عالمِ اسلام میں جہاد کی نئی لہر
جہاد افغانستان کے منطقی اثرات رفتہ رفتہ ظاہر ہو رہے ہیں کہ نہ صرف مشرقی یورپ نے روس کی بالادستی کا طوق گلے سے اتار پھینکا ہے بلکہ وسطی ایشیا کی ریاستیں بھی اپنی آزادی اور تشخص کی بحالی کے لیے قربانی اور جدوجہد کی شاہراہ پر گامزن ہو چکی ہیں اور فلسطین، کشمیر اور آذربائیجان کے حریت پسند مسلمان جذبۂ جہاد سے سرشار ہو کر ظلم و استبداد کی قوتوں کے خلاف صف آرا ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بخاری شریف کے امتیازات ۔ حدیث شریف کی طالبات سے ایک خطاب
سب سے پہلے ان طالبات کو جو آج دورۂ حدیث شریف اور بخاری شریف کے سبق کا آغاز کر رہی ہیں اس تعلیمی پیشرفت پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت انہیں علم حدیث کا ذوق عطا فرمائیں، فہم نصیب کریں، عمل کی توفیق اور خدمت کے مواقع سے بہرہ ور فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔ آپ نے اس سے قبل حدیث نبویؐ کی بعض کتابیں پڑھی ہیں اور اس سال بھی بخاری شریف کے ساتھ ساتھ دیگر کتابیں آپ پڑھیں گی لیکن میں آپ کو بخاری شریف کی اہمیت اور اس کی چند خصوصیات و امتیازات کی طرف توجہ دلانا چاہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا فضل الرحمان اور نئی سیاسی صورتحال
چیچہ وطنی کے ڈاکٹر محمد اعظم چیمہ ہمارے پرانے جماعتی، مسلکی اور نظریاتی ساتھیوں میں سے ہیں، حالات کے اتار چڑھاؤ پر نظر رکھتے ہیں اور مختلف حوالوں سے اپنے جذبات کا متعلقہ حضرات کے سامنے اظہار کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ روز ان کے ساتھ اسلام آباد کا سفر ہوا اور مولانا فضل الرحمان سے تفصیلی ملاقات ہوگئی۔ ڈاکٹر صاحب کو مولانا کی سیاسی پالیسیوں کے حوالہ سے کچھ تحفظات تھے اور میں موجودہ حالات کے بارے میں بہت سی باتیں معلوم ہونے کے باوجود انہیں مولانا فضل الرحمان سے ان کے لہجے میں سننا چاہتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دستوری ترامیم کی بحث اور دینی جماعتوں کا مطلوبہ کردار
دستور پاکستان میں جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور اقتدار میں کی جانے والی سترہویں ترمیم پر نظر ثانی کے لیے پارلیمنٹ کی قائم کردہ کمیٹی اپنے کام میں مصروف ہے اور اس کے بارے میں مختلف اطراف سے اظہار خیال کا سلسلہ جاری ہے۔ بعض دانشوروں کا کہنا ہے کہ یہ پارلیمانی کمیٹی صرف سترہویں ترمیم کے خاتمہ کا طریق کار طے کرنے تک محدود نہیں ہے جس سے اس کی ذمہ داری پورے دستور کی ’’اوورہالنگ‘‘ تک پھیلی ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت عمرؓ کی گڈ گورننس کی بنیاد
۲ جولائی کو ایک روز کے لیے کراچی جانے کا اتفاق ہوا، یہ سفر جامعہ اسلامیہ کلفٹن کی دعوت پر ختم بخاری شریف کی تقریب اور سالانہ جلسہ دستار بندی میں شرکت کے لیے ہوا مگر حسب معمول صبح نماز فجر کے بعد جامعہ انوار القرآن (آدم ٹاؤن، نارتھ کراچی) میں تخصص فی الفقہ کے شرکاء کے ساتھ اور نماز ظہر کے بعد جامعہ دارالعلوم کورنگی میں تخصص فی الدعوۃ والارشاد کے شرکاء کے ساتھ بھی ایک ایک نشست ہوئی۔ جامعہ اسلامیہ کلفٹن کی سالانہ تقریب صبح ۹ بجے سے شروع ہو کر نماز ظہر تک جاری رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سوات کی صورتحال اور علماء کا اجلاس
والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے آخری ایام میں انہیں سب سے زیادہ پریشانی سوات کی صورتحال کے بارے میں تھی، میں جب بھی حاضر ہوتا وہ سوات اور مالاکنڈ ڈویژن کے حالات کے بارے میں دریافت کرتے اور دیگر حضرات سے بھی پوچھتے رہتے۔ میں نے کئی بار انہیں سوات اور اس خطہ کے حالات سن کر روتے دیکھا، مجاہدین کے ساتھ انہیں ہمدردی تھی لیکن ملکی صورتحال اور وطن عزیز کو درپیش مشکلات بھی ان کے لیے بے چینی کا باعث تھیں۔ چند ہفتے قبل انہوں نے مولانا سمیع الحق کو پیغام بھیج کر بلوایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نفاذِ شریعت کی جدوجہد کا تسلسل اور طریقہ کار
گزشتہ منگل سے برطانیہ میں ہوں اور وطن عزیز کے حوالہ سے اب تک تین چار اچھی خبریں سن چکا ہوں۔ پہلی خبر سوات کے معاہدۂ امن کی قومی اسمبلی سے توثیق کے حوالہ سے تھی، دوسری خبر نظام عدل ریگولیشن کے دائرہ کار کی مالاکنڈ ڈویژن اور ضلع کوہستان تک توسیع کے بارے میں تھی، تیسری خبر مولانا عبد العزیز کی رہائی اور لال مسجد میں ان کے خطبۂ جمعہ کی ہے، اور چوتھی خبر میں اس کو قرار دے رہا ہوں کہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران سوات کے معاہدۂ امن کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
۱۴ اگست ۔ تجدیدِ عہد اور احتساب کا دن
تاریخ اور سماجیات کے ایک طالب علم کے طور پر جب قیام پاکستان کے پس منظر کا جائزہ لیتا ہوں تو مجھے اس کے سوا اس کی کوئی اور تعبیر نہیں سوجھتی کہ یہ اسلام کی حقانیت اور اعجاز کا اظہار تھا جو اس دور میں رونما ہوا کہ خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے صرف دو عشرے بعد اسلام کے نام پر ایک نئی ریاست پاکستان وجود میں آگئی جبکہ خلافت عثمانیہ کم و بیش پانچ صدیاں اسلام کے عنوان سے شرعی قوانین کے نفاذ کے ساتھ گزار کر دنیا کے نقشے سے غائب ہوگئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
معزول جج صاحبان کی بحالی اور کچھ پرانی یادیں
چیف جسٹس جناب محمد افتخار چودھری اور دیگر معزز جج صاحبان کی بحالی سے صرف عدلیہ نہیں بلکہ ملک کی قومی تاریخ کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے اور اس کے اثرات تادیر محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ اس سے جہاں ملک کی جمہوری اور عوامی قوتوں کو حوصلہ ہوا ہے کہ کوئی ڈکٹیٹر کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو عوامی قوت کے ساتھ اس کے اقدامات کو رد کیا جا سکتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ختم نبوت کے محاذ پر بیداری کے آثار
مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ نے قادیانیت کو یہودیت کا چربہ قرار دیا تھا اور ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے کہا تھا کہ قادیانی پاکستان میں وہی مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں جو امریکہ میں یہودیوں کو حاصل ہے کہ ملک کی کوئی پالیسی ان کی مرضی کے بغیر طے نہ ہو۔ اسی طرح اقبالؒ نے قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا کام اللہ تعالیٰ نے بھٹو مرحوم سے لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 237
- 238
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »