(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)
اخبارات میں آپ مسلسل پڑھ رہے ہیں، آج ہمارے وفاقی وزیر صاحب کا بیان ہے کہ حدود آرڈیننس میں یہ جو قوانین ہیں، ان میں ہم ترمیم کر رہے ہیں اور ختم کر رہے ہیں۔ حدود کس کو کہتے ہیں؟ حدود کہتے ہیں اُن قوانین کو جو قرآن کریم نے طے کیے ہیں۔ جرائم کی وہ سزائیں جو قرآن کریم نے بیان کی ہیں اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طے کی ہیں۔ چور کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے، زانی کی سزا سنگسار کرنا ہے، شرابی کی سزا کوڑے مارنا ہے، قاتل کی سزا قصاص میں قتل کرنا ہے، جھوٹی تہمت لگانے والے کی سزا ۸۰ کوڑے ہے۔ یہ وہ سزائیں ہیں جو قرآن کریم نے بیان کی ہیں، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہیں، ان سزاؤں پر حضورؐ نے خود عمل کیا ہے۔ حد کا معنیٰ ہی یہ ہے کہ ایک بات طے شدہ ہے۔
جب حدود کی بات آتی ہے تو اس سے مراد وہ سزائیں ہوتی ہیں جو قرآن کریم سے اور سنتِ رسولؐ سے طے ہوئی ہیں۔ کیا ایسی سزاؤں میں ترمیم کا کسی کو اختیار حاصل ہے؟ کیا ان میں ردوبدل کا کسی کو حق حاصل ہے؟ خود جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بارے میں فرمایا تھا، جب حضورؐ کی خدمت میں ایک چور کی سزا میں تخفیف کی سفارش کی گئی تو اس پر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا جملہ ارشاد فرمایا تھا؟ آپ نے فرمایا، تم فاطمہ مخدومیہ کی سفارش کر رہے ہو، خدا کی قسم! اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے گی، میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ کر رہوں گا۔
اگر خدا کے قانون سے، حدود سے فاطمہؓ بنت محمدؐ مستثنیٰ نہیں ہے تو دنیا کا کوئی مسلمان مستثنیٰ نہیں ہے۔ میں آپ حضرات سے اور آپ حضرات کی وساطت سے اپنے حکمرانوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کفر میں ارتداد میں اللہ کی حدوں کو عبور نہ کرو، ایسا کرنا قرآن کریم کا انکار ہے، سنتِ رسولؐ کا انکار ہے۔ یہ کہنا کہ چونکہ حدود آرڈیننس اقوام متحدہ کے نزدیک ٹھیک نہیں ہے، امریکہ کے نزدیک ٹھیک نہیں ہے، اس لیے ہم اس میں ترمیم کر رہے ہیں، ایسا کر کے دنیا کی طاقتوں کو تو خوش کر لو گے لیکن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نہ بچ سکو گے، اللہ تعالیٰ کے عذاب سے دنیا کی کوئی طاقت تم کو نہیں بچا سکے گی۔ اس قوم پر رحم کھاؤ اور یہ ارادے ترک کر دو، قرآن و سنت کے احکامات میں تبدیلی کی کفریہ باتیں زبان پر مت لاؤ۔

