گلگت بلتستان صوبہ ۔ چند سنجیدہ خدشات و تحفظات

بلتستان کے مطالعاتی دورے کے بارے میں کچھ گزارشات ایک گزشتہ کالم میں پیش کر چکا ہوں۔ یہ علاقہ سنی شیعہ کشیدگی کے حوالے سے بہت حساس ہے۔ گلگت بلتستان کے جس خطے کو ایک الگ صوبائی یونٹ کی حیثیت دی گئی ہے اس میں اہل سنت کی مجموعی آبادی ۲۷ فیصد بیان کی جاتی ہے، ان میں اکثریت علماء دیوبند سے متعلق ہے، کچھ اہل حدیث حضرات بھی ہیں اور اب خال خال لوگ بریلوی مکتب فکر کے مدارس سے تعلیم حاصل کرنے والے بھی پائے جاتے ہیں، جبکہ اہل تشیع میں اثنا عشریوں کے علاوہ اسماعیلیوں اور نور بخشیوں کی بڑی تعداد موجود ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ اکتوبر ۲۰۰۹ء

موجودہ حالات اور تحفظ ختم نبوت کا محاذ

ماہِ رواں کی پانچ تاریخ کو مجلسِ احرار اسلام پاکستان کے مرکزی دفتر لاہور میں مختلف دینی جماعتوں کے سرکردہ حضرات کا ایک مشترکہ اجلاس متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی کی دعوت پر امیر احرار پیر جی سید عطاء المہیمن شاہ بخاری کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں جمعیۃ علماء اسلام، جماعت اسلامی، مرکزی جمعیۃ اہل حدیث، پاکستان شریعت کونسل، خاکسار تحریک، مجلس احرار اسلام، انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ، ملت اسلامیہ پاکستان اور دیگر جماعتوں کے ذمہ دار حضرات نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اکتوبر ۲۰۰۹ء

امریکہ میں مقیم مسلمانوں سے چند ضروری گزارشات

میں مسجد الہدٰی واشنگٹن ڈی سی کی انتظامیہ اور جمعیۃ المسلمین کے ذمہ دار حضرات کا شکر گزار ہوں جنہوں نے آج یہاں اس محفل کا انعقاد کر کے ہمیں اپنی دینی ذمہ داریوں کے بارے میں کچھ کہنے سننے کا موقع فراہم کیا، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دیں۔ تفصیلی خطاب تو حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی کا ہوگا جو قادیانیت کی فتنہ خیزیوں کے بارے میں آپ سے کھل کر بات کریں گے، مجھے مختصر وقت میں آپ دوستوں سے یہاں امریکہ میں مقیم مسلمانوں بالخصوص پاکستانی دوستوں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے کچھ گزارشات پیش کرنی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ اکتوبر ۱۹۸۹ء

نیدرلینڈز کے گستاخانہ خاکے، اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم

سینٹ آف پاکستان نے ناموس رسالتؐ کے حوالہ سے ہالینڈ (نیدرلینڈز) میں دس نومبر کو منعقد کی جانے والی گستاخانہ خاکوں کی مجوزہ نمائش کی مذمت کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے اور وزیر اعظم عمران خان نے اس موقع پر ایوانِ بالا میں خطاب کرتے ہوئے گستاخانہ خاکوں کے مقابلوں کو ناقابل برداشت قرار دیا ہے اور معاملہ کو اقوام متحدہ میں اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں مغربی ذہنیت کو جانتا ہوں، وہاں کے عوام کو اس بات کی سمجھ نہیں آتی، عوام کی بڑی تعداد کو اندازہ ہی نہیں کہ ہمارے دلوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کتنا پیار ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ اگست ۲۰۱۸ء

اسلامی قوانین ۔ غیر انسانی؟

روزنامہ جنگ لاہور نے پی پی آئی کے حوالہ سے ۷ نومبر ۱۹۸۹ء کے شمارہ میں یہ خبر شائع کی ہے کہ: ’’پاکستان ویمن لیگل رائٹس کمیٹی نے حکومت سے زنا حدود آرڈیننس فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اسے غیر اسلامی، غیر جمہوری اور غیر انسانی قرار دیا ہے۔ کمیٹی نے اپنے حالیہ اجلاس میں کہا ہے کہ یہ آرڈیننس کسی بھی طرح خواتین کے ساتھ زنا اور اغوا جیسے جرائم کو روکنے میں مددگار ثابت نہیں ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۱۹۸۹ء

کیا افغان مجاہدین کی جنگ مسلمان اور مسلمان کی جنگ ہے؟

جہاد افغانستان کے بارے میں اس وقت جن دو سوالوں پر سب سے زیادہ زور دیا جا رہا ہے ان میں ایک یہ ہے کہ جب روسی افواج افغانستان سے چلی گئی ہیں تو اب جہاد جاری رکھنے کا شرعی جواز کیا باقی رہ گیا ہے اور کیا افغانستان میں ہونے والی موجودہ جنگ مسلمان کی مسلمان کے ساتھ جنگ نہیں ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ افغان مجاہدین نے اب تک جو جنگ لڑی ہے اس میں انہیں امریکہ، پاکستان اور دوسرے ممالک کی پشت پناہی حاصل تھی مگر اب ان ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلی نظر آرہی ہے اور پشت پناہی اور امداد کی پہلی کیفیت باقی نہیں رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ نومبر ۱۹۸۹ء

شاہ ولی اللہ یونیورسٹی ۔ پروگرام اور عزائم

گوجرانوالہ میں شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے نام سے پرائیویٹ اسلامی یونیورسٹی کے قیام کا منصوبہ جو کچھ عرصہ پہلے تک محض ایک خواب نظر آتا تھا اب جمعیۃ اہل السنۃ کے باہمت راہنماؤں کی مسلسل محنت اور تگ و دو کے نتیجہ میں زندہ حقیقت کا روپ اختیار کر رہا ہے اور ’’شاہ ولی اللہ یونیورسٹی‘‘ کے لیے نہ صرف جی ٹی روڈ پر گوجرانوالہ سے لاہور کی جانب اٹاوہ کے پاس دو سو ساٹھ کنال جگہ حاصل کر لی گئی ہے بلکہ اس پر تعمیر کا کام بھی شروع ہو چکا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۱۹۹۰ء

شریعت بل اور شریعت کورٹ ۔ قومی اسمبلی کی نازک ترین ذمہ داری

سینٹ آف پاکستان نے مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبد اللطیف کا پیش کردہ ’’شریعت بل‘‘ کم و بیش پانچ سال کی بحث و تمحیص کے بعد بالآخر متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ شریعت بل ۱۹۸۵ء میں پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا کے سامنے رکھا گیا تھا، اسے عوامی رائے کے لیے مشتہر کرنے کے علاوہ سینٹ کی مختلف کمیٹیوں نے اس پر طویل غور و خوض کیا اور اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس بھی اسے بھجوایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۱۹۹۰ء

خلیج کا آتش فشاں

کویت پر عراق کے جارحانہ قبضہ اور سعودی عرب و متحدہ عرب امارات میں امریکی افواج کی آمد سے یہ خطہ ایک ایسے آتش فشاں کا روپ اختیار کر چکا ہے جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے اور خلیج میں پیدا ہو جانے والی خوفناک کشیدگی کے حوالہ سے دنیا پر تیسری عالمگیر جنگ کے خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۱۹۹۰ء

دینی مدارس اور قربانی کی کھالیں ۔ دو اہم تجویزیں

عید الاضحٰی کے موقع پر دینی مدارس کے لیے قربانی کی کھالوں کا مسئلہ اس سال بھی خاصی گہماگہمی کا میدان بنا رہا اور مختلف مقامات پر گرفتاریوں، مقدمات اور چھاپوں کا سلسلہ رہا۔ جبکہ کھالیں جمع کرنے کی اجازت کے بارے میں انتظامیہ کا رویہ بھی حوصلہ افزا اور آبرومندانہ نہیں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اگست ۲۰۱۸ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter