برطانوی مسلمان اور مسٹر ڈیوڈ کیمرون کے خیالات

   
تاریخ اشاعت: 
۱۲ جون ۲۰۰۷ء

میں نے گزشتہ کسی کالم میں برطانوی کنزرویٹو پارٹی کے لیڈر مسٹر ڈیوڈ کیمرون کے ایک انٹرویو کا ذکر کیا تھا جو انہوں نے ایک مسلمان خاندان کے ساتھ چوبیس گھنٹے گزارنے کے بعد دیا ہے اور میں نے اس کی تفصیلات ۱۲ مئی کو لندن سے شائع ہونے والے ایک اردو روزنامہ میں پڑھی تھیں۔

گزشتہ ماہ برطانیہ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے نتائج نے جہاں کنزرویٹو پارٹی کو یہ امید دلا دی ہے کہ وہ آئندہ عام انتخابات میں لیبر پارٹی پر سبقت حاصل کر سکتی ہے، وہاں حکمران لیبر پارٹی بھی نئی صف بندی پر مجبور ہو گئی ہے اور گزشتہ دس برس سے پارٹی کی قیادت کرنے والے جناب ٹونی بلیئر کو وزارت عظمیٰ سے سبکدوشی کا اعلان کرنا پڑا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے اعلان کے مطابق ۲۷ جون کو پارٹی قیادت چھوڑ رہے ہیں اور ان کی جگہ مسٹر گورڈن براؤن باقی ماندہ مدت کے لیے وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

اس پس منظر میں ٹوری لیڈر مسٹر ڈیوڈ کیمرون کو مستقبل کے برطانوی وزیر اعظم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور وہ بھی اس کے لیے تیاریاں کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ مذکورہ بالا انٹرویو کے ساتھ یہ بتایا گیا ہے کہ مسٹر ڈیوڈ کیمرون نے بالسال ہیتھ (برمنگھم) میں ایک مسلمان خاندان کے ساتھ ان کے گھر میں چوبیس گھنٹے گزارے ہیں اور اس حوالے سے اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے جن کے اہم نکات کچھ اس طرح ہیں:

  • ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ انہیں مسلمانوں کو بہت قریب سے دیکھنے اور ان کے طرز زندگی کا پتہ چلانے کا موقع ملا ہے جو کسی دوسرے سیاست دان کو نہیں۔ یہ فیملی دوسرے مسلمانوں کی طرح برطانوی معاشرے کی معاشی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ مسلمانوں کی فیملی اقدار بہت مضبوط ہیں۔ اس فیملی سے ملنے کے لیے روزانہ توسیع شدہ فیملی کے جتنے لوگ ایک روز میں آئے، اتنے رشتہ دار ان (کیمرون) سے سال بھر میں نہیں ملتے۔
  • اس فیملی کے ساتھ وقت گزارنے کے دوران انہیں مسلمان گروپوں سے مختلف ایشوز پر بحث کا موقع ملا۔ ان میں ایک ایشو دہشت گردی کا موجودہ خطرہ ہے۔ میڈیا میں اسلامی دہشت گردی کی اصطلاح عام استعمال کی جاتی ہے اور جب بھی میڈیا یا سیاستدان اس کے بارے میں بات کرتے ہیں، وہ بہت زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے بھی کئی مرتبہ یہ اصطلاح استعمال کی ہے جو مسلمانوں کو بہت ناگوار گزرتی ہے۔ شمالی آئرلینڈ کو لے لیں۔ وہاں ’’آئی آر اے دہشت گرد‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی رہی جو انہیں دہشت گرد ظاہر کرتی تھی۔ اگر کیتھولک دہشت گرد یا پروٹسٹنٹ دہشت گرد کی اصطلاح استعمال کی جاتی تو بہت تباہی ہوتی اور اب ہم جو کر رہے ہیں، وہ اسی کے مساوی ہے۔ جب مسلمان اس قسم کی زبان سنتے یا استعمال ہوتے دیکھتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ ’’ان کا مقصد ہم ہیں‘‘۔

    جب ڈیوڈ کیمرون سے دریافت کیا گیا کہ وہ کون سی اصطلاح استعمال کرنے کے حق میں ہیں تو انہوں نے کہا کہ ’’القاعدہ دہشت گرد‘‘ یا ’’گمراہ مسلمان دہشت گردی‘‘ کی اصطلاح مناسب رہے گی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ حکومت نے اسلامی دہشت گردی کی اصطلاح ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن متبادل کوئی اصطلاح سامنے نہیں لائی گئی تاکہ میڈیا اسے استعمال کر سکے۔

  • زبان کے ایشو کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی زیر بحث آئی کہ میڈیا مسلمانوں کے ایشوز سے کیسے نمٹتا ہے؟ مسلمان اس بات پر بھی برہم ہیں کہ دہشت گردی کے حوالے سے جس قدر چھاپے مارے گئے، ان میں سے کئی کی اطلاع میڈیا کو قبل از وقت دی گئی۔ یہ مسئلہ انہوں نے وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے وقفہ سوالات میں بھی اٹھایا تھا۔ ان میں سے برمنگھم میں ایک چھاپے میں جس میں بعض افراد کو ایک مسلمان فوجی کے اغوا کی سازش میں گرفتار کیا گیا، میڈیا چھاپے سے قبل وہاں موجود تھا۔
  • مسلمان کمیونٹی کے اندر ایک مسئلہ یہ تسلیم کرنے کا ہے کہ ۷/۷ یا ۹/۱۱ کی سازشیں کیوں اور کیسے ہوئیں اور ان کے پس منظر میں کون تھا؟ یہ دلیل بھی دی گئی کہ ۹/۱۱ سی آئی اے کی سازش تھی۔ یہودیوں سے کہہ دیا گیا تھا کہ جڑواں ٹاور سے دور رہیں اور جب ۷/۷ کی بات کی جاتی ہے تو جواب ملتا ہے کہ ہمیں کیا علم ہے کہ خودکش حملہ آوروں کی ویڈیو صحیح ہے یا غلط ہے؟ اگر پانچ یا دس فیصد مسلمانوں کی بھی یہ سوچ ہے تو یہ ایک مسئلہ ہے جس سے نمٹنا پڑے گا۔
  • اکثر پاکستانی نژاد مسلمانوں نے انہیں بتایا ہے کہ بیرون ملک، بالخصوص شام، مصر اور اردن سے آنے والے علماء نوجوان نسل کو انتہا پسندی کی ترغیب دے رہے ہیں، لیکن ان سے نمٹنے کے لیے زیادہ کام نہیں ہوا۔ اس سب کا اثر مسلمانوں کے معاشرے میں ادغام اور cohesion پر پڑ رہا ہے۔ اس سے ملک دس سال پیچھے چلا گیا ہے۔ جبکہ بعض مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل محسوس کرتے ہیں کہ ان کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور عام برطانوی طرز زندگی میں پہلے سے زیادہ خیر مقدم نہیں کیا جاتا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ کمیونٹی کے لوگ جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو وہ اس ایشو پر بات نہیں کرتے۔ یہ ضروری ہے کہ مسلمان اس ایشو پر آپس میں بحث کریں اور اس کے مختلف پہلوؤں کو سمجھیں۔
  • ان کے نزدیک مسلمان بچوں کی تسلیم اور اسکولوں میں ان کی ناقص کارکردگی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ جہاں زیادہ مسلمان بچے ہیں، وہاں کے نتائج ۱۶ سال کے بچوں کے لیے پانچ فیصد جبکہ اچھے جی سی ایس ای کے نتائج پندرہ فیصد ہیں، جو کسی طور قابل قبول نہیں۔ اسکولوں کے محنتی گورنر اس کا الزام اسکولوں میں اس کلچر کو دیتے ہیں کہ وہ کم نتائج کو تسلیم کر لیتے ہیں اور یہ کہ غریب علاقوں میں بچوں سے بہتر کارکردگی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اس سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا اور ایسے اسکولوں کو بند کرنا بہتر ہے۔
  • ان کے نزدیک معاشرہ میں ادغام ’’ٹو وے اسٹریٹ‘‘ ہے۔ ہم اقلیتی طبقہ سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ مجموعی طور پر برطانوی معاشرے میں مدغم ہونے کے لیے بہت محنت کریں، لیکن ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ایسا اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک انہیں مدغم کرنے کے لیے دلکشی نہیں ہوگی۔ لوگوں کو دھمکا کر معاشرے کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا، لیکن معاشرہ میں شراب نوشی، منشیات، سماج مخالف رویہ، غیر مہذبانہ طرز زندگی زیادہ دلکشی کا باعث نہیں بن سکتے، اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

برطانیہ کی ایک بڑی سیاسی پارٹی کے لیڈر اور مستقبل کے متوقع وزیر اعظم کے خیالات کو اس قدر تفصیل کے ساتھ پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ برطانوی قومی سیاست میں مسلمانوں کے حوالے سے اس وقت خیالات اور احساسات کا جو مدوجزر پایا جاتا ہے، وہ سامنے رہے اور مستقبل میں جن امکانات کا نقشہ دکھائی دے رہا ہے، اس پر ایک نظر ڈال لی جائے۔

جہاں تک برطانیہ میں مقیم مسلمانوں کے برطانوی معاشرہ میں مدغم ہونے کا مسئلہ ہے، یہ اس وقت کا سب سے بڑا سوال ہے جو برطانوی سیاسی راہنماؤں اور دانشوروں کو مسلسل پریشان رکھے ہوئے ہے، اس لیے کہ دنیا کے مختلف ممالک سے برطانیہ آ کر آباد ہو جانے والے مسلمانوں کے بارے میں جو توقعات اب سے ربع صدی قبل وابستہ کر لی گئی تھیں کہ یہ بالآخر مقامی سوسائٹی اور کلچر میں ضم ہو جائیں گے اور ان کا الگ تشخص قائم نہیں رہے گا، وہ توقعات پوری نہیں ہوئیں، بلکہ نسبتاً زیادہ آزاد ماحول میں اعتماد کے ساتھ رہنے کی وجہ سے مسلمانوں کی اپنے مذہب اور مشرقی کلچر کے ساتھ وابستگی میں زیادہ نکھار پیدا ہوا ہے۔

مجھے برطانیہ جاتے ہوئے بائیس سال ہو گئے ہیں اور اس دوران شاید ہی کوئی ایسا سال گزرا ہے کہ میں نے سال کے دوران کم از کم ایک دفعہ برطانیہ کا سفر نہ کیا ہو۔ اب سے بیس برس قبل میں نے وہاں کے ایک مسلمان بزرگ سے دریافت کیا تھا کہ برطانیہ میں چرچ فروخت ہو کر مساجد میں تبدیل ہو رہے ہیں اور سینکڑوں چرچوں میں اب پانچ وقت نماز اور روزانہ قرآن کریم کی تعلیم ہوتی ہے تو یہاں کے مذہبی راہنما اس حوالے سے کیا سوچتے ہیں، اور مسیحی مذہبی قیادت کا اس سلسلہ میں ردعمل کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ایک مسیحی عالم دین سے اس مسئلے پر ان کی بات ہوئی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ہمیں اس بارے میں کوئی پریشانی نہیں ہے، اس لیے کہ یہاں آنے والے مسلمانوں کی موجودہ نسل مذہب سے وابستگی رکھتی ہے، اگلی نسل لبرل ہوگی اور اس سے اگلی نسل اسی طرح مذہب سے لاتعلق ہوگی جس طرح مقامی سوسائٹی مذہب سے لاتعلق ہے۔ مگر ان کی یہ توقع پوری نہیں ہوئی اور جوں جوں وقت گزر رہا ہے، مسلمانوں کی مذہب سے وابستگی بڑھ رہی ہے۔ جبکہ عالمی سطح پر مسلمانوں کی مظلومیت، مشرق وسطیٰ میں مغربی حکمرانوں کے گزشتہ پون صدی کے کردار، مشرقی یورپ میں سوویت یونین کی پسپائی کے بعد مسلمانوں کے وحشیانہ قتل عام اور عراق اور افغانستان میں مغربی ممالک کی جارحیت نے مسلمانوں میں جو ردعمل پیدا کیا ہے، اس نے نئی نسل کو پرانی نسل سے کہیں زیادہ مذہب کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔

مسٹر ڈیوڈ کیمرون اس بات کو تسلیم کر رہے ہیں کہ برطانیہ میں آنے والے مسلمانوں کے مقامی معاشرہ میں مدغم ہونے کے لیے زیادہ پرکشش ماحول پیدا نہیں کیا جا سکا اور مقامی آبادی باہر سے آنے والوں کو اپنے ساتھ ثقافتی طور پر ایڈجسٹ کرنے کے لیے خود کچھ نہیں کر رہی۔ اس کے اسباب سے بھی مسٹر ڈیوڈ کیمرون اچھی طرح واقف دکھائی دیتے ہیں کہ فیملی اقدار، شراب، منشیات اور غیر مہذبانہ طرز زنگی کے حوالے سے پایا جانے والا تفاوت مسلمانوں کے اس معاشرے میں مدغم ہونے میں رکاوٹ ہے۔ اس سے یہ بات پوری طرح واضح ہو گئی ہے کہ مسلمان دنیا کے جس خطے میں بھی جائے اور عملی طور پر دین سے کتنا ہی دور کیوں نہ ہو، وہ اپنی مذہبی اور ثقافتی اقدار سے دستبرداری اختیار نہیں کر سکتا۔ اس امر کا مشاہدہ صرف برطانیہ میں نہیں، بلکہ امریکہ، کینیڈا اور یورپ کے دیگر ممالک میں بھی بخوبی کیا جا سکتا ہے۔

اس پس منظر میں مسٹر ڈیوڈ کیمرون اور دیگر مغربی دانشوروں سے یہ گزارش کرنے کو جی چاہ رہا ہے کہ انہیں اس تجربہ سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور مسلمانوں کو مغربی کلچر میں بہرحال مدغم کرنے کی بے جا رٹ چھوڑ کر معروضی حقائق کا اعتراف کرتے ہوئے مسلمانوں کے جداگانہ تہذیبی تشخص اور ثقافتی امتیاز کو تسلیم کر لینا چاہیے۔ اس کے سوا اس مسئلہ کا اور کوئی حل نہیں ہے کہ ویسٹرن کلچر کو دنیا کا واحد گلوبل کلچر بنانے اور ہر صورت میں دنیا سے اسے آئیڈیل کلچر تسلیم کرانے کی مہم پر نظرثانی کی جائے اور اسلامی کلچر کے وجود اور اس کے زندہ رہنے کے حق کو تسلیم کیا جائے۔ زندہ تو وہ ہے، بلکہ جب اس نے اپنی زندگی کا ثبوت خود مغربی معاشرہ میں فراہم کر دیا ہے تو پوری دنیا میں اسے شکست دینے کا خواب آخر کیسے پورا ہو سکتا ہے؟

   
2016ء سے
Flag Counter