آل پاکستان مینارٹیز الائنس کی ریلی اور چارٹر آف ڈیمانڈ

   
تاریخ : 
۱۸ اگست ۲۰۰۷ء

مجھے مدینہ منورہ میں آج دوسرا روز ہے، شعبان المعظم اور رمضان المبارک کا کچھ حصہ امریکہ میں گزارنے کا معمول ہے، آتے جاتے کبھی کبھی حرمین شریفین میں حاضری کی سعادت حاصل ہو جاتی ہے، کچھ بیٹری چارج ہو جاتی ہے، اور مختلف دوستوں سے ملاقات اور تبادلۂ خیالات کا موقع بھی مل جاتا ہے۔ ۱۳ اگست کی شام جدہ پہنچا ہوں اور ۲۳ اگست کو روانہ ہونے کا ارادہ ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

اس بار یہاں کی محافل اور ملاقاتوں میں لال مسجد کا سانحہ ہی زیادہ تر موضوعِ بحث ہے۔ مذاکراتی ٹیم میں شامل ہونے کی وجہ سے احباب مجھ سے بہت کچھ پوچھتے ہیں اور بہت کچھ جاننا چاہتے ہیں، نرم و گرم ہر قسم کے سوالات کا سامنا ہے۔ اور اپنی معلومات، مشاہدات اور محسوسات کے دائرے میں احباب کو معروضی صورتحال سے آگاہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ میڈیا کا جادو یہاں بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے، بہت سی باتیں جنہیں زمینی حقائق میں وجود کا درجہ بھی حاصل نہیں ہے، میڈیا انہیں یقینیات کا درجہ دے رہا ہے۔

گزشتہ شب نمازِ عشاء ادا کرنے کے بعد میں اپنے استاذ محترم حضرت مولانا قاری محمد انور صاحب کے پاس مسجد نبویؐ میں بیٹھا تھا، جن سے میں نے ۱۹۶۰ء کے دوران گکھڑ ضلع گوجرانوالہ میں قرآن کریم حفظ مکمل کیا تھا، اور جو گزشتہ اٹھائیس برس سے مدینہ منورہ میں حفظِ قرآن کریم کی تدریس کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کی مجلس نمازِ عشاء کے بعد روزانہ جمتی ہے، انہوں نے مجلس کے شرکاء سے میرا تعارف کرایا تو سوالات کا سلسلہ شروع ہو گیا اور جامعہ حفصہ کے حوالے سے خاصی دیر گفتگو ہوتی رہی۔

جب لاہور سے روانہ ہوا تو دو تین اخبار میں نے ساتھ رکھ لیے تھے تاکہ دورانِ سفر مصروفیت رہے۔ تفصیل کے ساتھ اخبارات کا مطالعہ دورانِ سفر ہی کر پاتا ہوں ورنہ روز مرہ مصروفیات کے دوران دو تین اخبارات کی سرخیوں پر نظر ڈالنے اور دلچسپی کے چند مضامین اور خبریں پڑھ لینے کا موقع مل جائے تو میرے لیے غنیمت کی بات ہوتی ہے۔ لاہور کے ایک روزنامہ نے چند روز قبل مینارِ پاکستان کے سبزہ زار میں منعقد ہونے والی ایک ریلی کی رپورٹ تفصیل کے ساتھ شائع کی ہے جو ’’آل پاکستان مینارٹیز الائنس‘‘ کے زیر انتظام ’’قومی یکجہتی ریلی‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق اس میں مختلف اقلیتوں کے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ ریلی سے آل پاکستان مینارٹیز الائنس کے سربراہ جناب شہباز بھٹی اور دیگر اقلیتی رہنماؤں فادر بونی مینڈس، ایم پرکاش ایڈووکیٹ، سردار رام سنگھ، بھجن داس تجوانی اور بیر بل رام چوہان کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل جناب جہانگیر بدر اور جناب قاسم ضیاء نے بھی خطاب کیا۔ قومی یکجہتی ریلی کے موقع پر ۳۰ نکاتی مطالبات کا ایک مشترکہ اعلامیہ بھی منظور کیا گیا اور چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی گئی کہ وہ اس ۳۰ نکاتی ’’چارٹر آف ڈیمانڈ‘‘ پر فوری اور سنجیدہ توجہ دیں۔ چارٹر آف ڈیمانڈز میں دیگر بہت مطالبات کے ساتھ ساتھ یہ دلچسپ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے گورنر کا منصب دستوری طور پر ہمیشہ کے لیے اقلیتوں کے لیے مختص کر دیا جائے۔

مسیحی، ہندو، سکھ اور دیگر غیر مسلم اقلیتیں پاکستانی سوسائٹی کا حصہ ہیں اور انہیں وہ تمام سیاسی اور شہری حقوق حاصل ہیں جن کی دستورِ پاکستان میں ان کے لیے ضمانت دی گئی ہے۔ اس لیے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنا، اس کے لیے اجتماع کرنا، اور اپنے مطالبات پیش کرنا ان کا دستوری حق ہے اور اس پر کسی ردعمل یا مخالفانہ تبصرے کا جواز نہیں ہے۔ البتہ چارٹر آف ڈیمانڈ کی بعض باتوں کے بارے میں ہم تحفظات رکھتے ہیں اور ان میں سے چند امور کا تذکرہ ہمارے خیال میں ضروری معلوم ہوتا ہے، مثلاً چارٹر میں کہا گیا ہے کہ

’’مذہب کی بنیاد پر کسی بھی قسم کی تفریق قبول نہیں کی جائے گی اور نہ ہی آئین اور ملکی قوانین میں ایسی کوئی شق قبول ہے۔‘‘

مگر اس کے ساتھ ہی پنجاب کی گورنر شپ کو اقلیتوں کے لیے مستقل طور پر مختص کرنے کا مطالبہ بھی کر دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مذہب کی بنیاد پر تفریق کو قبول کیے بغیر یہ آخر کس طرح ممکن ہے کہ ایک صوبہ کا گورنر ہمیشہ کے لیے غیر مسلم کو مقرر کرنے کا قانون بنا دیا جائے۔ کیونکہ جب تک دستور و قانون میں مسلم اور غیر مسلم کا فرق تسلیم نہیں کیا جائے گا، کسی غیر مسلم کے لیے کوئی منصب مختص کرنے کی دستوری بنیاد کیا ہو گی؟

پاکستان کے دستور و قانون میں مذہب کی بنیاد پر تفریق کو مسترد کرنے اور مذہبی حوالے سے امتیاز پر مبنی تمام دستوری دفعات اور قوانین کو ختم کر دینے کے مطالبے کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ پاکستان کے قیام کی تحریک میں اقلیتوں نے بھی ساتھ دیا تھا اور انہوں نے پاکستان کے قیام کی حمایت کی تھی۔ یہ بات درست ہے کہ اقلیتوں نے پاکستان کے قیام کی حمایت کی تھی اور تحریکِ پاکستان کا ساتھ دیا تھا لیکن یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ جنوبی ایشیا میں پاکستان کے نام سے ایک الگ ملک کے قیام کا مطالبہ مسلمانوں کے جداگانہ قومی تشخص اور تہذیبی امتیاز کی بنیاد پر کیا گیا تھا، اور بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ مسلمانوں کے جداگانہ تہذیبی تشخص کو باقی رکھنے کے لیے ان کے لیے الگ ملک کا وجود ضروری ہے، اگر یہ ملک قائم ہو گیا تو اس میں قرآن و سنت کے مطابق دستور و قانون کے معاملات طے کیے جائیں گے۔ ورنہ الگ مذہبی امتیاز اور مذہب کی بنیاد پر جداگانہ تہذیبی تشخص کو اساس کے طور پر تسلیم نہ کیا جائے تو سرے سے پاکستان کے نام سے الگ ملک کے قیام اور اس کے مطالبے کا کوئی جواز ہی باقی نہیں رہ جاتا۔

تحریکِ پاکستان کی اس نظریاتی اور تہذیبی اساس کے بارے میں قائد اعظمؒ اور تحریکِ پاکستان کے دیگر ذمہ دار رہنماؤں کے دوٹوک اعلانات کو نہ تاریخ کے ریکارڈ سے محو کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی سنجیدہ اور با شعور شخص اس سے انکار کر سکتا ہے۔ اس لیے قائد اعظمؒ کے اعلانات کے بعد اقلیتوں یا کسی بھی طبقے نے تحریکِ پاکستان کا ساتھ دیا ہے تو اس نے اس حقیقت کو تسلیم کر کے ایسا کیا ہے کہ پاکستان ایک نظریاتی اسلامی ریاست ہو گی اور اس کے دستور و قانون کی بنیاد قرآن و سنت پر ہو گی۔ اس لیے اب ساٹھ برس کا عرصہ گزر جانے کے بعد اقلیتوں کی اس ریلی کی طرف سے پاکستان کی اسلامی نظریاتی حیثیت کو ختم کرنے اور اس فورم سے دستور و قانون کی شقوں کو قبول نہ کرنے کا یہ اعلان ہمارے نزدیک بانئ پاکستان قائد اعظمؒ کے ساتھ اقلیتوں کی اس کمٹمنٹ سے انحراف کے مترادف ہے جو انہوں نے تحریکِ پاکستان کی حمایت کرتے وقت ان کے ساتھ کی تھی۔

اس سلسلہ میں قائد اعظمؒ کی ۱۱/اگست ۱۹۴۷ء کی اس تقریر کا بھی اقلیتی رہنماؤں کی طرف سے حوالہ دیا گیا ہے جس میں انہوں نے پاکستان میں اقلیتوں کی حیثیت اور حقوق کا ذکر کیا تھا، قائد اعظمؒ کے اس خطاب کا اکثر حوالہ دیا جاتا ہے۔ اقلیتی رہنماؤں نے کہا ہے کہ پاکستان کے دستور سے ایسی تمام شقوں کو حذف کر دیا جائے جو ان کے بقول قائد اعظمؒ کی مذکورہ تقریر سے متصادم ہیں۔

ہمیں قائد اعظمؒ کی اس تقریر سے انکار نہیں ہے اور نہ ہی اقلیتوں کی جائز حیثیت اور حقوق سے انکار ہے، لیکن ہم یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ قائد اعظمؒ کی ۱۱/اگست ۱۹۴۷ء کی اس ایک تقریر کے لیے ان کی زندگی بھر کے دیگر خطابات اور اعلانات کو کیوں نظر انداز کیا جا رہا ہے؟ ایک لمحے کے لیے یہ بات تسلیم بھی کر لی جائے کہ دستور ساز اسمبلی میں قائد اعظم کا گیارہ اگست کا یہ خطاب ان کے سابقہ بیانات اور اعلانات کے لیے وضاحت کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے ان کے سابقہ بیانات کو اس خطاب کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔ تو یہ سوال پھر بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا قائد اعظمؒ نے گیارہ اگست کے خطاب کے بعد مکمل طور پر خاموشی اختیار کر لی تھی، اور اس کے بعد ملک کے دستور و قانون اور پاکستان کی نظریاتی و تہذیبی اساس کے بارے میں کبھی کچھ نہیں فرمایا تھا؟ اگر ہمارے ان دوستوں کو اصرار ہے کہ قائد اعظمؒ کے تمام سابقہ بیانات و اعلانات کا مفہوم و مصداق گیارہ اگست کی تقریر کے حوالے سے طے کیا جائے گا، تو ہمیں بھی اس موقف پر سختی کے ساتھ قائم رہنے کا حق حاصل ہے کہ قائد اعظمؒ نے گیارہ اگست کی اس تقریر کے بعد پاکستان کے دستور و قانون اور نظام کے بارے میں جو کچھ فرمایا ہے اور جو تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہے، اسے گیارہ اگست کی اس تقریر کی وضاحت اور اس کے مصداق کے تعین میں حتمی درجہ حاصل ہے۔ پہلے اور بعد کے تمام بیانات و اعلانات پر خطِ تنسیخ کھینچتے ہوئے صرف درمیان کے ایک خطاب کو ملک کے دستور و نظام کی واحد بنیاد قرار دینے کا قطعی طور پر کوئی جواز نہیں ہے۔

چارٹر آف ڈیمانڈز میں شامل دیگر بہت سے مطالبات بھی اس ایک بنیادی نکتے کے گرد گھومتے ہیں کہ پاکستان کی اسلامی نظریاتی حیثیت کو ختم کر دیا جائے، اور اس کے دستور میں شامل ایسی تمام دفعات حذف کر دی جائیں جو پاکستان کے جداگانہ اسلامی اور تہذیبی تشخص و امتیاز کی نشاندہی کرتی ہیں، مثلاً یہ کہ

  • تعزیراتِ پاکستان سے دفعہ ۲۹۵بی اور ۲۹۵سی کو ختم کیا جائے۔
  • اقلیتوں اور خواتین کے خلاف حدود قوانین اور اس جیسے دیگر امتیازی قوانین کو ختم کیا جائے۔
  • اسلامی نظریاتی کونسل کو ختم کر کے ملک میں بسنے والے تمام مذاہب کے افراد پر مشتمل ’’بین المذاہب کونسل‘‘ تشکیل دی جائے۔
  • مذہبی برداشت کا قومی کمیشن تشکیل دیا جائے جو ملک کے معاشرے میں اکثریتی اور اقلیتی آبادی کے فرق کو ختم کرے، وغیرہ وغیرہ۔

لطف کی بات یہ ہے کہ مذہب کی بنیاد پر تفریق کو سرے سے ختم کرنے اور دستور و قانون میں اس کے تمام نشانات و اثرات کو محو کر دینے کے ان مطالبات کے ساتھ ساتھ اس چارٹر آف ڈیمانڈز میں ایسے مطالبات بھی شامل کیے گئے ہیں جن کی خود اپنی بنیاد مذہبی تفریق پر ہے، مثلاً:

  • پنجاب کا گورنر ہمیشہ کے لیے غیر مسلم مقرر کیا جائے۔
  • قومی اسمبلی کی طرح سینٹ میں بھی اقلیتوں کے لیے سیٹیں مخصوص کی جائیں۔
  • قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتوں کی نشستیں ان کی آبادی میں اضافے کے حساب سے بڑھائی جائیں۔
  • اقلیتوں کے لیے ان کے مذہبی ماہرین کی مشاورت سے پرسنل لاز کا ازسرِنو تعین کیا جائے، وغیرہ۔

ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ ہمیں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اقلیتوں کے جائز حقوق کے تحفظ اور ان کے جائز مطالبات کو منظور کرنے سے کوئی اختلاف نہیں ہے بلکہ ہم خود ان کی حمایت کرتے ہیں، لیکن اس کی آڑ میں پاکستان کی اسلامی نظریاتی حیثیت سے انکار، اور دستورِ پاکستان کی اسلامی نظریاتی اساس کو مسترد کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، کیونکہ یہ بات پاکستان کے قیام اور بقا کے جواز کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ اس لیے ہم آل پاکستان مینارٹیز الائنس کے قائدین سے اس انتہاپسندانہ موقف پر نظرثانی کی اپیل کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں جناب جہانگیر بدر اور جناب قاسم ضیاء کی توجہ بھی اس جانب مبذول کرانا چاہیں گے کہ ان کی موجودگی میں بلکہ ان کی حمایت سے دستورِ پاکستان کی جن دفعات کو ختم کرنے کا اس اقلیتی ریلی میں مطالبہ کیا گیا ہے وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے ملک کے دستور میں شامل کی تھیں۔ ہمارا ان سے سوال ہے کہ کیا پاکستان پیپلز پارٹی نے ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے نظریات و افکار سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے؟

   
2016ء سے
Flag Counter