مذہبی تعلیمی اداروں کے حوالہ سے امریکی سپریم کورٹ کا ایک اہم فیصلہ

   
تاریخ اشاعت: 
۶ جولائی ۲۰۲۰ء

آٹھ دس برس قبل کی بات ہے امریکہ کے ایک سفر کے دوران چند دوست ورجینیا میں ملے جو ایشین امیریکن تھے اور اپنا تعلق اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے بتا رہے تھے، انہوں نے کہا کہ وہ ایک مسئلہ پر اسٹڈی اور عوامی سروے کر رہے ہیں کہ اگر مذہب سوسائٹی میں واپس آ گیا تو کہیں وہ ریاستی نظم اور اجتماعی معاملات میں دخل اندازی تو نہیں کرے گا؟ میں نے ان کے اس سوال پر عرض کیا کہ اگر تو یہ واقعی مذہب ہوا تو ضرور کرے گا۔ کیونکہ جو مذہب اصل آسمانی تعلیمات پر مشتمل ہے اور اپنے پاس وحی الٰہی کے ذخیرے کے ساتھ صاحب وحی پیغمبرؑ کی ہدایات کو موجود پاتا ہے، اس کا ایجنڈا ہی معاشرے کی اصلاح اور سماج کو آسمانی تعلیمات کے ماحول میں واپس لانا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالٰی کے ہر پیغمبر نے ’’یا قوم‘‘ کہہ کر بات شروع کی ہے اور قوم کے عقیدہ و عبادات کی درستگی کے ساتھ ساتھ معاشرت و معیشت کی اصلاح کو بھی ہدف بنایا ہے۔

قرآن کریم نے جتنے انبیاء کرامؑ کا تذکرہ کیا ہے اور جن قوموں کے حالات و واقعات بیان کیے ہیں ان کی صورتحال یہی ہے، جبکہ بائبل میں بھی انبیاء کرامؑ اور اقوام و طبقات کے بارے میں کم و بیش یہی کچھ ملتا ہے، اس لیے اگر مذہب اللہ تعالٰی کی وحی اور پیغمبروں کی نمائندگی کرتا ہے تو وہ صرف عقیدہ و عبادت کی بات نہیں کرے گا بلکہ معاشرت، معیشت، امن، جنگ، عدل وانصاف اور سیاست و نظم کے ہر شعبہ میں راہنمائی کرے گا۔ البتہ اس سے اگلی بات یہ ہوگی کہ انسانی سماج کی صحیح راہنمائی وہی مذہب کر سکے گا جس کے پاس وحی اور پیغمبروں کی تعلیمات محفوظ و مستند حالت میں موجود ہوں گی۔ اس کے بغیر جو مذہب بھی معاشرہ اور سماج میں واپس آئے گا وہ انٹری تو کر لے گا مگر اگلے راؤنڈ میں آگے بڑھنا اس کے بس میں نہیں ہوگا اور بالآخر اسلام ہی انسان کی سماج کا عملی راہنما بنے گا۔

یہ ایک فطری حقیقت ہے جس کا احساس خود مغرب کی اعلٰی دانش گاہوں میں بھی پایا جاتا ہے اور آنے والا وقت اس حقیقت کو مزید واضح کرتا چلا جائے گا، جبکہ موجودہ معروضی صورتحال یہ ہے کہ مغرب میں مذہب کا وجود، اس کی ضرورت اور مذہبی رجحانات کا فروغ مختلف صورتوں میں اپنی جھلک دکھا رہا ہے۔ اس سلسلہ میں امریکی سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کا حوالہ دینا چاہوں گا جس کی مختصر سی خبر ایک قومی روزنامہ کے لاہور ایڈیشن نے ۲ جولائی کو شائع کی ہے اور اس کےمطابق امریکی عدالت عظمٰی نے فیصلہ دیا ہے کہ ریاستیں مذہبی تعلیم کے لیے فنڈنگ کر سکتی ہیں۔ جبکہ اس سے قبل ریاستی نظم میں مذہبی تعلیم اور مذہبی شعائر کے لیے فنڈنگ کی سہولت کو امریکہ کے سیکولر دستور کے منافی سمجھا جاتا تھا کہ مذہب، عبادت اور مذہبی تعلیم کا تعلق صرف فرد کی ذات کے ساتھ ہے، ریاست کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، اس لیے سرکاری وسائل اور ریاستی اسباب کو مذہب کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ خبر کے مطابق مونٹانا ریاست نے مذہبی اسکولوں کو ٹیکس کریڈٹ سے خارج کر دیا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ یہ سہولت مذہبی تعلیمی اداروں کو نہیں دی جا سکتی۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کا فیصلہ مذہبی اسکولوں کے لیے پبلک فنڈنگ کے حامیوں کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے حتٰی کہ ٹرمپ انتظامیہ بھی اسے مذہبی آزادی کی جیت کہہ رہی ہے۔ ریاست مونٹانا کے فیصلے کو تین خواتین نے عدالت عظمٰی میں چیلنج کر دیا تھا جس پر سپریم کورٹ کے ججوں کی اکثریت نے ریاست کے حکم کو خلاف آئین قرار دے دیا ہے۔

بظاہر یہ ایک رسمی سی بات لگتی ہے کہ ایک امریکی ریاست نے مذہبی تعلیمی اداروں کے لیے عوامی امداد کو ٹیکس کریڈٹ کی سہولت دینے سے انکار کیا اور یہ آرڈر کیا کہ ٹیکس سے مستثنٰی ہونے کی سہولت مذہبی تعلیمی اداروں کو نہیں دی جا سکتی، جسے سپریم کورٹ نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ لیکن اس سے امریکی معاشرہ میں مذہب کے ساتھ لوگوں کے تعلق اور کمٹمنٹ کی موجودگی بلکہ اس میں بتدریج اضافہ اور اس کے ساتھ سپریم کورٹ جیسے اعلٰی اداروں اور صدارتی انتظامیہ کے رجحانات کا بھی اندازہ ہو جاتا ہے۔ مجھے یہ خبر پڑھ کر ان دوستوں کی وہ بات یاد آ گئی جن کے ساتھ گفتگو کا ذکر میں نے آغاز میں کیا ہے جبکہ اس کے علاوہ اور بھی متعدد شواہد سامنے آ رہے ہیں کہ مذہب انسان کی فطری ضرورت کے طور پر اپنی اہمیت کا احساس دلا رہا ہے اور وہ معاشرہ جسے عملی طور پر مذہب اور اس کے اجتماعی اور معاشرتی کردار سے لاتعلق کر دیا گیا تھا، اس سماج میں مذہب، مذہبی تعلیم اور مذہبی روایات کی واپسی واضح طور پر دکھائی دینے لگی ہے۔

یہ مرحلہ مسلمان علماء کرام، دانشوروں، دینی اداروں اور علمی مراکز کے لیے سنجیدہ غوروفکر کا ہے کہ انسانی سماج اپنی فطری ضرورت کی طرف واپسی کے راستے تلاش کر رہا ہے جبکہ اس فطری انسانی ضرورت کو پورا کرنے کا سامان صرف اور صرف اسلام اور مسلمانوں کے پاس موجود ہے، تو کیا یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہے کہ ہم اس فریضہ کا احساس کرتے ہوئے آگے بڑھیں اور قرآن و سنت کی تعلیمات اور اسلامی معاشرتی ماحول کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے لا کر اسلام کی سربلندی کا راستہ ہموار کرنے میں کردار ادا کریں؟

صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے
   
2016ء سے
Flag Counter