا انہیں دریافت کر کے زمین میں دفن کر دیا اور جادو ختم ہو گیا، اس پر ام المومنین حضرت عائشہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جب جرم واضح ہو گیا تھا، مجرم کی نشاندہی ہو گئی تھی اور آلۂ واردات بھی مل گیا تھا تو آپ نے معاملہ چپکے سے دبا کیوں دیا اور اس کی تشہیر کیوں نہیں کی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس کے شر سے محفوظ کر دیا تو میں اس خبر اور واقعہ کو لوگوں میں نشر کر کے کوئی شر کیوں کھڑا کروں؟

ان دو واقعات کے ذکر کے مقصد یہ ہے کہ کسی خبر کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے جہاں خبر کےصحیح ہونے کی تحقیق ضروری ہے وہاں خبر صحیح ہونے کے باوجود اس خبر کے معاشرہ میں اثرات اور ردعمل کو دیکھنا بھی ضروری ہے تاکہ کوئی خبر سوسائٹی میں شر کا باعث نہ بن سکے۔

خدا کرے کہ ہم قومی سطح پر ابلاغ اور خبر رسانی کے ذرائع کے صحیح استعمال کے لیے کوئی صحیح حکمت عملی اور طریق کار طے کر سکیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter