دینی تعلیم کے خاتمے کیلئے ماضی کے تین عالمی تجربات
البتہ ورلڈ اسٹیبلشمنٹ سے یہ سوال کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ عقلمند تو ایک تجربہ کو ہی کافی سمجھتا ہے مگر آپ لوگوں کی تسلی تین خوفناک تجربے کرنے کے بعد بھی نہیں ہوئی اور اب ایک نئے تجربے کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں۔ عالمی استعمار دینی تعلیم کو ختم کرنے، قرآن و سنت کے ساتھ عام مسلمانوں کا ذہنی و فکری تعلق منقطع کرنے، اور دینی مدارس کو منظر سے ہٹانے کے لیے اب تک تین تلخ تجربے کر چکا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
گلاسگو میں دینی اداروں کی سرگرمیاں
گزشتہ چودہ پندرہ برس سے یہ معمول سا بن گیا ہے کہ سال کے ایک دو ماہ برطانیہ میں گزرتے ہیں۔ پہلے گرمیوں کے موسم میں آتا تھا، تین ماہ کے لگ بھگ رہتا تھا اور جولائی اگست میں مختلف دینی جماعتوں کی طرف سے منعقد ہونے والی کانفرنسوں کے علاوہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی سالانہ بین الاقوامی ختم نبوت کانفرنس میں بھی شرکت ہو جاتی تھی۔ اب مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں تدریسی مصروفیات کے باعث موسم اور دورانیہ دونوں میں فرق پڑ گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ترکی ایک بار پھر دنیا کی نگاہوں کا مرکز!
یورپ سو سال قبل ترکی اور مشرق وسطیٰ میں خلافت عثمانیہ کے خاتمہ اور عالم اسلام پر نئی جغرافیائی تقسیم مسلط کرنے کی راہ ہموار کر رہا تھا جس میں وہ کامیاب ہو گیا، جبکہ برصغیر پاک و ہند کی گلیاں اور بازار تحریک خلافت کے پرہجوم جلسوں اور پرجوش نعروں سے گونج رہے تھے۔ یہ عجیب تاریخی منظر ہے کہ جن دنوں ایک طرف ترک نیشنلزم اور عرب قومیت کا ہتھیار عالم اسلام کے حصے بخرے کرنے اور خلافت عثمانیہ کو بکھیر دینے کے لیے پوری قوت کے ساتھ استعمال کیا جا رہا تھا، دوسری طرف انہی دنوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی شعبوں میں کام کا دائرہ کار بڑھانے کی ضرورت
دارالعلوم مدنیہ ڈسکہ میں ان دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام طلبہ، طالبات اور شہریوں کے لیے ایک تربیتی کورس شروع ہے جس میں تھوڑی دیر کے لیے مجھے بھی حاضری کا موقع ملا۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا فقیر اللہ اختر اور مولانا محمد ایوب خان ثاقب اس کورس کی نگرانی کر رہے ہیں۔ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانیت کے تعاقب کے حوالہ سے دارالعلوم مدنیہ ڈسکہ کی اپنی ایک تاریخ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
فرانس ایک بار پھر مذہب دشمنی کے محاذ پر
فرانس ایک بار پھر آسمانی تعلیمات اور مذہب کے خلاف محاذ جنگ پر ہے اور نہ صرف وحی الٰہی کے معاشرتی کردار کی نفی کرنے والوں کی قیادت کر رہا ہے بلکہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اور دینی حوالہ سے مقدس شخصیات کی توہین اور استہزاء کا پرچم بھی اس نے اٹھا رکھا ہے۔ قرآن کریم کی بہت سی آیات میں اللہ تعالٰی نے انبیاء کرامؑ کے ساتھ طنز و استہزاء کا طرز عمل اختیار کرنے والی قوموں کی اس نوع کی حرکات اور پھر ان قوموں کے انجام کا ذکر کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
علامہ شبیر احمد عثمانیؒ
علامہ شبیر احمد عثمانیؒ مادر علمی دارالعلوم دیوبند کے وہ مایۂ ناز سپوت ہیں جنہوں نے علمی، دینی و سیاسی محاذ پر ملّت اسلامیہ کی بھرپور راہنمائی کی اور خداداد علمی و فکری صلاحیتوں سے ملّت اسلامیہ کو فیضیاب کیا۔ علامہ شبیر احمد عثمانیؒ ممتاز ماہر تعلیم مولانا فضل الرحمان کے فرزند تھے، آپ نے تعلیم شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ جیسے عالم دین کے زیرسایہ مکمل کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانیؒ
شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کا شمار تاریخ کی ان نابغہ روزگار ہستیوں میں ہوتا ہے جو اپنے علم و فضل، جہد و عمل اور ذہانت و بصیرت کے باعث معاصرین میں ممتاز اور نمایاں حیثیت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ تاریخ میں اپنے لیے ایک روشن باب کی بنیاد فراہم کر جاتے ہیں اور آنے والی نسلیں ان کی بصیرت و تجربات سے بہت دیر تک فیضیاب ہوتی رہتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عرب اور ترک — خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد
خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد عربوں اور ترکوں کے کیمپ الگ الگ ہو گئے اور گزشتہ ایک صدی سے وہ اپنے اپنے ایجنڈے کے مطابق آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جبکہ حالیہ تناظر میں عالمِ اسلام اور خاص طور پر بیت المقدس اور فلسطین کے حوالہ سے ترک قوم اور حکومت کے کردار نے پورے عالم اسلام کو پھر سے اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے، چنانچہ موجودہ صورتحال میں اس تبدیلی کے پس منظر اور اسباب پر بحث و تمحیص کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دنیا کو حقوق کا شعور کس نے عطا کیا؟
آج کی نشست میں، جو اس موضوع پر اس سلسلہ کی آخری نشست ہے، اسلامی تعلیمات اور سنت نبویؐ میں انسانی حقوق کی پاسداری کے حوالہ سے کچھ واقعات عرض کرنا چاہوں گا تاکہ مغرب کے اس پروپیگنڈا اور دعوے کی حقیقت واضح ہو سکے کہ دنیا کو اس نے حقوق کا شعور عطا کیا ہے اور انسانی حقوق کی پاسداری کا دور مغرب کے تہذیبی انقلاب سے شروع ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بیک وقت دو عوامی تحریکیں
اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے ’’پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ‘‘ کے عنوان سے متحدہ محاذ بنا کر مولانا فضل الرحمان کو اس کا سربراہ منتخب کیا ہے اور حکومت کے خلاف عوامی تحریک کا اعلان کر دیا ہے جس سے ملک بھر میں سیاسی گہماگہمی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کی باہمی محاذ آرائی کا ایک اہم راؤنڈ شروع ہو گیا ہے۔ سولہ اکتوبر کو گوجرانوالہ میں جلسہ عام کا انعقاد کر کے اس تحریک کا آغاز کیا جا رہا ہے جس کے بعد مختلف شہروں میں اس قسم کے اجتماعات ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 139
- 140
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »