مدارس کے طلبہ سے چند گزارشات

۱۰ جون کو عشاء کے بعد میں نے جامعہ عثمانیہ شورکوٹ کے سالانہ جلسے میں حاضری دی جو ہمارے پرانے دوست، جماعتی ساتھی اور تحریکی رفیق کار حضرت مولانا بشیر احمد خاکیؒ کی یادگار اور صدقہ جاریہ ہے۔ جبکہ ۱۱ جون کو عشاء کے بعد بیرون بوہڑ گیٹ ملتان میں حضرت مولانا غلام فرید صاحبؒ کے قائم کردہ مدرسہ مدینۃ العلم میں معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر منعقد ہونے والے جلسے میں مجھے شریک ہونا تھا۔ درمیان کا دن میں نے خانیوال اور کبیر والا میں احباب سے ملاقاتوں اور آرام کے لیے رکھا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ جون ۲۰۱۱ء

دینی مدارس کی افادیت کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت

مدارس کے اردگرد رہنے والے مسلمانوں کے ساتھ ہمارے تعلقات و روابط کا عمومی ماحول قابل اطمینان نہیں ہوتا۔ مدرسہ میں آنے جانے والوں کے ساتھ گفتگو اور ضروری معاملات میں ان کی راہنمائی کے حوالہ سے بھی عمومی طور پر ہمارے طلبہ کا طرز عمل ’’آئیڈیل‘‘ نہیں ہوتا اور کسی مدرسہ میں جانے والا اجنبی شخص وہاں چند لمحے گزارنے کے بعد کسی خوشگوار موڈ میں وہاں سے واپس نہیں جاتا۔ بعض مدارس کا ماحول یقیناً اس سے مختلف ہوگا لیکن جب مدارس کے عمومی ماحول کی بات کی جائے گی تو تاثر کم و بیش وہی ہوگا جس کا ہم نے سطور بالا میں ذکر کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جون ۲۰۱۱ء

قراء کرام اور نظم خواں حضرات کی خدمت میں!

۸ جون کو جامعہ اسلامیہ امدادیہ چنیوٹ اور ۹ جون کو جامعہ اسلامیہ محمدیہ فیصل آباد میں ختم بخاری شریف کی تقریب تھی جبکہ ۹ جون کو جامعہ فتحیہ چنیوٹ میں ختم مشکٰوۃ شریف کے حوالے سے حاضری ہوئی۔ چنیوٹ اور فیصل آباد دونوں مقامات پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت مولانا عبد المجید لدھیانوی دامت برکاتہم کی زیارت اور ان کے درس حدیث میں شرکت کی سعادت حاصل کی اور اجتماعات میں دینی مدارس کی خدمات اور مقاصد کے حوالے سے گفتگو کا موقع بھی ملا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جون ۲۰۱۱ء

شیخ الہندؒ اکادمی

جب سے ہم نے اپنے اکابر سے نئی نسل کو متعارف کرانا بلکہ خود ان کی زندگیوں، جدوجہد اور دائرہ کار سے واقفیت حاصل کرنا چھوڑ رکھا ہے ’’اکابر‘‘ کا مفہوم ہی بدلتا جا رہا ہے۔ ہم نے دیوبندیت کے اپنے اپنے دائرے قائم کر رکھے ہیں اور ہر دائرے کے اکابر الگ ہیں۔ پرانے اکابر جو ہمارے اصل اکابر ہیں ان کا مصرف ہمارے ہاں صرف یہ رہ گیا ہے کہ اپنے اپنے طے کردہ دیوبندیت کے دائروں میں ان کا کوئی ارشاد یا عمل ہمیں اپنے مطلب کا مل جاتا ہے تو اپنی ترجیحات کی تائید میں اسے استعمال کر لیا جائے، اس سے زیادہ اکابر کا مفہوم اور مصرف اور کوئی دکھائی نہیں دے رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ مئی ۲۰۱۱ء

جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کا اعزاز

جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میرے لیے مادر علمی کی حیثیت رکھتا ہے اور میری تدریسی سرگرمیوں کی جولانگاہ بھی ہے۔ میں نے ۱۹۶۳ء سے ۱۹۶۹ء تک یہاں درس نظامی کی تعلیم حاصل کی ہے اور دورۂ حدیث کے ساتھ رسمی تعلیم سے فراغت بھی یہیں سے پائی ہے۔ عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ نے ۱۹۵۲ء میں اس درسگاہ کا آغاز کیا، پھر ایک دو سال کے بعد والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ بھی شریک کار ہوگئے اور تعلیمی نظام کی سربراہی انہوں نے سنبھال لی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ مئی ۲۰۱۱ء

دارالعلوم دیوبند کے ساتھ ہماری نسبت اور اس کے تقاضے

گزشتہ دنوں دارالعلوم دیوبند (وقف) کے مہتمم حضرت مولانا محمد سالم قاسمی پاکستان تشریف لائے اور مختلف اجتماعات میں شرکت کے بعد واپس تشریف لے گئے۔ مولانا موصوف حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ کے فرزند و جانشین ہیں۔ ۱۹۸۰ء میں دارالعلوم دیوبند کے صد سالہ اجلاس کے بعد، جسے جشن صد سالہ سے بھی تعبیر کیا گیا تھا، دارالعلوم دیوبند کی قیادت میں اختلافات پیدا ہوگئے جس کے بعد دارالعلوم دیوبند سے الگ ہونے والے علماء کرام نے دارالعلوم دیوبند (وقف) کے نام سے ایک نیا دینی تعلیمی ادارہ دیوبند میں ہی قائم کر لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مئی ۲۰۱۱ء

مشرقِ وسطٰی کی معروضی صورتحال اور چند تجاویز

تعطیلات کی وجہ سے گزشتہ تین دن سے کراچی میں ہوں اور حسب سابق جامعہ اسلامیہ کلفٹن اور جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن میں تخصص کی کلاسوں میں انسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات کے مختلف پہلوؤں پر گزارشات پیش کر رہا ہوں۔ اس دفعہ کراچی میں ایک نئی صورتحال سامنے آئی ہے کہ عرب ممالک کے موجودہ حالات بالخصوص بحرین کی شورش میں سعودی عرب کی مداخلت کے حوالے سے کراچی کی سڑکوں پر سعودی حکمرانوں کے خلاف بینرز آویزاں دیکھے جا رہے ہیں جن میں بحرین میں مداخلت پر سعودی عرب کے حکمران خاندان کے خلاف نعرہ بازی کی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۱ء

قادیانی مسئلہ ۔ چند شبہات کا ازالہ

قادیانیت کے حوالے سے چار سوالات اس وقت بڑے اہم ہیں۔ ایک سوال یہ کہ کسی شخص کو نبی کہہ دینے سے آخر کیا فرق پڑ جاتا ہے؟ ہم بھی تو اپنے بزرگوں کو بھاری بھر کم القابات سے نوازتے رہتے ہیں جو بسا اوقات خوفناک حد تک بھاری بھر کم ہو جاتے ہیں۔ اس سوال کا ایک جواب تو وہ ہے جو علماء کرام علمی حوالوں سے اور قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں ایک صدی سے دیتے آرہے ہیں اور بڑے بڑے اہل علم نے اس کے لیے محنت کی ہے۔ یہ علمی اور تحقیقی جوابات اپنی جگہ درست اور ضروری ہیں لیکن ایک جواب علامہ محمد اقبالؒ نے دیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اپریل ۲۰۱۱ء

افغان تنازعہ کا تاریخی پس منظر اور اس کا نیا راؤنڈ

پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے حالیہ دورۂ افغانستان کے بعد افغان تنازعہ ایک نئے دور میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے جس سے امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کی میز بچھانے کے لیے ازسرنو کوششوں کا آغاز ہوگیا ہے۔ اس مرحلہ میں نئی تجاویز اور امکانات کا جائزہ لینے سے قبل اب تک کی مجموعی صورتحال پر ایک سرسری نظر ڈال لینا ضروری محسوس ہوتا ہے اس لیے ہم اپنے ایک طویل تجزیاتی مضمون کے کچھ متعلقہ حصے قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ ستمبر ۲۰۱۸ء

۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کی یادیں

گزشتہ روز ایک دوست نے فون پر ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے بارے میں میرے تاثرات دریافت کیے اور کہا کہ انہیں ریکارڈ پر آنا چاہیے۔ ۱۹۵۳ء میں میری عمر پانچ برس تھی کہ ۲۸ اکتوبر ۱۹۴۸ء میری تاریخ پیدائش ہے مگر اس کی چند جھلکیاں ابھی تک ذہن کی اسکرین پر جھلملا رہی ہیں۔ ہم چھوٹے چھوٹے گلیوں میں ٹولیوں کی شکل میں نعرے لگایا کرتے تھے اور ٹھیٹھ پنجابی کے نعرے ہوتے تھے جن کا ذکر مضمون میں کرنا اب مناسب بھی معلوم نہیں ہوتا مگر ان نعروں میں پنجاب کے دیہاتی کلچر کا بھرپور اظہار ہوتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ مارچ ۲۰۱۱ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter