اسلامی نظام حکومت میں صوبائی خودمختاری

   
۱۹ نومبر ۱۹۹۸ء

دستور پاکستان میں قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لاء قرار دینے کے لیے آئینی ترمیم کے پندرہویں ترمیمی بل کے حوالہ سے جن مسائل پر قومی حلقوں میں بحث و تمحیص جاری ہے ان میں ’’صوبائی خود مختاری‘‘ کا مسئلہ بھی ہے۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا تھا کہ وہ جب شریعت کی بل کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایک قوم پرست لیڈر کے ہاں گئے تو انہوں نے جواب میں صوبائی خودمختاری کا بل تھما دیا۔ ایک دانشور نے اپنے حالیہ مضمون میں اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ قوم پرست لیڈروں نے صوبائی خودمختاری کے مسئلہ کو نفاذ شریعت کے مقابلہ میں بیلنس قائم رکھنے کے لیے کھڑا کیا ہے تاکہ اگر انہیں کسی مرحلہ پر قرآن و سنت کی بالادستی کے بل کی حمایت کے لیے مجبور ہونا پڑے تو وہ اس کے عوض صوبائی خودمختاری کے نام پر کچھ نہ کچھ حاصل کر لیں۔

اس طرح قومی سیاست میں نفاذ شریعت اور صوبائی خودمختاری کے دو اہم مسئلے بلاوجہ ایک دوسرے کے مقابل کھڑے نظر آرہے ہیں حالانکہ ان دونوں کا آپس میں سرے سے کوئی تقابل نہیں ہے۔ اور اگر صوبائی خودمختاری کے مسئلہ کو اسلام کی بنیادی تعلیمات اور خلفاء راشدینؓ کے طرز عمل کی روشنی میں دیکھا جائے تو اسلامی نظام کے کسی پہلو کے ساتھ صوبائی خودمختاری کا کوئی تعارض نظر نہیں آتا اور اسے نفاذ شریعت کے مقابل لانا سراسر زیادتی اور نا انصافی ہے۔

اسلامی نظام کے فہم کے حوالہ سے ہماری اصل الجھن ہمارا یہ سمجھنا ہے کہ جو اس وقت ہم دنیا بھر کے مسلمان عملاً کر رہے ہیں یا گزشتہ چند صدیوں سے کرتے چلے آرہے ہیں وہی اسلام ہے۔ حالانکہ گزشتہ چند صدیوں کا ہمارا دور دفاع اور تحفظات کا دور تھا جس میں ہم نے دینی احکام کے بارے میں بہت سی ایسی صورتیں اختیار کر رکھی تھیں جن کا جواز صرف دفاع اور تحفظات کے دور میں ہی پیش کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ نارمل حالات میں ان امور کی نہ ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی ان کی کوئی گنجائش نکالی جا سکتی ہے۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ ہم داخل تو حکمرانی اور نفاذ شریعت میں ہو رہے ہیں لیکن ہمارے ہاتھوں میں اسلامی نظام کا ڈھانچہ وہی ہے جو ہم نے دفاع اور تحفظات کے دور کی ضروریات کے تحت ترتیب دیا تھا۔ اس لیے جب تک ہم اس الجھن سے نکل کر اسلامی نظام کے لیے قرآن و سنت کی بنیادی تعلیمات اور خلفاء راشدینؓ کے تعامل و روایات کے اصل سرچشمے کی طرف واپس نہیں لوٹیں گے، دنیا کے سامنے صحیح اور آئیڈیل اسلامی نظام کا عملی نمونہ پیش کرنا ممکن ہی نہیں ہوگا۔

اس پس منظر میں جب ہم صوبائی خودمختاری کے مسئلہ کو سنت نبویؐ اور خلفاء راشدینؓ کے طرز عمل کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو دو باتیں بطور اصول سمجھ میں آتی ہیں۔ ایک یہ کہ اسلام نے علاقائی یونٹوں کے وجود کو تسلیم کیا ہے لیکن لسانی اور قومی عصبیتوں کی نفی کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف تو زبان، رنگ اور نسل کی بنیاد پر اجتماع کرنے اور اس حوالہ سے دوسروں کے خلاف نفرت پھیلانے کو جاہلی عصبیت قرار دے کر اس سے بیزاری کا اظہار فرمایا ۔ اور دوسری طرف آپؐ کے زمانے میں جو علاقے فتح ہوئے ان کی انتظامی و علاقائی وحدتوں کو برقرار رکھا۔

دوسری بات بطور اصول کے یہ سامنے آتی ہے کہ جناب رسول اللہؐ اور خلفاء راشدینؓ کے دور میں مرکز کا علاقائی انتظامی یونٹوں کے ساتھ یہ تعلق ضرور رہا ہے کہ ہدایات مرکز سے جاتی تھیں اور ان پر عملدرآمد کی نگرانی بھی ہوتی تھی۔ نیز علاقائی حکمرانوں کے خلاف شکایات کی سماعت اور ان کے ازالہ کی کاروائی بھی مرکز کی طرف سے کی جاتی تھی لیکن ان ہدایات کی روشنی میں اپنے معاملات چلانے میں علاقائی حکمران خود مختار ہوتے تھے اور ان کے روز مرہ معاملات میں ہمہ وقت مداخلت کی کوئی مثال قرون اول میں نہیں ملتی۔ خلفاء راشدینؓ میں سے حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کو زیادہ دیر تک اور زیادہ اطمینان کے ساتھ حکومت کرنے کا موقع ملا ہے۔ دونوں کا معمول یہ تھا کہ اپنے علاقائی حاکموں کے کام کی نگرانی کرتے تھے، ہدایات جاری کرتے رہتے تھے، حج کے موقع پر تمام صوبوں سے آنے والے حجاج کرام سے ان کے حاکموں کے بارے میں دریافت کرتے تھے اور لوگوں کی شکایات کے ازالہ کا اہتمام کرتے تھے۔ مگر اس کے علاوہ روز مرہ امور کی انجام دہی میں ان کے علاقائی حاکم خودمختار ہوتے تھے اور ان کے روزمرہ کاموں میں مداخلت نہیں ہوتی تھی۔

جبکہ مالیات کے معاملہ میں بھی اصول یہی تھا کہ ہر صوبہ کی آمدنی میں سے پہلے اس صوبہ کی ضروریات پوری ہوتی تھیں اور پھر باقی رقم مرکز کو جاتی تھی اور دیگر مصارف پر صرف ہوتی تھی۔ اس سلسلہ میں ایک واقعہ پیش کرنے کو جی چاہتا ہے جو تیسری صدی ہجری کے معروف محدث امام ابو عبید قاسم بن سلامؒ نے اسلامی معاشیات کے بارے میں اپنی شہرۂ آفاق تصنیف ’’کتاب الاموال‘‘ میں بیان کیا ہے۔ امیر المومنین حضرت عمر بن الخطابؓ کے دور خلافت میں یمن کے حاکم حضرت معاذ بن جبلؓ نے اپنے صوبہ کے محصولات کا ایک تہائی حصہ مرکز کو بھجوا دیا تو وفاق کے سربراہ حضرت عمرؓ نے اس پر ناراضگی کا خط لکھا کہ یہ رقم اسی صوبے کے لوگوں کا حق ہے، مرکز کو کیوں بھجوائی ہے؟ حضرت معاذ بن جبلؓ نے جوابی خط میں وضاحت کی کہ صوبے کی ضروریات پوری ہونے کے بعد یہ رقم بچ گئی ہے اس لیے مرکز کو بھجوا دی ہے۔ دوسرے سال انہوں نے دو تہائی آمدنی مرکز کو بھجوائی اور خط لکھا کہ اس سال صوبے کی ضروریات ایک تہائی آمدنی سے پوری ہوگئی ہے اس لیے باقی رقم مرکز کو بھجوائی جا رہی ہے۔ جبکہ تیسرے سال صوبے کے سارے کے سارے محصولات وفاق کو بھجوا دیے اور یہ خط لکھا کہ بحمد للہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ کے قانون اور حضرت عمرؓ جیسے عادل حکمران کے عدل و انصاف کی برکت سے میرے صوبے میں اس سال ایک شخص بھی زکوٰۃ وغیرہ کا مستحق نہیں رہا اس لیے ساری رقم مرکز کو ارسال کر رہا ہوں۔

اس واقعہ سے جہاں اسلامی قوانین کی برکات کا اندازہ ہوتا ہے کہ آسمانی تعلیمات اور خدائی قوانین کے نفاذ سے معاشرہ میں احتیاج اور فقر و فاقہ کا وجود ختم ہوجاتا ہے وہاں یہ اصول بھی سامنے آتا ہے کہ صوبے کی آمدنی پر سب سے پہلا حق اس کے باشندوں کا ہے۔ اس لیے اسے اگر ’’صوبوں کی مالی خودمختاری‘‘ سے تعبیر کیا جائے تو ہمارے خیال میں اس تعبیر کو قبول کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ چنانچہ ہم قوم پرستی کے نام پر جمع ہونے والے لیڈروں سے یہ عرض کریں گے کہ وہ صوبائی خودمختاری اور شریعت بل میں بلاوجہ تقابل کی فضا قائم نہ کریں اور نہ ہی لسانی اور نسلی عصبیتوں کے جاہلانہ تصور کی طرف قوم کو واپس دھکیلنے کی کوشش کریں۔ بلکہ اگر صوبائی خودمختاری سے ان کا مقصد واقعتا صوبائی خودمختاری ہی ہے تو اس کی زیادہ واضح شکل خود اسلام میں موجود ہے اور اسے اسلامی تعلیمات اور خلفاء راشدینؓ کے طرز عمل کی روشنی میں زیادہ آسانی کے ساتھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter