قادیانیوں کی پاکستان کے لیے ’’خدمات‘‘

وزیراعظم عمران خان نے ملک کے اقتصادی و معاشی معاملات کے حوالہ سے جو ایڈوائزری کونسل قائم کی ہے اس میں عاطف میاں کی شمولیت پر سوشل میڈیا میں بحث چھڑ گئی ہے کہ وہ مبینہ طور پر قادیانی ہیں اور مرزا قادیانی کے خاندان کے ساتھ ان کا تعلق بھی بتایا جاتا ہے، اس لیے اس کونسل میں ان کی شمولیت درست نہیں ہے اور وزیراعظم سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان کا نام کونسل سے خارج کر دیں۔ اس پر بعض حلقوں کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ مذہبی انتہا پسندی کا بے جا اظہار ہے اور مطالبہ کرنے والوں کو ایسا نہیں کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ ستمبر ۲۰۱۸ء

سہ ماہی تعطیلات کی سرگرمیاں

صفر کے پہلے پیر کو جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کا سہ ماہی امتحان ہوتا ہے، یہ ایک دن کا تقریری امتحان ہوتا ہے اور اس سے قبل طلبہ کا دو دن کا تیاری کے لیے تقاضا ہوتا ہے جبکہ امتحان کے بعد تین چھٹیاں ہوتی ہیں۔ اس طرح مجھے اس ہفتہ کے دوران چند روز گھومنے پھرنے کے لیے مل جاتے ہیں اور میں ان سے بھرپور استفادے کی کوشش کرتا ہوں۔ انہی دنوں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ کا کراچی میں اجلاس تھا جس کے لیے دعوت نامہ موصول ہو چکا تھا اور برادرم مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے فون پر بھی تاکید کی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جنوری ۲۰۱۰ء

حلال و حرام کا اسلامی تصور اور سوسائٹی کی خواہشات

سپریم کورٹ آف انڈیا نے حال ہی میں جسم فروشی کو قانونی حیثیت دینے کا مشورہ دیا ہے اور اپنے اس مشورہ کو اس مسئلہ کا حل قرار دیا ہے کہ بے شمار قوانین کے باوجود جسم فروشی کے کاروبار میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ دو فاضل ججوں پر مشتمل بینچ نے کہا ہے کہ: ’’دنیا بھر میں کہیں بھی اور کوئی بھی قانون اس کاروبار کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوا ہے اور یہ کہ اس کو قانونی درجہ دے دیے جانے سے اتھارٹیز کو اس کاروبار کی نگرانی کرنے، اس کے ملوثین کی آبادکاری اور طبی امداد فراہم کرنے کا حق و اختیار حاصل ہو جائے گا۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ فروری ۲۰۱۰ء

قومی خودمختاری کا تحفظ ۔ ملی مجلس شرعی کا اجلاس

گزشتہ اتوار کو لاہور میں ملی مجلس شرعی کے زیر اہتمام مختلف مکاتب فکر اور طبقات کے راہنماؤں کا ایک مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جو اس لحاظ سے بھرپور اور نمائندہ تھا کہ تمام مکاتب فکر کے ذمہ دار علماء کرام نے اس میں شرکت کی اور ریٹائرڈ جنرل حمید گل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل راجہ ذوالقرنین اور صحافی برادری کی دو سرکردہ شخصیات چودھری اصغر علی وڑائچ اور جناب سلمان غنی بھی شریک ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جنوری ۲۰۱۰ء

حضرت سلمان فارسیؓ کی نصیحت، زندگی کے اصول

جناب سرور کائناتؐ کی سیرت طیبہ قیامت تک نسل انسانی کے لیے مشعلِ راہ ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں سے ہر دور میں انسانی سوسائٹی نے استفادہ کیا ہے جو قیامت تک جاری رہے گا۔ مگر میں آج سیرت طیبہ کے ایک پہلو کے حوالے سے کچھ معروضات پیش کرنا چاہوں گا کہ جناب رسول اللہ نے نسل انسانی کو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے اور اس کی عبادت میں کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ کرنے پر زور دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ جو لوگ اللہ کو بھول جاتے ہیں اللہ انہیں اپنے آپ سے غافل کر دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ فروری ۲۰۱۰ء

موجودہ حالات اور جنرل حمید گل

دو روز قبل جنرل (ر) حمید گل صاحب نے فون پر مجھے کہا کہ ۸ دسمبر کو راولپنڈی میں کچھ حضرات کو ملک کی موجودہ صورتحال کے حوالہ سے جمع ہونے کی دعوت دی گئی ہے جس میں آپ کی آمد بھی ضروری ہے۔ میرا خیال تھا کہ کوئی محدود سطح کا مشاورتی اجلاس ہوگا لیکن میں جب ۳ بجے کے لگ بھگ راولپنڈی صدر کے فلیش مین ہوٹل کے مین ہال میں داخل ہوا تو وہاں ایک اچھے خاصے قومی سیمینار کا سماں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ دسمبر ۲۰۰۹ء

دینی جدوجہد کی معروضی صورتحال کی بحث

دینی جماعتوں کے اتحاد کے بارے میں معروضی صورتحال کے حوالے سے ان کالموں میں گفتگو کر رہا ہوں، اس میں ماضی کے تجربات کا تذکرہ بھی ہوتا ہے اور مستقبل کے امکانات اور ضروریات کا جائزہ بھی اس کا حصہ ہے۔ اس پس منظر میں حافظ عبد الوحید اشرفی صاحب نے ایک مضمون میں مجھ سے تقاضا کیا کہ دوسرے حضرات کو توجہ دلانے کی بجائے خود اس سمت پر پیشرفت کیوں نہیں کرتا؟ اس کے جواب میں ایک قدرے تفصیلی مضمون میں راقم الحروف نے ان اسباب کا تذکرہ کیا جو اس بارے میں میری عملی پیشرفت میں حائل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ جنوری ۲۰۱۰ء

دینی جدوجہد ۔ ضرورت اور تقاضے

ہمارے محترم دوست حافظ عبد الوحید اشرفی صاحب (مدیر ماہنامہ فقاہت لاہور) نے روزنامہ اسلام میں گزشتہ دنوں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں راقم الحروف کی ان گزارشات کو موضوع بحث بنایا ہے جن میں کچھ عرصہ سے مسلسل یہ عرض کر رہا ہوں کہ قومی سیاست میں دینی نمائندگی اور ہمارے تحریکی ماضی کے تسلسل کا خلا دن بدن گھمبیر ہوتا جا رہا ہے، اس لیے اس خلا کو پر کرنے اور تحریکی تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے کسی نہ کسی کو آگے بڑھنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ و ۶ دسمبر ۲۰۰۹ء

نیدرلینڈز کے مجوزہ گستاخانہ خاکوں کے پروگرام کی منسوخی

مسلمانوں کا ایمانی جذبہ بالآخر رنگ لایا ہے اور ہالینڈ (نیدرلینڈز) کی حکومت نے گستاخانہ خاکوں کے ان مجوزہ نمائشی مقابلوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے جو دس نومبر کو وہاں کی پارلیمنٹ میں منعقد کرائے جانے والے تھے۔ پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ’’تحریک لبیک یا رسول اللہؐ‘‘ کی ریلی کے اسلام آباد پہنچنے پر تحریک کے راہنما پیر محمد افضل قادری کو مذاکرات میں بتایا ہے کہ ہالینڈ کے وزیرخارجہ نے انہیں فون پر اطلاع کی ہے کہ یہ پروگرام منسوخ کر دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم ستمبر ۲۰۱۸ء

شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ اور مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ کی جدوجہد کے دو اہم پہلو

شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی یاد میں ۳۰ اکتوبر کو خانیوال میں سیمینار منعقد ہو رہا ہے جس میں مولانا فضل الرحمان مہمان خصوصی ہوں گے اور مختلف ارباب فکر و دانش حضرت شیخ الہندؒ اور حضرت مفتی صاحبؒ کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔ اس سیمینار کا اہتمام جناب اکرام القادری اور ان کے رفقاء کی طرف سے کیا جا رہا ہے جو ہمارے پرانے دوستوں میں سے ہیں اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے دور میں جمعیۃ علماء اسلام کے آرگن ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کے سالہا سال تک مدیر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اکتوبر ۲۰۰۹ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter