پانی ہمیشہ نچلی جانب ہی بہتا ہے!

   
یکم فروری ۲۰۰۷ء

پنجاب کے دو اعلیٰ ترین افسروں کی کھلی کچہریوں کی اخباری رپورٹ اس وقت میرے سامنے ہے۔ چیف سیکرٹری جناب سلمان صدیق اور آئی جی پولیس چودھری احمد نسیم نے کھلی کچہریاں لگا کر عوام کی شکایات سنی ہیں اور بہت سے لوگوں کی داد رسی کے لیے موقع پر احکامات جاری کیے ہیں۔ ہماری دونوں سے پرانی یاد اللہ ہے۔

سلمان صدیق کافی عرصہ گوجرانوالہ میں ڈپٹی کمشنر رہے ہیں، اس زمانے کی بہت سی یادیں ذہن میں تازہ ہیں۔ ڈسٹرکٹ امن کمیٹی میں مذہبی معاملات کے حوالے سے ان سے واسطہ رہتا تھا۔ ۱۹۷۰ء کے بعد سے ہم نے جتنے ڈپٹی کمشنر بھگتے، ان میں معاملہ فہمی، راستگوئی اور اچھی ڈیلنگ کے حوالے سے ہمارے نزدیک وہ دو تین بہت اچھے افسروں میں شمار ہوتے تھے۔ ایک مرحلہ میں محرم الحرام کے موقع پر ان سے کچھ آنکھ مچولی بھی ہوئی مگر مجموعی طور پر معاملات نہ صرف اچھے ہی نہیں بلکہ بہت اچھے رہے۔ گزشتہ دنوں آئی جی پنجاب چودھری احمد نسیم کی والدہ محترمہ کی وفات پر تعزیت کے لیے جی او آر لاہور میں ان کی رہائشگاہ پر حاضر ہوا۔ میرے ساتھ پاکستان شریعت کونسل کے دیگر رہنما مولانا قاری جمیل الرحمٰن اختر، مولانا میاں محمد اسلم ندیم اور ڈاکٹر محمد طاہر بھی تھے۔ چودھری صاحب کسی اہم میٹنگ کی وجہ سے گھر میں نہیں تھے اس لیے گھر میں موجود افراد سے تعزیت کر کے ہم واپس آ گئے۔ البتہ ان کے گھر جاتے ہوئے راستے میں ایک کوٹھی پر ’’سلمان صدیق‘‘ کی تختی لگی دیکھی تو ایک لمحہ کے لیے خیال آیا کہ معلوم کر لیا جائے، اگر گھر میں ہوں تو ملاقات کی کوئی صورت نکال لی جائے۔ مگر پھر سوچا کہ اب وہ ڈپٹی کمشنر تو نہیں ہیں، چیف سیکرٹری پنجاب ہیں۔ ڈپٹی کمشنری کے دور میں ان کا کوئی خاص پروٹوکول نہیں ہوا کرتا تھا اور ہم جیسے لوگ بھی ان سے آسانی کے ساتھ مل لیتے تھے، اب خدا جانے پروٹوکول کی کیا صورتحال ہو۔ ادھر ہماری کیفیت یہ ہے کہ بے تکلفی ہو تو عہدہ و منصب کے درجات کی پروا کیے بغیر ہم نیازمند ہوتے ہیں، اور جہاں پروٹوکول کی کارفرمائی دکھائی دینے لگے وہاں قریب سے گزرنے کو بھی طبیعت گوارا نہیں کرتی۔ بہرحال اسی شش و پنج میں ہم سلمان صدیق کی کوٹھی کے سامنے سے گزر گئے، البتہ میں نے اپنے دوستوں کو گاڑی میں ہی سلمان صدیق کی گوجرانوالہ کی ڈپٹی کمشنری کے دور کے کچھ واقعات سنا کر پرانی یادیں تازہ کیں۔

چودھری احمد نسیم کا تعلق گکھڑ سے ہے اور میں بھی گکھڑ کا ’’جم پل‘‘ ہوں۔ قرآن کریم کی تعلیم کے دور میں ہم ساتھی اور ہم درس بھی رہے ہیں۔ میرے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے ساتھ عقیدت و تلمذ کا تعلق رکھتے ہیں اور اسی مناسبت سے مجھے بھی برادرانہ محبت و شفقت سے نوازتے ہیں۔ جس دور میں جھنگ کے ایس ایس پی تھے، حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کی زد میں آتے آتے بچے۔ ہوا یوں کہ پولیس ہی کے کسی اہلکار نے مولانا چنیوٹیؒ کے کانوں میں پھونک دیا کہ آپ کے ضلع کے ایس ایس پی یعنی چودھری احمد نسیم صاحب قادیانی ہیں۔ مولانا چنیوٹیؒ نے یہ معلوم کر کے کہ وہ گکھڑ سے تعلق رکھتے ہیں، اتنی احتیاط کی کہ ایک روز گزرتے ہوئے گوجرانوالہ میں میرے پاس رکے اور مشورہ اور معلومات کے لیے میرے سامنے اس کا تذکرہ کر دیا۔ میں نے اس بات کی تردید کی تو کہنے لگے کہ مجھے خود پولیس کے ایک آدمی نے بتایا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ اس کا کوئی اپنا مسئلہ ہو گا مگر احمد نسیم قادیانی نہیں ہیں بلکہ صحیح العقیدہ اور پختہ کار مسلمان ہیں۔ مولانا چنیوٹیؒ کا تردد میری باتوں سے دور نہیں ہو رہا تھا تو مجھے یہ کہہ کر ان کی تسلی کا سامان کرنا پڑا کہ حضرت! احمد نسیم کو قادیانی کہنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص مجھے (خدانخواستہ) قادیانی کہہ دے۔ تب کہیں مولانا چنیوٹیؒ کو اطمینان ہوا، ورنہ وہ دو چار بڑے جلسوں میں ’’ڈگا‘‘ لگا دیتے تو صورتحال خاصی پیچیدہ ہو سکتی تھی۔ بعد میں تو چودھری احمد نسیم اور مولانا چنیوٹیؒ کے درمیان بہت اچھے دوستانہ تعلقات رہے۔ چودھری احمد نسیم کی شہرت بھی ایک باکردار، فرض شناس اور محنتی پولیس افسر کی ہے اور ہم اپنے دوستوں میں ان کا تذکرہ کر کے خوش ہوتے رہتے ہیں۔

بہرحال اس پس منظر میں اپنے ان دوستوں کی کھلی کچہریوں کی خبریں نظر سے گزریں تو ذرا غور سے پڑھنے کو جی چاہا، اور اسی دلچسپی اور غور کا نتیجہ ہے کہ ان میں بعض باتوں پر کچھ گزارشات پیش کرنے کے لیے قلم اٹھا لیا ہے۔ سلمان صدیق کی کھلی کچہری کے بارے میں ایک اخبار کا کہنا ہے کہ یہ سول سیکرٹریٹ کی تاریخ میں پہلی کھلی کچہری تھی جس میں چیف سیکرٹری نے ایک سو کے لگ بھگ شکایات کی خود سماعت کی اور ان میں سے بہت سی شکایات کے بارے میں موقع پر احکام جاری کیے۔ انہیں سب سے زیادہ شکایات کا سامنا محکمہ تعلیم، بورڈ آف ریونیو، واسا، ایل ڈی اے اور صحت کے حوالے سے کرنا پڑا۔ جبکہ چیف سیکرٹری نے چار گھنٹے تک مسلسل شکایات سنیں۔ ایک اخبار نے کھلی کچہری کے بارے میں محترم سلمان صدیق کے یہ تاثرات بھی نقل کیے ہیں کہ ’’آج ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ خرابی کی جڑ نچلی سطح پر ہے‘‘۔

میں کافی دیر تک اس کے مختلف پہلوؤں پر غور کرتا رہا اور سوچتا رہا کہ اگر خرابی کی جڑ نچلی سطح پر ہی ہے تو نیب جن معاملات سے نمٹ رہی ہے وہ کس سطح سے تعلق رکھتے ہیں؟ اور ایئر مارشل اصغر خان نے آئی ایس آئی کے ذریعے سیاسی جماعتوں میں رقوم کی تقسم کا جو کیس اٹھا رکھا ہے اس کا لیول کیا ہے؟ ایک مشہور محاورہ ہے کہ ’’پانی ہمیشہ نچلی طرف بہتا ہے‘‘۔ اس لیے ملک کی انتظامیہ سے عوام کی شکایات کا رخ بھی بڑی آسانی کے ساتھ نچلی سطح کی طرف پھیر دیا جاتا ہے۔

اوپر کی سطح اور نچلی سطح کے حوالے سے ایک اور خبر نے بھی اسی روز توجہ کو اپنی جانب کھینچ لیا کہ پشاور میں ۲۷ جنوری کو ہونے والے افسوسناک خودکش دھماکے میں جو افراد شہید ہوئے ہیں، ان کے خاندانوں میں رقوم کی تقسیم کے لیے وزیراعلیٰ سرحد جناب محمد اکرم درانی نے جو اعلان کیا ہے، اس میں انہوں نے اوپر کی سطح اور نچلی سطح کا ایک اور نقشہ پیش کر دیا کہ اوپر کی سطح کے ایک شہید کے ورثاء کو پچاس لاکھ روپے نقد، دس سال تک شہید کی پوری تنخواہ مع گھر اور گاڑی دی جائے گی۔ اور اوپر ہی کی سطح کے ہی دوسرے شہید کے ورثاء کو پچیس لاکھ روپے ملیں گے۔ جبکہ نچلی سطح کے باقی شہداء کو دو دو لاکھ روپے مرحمت فرمائے جائیں گے۔

یہ خبر پڑھتے ہی مجھے امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ کا ایک ارشاد گرامی یاد گیا کہ جب ان سے پوچھا گیا کہ بیت المال میں بحیثیت امیر المومنین آپ کا کتنا حق بنتا ہے؟ تو فرمایا کہ میرا حق صرف اتنا وظیفہ ہے جس کے ساتھ مدینہ منورہ کے ایک عام شہری کی طرح زندگی گزار سکوں، نہ اس سے کم، نہ اس سے زیادہ۔ اکرم درانی اس کے جواب میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ وظیفوں کی تقسیم میں درجہ بندی کا یہ نظام حضرت عمرؓ نے ہی قائم کیا تھا۔ لیکن یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ عوام میں وظیفے کے لیے درجہ بندی کے باوجود حضرت عمرؓ نے سرکاری افسران حتیٰ کہ اپنے گورنروں تک کو عام آدمی کی سطح پر رکھا تھا، اور خود بھی ایک عام شہری جیسی زندگی گزار کر اس کا عملی نمونہ پیش کیا تھا۔ بہرحال اوپر کی سطح اور نچلی سطح کا جو فرق پنجاب کے چیف سیکرٹری کے حوالے سے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا، سرحد کے وزیر اعلیٰ کے اس فیصلے سے بخوبی ذہن نشین ہو گیا ہے۔ اور خرابی کی جڑ نچلی سطح میں ہونے کی وجہ بھی سمجھ میں آ گئی کہ جب نچلی سطح کے ساتھ معاملہ اس طرح کا ہو گا تو خرابیوں کا تناسب بھی اسی حساب سے اس کے کھاتے میں جائے گا۔

چیف سیکرٹری کی کھلی کچہری میں پتنگ بازی کا مسئلہ بھی موضوع بحث بنا اور سپریم کورٹ کی طرف سے پابندی کے باوجود پنجاب حکومت کی اس سلسلہ میں گنجائشیں پیدا کرنے کی کوششوں کا تذکرہ ہوا۔ اخباری خبر یہ ہے کہ ایک صاحب جن کے بچے کی گردن پر گزشتہ سال پتنگ کی قاتل ڈور پھر گئی تھی، کھلی کچہری میں کھڑے ہو گئے اور چیف سیکرٹری سے پوچھ لیا کہ اس سال کس کس کی گردن پر ڈور پھروانے کا ارادہ ہے؟ ہمارے چیف سیکرٹری صاحب بڑے باحوصلہ افسر ہیں کہ اس کے باوجود انہوں نے یہ اعلان فرمایا کہ حکومت فول پروف طریقے سے پتنگ بازی کی اجازت دے گی، تاہم ضلع ناظم نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اس نے کس دن کی اجازت لینی ہے، اور پنجاب بھر کا جو ناظم ضلع یہ اجازت مانگے گا اسے مخصوص دنوں کے لیے اجازت ملے گی۔

آئی جی پولیس محترم چودھری احمد نسیم کے سامنے جو شکایات پیش ہوئیں، اخباری رپورٹ کے مطابق ان میں زیادہ تر پولیس اہلکاروں کے تشدد کے بارے میں تھیں۔ ایک اخبار کی سرخی یہ ہے کہ پنجاب بھر سے آئے ہوئے لوگ پولیس کے خلاف پھٹ پڑے۔ ایک شخص نے اپنی بپتا سناتے ہوئے کہا کہ تھانے کے ایس ایچ او سمیت دس اہلکار اس کے گھر زبردستی داخل ہوئے اور والدین کے سامنے اسے ننگا کر کے وحشیانہ تشدد کیا۔ پھر برہنہ حالت میں بازار لا کر تشدد کیا اور تھانے لے جا کر بند کیا۔ وجہ پوچھی تو بتایا گیا کہ اس کے بھائی نے سٹریٹ کرائم کی ایک واردات کی ہے۔

ایک صاحب نے شکایت کہ کچھ ملزموں نے اس کی بہنوں کی مووی بنائی، اس نے ملزموں کو پکڑ کر ان سے مووی برآمد کروا لی اور ایس ایچ او کو دکھائی، لیکن پولیس نے ملزموں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی بجائے انہیں چھوڑ دیا اور ثبوت بھی غائب کر دیا۔

آئی جی کے سامنے کھلی کچہری میں پیش کی جانے والی اور بھی بعض شکایات کی تفصیلات اخبارات کی زینت بنی ہیں، لیکن انہیں چھوڑتے ہوئے میں دو ایسے واقعات کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں جو میرے ذاتی علم میں ہیں اور جن سے غریب عوام کے ساتھ پولیس اہلکاروں کے رویے اور طرز عمل کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

ایک واقعہ پرانا ہے، اس دور کا جب حافظ آباد ابھی ضلع نہیں بنا تھا بلکہ گوجرانوالہ ضلع کی تحصیل ہوا کرتا تھا۔ حافظ آباد کے کسی گاؤں میں ایک حافظ قرآن بچہ قتل ہو گیا مگر اس کے قاتل اسی گاؤں میں کھلے بندوں پھرتے رہے۔ وہاں کے بعض دوستوں کے ساتھ میں اس وقت کے ضلع گوجرانوالہ کے ایس ایس پی سے ملا، انہوں نے ہماری شکایت سنیں اور صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے مجھے دوٹوک کہہ دیا کہ مولانا صاحب! اگر اس کیس میں وہاں کے ایم این اے کا انٹرسٹ نہیں ہے تو جو آپ فرمائیں گے وہ میں کروں گا، اور اگر ایم این اے کی دلچسپی اس کیس میں ہے تو جو وہ کہیں گے وہی ہو گا، میں اس کے علاوہ کچھ نہیں کر سکوں گا۔ میں نے ان کی صاف گوئی پر شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ قاتل گروہ کو ایم این اے کی پشت پناہی حاصل ہے۔

دوسرا واقعہ تازہ ترین بلکہ آئی جی پنجاب کی مذکورہ کھلی کچہری کے بھی بعد کا ہے کہ ۲۹ جنوری کو میں نے عشاء کی نماز ڈسکہ کی جامع مسجد الوہاب میں ادا کی اور وہاں اہلِ بیت عظامؓ کے مناقب پر درس دیا۔ اس موقع پر مجھے بتایا گیا کہ گزشتہ شب ڈسکہ کی ایک مسجد میں ٹھہری ہوئی ایک پوری تبلیغی جماعت کو ایس ایچ او صاحب اٹھا کر لے گئے اور تھانے میں بند کر دیا۔ پیچھا کرنے پر معلوم ہوا کہ اس مسجد میں ڈسکہ کے کسی عالمِ دین نے درس دیا تھا جو پولیس کے نزدیک قابلِ اعتراض تھا، تو اس درس کو سننے کے جرم میں پوری تبلیغی جماعت کو اٹھا کر حوالات میں بند کر دیا گیا ہے۔

اس قسم کی باتیں ہمارے ہاں عام طور پر ہوتی رہتی ہیں اور اب انہیں ہمارے نظام اور کلچر کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ ایسی باتوں کا تعلق ہمارے معاشرتی مزاج سے ہے اور اس کے لیے سماجی سطح پر محنت کی ضرورت ہے۔ گزشتہ دنوں برطانیہ کے شہر نوٹنگھم کے چیف سٹی پولیس کے ساتھ ایک تفصیلی ملاقات کے حوالے سے عرض کر چکا ہوں کہ معاشرتی خرابیوں کی اصلاح کے لیے صرف قانون اور سسٹم کافی نہیں ہے بلکہ عقیدہ اور خوفِ خدا بھی انتہائی ضروری ہے۔ کسی برائی کو برائی سمجھا جائے گا اور اس پر دنیا میں مکافاتِ عمل اور آخرت میں سزا کا تصور ذہن میں ہو گا تو اس برائی کا راستہ روکا جا سکے گا۔ اور جب برائی اور نیکی کا تصور ہی باقی نہیں رہے اور پکڑے جانے کے خوف سے محفوظ ’’فول پروف برائی‘‘ آرٹ اور ہوشیاری شمار ہونے لگے، تو وہاں قانون اور سسٹم خود اس کا ساتھی بن جانے کے سوا اور کیا کردار ادا کر سکیں گے؟

سلمان صدیق اور احمد نسیم دونوں ہمارے محترم دوست ہیں، تعلیم یافتہ اور دانشور افسران ہیں، اور ان کی شہرت فرض شناس اور دیانتدار افسران کی ہے، وہ اپنے نظام میں اصلاح کے لیے جن عزائم کا اظہار کر رہے ہیں ان میں ان کا خلوص اور محنت شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ ان سے ہماری اچھی توقعات وابستہ ہیں اور ان کی منعقد کردہ کھلی کچہریوں سے کچھ مظلوم افراد کی دادرسی بھی ہو جائے گی، لیکن اصل بات افراد اور طبقات کی نہیں بلکہ نظام، کلچر اور پورے معاشرہ کی ہے۔ جب تک اس میں تبدیلی کی کوئی سنجیدہ کوشش سامنے نہیں آتی، صورتحال کی اصلاح بلکہ مزید بگاڑ کو روکنے کا بھی بظاہر کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائیں اور اصلاحِ احوال کی کسی سنجیدہ اجتماعی محنت کا راستہ دکھا دیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter