بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
دورِ حاضر میں جن اکابر علماء اسلام نے مختلف شعبوں میں امتِ مسلمہ کو وقت کی ضروریات اور دینی تقاضوں سے آگاہ کرنے میں سب سے زیادہ اور اہم کردار ادا کیا ہے ان میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی قدس اللہ سرہ العزیز کی شخصیت سب سے نمایاں ہے اور عالمِ اسلام کے علمی حلقوں میں ان کی دینی بصیرت سے راہ نمائی نہ صرف حاصل کی جا رہی ہے بلکہ تادیر یہ استفادہ جاری رہے گا ان شاء اللہ تعالیٰ۔ بالخصوص مغرب کے فلسفہ و تہذیب اور اسلام کے خلاف اس کی فکری کاوشوں کو جس تسلسل اور مہم جوئی کے جذبہ سے انہوں نے زندگی بھر بے نقاب کرنے کی جدوجہد کی ہے وہ ہماری ملی اور علمی تاریخ کا ایک مستقل اور روشن باب ہے اور ان کی تصانیف و مقالات سے عرب و عجم کے علماء کرام فیض یاب ہو رہے ہیں۔
اسی سلسلہ میں فاضل عزیز مولانا محمد انس عرفان آف ٹنڈو اللہ یار نے حضرت ندویؒ کے مختلف جرائد و رسائل میں بکھرے ہوئے خطابات و مضامین کا ایک وقیع مجموعہ زیرنظر کتاب کی صورت میں مرتب کیا ہے جو اُن کے حسنِ ذوق کی علامت ہے اور نئی نسل کے لیے اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے۔ اللہ پاک ان کی اس کاوش کو قبولیت و ثمرات سے نوازیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے نفع بخش بنائیں، آمین یا رب العالمین۔

