(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)
آج کل ہم نے ایک مسئلہ بنا لیا ہے کہ ہم پر جو مغرب کی طرف سے اعتراض ہوتا ہے ہم اس کا حل نکالنے کی کوشش کرتے ہیں اجتہاد کے نام سے۔ مغرب والے اعتراض کرتے ہیں کہ وراثت میں بیٹے اور بیٹی کا حق برابر ہونا چاہیے۔ پھر کہا جاتا ہے کہ مولوی صاحب! آپ اجتہاد کیوں نہیں کرتے، اجتہاد کر کے آپ یہ حق برابر کیوں نہیں کرتے؟ مغرب کا تقاضا ہے کہ بیوی کو نصف جائیداد ملنی چاہیے، اس پر کہا جاتا ہے کہ مولوی صاحب! آپ اجتہاد کر کے یہ طے کر دیں نا۔ اس بات کا کیا مطلب ہے؟
ہمارے فیصلوں کا مدار قرآن پر ہے یا مغرب پر؟ پہلے آپ ایک بنیادی فیصلہ کر لیں کہ ہم نے قرآن کریم سے راہنمائی حاصل کر کے مغرب کے فیصلوں کو مسترد کرنا ہے؟ یا مغرب سے راہنمائی حاصل کر کے قرآن کریم کے فیصلوں میں ترمیم کرنی ہے؟ ہماری ہدایات کا سرچشمہ کون ہے؟ کیا مغرب ہم سے جو مطالبہ کرتا جائے گا، ہم قرآن کریم میں ترمیم کرتے جائیں گے؟ اقوام متحدہ جس بات کا تقاضا کرتا جائے گا ہم قرآنی احکامات تبدیل کرتے جائیں گے؟ مغرب کے ادارے، مغرب کی لابیاں اور جنیوا کنونشن جو بھی قرارداد پاس کرے گا، ہم اس کی بنیاد پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں ترمیم کرتے چلے جائیں گے؟
اجتہاد اس کا نام نہیں ہے بلکہ یہ کفر ہے، الحاد ہے۔ ہماری راہنمائی کا سرچشمہ قرآن کریم ہے اور سنتِ رسولؐ ہے۔ ہم دنیا کا ہر فیصلہ ٹھکرا سکتے ہیں لیکن قرآن و سنت میں کوئی ترمیم نہیں کر سکتے۔ یہ بات کہنا بہت بڑا کفر اور الحاد ہے کہ قرآن کریم نے کسی کو کم حق دیا ہے، یہ ظلم اور زیادتی ہے۔ قرآن کریم کے فیصلے کو ظلم کہنا کفر ہے۔ اس لیے یہ بات بطور عقیدہ کے ذہن میں رکھیں کہ ہمارے لیے احکامات وہی ہیں جو قرآن کریم نے بیان فرمائے اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائے ہیں۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے حالات کو بھی ہم سے زیادہ جانتا ہے، وہ ہماری ضروریات کو بھی ہم سے بہتر سمجھتا ہے، اور ہم پر ہم سے زیادہ مہربان اور شفیق ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ کس کے لیے کتنا حصہ مفید ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فیصلے فرما دیے، ہمارے لیے حرفِ آخر ہیں، ہم ان میں کسی قسم کا رد و بدل قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

