(مرکز اہل السنۃ والجماعۃ، سرگودھا میں علماء و طلبہ کی نشست سے خطاب)
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ سب سے پہلے تو آپ سب حضرات کو اس ذوق پر مبارکباد دینا چاہوں گا کہ مسائل کی تحقیق کا ذوق ہے، جو آج کل کم ہوتا جا رہا ہے، الحمد للہ اس ذوق نے آپ کو اکٹھا کیا ہوا ہے۔ کچھ مسائل جو ہمیں دینی حوالے سے پیش آتے ہیں، جن پر گفتگو ہوتی ہے، مباحثہ ہوتا ہے، ان پر تحقیق کر لی جائے، اپنا مطالعہ صحیح کر لیا جائے، مکمل کر لیا جائے، معلومات کی ترتیب صحیح کر لی جائے، تاکہ متعلقہ مسئلے پر بات اعتماد سے کر سکیں۔ تحقیق کا یہی مطلب ہوتا ہے، یہ ذوق بھی آپ حضرات کو مبارک ہو۔ اور دوسرا یہ کہ یہ چھٹیاں خاصی ہوتی ہیں، دو اڑھائی مہینے کی، ان چھٹیوں کو ضائع کرنے کی بجائے ان سے کچھ فائدہ اٹھا لیا جائے، یہ ذوق بھی اچھا ذوق ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کا یہ ذوق قبول فرمائیں اور جو وقت آپ یہاں گزار رہے ہیں، جن مسائل کے مطالعہ کے لیے، تحقیق کے لیے، معلومات کے لیے، اللہ پاک ان مسائل میں اور دیگر دینی معاملات میں، اللہ پاک آپ کو ذوق کی برکت بھی نصیب فرمائیں، اس ذوق کے نتائج اور ثمرات بھی نصیب فرمائیں۔
مختلف مسائل پہ آپ حضرات کی گفتگو چل رہی ہے اور چلے گی۔ ایک مسئلہ صرف، اس پہ چند باتیں، مسئلے پر پہلے بھی گفتگو ہو چکی ہو گی، یا ہو جائے گی، لیکن کسی بھی مسئلے پر غور کے زاویے مختلف ہوتے ہیں۔ مسئلہ ایک ہوتا ہے، اس کے میدان الگ ہوتے ہیں۔ ایک مسئلہ ایک میدان میں اور تناظر رکھتا ہے، دوسرے میدان میں اور تناظر رکھتا ہے۔ اس کا ایک زاویہ اور ہوتا ہے، دوسرا زاویہ اور ہوتا ہے، تیسرا زاویہ اور ہوتا ہے۔ بنیادی مسئلہ ہے، یقیناً اس مسئلے پہ آپ کی بات ہو چکی ہو گی، یا ہو رہی ہو گی۔ لیکن میں اس مسئلے پر اپنے زاویے سے، ایک اور حوالے سے گفتگو کرنا چاہوں گا۔ وہ مسئلہ کیا ہے؟ اجتہاد۔ بنیادی مسئلہ ہے۔
ہمارے شریعت کے دلائل میں قرآن پاک، سنت و حدیث، تیسرا نمبر اجماع کا ہے، اور اس کے بعد قیاس اور اجتہاد۔ چوتھے نمبر پر کیا ہے؟ اجتہاد اور قیاس ایک دوسرے سے متعلق ہیں۔ قیاس ہم کہتے ہیں، اجتہاد کے نتیجے میں ہوتا ہے وہ۔ یہ اجتہاد کیا چیز ہے؟ اجتہاد کے پہلو کون کون سے ہیں؟ اور ہمارا آج کی دنیا کے ساتھ اجتہاد کے حوالے سے کیا تنازع ہے اور کیا اختلاف ہے؟ مختلف حلقوں کا اجتہاد کے حوالے سے نقطۂ نظر کیا ہے؟ ہمارا نقطۂ نظر کیا ہے؟ فرق کیا ہے؟ ہماری اپنی ترجیح کیا ہے؟ یہی باتیں ہوں گی۔
اجتہاد کا ایک دائرہ تو وہ ہے جو ہمارا فقہی دائرہ ہے۔ جس میں اجتہاد کی اہمیت پر، مجتہدین کی خدمات پر، اجتہادی مسائل کے درجات پر، ہم بحث کرتے ہیں۔ اس پر میں بحث نہیں کروں گا، اس لیے کہ یہ ہوتی رہتی ہے، پڑھتے بھی ہیں، سنتے بھی ہیں، کسی دوست نے آپ سے بات کی بھی ہو گی۔ میں دوسرے پہلو سے بات کرنا چاہوں گا کہ آج کی دنیا کا ہم سے اجتہاد کا تقاضا [کیا ہے]۔ ہم پر الزام ہے کہ اجتہاد کرتے نہیں ہیں۔ تقاضا یہ ہے کہ اجتہاد کریں۔ آج کی جدید دنیا ہم سے یہ تقاضا رکھتی ہے کہ ہم اجتہاد کریں۔ اور ہم پر اعتراض یہ ہے کہ اجتہاد کرتے نہیں، جامد ہو گئے ہیں یہ۔ اور پھر اجتہاد کے مختلف فارمولے ہمارے سامنے آتے ہیں۔ میں آج کی نشست میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ آج کی جدید دنیا کے ساتھ اجتہاد کے مسئلے پر ہماری کشمکش کیا ہے۔
اجتہاد کا ایک دائرہ تو وہ ہے جو ہمارا اپنا ہے۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت پر ہماری بنیاد ہے۔ اور جس مسئلے میں قرآن پاک میں صراحت نہ ہو، حدیث میں صراحت نہ ہو، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا ’’اجتہد رایی ولا آلو‘‘۔ جہاں قرآن پاک سے رہنمائی نہیں ملے گی، حدیث سے رہنمائی نہیں ملے گی، تو وہاں میں کیا کروں گا؟ ’’اجتہد رایی ولا آلو‘‘۔ پوری کوشش کروں گا، کوئی کوتاہی روا نہیں رکھوں گا، اور اجتہاد کروں گا۔ تو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق اور توثیق فرمائی تھی، کہ تیسرا درجہ یہی ہے پھر۔
آج بہت سے لوگوں کا، بالخصوص جن کو ہم متجددین کہتے ہیں یا جدید دانشور کہتے ہیں، ان کا کہنا یہ ہے کہ علماء کرام اجتہاد نہیں کر رہے۔ وہ کیا کہتے ہیں؟ ہم کیا کہتے ہیں؟
پہلی بات تو میں یہ عرض کرنا چاہوں گا، ان کے ذہنوں میں اجتہاد کا تصور بالکل مختلف ہے، ہمارے ذہنوں میں اجتہاد کا تصور بالکل مختلف ہے۔ ہم جب اجتہاد کی بات کرتے ہیں تو اس کا دائرہ ہوتا ہے اصولِ فقہ۔ اصولِ فقہ میں ہمیں اجتہاد، قیاس پڑھایا جاتا ہے، پڑھتے ہیں ہم، اس پر عمل بھی ہوتا ہے، اسی کے مطابق مفتیان کرام، مجتہدین، اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں۔ تقاضا کرنے والوں کے ذہن میں اجتہاد کا یہ تصور نہیں ہے۔ ہم اس لیے کنفیوژن کا شکار ہو جاتے ہیں کہ [وہ کہتے ہیں] اجتہاد کرو۔ ہم کہتے ہیں، کرتے ہیں۔ [وہ کہتے ہیں] نہیں کرتے۔ لیکن ان کے ذہن میں اجتہاد کا تصور اور ہوتا ہے، ہمارے ذہن میں اجتہاد کا تصور اور ہے۔ کنفیوژن ہو جاتی ہے، نہ وہ ہماری بات سمجھ پاتے ہیں، نہ ہم ان کی بات سمجھ پاتے ہیں۔ ہم اپنے دائرے میں اجتہاد کے مسائل کا جواب دیتے ہیں، وہ اپنے دائرے میں پوچھتے ہیں۔ جب تک یہ دائرے واضح نہیں ہوں گے کہ اجتہاد کا تصور ان کے ہاں کیا ہے، ہم سے کون سے اجتہاد کا، یا اجتہاد کے نام پر کس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں؟ یہ بات طے ہے کہ وہ جب مطالبہ کرتے ہیں تو ان کے ذہن میں اصول الشاشی والا اجتہاد نہیں ہوتا، نور الانوار والا نہیں ہوتا، حُسامی والا نہیں ہوتا، توضیح تلویح والا نہیں ہوتا۔ ان کے ذہن میں اجتہاد کا تصور اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے، ہم سے وہ اُس کا مطالبہ کرتے ہیں اور ہم اِس کے دائرے میں جواب دیتے ہیں۔ اور سننے والا کنفیوژن کا شکار ہو جاتا ہے، یہ کیا کہہ رہے ہیں، وہ کیا کہہ رہا ہے؟
آج کی دنیا کے سامنے اجتہاد کے جو دو تصور ہیں، دونوں لیے گئے ہیں مسیحی دنیا سے۔ میں اصول الشاشی والے اجتہاد کی بات نہیں کر رہا، آج کی دنیا کے اجتہاد کی بات کر رہا ہوں۔ دو الگ الگ ان کے نقطۂ نظر ہیں اجتہاد کے بارے میں۔ اور دونوں کہاں سے لیے گئے ہیں؟ مسیحی دنیا سے۔ آج سے دو سو برس پہلے، تین سو برس پہلے، مسیحی دنیا میں جو انقلاب آیا تھا علمی اور فکری، اور مسیحی دنیا دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی، اور ان کے ہاں تبدیلی آئی تھی، جس کو وہ ری کنسٹرکشن کہتے ہیں، شریعت کے احکام کی تشکیلِ نو کہتے ہیں۔ مسیحی دنیا میں اس کی اصطلاح کیا ہے؟ الٰہیاتِ اسلامیہ کی ری کنسٹرکشن۔ آسمانی تعلیمات کی تشکیلِ نو۔ یہ مسیحی دنیا کی اصطلاح ہے۔ تھوڑا سا پس منظر عرض کر دیتا ہوں۔
ہوا یوں، تین چار سو سال یورپ نے اس کیفیت میں گزارے ہیں کہ مذہب ہی حکمران تھا۔ ریاستوں کی بنیاد مذہب پر ہوتی تھی، ریاستوں کی تشکیل اور حکومتوں کا قیام مذہبی رہنماؤں کی صوابدید پر ہوتا تھا۔ سب سے بڑے مذہبی پیشوا پاپائے روم تھے۔ آج بھی ہیں۔ مسیحی دنیا کے تین بڑے فرقے ہیں۔ اُس وقت ایک ہی تھا۔ ایک کیتھولک، جس کے سربراہ پاپائے روم ہیں۔ دوسرا پروٹسٹنٹ، اس کے سربراہ آرچ بشپ آف کنٹربری کہلاتے ہیں، برطانیہ میں بیٹھتے ہیں، آج کل ڈاکٹر رووَن وِلیمز ہیں۔ اور پاپائے روم پوپ فرانسِس ہیں۔ اور تیسرا آرتھوڈکس، مشرقی یورپ کا چرچ کہلاتا ہے، یونان کا جو بڑا پادری ہو، وہ اُس کا سربراہ ہوتا ہے۔ کیتھولک، پروٹسٹنٹ، آرتھوڈکس۔ یہ تین بڑے دائرے ہیں آج کی مسیحی دنیا کے۔
کیتھولک دنیا میں پاپائے روم کو اور پاپائے روم کی کونسل کو دین کی تعبیر و تشریح میں مکمل اتھارٹی کا درجہ حاصل ہے، آخری اتھارٹی۔ اور دلیل کی بنیاد پر نہیں، صوابدید کی بنیاد پر۔ پاپائے روم جو بائبل کی تشریح کر دیں، جو تعبیر کر دیں، بس ختم۔ حلال، حرام، جائز، ناجائز میں فائنل اتھارٹی کیا ہے؟ پاپائے روم اور پاپائے روم کی کونسل۔ صدیوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ جو کہہ دیں، ٹھیک ہے، جو فیصلہ کر دیں، آخری ہے۔ کوئی چیلنج نہیں ہے، کوئی اپیل نہیں ہے، کوئی دلیل مانگنا نہیں ہے۔ اتھارٹی ہیں وہ۔ اس کو کہتے ہیں صوابدیدی اتھارٹی۔ ہمارے ہاں بھی علماء اور مجتہدین کو یہ اتھارٹی حاصل ہے لیکن وہ استدلالی ہے۔ یہ میں فرق واضح کرنا چاہوں گا۔ ہمارے ہاں بھی دین کی تعبیر اور تشریح کا اختیار کس کو حاصل ہے؟ اہلِ علم کو۔ لیکن یہ صوابدیدی نہیں ہے۔ یہ کیا ہے؟ استدلالی، استنباطی۔ کیتھولک عیسائیوں میں بھی دین کی تعبیر اور تشریح، اس میں اتھارٹی علماء ہیں اُن کے، لیکن استدلالی نہیں، صوابدیدی۔ یہ شروع سے چلا آ رہا ہے۔
بخاری شریف کی روایت ہے، حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب مسلمان ہوئے ہیں، عیسائی تھے، عیسائی قبیلے کے سردار تھے، اسلام قبول کیا، صحابیؓ بنے۔ قرآن پاک پڑھا، قرآن پاک میں ایک آیت میں الجھن کا شکار ہو گئے۔ قرآن پاک پڑھتے پڑھتے ایک آیت کے بارے میں الجھن کا شکار ہو گئے، اشکال پیدا ہو گیا۔ کس کو؟ عدی بن حاتم کو، رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ بخاری کی روایت ہے۔ قرآن پاک میں ہے ’’اتخذوا احبارھم و رہبانھم ارباباً من دون اللہ والمسیح ابن مریم ومآ امروا الا لیعبدوا الٰہا واحدا‘‘ (التوبہ ۳۱)۔ ان عیسائیوں نے مسیح بن مریمؑ کو تو اللہ کے وَرے خداوند بنا ہی لیا تھا، اپنے احبار اور رہبان کو بھی ’’اربابا من دون اللہ‘‘ بنا لیا تھا۔ انہوں نے علماء و مشائخ کو ’’اربابا من دون اللہ‘‘ بنا لیا تھا۔ اور مسیح بن مریمؑ کو تو بنا ہی لیا تھا، وہ آج تک خداوند یسوع مسیح ہیں۔ یہ آیت جب پڑھی عدی بن حاتمؓ نے، تو بڑے عیسائی تھے، اسلام قبول کرنے سے پہلے عیسائی سرداروں میں تھے، کہنے لگے، نہیں بھئی، ہم تو نہیں کہتے تھے۔ ہم احبار اور رہبان کو ’’اربابا من دون اللہ‘‘ کا درجہ نہیں دیتے تھے، یہ قرآن پاک نے ہمارے کھاتے میں کیا بات ڈال دی ہے؟ الجھن ہوئی، اشکال ہوا۔ یہ اشکال پیش کیا جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں۔ یا رسول اللہ! قرآن پاک نے ایک بات ہمارے بارے میں کہی ہے، جو میرے خیال میں تو نہیں تھی۔ دوسرے لفظوں میں، ظاہری شکل کیا بنے گی، نعوذ باللہ، قرآن پاک نے ایک بات خلافِ واقعہ کہہ دی ہے، ظاہری شکل یہ بنتی ہے۔ ہم اپنے احبار اور رہبان کو ’’اربابا من دون اللہ‘‘ نہیں کہتے تھے۔ اور قرآن کہتا ہے، کہتے تھے۔ یا رسول اللہ، بات سمجھ میں نہیں آ رہی۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عدیؓ سے کہا، عدی! کیا تمہارے ہاں، تمہارے احبار اور رہبان کو حلال حرام میں تبدیلی کا کوئی اختیار حاصل تھا۔ تمہارے عقیدے کے مطابق، کسی وقت حلال کو حرام کر دیں، حرام کو حلال کر دیں؟ تمہارے احبار اور رہبان کو یہ اتھارٹی حاصل تھی کہ حلال حرام میں اپنی مرضی سے ردوبدل کر سکیں؟ تمہارے عقیدے میں یہ تھا؟ یا رسول اللہ، ہاں، یہ تو تھا۔ فرمایا، یہی ’’ارباباً من دون اللہ‘‘ ہے۔ یہ جو تمہارے عقیدے میں، تمہارے مذہبی قوانین میں احبار اور رہبان کو یہ اتھارٹی حاصل تھی؛ وہ تو اب بھی ہے، اب بھی حلال اور حرام میں کیتھولک عیسائیوں کے ہاں اتھارٹی کون ہے؟ پاپائے روم۔ ان کے ساتھ ایک کونسل بھی ہوتی ہے، پاپائے روم کی کونسل۔ آج بھی ان کو اختیار حاصل ہے۔ تو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عدی بن حاتمؓ سے کہا کہ اگر تمہارے ہاں تمہارے مذہب کے مطابق تمہارے احبار اور رہبان کو حلال حرام میں ردوبدل کا کوئی اختیار ہے؟ انہوں نے کہا، ہاں، ہے۔ فرمایا، یہی ہے ’’ارباباً من دون اللہ‘‘۔
تو میں نے یہ حوالہ اس لیے دیا ہے، یہ پرانی بات ہے، قدیمی بات ہے، آج کی بات نہیں ہے۔ ان کے ہاں یہ بات تقریباً دو ہزار سال سے، یا سولہ سو سال سے، یا سترہ سو سال سے چلی آ رہی ہے کہ ہمارے احبار اور رہبان کو یہ اتھارٹی حاصل ہے کہ وہ حالات کی مناسبت سے، موقعے کی مناسبت سے، اگر کہیں کوئی ردوبدل کرنا چاہیں تو ان کو اتھارٹی حاصل ہے۔ یہ ہے اُن کا اجتہاد کا تصور۔
ہمارے ہاں اس کی تشکیل کا ایک موقع آیا تھا۔ ہماری تاریخ میں بھی اس کی تشکیل کا ایک موقع آیا تھا۔ اکبر بادشاہ کا ’’دینِ الٰہی‘‘ کیا تھا؟ اکبر بادشاہ کا نام سنا ہے؟ اس کے ’’دینِ الٰہی‘‘ کا نام سنا ہے؟ اور اس ’’دینِ الٰہی‘‘ اور حضرت مجدد صاحبؒ کی جو کشمکش ہوئی تھی، وہ بھی ذہن میں ہے؟ ذرا یہ بھی دیکھیں کہ ’’دینِ الٰہی‘‘ کی بنیاد کیا تھی؟ حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’تاریخِ دعوت و عزیمت‘‘ میں، حضرت مولانا سید محمد میاں رحمۃ اللہ علیہ نے ’’علماء ہند کا شاندار ماضی‘‘ میں، شیخ محمد اکرام مرحوم نے ’’موجِ کوثر‘‘ میں، وہ پس منظر بیان کیا ہے، کہ کچھ علماء نے؛ علماء ہی تھے، ابوالفضل، فیضی، علماء سوء تھے لیکن علماء تھے؛ انہوں نے اکبر کو؛ اکبر بے وقوف سا نوجوان تھا، بچپن میں حکومت مل گئی تھی، ابتداءً بہت مذہبی تھا؛ اس کو گھیرا ڈالا اور گھیرا ڈال کر اس کو تیار کیا کہ تم اِس دور کے سب سے بڑے مجتہد ہو، اور تمہیں حق حاصل ہے کہ آج کے دور میں تم دین کی بنیادی تشریحات و تعبیرات میں اگر کچھ فرق کرنا چاہو، تمہیں اختیار حاصل ہے، تم یہ اختیار استعمال کرو۔ باقاعدہ علماء کی ایک جماعت نے مل کر ’’مجتہدِ اعظم‘‘ کا خطاب دیا اکبر مغل بادشاہ کو۔ محضرنامہ لکھا گیا کہ ضرورت ہے اجتہاد کی، ضرورت ہے مجتہد کی۔ مجتہد بھی کس درجے کا؟ مجتہدِ مطلق۔ اور مجتہدِ مطلق بھی کس درجے کا؟ جیسے پاپائے روم ہیں۔ پڑھیں ذرا، وہ دستاویز پڑھیں، کیا لکھی ہے۔
باقاعدہ علماء کی ایک جماعت نے دستاویز لکھی، اکبرِ اعظم کو مجتہدِ اعظم کا لقب دیا، اور اس کے ذہن میں یہ بات ڈالی کہ بطور مجتہدِ اعظم کے تمہیں یہ اختیار حاصل ہے کہ تم دین کی تعبیر و تشریح میں ردوبدل کر سکتے ہو۔ اکبر نے، اس دستاویز کی بنیاد پر مجتہدِ اعظم کا لقب اختیار کر کے، اس نے وہ تمام تبدیلیاں کیں جو ’’دینِ الٰہی‘‘ کے نام سے ہیں۔ ایسے ہی نہیں کیا، اس کو خطاب دیا گیا، اس سے تقاضا کیا گیا، اسے سمجھایا گیا کہ جناب! آپ مجتہدِ اعظم ہیں اس دور کے۔ اور ایک بات اس کے ذہن میں یہ ڈالی گئی کہ دین کی مدت تقریباً ہزار سال ہوتی ہے، ہزار سال گزر گیا ہے، اب نیا ہزار شروع ہونے والا ہے، ہو رہا ہے، نئے ہزار میں ایک نئی شخصیت چاہیے، اور وہ تم ہی ہو سکتے ہو، اس لیے تم کرو اور ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ’’قدم بڑھاؤ، ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘۔ یہ نعرہ لگایا علماء نے، ابوالفضل، فیضی، مُلا، مبارک، وہ جو بڑے بڑے مولوی تھے۔ یہ فیضی وہی ہے جس نے قرآن پاک کی بے نقط تفسیر لکھی ہے۔ اس درجے کے اہلِ علم تھے یہ۔ اکبر اعظم نے جو ’’دینِ الٰہی‘‘ کے نام سے دین کی تعبیرات میں تبدیلیاں کی تھیں، اس کی بنیاد اجتہاد کا ٹائٹل تھا، مجتہدِ اعظم کا لقب تھا۔ اور پیچھے تصور یہ تھا کہ اجتہاد اس صوابدیدی اختیار کو کہتے ہیں جو شاید مذہبی قیادت کو ضرورت کے وقت حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ تصور ہمارے ہاں بھی چلا نہیں ہے۔ وہ نہیں چلنا تھا، نہیں چلا۔ لیکن میں اس کی بنیاد بتا رہا ہوں۔
اجتہاد کا ایک تصور یہ ہے۔ میں اس پر دورِ حاضر کی دو تین مثالیں عرض کرنا چاہوں گا۔ بہت سے لوگ ہم سے بہت سے مسائل میں نیا رنگ اختیار کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ان کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے کہ ان کو اتھارٹی تو ہے، کرتے نہیں ہیں، ضدی لوگ ہیں، مولوی ہیں، عوام دوست نہیں ہیں، ہمدردی نہیں ہے ان کے دلوں میں، کوئی اتھارٹی ہے ان کے پاس، کرتے نہیں ہیں یہ۔ اتھارٹی، صوابدیدی۔ میں دو ذاتی مشاہدات عرض کرنا چاہوں گا کہ اجتہاد کے نام پر دین کے مسائل میں، تعبیرات میں اور تشریحات میں ردوبدل کا مطالبہ کرنے والوں کے ذہن میں یہ تصور کس درجے کا ہے۔
ایک دفعہ میں برطانیہ میں لندن سے مانچسٹر جا رہا تھا ٹرین پر، میرا حلیہ الحمد للہ یہی ہوتا ہے ہر جگہ۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی ہوں، یہی ہوتا ہے۔ ایک نوجوان، غالباً انڈین تھا، مجھے دیکھ کر میرے پاس آ کے بیٹھ گیا۔ پہلا سوال یہ تھا، کیا مولانا صاحب ہیں؟ میں نے کہا، لوگ یہی کہتے ہیں۔ آپ اجتہاد کر سکتے ہیں؟ میں نے کہا، مسئلہ بتاؤ۔ میں سمجھ گیا یہ کیا کہنا چاہ رہا ہے، کون سی فریکونسی ہے۔ بات کی فریکونسی سمجھنی چاہیے، کہاں سے بول رہا ہے یہ۔ میں نے کہا، مسئلہ بتاؤ یار، اگر مسئلہ میری سمجھ میں آیا تو حل کر دوں گا، نہیں تو کسی اور کے حوالے کر دوں گا۔ اس نے کہا، بات یہ ہے۔ سنیے۔ کہنے لگا، بات یہ ہے کہ الحمد للہ مسلمان ہوں، اتنے عرصے سے یہاں رہ رہا ہوں، نماز پانچ وقت کی پڑھتا ہوں، پابندی سے پڑھتا ہوں۔ الجھن یہ ہے کہ ظہر اور عصر کی نماز کی اپنے دفتری اوقات میں مجھے گنجائش نہیں ملتی۔ باقی تو صبح فجر، مغرب، عشاء، اپنے وقت پر، حساب سے پڑھ لیتا ہوں۔ ظہر اور عصر، میرا دفتری نظام ایسا ہے کہ مجھے اجازت نہیں ملتی، گنجائش نہیں ملتی کہ ظہر اور عصر اپنے وقت پہ پڑھ سکوں۔ اس کے لیے میں نے ایک حل نکالا ہے کہ ظہر کی پڑھ کر جاتا ہوں فجر کے ساتھ، عصر کی پڑھتا ہوں مغرب کے ساتھ۔ آپ اجازت دے دیں۔
یہ ہے اجتہاد۔ مجھ سے پوچھا اس نے کہ آپ اگر اجتہاد کر سکتے ہیں، مجھے اجازت دے دیں۔ یہ تھا اجتہاد کا تصور۔ ظہر کی پڑھتا ہوں کس کے ساتھ؟ فجر میں پڑھ لیتا ہوں۔ اور عصر کی پڑھتا ہوں مغرب کے ساتھ۔ میرا گفتگو کا اپنا انداز ہوتا ہے۔ میں نے کہا یار، ففٹی ففٹی کروں گا۔ آدھا آدھا کروں گا، سارا نہیں کر سکتا۔ یہ جو تم عصر کی مغرب کے ساتھ پڑھتے ہو، یہاں میں گنجائش دے سکتا ہوں کہ قضا ہو گی، لیکن نماز ہو جائے گی۔ کیوں جی کیا خیال ہے؟ عصر کی جو مغرب کے ساتھ پڑھتے ہو، قضا ہوگی، لیکن نماز ہو جائے گی، مجبوری ہے۔ لیکن یہ جو ظہر کی فجر کے ساتھ پڑھتے ہو، یہ اتھارٹی میرے پاس نہیں ہے۔ میں نے کہا، میرا مشورہ یہ ہے، میں نے کہا، حالات کو جانتا ہوں، وہاں کے حالات کیا ہیں، مشورہ یہ ہے، اچھی جاب کی تلاش کرو جہاں تم ظہر اور عصر بھی اپنے اپنے وقت میں پڑھ سکو، جب تک نہیں ملتی، یہ ظہر بھی مغرب کے ساتھ ہی پڑھ لیا کرو۔ یہ فجر والی بات، اتنی اتھارٹی میرے پاس نہیں ہے۔ یہ میں گنجائش دے سکتا ہوں کہ تلاش کرو اچھی جاب کی، کہ تم اپنے اپنے وقت پہ ظہر پڑھ سکو، جب تک نہیں ملتی، تب تک یہ ظہر بھی مغرب کے ساتھ پڑھ لیا کرو، چلو قضا ہو گی، نماز تو ہو جائے گی نا۔
میں نے صرف یہ بتایا ہے کہ اجتہاد کا، آج کی دنیا کے تصور میں، وہ مطلب نہیں ہے جو نور الانوار لکھا ہوا ہے کہ یہ ہے اور یہ ہے۔ نہیں، بلکہ یہ ہے کہ علماء کے پاس کوئی اتھارٹی ہے، یہ ہمیں سہولت دے سکتے ہیں، دیتے نہیں ہیں، ضدی لوگ ہیں، دیتے نہیں ہیں۔ اس پر ایک واقعہ اور عرض کرنا چاہتا ہوں۔ میں یہ بات سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ مطالبہ کرنے والوں کا اجتہاد اور ہے، جن سے مطالبہ کیا جا رہا ہے اُن کا اجتہاد اور ہے۔ فریکونسی ملتی نہیں ہے۔ یہ رمضان ماشاء اللہ الحمد للہ جون میں آ رہا ہے اور ٹھیک ٹھاک ہوگا۔ اللہ پاک صبر و استقامت کے ساتھ نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ یہ آج سے تیس پینتیس سال پہلے بھی اسی طرح تھا۔ یہ تیس سال کے بعد چکر لوٹتا ہے واپس۔ رمضان جو ہے نا، سردیاں گرمیاں، پورا چکر تینتیس سال میں مکمل کرتا ہے۔
آج سے بتیس تینتیس سال پہلے کی بات ہو گی، روزنامہ نوائے وقت میں ایک مضمون چھپا ایک دانشور کا، اس نے تجویز پیش کی علماء کرام کی خدمت میں۔ تجویز علماء کو ہی دیتے ہیں یہ، کہ اگر کرنا ہے تو انہوں نے ہی کرنا ہے، ہم سے نہیں ہو گا، یہ پتہ ہے ان کو۔ ان علماء نے کرنا ہے، صحیح کریں، غلط کریں، ہم سے ہوگا نہیں، کریں گے یہی۔ مضمون لکھا اس نے کہ یہ جون کا جولائی کا رمضان جو ہے، یہ بھٹی پہ کام کرنے والا مزدور، کھیت میں مونجی لگانے والا کاشتکار، کدو کرنے والا، بڑا مشکل ہے۔ روزہ بھی رکھا ہوا ہو اور مونجی بھی لگا رہا ہو، بہت مشکل ہے۔ روزہ بھی رکھا ہوا ہو اور بھٹی پہ کام بھی کر رہا ہو، بہت مشکل ہے۔ اور عام آدمی بیچارہ محنت مزدوری کرتا ہے، کُلی ہے، سامان اٹھاتا ہے۔ تو بہت سے لوگوں کی مجبوری بن جاتی ہے، کیا کریں؟ یا کام چھوڑ دیں یا روزہ چھوڑ دیں، ایک ہی کام کر سکتے ہیں، دو کام تو اکٹھے نہیں کر سکتے۔ اس نے کہا، عوام کی یہ مشکل سامنے رکھتے ہوئے علماء کرام کو مشورہ کر کے ایک بات کرنی چاہیے، میری تجویز ہے، ایسا کریں کہ علماء کرام آپس میں مشورہ کریں اور رمضان کے لیے کوئی مناسب موسم طے کر دیں۔ درمیان کا موسم ہو کوئی تو گزارا ہو جائے گا۔ اس نے کہا، فروری کا مہینہ رمضان کا، اور یکم مارچ کی عید، دونوں جھگڑے طے ہو جائیں گے۔ رمضان بھی ٹھیک ٹھاک ہو جائے گا اور عید پر رؤیتِ ہلال کمیٹی کی ضرورت بھی نہیں رہے گی۔ پتہ ہے کہ یکم مارچ کب ہونی ہے، دو مسئلے حل ہو جائیں گے۔ تو اس نے باقاعدہ تجویز پیش کی، روزنامہ نوائے وقت میں اس کا مضمون تفصیل سے چھپا، میری تجویز یہ ہے کہ فروری کو رمضان قرار دے دیا جائے اور یکم مارچ کو عید قرار دے دیا جائے۔ چارسدے کا اور کراچی کا جھگڑا بھی ختم ہو جائے گا، چاند نظر آیا ہے کہ نہیں آیا۔ اور رمضان بھی مناسب موسم میں آ جائے گا، یہ اس نے تجویز پیش کی۔
میں نے اس کا جواب لکھا اس زمانے میں۔ میں نے کہا، پہلی بات تو یہ ہے، یار تم نے دو فائدے لکھے ہیں، تیسرا نہیں لکھا، تیسرا میں بتا دیتا ہوں۔ تم نے ایک فائدہ یہ لکھا ہے کہ رمضان ٹھنڈا ہو جائے گا، دوسرا یہ لکھا ہے کہ عید کا جھگڑا ختم ہو جائے گا، یکم مارچ کو عید ہے۔ تیسرا فائدہ تم نے نہیں لکھا۔ تیسرا فائدہ یہ ہے کہ تیسویں روزے سے ہمیشہ کے لیے چھٹی۔ انتیسویں سے تین سال چھٹی، چوتھے سال ہو گا۔ یہ ہوگا یا نہیں ہوگا؟ انتیسواں روزہ چوتھے سال، لیپ کے سال میں۔ اور تیسویں کے لیے، جو سب سے زیادہ تنگ کرتا ہے، ہمیشہ کے لیے چھٹی۔ یہ فائدہ بھی لکھوا دیں کہ یہ فائدہ ہے اس کا۔ تیسواں ہمیشہ کے لیے گیا، اور انتیسواں چوتھے سال آئے گا۔ میں نے کہا یار، پہلی بات، تم بھول گئے ہو، ایک فائدہ اور بھی ہے اس کا۔
میں نے اس سے کہا کہ یہ مطالبہ پہلے بھی ہو چکا ہے۔ جب آدمی کچھ لکھتا ہے تو پھر کچھ پڑھنا بھی پڑتا ہے۔ میں نے دو چار کتابیں دیکھیں یار قصہ کیا ہے، تو مجھے روایات مل گئیں بعض۔ ’’کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم‘‘ (البقرۃ ۱۸۳)۔ اس پر طبری نے اور پھر زیادہ تفصیل کے ساتھ مظہری میں حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ نے بعض روایات کا حوالہ دیا ہے کہ بنی اسرائیل میں بھی روزے رمضان ہی کے تھے۔ اور وہ بھی چاند کا مہینہ تھا اور گھومتا پھرتا تھا، کبھی گرمیوں میں کبھی سردیوں میں۔ ان کو بھی جولائی اور جون کے روزوں نے تنگ کیا تھا۔ ان کا تو روزہ بھی بڑا تھا۔ ہماری تو رات نکل گئی ہے روزے سے۔ ان کی رات بھی شامل تھی، آٹھ پہر کا روزہ ہوتا تھا۔ انہوں نے بھی اپنے علماء سے درخواست کی تھی کہ کچھ مہربانی کرو، ان کے علماء نے یہ درخواست قبول کر لی تھی۔ مظہری میں دیکھ لیں یہ روایت۔ ان کے علماء نے یہ درخواست قبول کر لی تھی کہ لوگوں کے لیے جون جولائی کا روزہ بڑا مشکل ہے، تو خیر، ٹھیک ہے، کچھ کر دیتے ہیں۔ انہوں نے رمضان کے روزوں کو متعین کر دیا درمیانے موسم میں۔ مسیحی مذہبی دنیا کے لوگ رکھتے ہیں روزے۔ کب رکھتے ہیں؟ مارچ میں۔ ان کے ہاں جو ایسٹر ہوتا ہے نا، یہ عید الفطر ہے۔ ایسٹر مناتے ہیں نا سال میں، بڑی طمطراق سے، بڑے جوش سے۔ روزے مکمل ہونے کے بعد یہ ایک دن ایسٹر کے نام سے عید مناتے ہیں، یہ عید الفطر ہی سمجھیں ان کی۔ یہ اپریل میں ہوتی ہے، اپریل کا پہلا سنڈے یا دوسرا سنڈے۔ پہلے عشرے کے دوران ہوتی ہے یہ۔ اس کی تقسیم اپنی ہے ان کی، کبھی پہلا اتوار ہوتا ہے، کبھی دوسرا ہوتا ہے۔ لیکن ایک تبدیلی انہوں نے کی، انہوں نے کہا کہ یار، گڑبڑ کر رہے ہیں، روزے ہوتے ہیں تیس، ہم گڑبڑ کر رہے ہیں تو دس ساتھ کفارے کے بھی رکھیں گے، چالیس رکھیں گے۔ یہ احساس تھا ان کو کہ گڑبڑ کر رہے ہیں تو اس کا کفارہ بھی تھوڑا سا ہو جائے۔ تیس کے رکھیں گے چالیس۔ اور رکھیں گے مارچ میں۔ فروری کے آخر میں شروع کرتے ہیں، مارچ کے آغاز تک لے جاتے ہیں، اور چالیس روزے مکمل کر کے اپریل کے آغاز میں یہ ایسٹر عید الفطر مناتے ہیں۔
میں نے کہا یار، تھوڑی شرم تھی اُن میں کہ ہم گڑبڑ کر رہے ہیں تو تیس کے رکھے گے چالیس۔ میں نے کہا، تم تیس سے اٹھائیس پر آگئے ہو، خدا کا خوف کرو یار، کچھ تو شرم کرو۔ انہوں نے بھی گڑبڑ کی تھی لیکن کچھ احساس تھا کہ یار ٹھیک نہیں کر رہے ہم، اس کا کوئی کفارہ ہونا چاہیے، تو وہ آگئے تھے تیس سے چالیس پر۔ اور تم تیس بھی نہیں رکھ رہے، تیس سے اٹھائیس پہ آ گئے ہو۔ ایک تو میں نے یہ لکھا۔
پھر میں نے کہا، یار بات یہ ہے، اصل جھگڑا یہ ہے، ساری باتیں تمہاری ٹھیک ہوں گی، ہمارے پاس اتھارٹی کوئی نہیں ہے، اصل بات یہ ہے۔ عدالت کہتی ہے نا کہ یہ ہمارے دائرہ اختیار سے باہر ہے، اس کیس کی سماعت ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ ہم خدانخواستہ یہ کرنا بھی چاہیں، خدا نہ کرے کہ ہم کرنا چاہیں، بالفرض کہہ رہا ہوں، اگر ہم کرنا چاہیں تب بھی نہیں کر سکتے، یار ہمارے پاس اتھارٹی نہیں ہے۔ اُن کے پاس ہوگی، جیسے عدی بن حاتمؓ نے کہا تھا، اُن کے پاس ہوگی اتھارٹی، میں نہیں بحث کرتا اس پہ۔ ہمارے پاس اتھارٹی نہیں ہے۔ کسی کے پاس کوئی اتھارٹی ہے جو نصِ صریح اور نصِ قطعی میں ترمیم کر سکے؟ نصوصِ ظنیہ کی تعبیر میں گڑبڑ ہو جاتی ہے، میں اس طرف نہیں جا رہا۔ لیکن نصِ قطعی اور نصِ صریح ہو تو کسی کے پاس کوئی اتھارٹی ہے کہ وہ ردوبدل کر سکے؟ ہمارے پاس اتھارٹی نہیں ہے یار، ہم مجبور ہیں، ہم خدانخواستہ کرنا بھی چاہیں تو نہیں کر سکتے۔ اور کریں گے بھی تو چلے گی نہیں۔ ہمارا ڈھانچہ بالکل مختلف ہے، ہم نہیں کر سکتے، ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔
ہمارے ہاں کی صورتحال تو یہ ہے کہ جائز ناجائز، حلال حرام میں اگر کسی کو اتھارٹی ہوتی تو اللہ کے سوا کس کو ہوتی؟ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے کہہ رہے ہیں ’’لم تحرم ما احل اللہ لک‘‘۔ اگلے جملے کا ترجمہ کرتے ہوئے ڈر لگتا ہے ’’تبتغی مرضات ازواجک‘‘۔ پڑھتے تو ہیں یہ، لیکن ترجمہ، میں تو ڈر جاتا ہوں ترجمہ کرتے ہوئے۔ ’’لم تحرم ما احل اللہ لک‘‘ (التحریم ۱) جناب ہم نے حلال کیا ہے، آپ کیسے حرام کر رہے ہیں؟
تو میں نے اس سے کہا کہ میرے بھائی! ہمیں کوئی اختیار نہیں ہے سرے سے۔ [اگر] بات اجتہاد کے دائرے کی ہے، یا استنباط کے، استدلال کے، چلو، ایک فقیہ ہے، دوسرا فقیہ ہے، اس کی رائے، وہاں اگر ہم کہیں کچھ گڑبڑ کر لیں تو کر لیں، کبھی کبھی کر بھی لیتے ہیں، لیکن اُس دائرے میں، جو اجتہادی دائرہ ہے۔ نصوصِ صریحہ اور نصوصِ قطعیہ اجتہادی دائرے کی نہیں ہیں۔ یہ بات میری ذہن میں آئی ہے؟ ایک اجتہاد کا تصور یہ ہے جس کا ہم سے تقاضا کیا جا رہا ہے کہ جناب کچھ کرو۔ فلاں چیز میں یوں کر دو، فلاں چیز میں یوں کر دو۔
ابھی چند مہینے پہلے ہمارے صدر محترم نے یہ فرمایا تھا کہ علماء کوئی راستہ نکالیں سود کے بارے میں، بعض صورتیں کریں کچھ، کوئی راستہ نکالیں۔ کہتے علماء سے ہی ہیں۔ کہتے کس سے ہیں؟ علماء سے۔ تجویز پیش کرتے ہیں۔ ایک صاحب نے بڑی سخت [بات کہہ دی]۔ میں نے کہا یار، اُس نے فتویٰ پوچھا ہے، فتویٰ دیا نہیں ہے، مستفتی ہے، مستفتی پر فتوے مت لگایا کرو، فتویٰ پوچھا ہے اس نے۔ لیکن بہرحال میں ذوق بتا رہا ہوں۔ میں نے کہا یار، مستفتی ہے وہ، مفتی نہیں ہے۔ مفتی ہو تو میں بھی فتویٰ لگا دوں۔ مستفتی نہیں ہے، وہ کیا ہے؟ مستفتی ہے، اور مستفتی پر فتویٰ نہیں لگانا چاہیے، وہ تو فتویٰ پوچھے گا بیچارہ۔ خیر، ایک ذہن یہ ہے، جس کی بنیاد پر ہم سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ علماء کے پاس کوئی اتھارٹی ہے، پاپائے روم کی طرح، احبار اور رہبان کی طرح۔ یہ بھی کچھ کر سکتے ہیں، کرنا چاہیں۔ کر نہیں رہے۔ اس لیے وہ سارا غصہ ہم پر نکلتا ہے کہ یہ جامد ہو کر بیٹھے ہوئے ہیں، ہلتے نہیں ہیں، بات سنتے نہیں ہیں، بات مانتے نہیں ہیں۔
دوسرا نقطۂ نظر۔ وہ زیادہ اس وقت ہمارے جھگڑے کی بنیاد ہے۔ پاپائے روم کی اس اتھارٹی کو؛ یہ ہزارہا سال سے چلی آ رہی ہے، اب بھی ہے، کیتھولک دائرے میں اب بھی ہے؛ اس اتھارٹی کے خلاف بغاوت ہوئی تھی آج سے تین چار سو سال پہلے۔ اور بغاوت کی تھی کس نے؟ مارٹن لوتھر نے۔ مارٹن لوتھر کا نام سنا ہے؟ پادری تھا۔ اس نے کہا، ہم پاپائے روم کی اتھارٹی نہیں مانتے، کہ بائبل کی جو چاہے تشریح کر دیں، ہم نہیں مانتے۔ یہ پروٹسٹنٹ کی بنیاد ہے۔ پروٹسٹ احتجاج کو کہتے ہیں۔ پروٹسٹ کس کو کہتے ہیں؟ احتجاج کو۔ پاپائے روم کی اس اتھارٹی کے خلاف بغاوت تھی یہ۔ پاپائے روم کی اس اتھارٹی کے خلاف، کہ وہ واحد اتھارٹی ہے بائبل کی تشریح کی، اس کے خلاف بغاوت تھی۔ پادری تھا وہ بھی، مارٹن لوتھر۔ اس نے کہا، نہیں، ہم اتھارٹی نہیں مانتے۔
اچھا، یہ اتھارٹی نہیں ہے، تو اتھارٹی ہے کون پھر؟ کوئی نہ کوئی اتھارٹی تو ہو گی نا، کھلا تو نہیں چھوڑا جا سکتا۔ کوئی نہ کوئی اتھارٹی تعبیر کی ہو گی یا نہیں ہو گی؟ میں اس کی مثال دیتا ہوں چھوٹی سی۔ پاکستان کا دستور ہے۔ پاکستان کے دستور کی تشریح کی اتھارٹی کون ہے؟ سپریم کورٹ۔ طے ہے۔ پاکستان کے دستور کی کسی شق میں مفہوم طے کرنے میں اگر اختلاف ہوگا تو فیصلہ کون کرے گا؟ سپریم کورٹ۔ اور سپریم کورٹ جو تشریح کر دے وہ کیا ہو گا؟ کسی بھی تعبیر و تشریح میں کوئی نہ کوئی اتھارٹی تو ہوتی ہے۔
سوال یہ ہوا کہ اگر پاپائے روم اتھارٹی نہیں ہے، چرچ اتھارٹی نہیں ہے، تو اتھارٹی کون ہے؟ مارٹن لوتھر نے یہ کہا کہ کوئی اتھارٹی نہیں ہے، کامن سینس پہ فیصلے کرو۔ جو مجھے سمجھ آتی ہے، میں کروں گا۔ جو آپ کو سمجھ آتی ہے، آپ کریں گے۔ اجتماعی عقل سے۔ اس کو کامن سینس کہتے ہیں، عقلِ عام۔ کامن سینس سے، اس وقت کے معاشرے کی اجتماعی سوچ سے جو رائے طے پائے گی، وہ بائبل کی تشریح ہو گی۔ اس کو کہتے ہیں کامن سینس سے تشریح کرنا۔ شریعت کے احکام، شریعت کے قوانین، اُن کا تعین، پاپائے روم کے کرنے سے نہیں ہو گی۔ کس کے کرنے سے ہو گی؟ کامن سینس سے۔ اس پر ایک نیا فرقہ وجود میں آ گیا۔ پروٹسٹنٹ یہی ہیں۔ کیتھولک کے بعد دوسرا بڑا فرقہ یہ ہے۔ یورپ اکثر پروٹسٹنٹ ہیں۔ امریکہ، کینیڈا کیتھولک ہیں۔ یورپ اکثر کیا ہے؟ پروٹسنٹ ہے۔ برطانیہ وغیرہ سب، پروٹسٹنٹ ہیں سارے، کہ بائبل کی تشریح عقلِ عام پر ہو گی۔
اب اگلی بات سنیے۔ عقلِ عام، عقلِ مشترک پر بائبل کی تشریح ہو گی، تو عقلِ مشترک کا فیصلہ کون کرے گا؟ یہ پھر ووٹ سے ہو گا۔ عقلِ عام کیا کہہ رہی ہے؟ عقلِ مشترک کا فیصلہ کیا ہے؟ سوسائٹی کی اجتماعی عقل کا فیصلہ کیا ہے؟ اس کا فیصلہ کیسے ہوگا پھر؟ ووٹ ہی ذریعہ ہے نا۔ اس لیے یہ بات طے پائی کہ عوام کے منتخب نمائندے، پارلیمنٹ، یہ مکمل طور پر خودمختار ہیں، جو تعبیر کریں، جو تشریح کریں، جو تشکیل کریں، جو معنی بیان کریں، پارلیمنٹ حرفِ آخر ہے۔ جس طرح عوامی معاملات میں تعبیر اور تشریح میں حرفِ آخر پارلیمنٹ ہے، اس لیے مذہبی معاملات میں بھی تعین کی اتھارٹی کس کو ہے؟ پارلیمنٹ کو۔
ہمارے ہاں یہ مسئلہ بھی چل رہا ہے، اور بڑے زور و شور سے، بڑی گہرائی سے۔ آپ حضرات کے سامنے بات ہو گی، نہیں تو ہونی چاہیے، کہ پاکستان بننے کے بعد سے اب تک نفاذِ شریعت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ اتھارٹی کا جھگڑا ہے۔ قرآن و سنت تو مان لیتے ہیں، کوئی بھی انکار نہیں کرتا، لیکن قرآن و سنت کی تعبیر میں اتھارٹی کون ہیں؟ ایک مستقل مکتبِ فکر ہے، میرے تو مکالمے ہوتے رہتے ہیں ان سے، مباحثے ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا، آج سے کوئی تیس سال پہلے کی بات ہے، ۸۷ء، ۸۸ء، تین عشرے ہو گئے ہیں۔ آپ میں سے بہت سے لوگ نہیں ہوں گے اُس وقت۔ پاکستان کی اسمبلی میں ’’شریعت بل‘‘ پیش تھا۔ سینٹ میں اور قومی اسمبلی میں۔ جس کی بنیادی دفعہ یہ تھی کہ قرآن و سنت کا ملک کا سپریم لاء ہوں گے، بالاتر قانون۔ اور اس قانون کے بننے کے بعد ملک میں کوئی قانون، کوئی رواج، کوئی بھی ضابطہ اگر قرآن و سنت کے منافی ہے، تو وہ ختم ہو جائے گا۔ سن ۸۷ء کے شریعت بل کی بنیادی دفعہ یہ تھی۔ سینٹ میں بھی زیر بحث رہا، منظور بھی ہوا۔ قومی اسمبلی میں بھی ہوا۔ بنیادی دفعہ یہ تھی کہ قرآن و سنت ملک کا سپریم لاء ہوں گے، بالاتر قانون ہوں گے، اور اس کی منظوری کے بعد ملک میں جو قانون، جو رواج، جو ضابطہ، قرآن و سنت کے منافی ہو گا، وہ کیا ہو جائے گا؟ ختم ہو جائے گا۔
اس پہ مظاہرے بھی ہوئے، ہنگامے بھی ہوئے، ہم نے بھی پارلیمنٹ کا گھیراؤ کیا تھا۔ حضرت مولانا عبد الحق صاحب رحمۃ اللہ کی قیادت میں تمام مکاتبِ فکر کے لوگ، بڑی لمبی مہم چلی تھی۔ اس پہ مذاکرات بھی ہوئے تھے۔ مذاکرات کا میں بھی حصہ تھا۔ اس وقت کے وزیر قانون اور وزیر مذہبی امور اور وزیر داخلہ، ان کے ساتھ ہمارے میز پہ مذاکرات ہوئے۔ بھئی، قرآن و سنت کو کیوں نہیں مانتے تم؟ انہوں نے کہا، مان لیتے ہیں، ایک شرط تم مان لو۔ قرآن و سنت کی تعبیر اور تشریح میں پارلیمنٹ کو اتھارٹی مان لو، ہم قرآن و سنت کو سپریم لاء مان لیتے ہیں۔ بات سمجھ آئی ہے؟ قرآن و سنت کی تعبیر اور تشریح میں مولوی نہیں، پارلیمنٹ۔ پارلیمنٹ کو اتھارٹی تم مان لو کہ قرآن و سنت کی جو تعبیر پارلیمنٹ کر دے جو تشریح پارلیمنٹ کر دے، اکثریت کے ساتھ، وہ تم بھی مان لو گے، تو ہم قرآن و سنت کو سپریم لاء مان لیتے ہیں۔
جھگڑا سمجھ میں آ رہا ہے؟ جھگڑا شریعت کا نہیں ہے، تعبیر کا ہے۔ قرآن و سنت کا نہیں، قرآن و سنت کی تعبیر کی اتھارٹی کا ہے۔
لاہور میں ایوانِ وقت میں بہت بڑا مذاکرہ تھا۔ اللہ مغفرت فرمائے، جسٹس نسیم حسن شاہ مرحوم، جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال، یہ حامد میر صاحب کے والد محترم وارث میر مرحوم، اس لیول کے دانشور وہاں۔ نوائے وقت کا مذاکرہ تھا، میں بھی تھا اس میں۔ موضوعِ بحث یہ تھا کہ کیا پارلیمنٹ کو قرآن و سنت کی تعبیر اور تشریح کا اور اجتہاد کا حق دیا جا سکتا ہے؟ قرآن و سنت کی تعبیر اور تشریح اور اجتہادِ مطلق۔ مجتہدِ مطلق کا مطلب سمجھتے ہیں نا ہم کسے کہتے ہیں؟ ایک لطیفے کی بات عرض کر دوں۔ بعض دوست پوچھتے ہیں، فلاں صاحب، فلاں صاحب، میں نے کہا یار بات یہ ہے کہ مجتہدینِ مطلق بیسیوں ہوئے ہیں لیکن امت نے چار پہ اتفاق کر لیا ہے، باقی فہرست سے خارج ہو گئے ہیں۔ یہی ہوا ہے نا؟ تابعین کے دور میں مجتہدینِ مطلق بیسیوں تھے۔ اور آہستہ آہستہ امت کا اتفاق کن پہ ہو گیا؟ چار پہ۔ اب بہت سے دوستوں کا جی چاہتا ہے پانچویں نمبر پہ نام لکھوانے کا، ہو نہیں رہا۔ یہ ہے جھگڑا سارا۔ میرے نزدیک متجددین کا سارا جھگڑا یہی ہے۔ ایک صاحب سے میں نے کہا، یار پانچویں نمبر پہ نام نہیں آئے گا، نہ وقت ضائع کرو اپنا، نہ ہمارا۔ وہ چار ہی رہیں گے۔ میری بات سمجھ رہے ہیں کہ نہیں سمجھ رہے؟ مجتہدینِ مطلق تابعین کے دور میں، اتباعِ تابعین کے دور میں بیسیوں تھے۔ حسن بصریؒ بھی تھے، امام بخاریؒ بھی تھے، مجتہدینِ مطلق تھے، طبریؒ بھی تھے، قاسم بن سلّامؒ بھی تھے، آہستہ آہستہ امت کا اتفاق کس پر ہو گیا؟ چار پر۔ اب وہ اتفاق چار پہ ہو گیا، وہ چار ہی رہنے ہیں قیامت تک۔ پانچویں نمبر پہ نام لکھوانے کی بڑے لوگوں نے کوششیں کی ہیں، ہر زمانے میں کی ہیں، نہیں ہوئی بات، میں کیا کر سکتا ہوں۔
لیکن انہوں نے کہا کہ کیا پارلیمنٹ کو اجتہادِ مطلق کا اور قرآن و سنت کی تعبیر اور تشریح کا اختیار دیا جا سکتا ہے؟ اب یہ بحث چل رہی ہے۔ اپنا اپنا نقطۂ نظر سارے پیش کر رہے ہیں۔ میری باری آئی۔ مولانا آپ کیا کہتے ہیں؟ میں نے کہا، کیا جا سکتا ہے۔ پارلیمنٹ کو دین کی تعبیر اور تشریح اور اجتہاد کا حق دیا جا سکتا ہے۔ سارے میرے منہ کی طرف دیکھ رہے ہیں، جیسے آپ دیکھ رہے ہیں۔ دیکھ رہے ہیں، نہیں دیکھ رہے؟ میں نے کہا، دیا جا سکتا ہے۔ یہ بات بالکل ان کی توقع کے خلاف تھی کہ میں یہ بات کہہ رہا ہوں! میں نے کہا، ایک شرط ہے چھوٹی سی۔ اجتہاد کی اہلیت کی شرائط طے کریں۔ سوال یہ تھا کہ کیا پارلیمنٹ کو اجتہاد کا اور دین کی تعبیر اور تشریح کا حق دیا جا سکتا ہے؟ میں نے کہا، دیا جا سکتا ہے۔ آپ کو سمجھ تو آ گئی ہو گی میری بات کی۔ میری کمزوری یہ ہے کہ میرا جواب دینے کا انداز ذرا مختلف ہوتا ہے۔ جن کو سمجھ نہیں آتی وہ غصے میں آجاتے ہیں۔ میرا کسی بھی بات میں جواب دینے کا انداز ذرا مختلف ہوتا ہے، میں ٹھنڈا ٹھنڈا جواب دیتا ہوں، جن کو سمجھ نہیں آتی وہ غصے میں آجاتے ہیں، ہو جاتا ہے، کوئی مسئلہ نہیں۔ میں نے کہا، ہو سکتا ہے، ایک شرط کے ساتھ۔ اجتہاد کی اہلیت کی شرطیں طے کریں، اور پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے وہ شرطیں ضروری قرار دے دیں، پارلیمنٹ کو اجتہاد کا حق دے دیں۔ آپ کو کوئی اشکال ہے؟ اجتہاد کی اہلیت کے لیے شرطیں طے کریں کہ اجتہاد کی اہلیت کے لیے یہ یہ شرطیں ہیں، الیکشن رولز میں ترمیم کر کے، پارلیمنٹ کا رکن بننے کے لیے وہ شرطیں ضروری قرار دے دیں، پارلیمنٹ کو اجتہاد کا حق دے دیں، مجھے کیا اعتراض ہے یار۔ آپ کو ہے؟
میں نے کہا، چلو، اجتہاد کی شرطیں بھی میں نہیں طے کرتا۔ باقاعدہ دستوری پراسیس کے مطابق سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کریں، کہ جناب اجتہاد کی شرطیں طے کریں، آج کے دور میں اجتہاد کے لیے اور قرآن و سنت کی تعبیر اور تشریح کے لیے اہلیت اور دیانت کی کیا شرائط ہیں، سپریم کورٹ طے کر دے۔ جو شرطیں سپریم کورٹ طے کرے، الیکشن رولز میں ترمیم کریں، ممبر بننے کے لیے وہ شرطیں قرار دے دیں، پارلیمنٹ کو اجتہاد کا حق دے دیں، مجھے کیا اعتراض ہے، کوئی اعتراض نہیں ہے۔
یہ جھگڑا عرض کر رہا ہوں کہ پارلیمنٹ کو شریعت کی تعبیر کا اختیار تسلیم کریں تو قرآن و سنت منظور ہیں۔ اور اگر تشریح تم نے کرنی ہے، پھر نہیں۔ اس کے پیچھے کیا ہے؟ کہ کامن سینس سے تعبیر ہو گی، اور کامن سینس کی نمائندہ پارلیمنٹ ہے، تم نہیں ہو۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ دوسرے کا موقف بھی سمجھنا چاہیے۔ قرآن و سنت کی تعبیر میں کوئی اجارہ دار نہیں ہے، اُن کے بقول، کامن سینس سے قرآن و سنت کی تعبیر کریں گے۔ اور کامن سینس کی نمائندگی کون کرتا ہے؟ پارلیمنٹ کرتی ہے۔ اس لیے قرآن و سنت کی تعبیر اور تشریح کا اختیار پارلیمنٹ کو دے دیں تو ٹھیک ہے۔ اسی جھگڑے پر ’’شریعت بل‘‘ فضا میں تحلیل ہو گیا۔ نہ ہم پارلیمنٹ کی اتھارٹی مان رہے ہیں، نہ وہ ہماری اتھارٹی تسلیم کر رہے ہیں۔ آج بھی جھگڑا یہ ہے۔ تو میں نے اجتہاد کے تصور پر۔
ایک دفعہ ایسا ہوا۔ لطیفہ بھی درمیان میں ایک ہو جائے۔ میں نے کہا پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے تو سورہ فاتحہ کا ترجمہ جاننا شرط نہیں ہے۔ یہاں تو وزارتِ داخلہ کے لیے سورہ اخلاص پڑھ لینا شرط نہیں ہے۔ تو میں نے ایک مجلس میں، مذاکرات کی مجلس تھی، میں نے ایک واقعہ سنایا۔ میں نے کہا، جس پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے سورہ فاتحہ کا ترجمہ شرط نہیں ہے، اس پارلیمنٹ کو قرآن و سنت حوالے کرو گے کہ تعبیر کرو اور تشریح کرو، تو وہ کیا کریں گے؟ مثنوی کا میں نے ایک واقعہ سنایا۔ مولانا رومؒ نے مثنوی میں ایک بڑا دلچسپ واقعہ لکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک صاحب نے؛ پرانے زمانے میں چھاپہ خانے تو ہوتے نہیں تھے، قرآن پاک ہاتھ سے لکھے جاتے تھے؛ ایک صاحب نے کسی خوشنویس سے کہا، یار مجھے قرآن پاک کی ضرورت ہے، ایک لکھ دو۔ اس نے کہا، لکھ دوں گا۔ دو مہینے لگیں گے، تین مہینے لگیں گے۔ لکھ دیا۔ جب حوالے کیا تو اس نے کہا یار، دھیان سے لکھا تھا؟ اس نے کہا، پورے دھیان سے۔ غلطیاں ولطیاں چیک کر لیں؟ اس نے کہا، پکی طرح۔ تسلی سے لکھا ہے نا؟ اس نے کہا، ہاں۔ اس نے کہا، بلکہ دو چار غلطیاں تھیں، وہ میں نے صحیح کر دی ہیں۔ جس قرآن کو دیکھ کر میں نے یہ لکھا ہے نا، اس میں دو چار غلطیاں تھیں، وہ میں نے یہاں صحیح کر دی ہیں۔ اس نے کہا، اچھا! کون سی؟
- اس نے کہا، اس میں لکھا تھا ’’وعصیٰ اٰدم ربہ فغویٰ‘‘ (طہ ۱۲۱) ترجمہ کرنے کی ضرورت تو نہیں ہے نا؟ میں نے کہا یار، عصا تو موسٰیؑ کا تھا، آدمؑ کا تو نہیں تھا۔ کیوں جی، ڈنڈے والا پیغمبر کون تھا؟ ایک ڈنڈے والا پیغمبر تھا، ایک ڈنڈے والا خلیفہ تھا۔ ڈنڈے والا پیغمبر کون تھا؟ موسیٰ علیہ السلام۔ میں نے کہا، یار یہ کیا لکھا ہوا ہے، عصا آدمؑ کا تو نہیں تھا، عصا کس کا تھا؟ تو میں نے لکھ دیا ’’وعصیٰ موسیٰ ربہ فغویٰ‘‘۔ غلطی صحیح کر دی میں نے۔
- کہا، دوسری غلطی، اس میں لکھا تھا ’’ولقد نادانا نوح فلنعم المجیبون‘‘ (الصافات ۷۵)۔ تو میں نے کہا، نوحؑ تو پیغمبر تھے، پیغمبر نادان نہیں ہوتا، تو میں نے لکھ دیا ’’ولقد دانا نوح فلنعم المجیبون‘‘۔
- ایک تیسری غلطی بھی تھی، اس میں لکھا تھا ’’وخر موسیٰ صعقا‘‘ (الاعراف ۱۴۳)۔ میں نے کہا یار، خر تو عیسٰیؑ کا تھا، موسٰیؑ کا تو نہیں تھا۔ خرِ موسیٰ مشہور ہے یا خرِ عیسیٰ مشہور ہے؟ تو وہ بھی میں نے ٹھیک کر دیا ’’وخر عیسٰی صعقا‘‘۔
- ایک غلطی اور تھی، میں نے دیکھا قرآن پاک میں جگہ جگہ فرعون کا نام بھی ہے، شیطان کا نام بھی ہے۔ میں نے کہا قرآن میں ان کا کیا کام ہے! قرآن پاک کی تلاوت پہ تو ہر حرف پہ دس نیکیاں ملتی ہیں۔ فرعون کا نام لینے پر کتنا ثواب ملتا ہے؟ قرآن پاک میں فرعون کا نام لینے پر ثواب ملتا ہے کہ نہیں ملتا؟ کتنا ملتا ہے؟ اور شیطان کا نام لینے پر، ابلیس کا بھی؟ میں نے کہا یار، قرآن میں اس کا کیا کام! ہر حرف پہ کم از کم دس نیکیاں پڑھنے والے کو، دس نیکیاں سننے والے کو، بیس نیکیاں۔ تو مجھے نہیں اچھا لگا، میں نے سارے بدل دیے۔ ایک کی جگہ تمہارے باپ کا نام لکھ دیا، ایک کی جگہ اپنے باپ کا نام لکھ دیا۔
میں نے اس کو سوال کیا، ہمارے دوست تھے، فوت ہو گئے بیچارے، وزیر قانون تھے، ہم نے اکٹھے جیل بھی گزاری ہے۔ میں نے کہا بھئی، یہ بتاؤ، ہم اختیار دے دیتے ہیں، یہ بتاؤ، نام کس کس کے آئیں گے؟ اس نے تو آسانی سے ایک کی جگہ اپنے باپ کا نام لکھ دیا، ایک کی جگہ لکھوانے والے کا نام لکھ دیا کہ تمہارے باپ کا نام۔
تو میں نے آپ سے یہ عرض کیا ہے کہ اجتہاد کے نام پر آج کی جو دھماچوکڑی ہے، وہ آپ کا اصول الشاشی والا اجتہاد نہیں ہے۔ یہ اجتہاد کس کا ہے؟ جو مسیحی دنیا سے انہوں نے مستعار لیا ہے۔ کچھ نے پاپائے روم سے صوابدیدی اختیار کے نام پر، اور کچھ نے مارٹن لوتھر سے کامن سینس کے نام پر۔ اور ہم اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے؛ میں ایک بات گزارش کرنا چاہوں گا آپ حضرات سے بطور خاص۔ ہماری ایک کمزوری کہہ لیں یا کوتاہی کہہ لیں، ہم عام آدمی اور پڑھے لکھے آدمی کے سامنے جب دین کی تعبیر اور تشریح کی بات کرتے ہیں تو ہم اپنی مخصوص اصطلاحات میں کرتے ہیں۔ ہم اپنا مطلب سمجھا نہیں پاتے۔ یہ اصطلاحات درس اور تدریس کے دائرے میں تو ٹھیک ہیں لیکن عام آدمی کے سامنے عام آدمی کی زبان میں بات کریں۔ عام پڑھے لکھے لوگوں کے سامنے آج کی زبان میں بات کریں۔ اپنا مطلب جب تک آپ سمجھائیں گے نہیں، فرق واضح نہیں کریں گے، اس وقت تک الجھن دور نہیں ہو گی۔
ایک دفعہ ایسا ہوا، میرے ایک محترم بزرگ تھے، فوت ہو گئے ہیں، پھوپھی زاد بھائی تھے، طالب علمی کا زمانہ تھا، جمعہ پڑھاتے تھے ایک جگہ گوجرانوالہ میں، ایک دن جمعے میں مجھے ساتھ لے گئے کہ آج میری تقریر سنو۔ میں نے کہا، سن لیتا ہوں۔ میرا شاید کافیہ کا سال تھا، طالب علمی کا سال تھا۔ تقریر فرمائی انہوں نے آدھ پون گھنٹہ۔ شام کو مجھ سے تقریر پہ تبصرہ پوچھا، میں نے کیسی تقریر کی ہے؟ میں نے کہا، بیڑہ غرق کیا ہے۔ اللہ کے بندے! جمعے کی نماز پڑھنے آئے ہیں، کوئی خرادیا ہے، کوئی پرچون کا کاروبار کرتا ہے، کوئی بوتلیں بیچتا ہے، ان کے سامنے تم مسئلہ بیان کر رہے ہو، کس لہجے میں؟ یہ بشرطِ شیء کے درجے میں ہے، یہ لا بشرطِ شیء کے درجے میں ہے۔ او بندۂ خدا، ان کے فرشتوں کو پتہ نہیں ہے بشرطِ شیء کیا ہوتا ہے۔ میں نے کہا، کل تم نے جو ’’ملا حسن‘‘ میں سبق پڑھا ہے وہ آج جمعے میں دہرا دیا جا کر۔ ان کو کیا پتہ ہے بشرطِ شیء کیا ہوتا ہے، لا بشرطِ شیء کیا ہوتا ہے، قضیہ شرطیہ کا ہوتا ہے، ان کو کیا پتہ! میرے بھائی، ان کے ساتھ بات ان کی زبان میں کرو تاکہ ان کو سمجھ آئے تم کہہ کیا رہے ہو۔ تم نے وہاں ’’ملا حسن‘‘ پڑھ کے سنا دی۔
انہوں نے کہا، مولوی صاحب نے زبردست تقریر کی ہے، تقریر ایسی زبردست تھی، کمال کر دیا مولوی صاحب نے۔ سمجھ کچھ نہیں آیا۔ یہ جو میں نے جھگڑا عرض کیا ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم عام آدمی کو یا عام پڑھے لکھے آدمی کو اس کی فریکونسی میں بات نہیں کرتے، وہ ہماری بات نہیں سمجھ پاتا۔ وہ لوگ اس کی فریکوئنسی میں بات کرتے ہیں، ان کی بات جلدی اثر انداز ہو جاتی ہے۔ آج کی زبان سیکھیے، آج کا لہجہ سیکھیے، آج کی نفسیات کو سمجھیے، کہ عام آدمی کس لہجے میں بات کرتا ہے۔ میں مثال کے طور پر ایک مسئلے کا ذکر کر کے؛ اپنی بات سمجھانے کے لیے؛ ہم عام طور پر، جب قرآن پاک کے ترجمہ اور فہم کی بات ہوتی ہے، قرآن پاک سمجھنا، ترجمہ، تفسیر، تو ہم ایک بات کہتے ہیں۔ جو بات صحیح ہے، بات سے اختلاف نہیں ہے، کہ قرآن پاک کے ترجمہ اور تفسیر کے لیے کتنے علوم کی مہارت ضروری ہے؟ ضروری ہے، میں انکار نہیں کر رہا۔ لیکن سترہ علوم یا سولہ علوم کی فہرست سنا کر عام آدمی کو ڈرانا ضروری ہے؟ دوسرے لہجے میں بھی بات کی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، مجھ سے اگر کوئی پوچھتا ہے نا فہمِ قرآن کی شرائط کیا ہیں؟ میں نے کہا، وہی جو باقی لوگوں کے لیے ہوتی ہیں۔ میری بات پوری سن لینا فتویٰ لگانے سے پہلے۔ ایک صاحب نے پوچھا۔ میں نے کئی جگہ بیان بھی کیا ہے۔ قرآن پاک کے فہم، ترجمہ، تشریح کے لیے؟ میں نے کہا، وہی جو باقی کلام کے لیے ہوتی ہیں۔
- میں نے کہا، مثال کے طور پر، کسی بھی کلام کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے اس کی زبان سے واقف ہونا ضروری ہے۔ عربی کی بات ہے تو عربی جاننا ضروری ہے، فارسی کی بات ہے تو فارسی جاننا ضروری ہے، انگریزی کی بات ہے تو؟ برنارڈشا کو، انگریزی نہیں جانے گا تو کیا سمجھے گا؟ خوشحال خان خٹک کو، پشتو جانتا ہو گا تو سمجھے گا نا۔ پشتو نہیں جانتا تو خوشحال خان خٹک کو کیا سمجھے گا وہ؟ اور حافظ شیرازی کو؟ فارسی جاننا ضروری ہے۔ یہ پہلی شرط ہے۔
زبان جاننا ضروری ہے، زبان جاننا کافی نہیں ہے۔ اس لیول کی زبان جاننا ضروری ہے جس لیول کا کلام ہے۔ کلام کو سمجھنے کے لیے زبان جاننا ضروری ہے، کافی نہیں ہے۔ اس لیول کی زبان جس لیول کا کلام ہے۔ اب ایک آدمی اردو پڑھ لیتا ہے، جنگ اخبار پڑھ لیتا ہے، کہتا ہے میں غالب بھی پڑھ لوں گا۔ پڑھ لے گا؟ اقبال؟ ان شا اللہ خاں انشا؟ ابراہیم ذوق؟ نہیں بھئی، وہ اردو اَور ہے، یہ اردو اَور ہے۔ ایک آدمی عام فارسی اخبار پڑھ لیتا ہے، کہتا ہے حافظ شیرازی کو سمجھ لوں گا، فردوسی کو سمجھ لوں گا۔ نہیں۔ ایک آدمی انگریزی اخبار پڑھ لیتا ہے ڈان، کہتا ہے میں برنارڈشا کو سمجھ لوں گا۔ نہیں بھئی، برنارڈشا اور ہے، ڈان اور ہے۔ تو پہلی بات تو یہ، کسی بھی کلام کو سمجھنے کے لیے اس زبان کو جاننا اور اس لیول کی زبان جاننا۔ ایک۔
- کلام میں اگر الجھن پیش آجائے، تو وضاحت کا حق سب سے پہلے کس کا ہوتا ہے؟ میری کوئی بات آپ کو سمجھ نہیں آ رہی تو وضاحت کا حق کس کو ہے؟ مجھے ہے بھئی۔ سیدھی سیدھی بات ہے۔ وضاحت کا پہلا حق کس کا ہوتا ہے؟ متکلم کا۔ اور وضاحت میں اتھارٹی کون ہوتا ہے؟ متکلم۔ متکلم ہی اتھارٹی ہوتا ہے نا، اگر زندہ ہے تو۔ قرآن پاک کی کوئی بات سمجھ میں نہیں آ رہی تو متکلم کون ہے؟ اللہ۔ اللہ کا نمبر تو کسی کے پاس نہیں ہے کہ میسج کر کے پوچھ لیں، یا اللہ! مجھے بات سمجھ نہیں آئی۔ لیکن اللہ کے رسول تک رسائی تو ہے نا۔ قرآن پاک کی کوئی بات سمجھ نہیں آ رہی تو وضاحت کی اتھارٹی کون ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، کیونکہ رسول ہیں۔ یہ بات بھی، کوئی وضاحت کی ضرورت تو نہیں ہے۔ کوئی بات سمجھ میں نہیں آ رہی تو اس کی وضاحت میں اتھارٹی متکلم یا اس کا نمائندہ۔ قرآن پاک میں اتھارٹی کون ہے؟ نمائندہ۔ یہ دوسرا اصول طے ہو گیا۔
- تیسرا اصول، بسا اوقات بات کو سمجھنے میں بیک گراؤنڈ سمجھنا ضروری ہوتا ہے، بات کہاں کی ہے، کس پس منظر میں کی ہے؟ پس منظر کے بغیر بات سمجھ میں نہیں آتی۔ آج کی دنیا پس منظر کہتی ہے، ہم شانِ نزول کہتے ہیں۔ لفظ کا ہی فرق ہے۔ ہم کیا کہتے ہیں؟ شانِ نزول۔ آج کی دنیا کیا کہتی ہے؟ بیک گراؤنڈ۔ بیک گراؤنڈ کے بغیر بات سمجھ میں بسا اوقات، اور اکثر بیک گراؤنڈ کے بغیر بات الٹ سمجھ آتی ہے۔ اب بیک گراؤنڈ معلوم کرنے کے لیے، میں اس کی ایک مثال دیتا ہوں۔ قرآن پاک میں بہت ساری آیات ہیں، حضرات کو الجھن پیش آئی، صحابہؓ کو الجھن پیش آئی۔ پس منظر بیان ہوا تو بات واضح ہوئی۔ ان بیسیوں مسائل میں سے مثال کے طور پر ایک مسئلہ بیان کر رہا ہوں۔
حضرت عروہ بن زبیر نے، رضی اللہ تعالیٰ عنہما، خالہ جان سے سوال کیا۔ قرآن پاک کی بہت سی آیتیں، اماں جان، یہ سمجھ میں نہیں آ رہی، یہ نہیں سمجھ آ رہی، یہ نہیں سمجھ آ رہی۔ عروہؓ نے خالہ جان سے، ام المومنین حضرت عائشہؓ سے سوال کیا، بہت سی آیات کے بارے میں، یہ بھی سمجھ نہیں آ رہی، یہ بھی سمجھ نہیں آ رہی۔ ان میں سے ایک۔ انہوں نے کہا، اماں جان، قرآن پاک کہتا ہے ’’ان الصفا والمروۃ من شعآئر اللہ فمن حج البیت او اعتمر فلا جناح علیہ ان یطوف بھما‘‘ (البقرۃ ۱۵۸)۔ صفا مروہ شعائر اللہ میں سے ہیں، جو آدمی حج کرے یا عمرہ کرے ’’لا جناح علیہ ان یطوف بھما‘‘ کوئی حرج نہیں کہ اِن کا چکر بھی لگا لے۔ یہ ’’کوئی حرج نہیں کہ ان کا چکر لگا لے‘‘، یہ وجوب کا کلمہ ہے یا جواز کا ہے؟ وجوب کدھر سے آ گیا ہے؟ یہ سوال کس نے کیا؟ حضرت عروہؓ نے۔ کیا کس سے؟ ام المومنین حضرت عائشہؓ سے۔ اماں جان، یہ سمجھ نہیں آ رہی بات، وجوب کدھر سے آیا ہے، یہ تو جواز کا کلمہ ہے، کر لو یار، کوئی بات نہیں، یہ بھی کر لو۔
اماں جان نے کہا، بیٹا، تمہیں کہا نہیں، اس لیے تمہیں سمجھ میں نہیں آ رہا۔ تمہیں نہیں کہا اس نے، قرآن پاک نے یہ بات تم سے نہیں کہی۔ یہ کس سے کہی ہے؟ انہوں نے پس منظر کی وضاحت کی۔ ام المومنینؓ کہتی ہیں کہ جاہلیت کے زمانے میں لوگ حج کے لیے آتے تھے، بیت اللہ کا طواف تو سارے کرتے تھے، صفا مروہ کی سعی صرف قریشی کرتے تھے، ان کے حلیف قبائل کرتے تھے، اکثر قبائل صفا مروہ کی سعی نہیں کرتے تھے۔ انس بن مالکؓ کہتے ہیں ’’کنا نتحرج، کنا نتعصم‘‘۔ ہم اس کو حرج کی بات سمجھتے تھے، ہم اس کو گناہ کی بات سمجھتے تھے۔ ’’کنا نعدھا فی الجاھلیۃ‘‘۔ ہم اس کو جاہلیت کی بات سمجھتے تھے کہ ماں دوڑی ہے تو قیامت تک دوڑتے رہو، ہم نہیں کرتے تھے۔ قریشی کرتے تھے، انصاری نہیں کرتے تھے، یوں تقسیم کر لیجیے۔ اور انصاری، حضرت انس بن مالکؓ خود کہتے ہیں، ہم اس کو گناہ کی بات سمجھتے تھے، حرج کی بات سمجھتے تھے، اس کو جاہلیت کی بات سمجھتے تھے۔
جب حج کا موقع آیا سن ۹ھ کو یا ۱۰ھ کو تو انصاریوں کو الجھن پیدا ہوئی کہ بھئی ہم تو نہیں کرتے تھے، تو کیا ہو گا؟ انہوں نے سوال کیا۔ ان کو جواب دیا اللہ پاک نے کہ صفا مروہ شعائر اللہ میں سے ہیں۔ بیت اللہ کی طرح صفا مروہ بھی کیا ہیں؟ شعائر اللہ میں سے ہیں۔ کوئی حرج نہیں، اس کا طواف بھی کرو۔ اللہ پاک نے ’’کوئی حرج نہیں‘‘ کن کو کہا؟ جو حرج سمجھتے تھے۔ ’’لاجناح علیہ‘‘ کس کو کہا؟ جو کہتے تھے ’’کنا نتحرج، کنا نتعصم، کنا نعدھا فی الجاھلیۃ‘‘ ان سے کہا، کوئی حرج نہیں ہے۔ [حضرت عائشہؓ کے بقول] تم تو کرتے ہی تھے، تمہیں تو نہیں کہا۔
اب میں یہ عرض کیا کرتا ہوں، یہ پس منظر اگر واضح نہ ہو تو آج بھی اس کا ترجمہ صحیح کیا جا سکتا ہے؟ بہت سی آیات ہیں۔ تو تین اصول میں نے عرض کیے: (۱) زبان اُس سطح کی (۲) متکلم یا ان کے نمائندے تک تشریح کے لیے رسائی (۳) اور پس منظر معلوم کرنا۔ یہ دنیا کے کس کلام کے لیے نہیں ہے؟ یہی معیار ہے نا؟ اور اگر ان تین اصولوں کا آپ تجزیہ کریں، ان تینوں باتوں کے لیے کتنے علوم درکار ہیں، تو وہی سترہ ہیں یار۔ علوم کی تقسیم کریں کہ یا اُس دائرے کا ہے، یا اُس دائرے کا ہے، یا اُس دائرے کا ہے۔ سترہ علوم جو آپ کہتے ہیں، انہی میں سے کسی دائرے کا ہے۔
میں نے یہ عرض کیا ہے کہ بات ذرا لوگوں سے آسان لہجے میں کیا کریں، ڈرائیں نہیں۔ وہی بات جو آسان لہجے میں کی جا سکتی ہے، اس کو مشکل زبان میں کر کے لوگوں کو ڈرائیں نہیں۔ عام آدمی کی نفسیات سمجھیں، فریکوئنسی سمجھیں، عام زبان سمجھیں، لوگوں کی ذہنی سطح سمجھیں۔ اور دین کی تعبیر اور تشریح، دین کے مسائل، لوگوں کی ذہنی سطح پر، اس کی نفسیات کے مطابق، ان کی فریکوئنسی میں، بات کرنے کی کوشش کریں۔ میرے نزدیک آج کی سب سے اہم دینی ضرورت یہ ہے کہ ہم لوگوں کی نفسیات کو سمجھ کر؛ بات پوری کریں، بات میں لچک نہ ہو؛ لیکن لہجہ تو صحیح ہو نا۔ بات ٹھیک ہو، لیکن گفتگو کا انداز، وہ سمجھ تو سکے کم از کم کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں۔
تو میں نے یہ چند ٹوٹی پھوٹی باتیں، اس جھگڑے کی وضاحت کے لیے کہ آج کی دنیا کے ساتھ اجتہاد کے نام پر ہمارا کیا تنازع ہے، ہم کہاں کھڑے ہیں، چند باتیں عرض کی ہیں۔ اللہ پاک مجھے اور آپ سب کو دین کی صحیح سمجھ نصیب فرمائے اور عمل کی توفیق عطا فرمائے، وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

