پروفیسر ڈاکٹر خلیق احمد نظامی کا انتقال

   
فروری ۱۹۹۸ء

گزشتہ ماہ بھارت کے ممتاز دانشور اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر خلیق احمد نظامی انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ پروفیسر خلیق احمد نظامی ؒکا نام پہلی بار ان کی شہرۂ آفاق تصنیف ’’شاہ ولی اللہ کے سیاسی مکتوبات‘‘ کے حوالے سے سنا تھا۔ اس کے بعد ان کی تصانیف ’’تاریخِ مشائخِ چشت‘‘ اور ’’سلاطینِ دہلی کے مذہبی رجحانات‘‘ دیکھنے کا موقع ملا۔ پھر آکسفورڈ میں ان سے کئی بار ملاقات بھی ہوئی جہاں ان کے فرزند ڈاکٹر فرحان احمد نظامی ’’آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز‘‘ کے نام سے ایک بڑے تعلیمی منصوبے کے سربراہ ہیں۔

وہ خالص تعلیمی اور تاریخی ذوق کے آدمی تھے، جامعہ ملیہ اور علی گڑھ یونیورسٹی سمیت کئی تعلیمی اداروں سے وابستہ رہے، کچھ عرصہ شام میں بھارت کے سفیر بھی رہے، شریف النفس اور وضع دار قسم کے بزرگ تھے، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرماتے ہوئے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور پسماندگان کو صبرِ جمیل کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter