بعد الحمد والصلوٰۃ۔ سب سے پہلے تو اس بات پر خوشی کا اظہار کرنا چاہوں گا کہ ’’الکہف‘‘ کے اس ادارے اور نظم کے تحت بچیاں اس قدر تعداد میں دینی تعلیم حاصل کر رہی ہیں، الحمد للہ، اللہ پاک مزید برکات سے نوازیں اور ترقیات و ثمرات سے بہرہ ور فرمائیں۔ پھر یہ ذوق کہ دین اور دینی تقاضے، اس کے ساتھ ساتھ دنیا کے ماحول اور آج کی جو عصری صورتحال ہے، اس سے واقف ہونے کا شوق، یہ بھی دین کا تقاضہ ہے۔ ہمارا بحیثیت ایک طالب علم کے اور دینی علم سے وابستگی کے حوالے سے ہماری یہ بھی ذمہ داری ہے کہ ہم دنیا کے ماحول سے واقف ہوں۔ ہمارے ہاں اس کے بارے میں اصولِ فقہ اور افتاء میں یہ بیان کیا جاتا ہے ’’من لم یعرف اھل زمانہ فھو جاہل‘‘۔ ایک عالمِ دین کو دین کے لٹریچر سے، علوم سے واقف ہونا بھی ضروری ہے۔ اور جو موجود زمانہ ہے، زمانے کی صورتحال سے واقف ہونا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ دین کی تطبیق معاشرے میں کرنی ہے، دینی مسائل کا نفاذ معاشرے میں کرنا ہے، تو جہاں نافذ کرنا ہے، محل سے واقف ہونا بھی ضروریاتِ دین میں سے ہے۔ اور ہمیں ماحول کے سارے پہلوؤں سے واقف ہونا چاہیے تاکہ اس ماحول کو سامنے رکھ کر ہم اپنے دینی اور تعلیمی فرائض سرانجام دے سکیں۔ بہرحال، اللہ تبارک و تعالیٰ یہ ذوق مبارک فرمائیں۔
سیاست کسے کہتے ہیں؟ اور پھر سیاست کا ہمارا اُصول کیا ہے، اہلِ دین کا؟ اور آج کی دنیا کا اصول کیا ہے؟ یہ تو بنیادی دو چیزیں میں آج عرض کرنا چاہوں گا۔ پھر کبھی موقع ملا تو اِن میں تضادات کیا ہیں، تقاضے کیا ہیں، اس میں تعارض کیا ہے، کشمکش کیا ہے، امکانات کیا ہیں، اور مستقبل کیا ہے؟ یہ بھی ایک مستقل موضوع ہے، کبھی موقع ملا تو اس پر بھی عرض کروں گا۔
سیاست کہتے ہیں معاشرے کے اجتماعی نظام کو چلانا اور اس کے لیے محنت کرنا۔ ریاست، معاشرے کے، سوسائٹی کے اجتماعی ماحول کو کنٹرول کرنا، چلانا، اس کے لیے محنت کرنا، یہ سادہ سی تعریف ہے سیاست کی۔ ویسے تو سیاست کی بہت لمبی چوڑی تعریفیں کی گئی ہیں۔ معاشرے کے نظام کو چلانا، اس کے لیے اپنے اصول وضع کرنا، اس کے لیے محنت کرنا، اس کے لیے نظام میں آگے بڑھنا، سیاست یہ ہے۔
پہلے نمبر پر میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ ہمارا نظام کیا ہے۔ شروع سے چلا آ رہا ہے۔ اللہ رب العزت نے زمین پر انسانی نسل کی آبادی کا آغاز کیسے کیا تھا؟ قرآن پاک اس کو بیان فرماتا ہے کہ آدم علیہ السلام اور حوا علیہا السلام، میاں بیوی۔ ’’اسکن انت و زوجک الجنۃ‘‘ (البقرۃ ۳۶)۔ میاں بیوی تو جنت میں ہی تھے۔ وہاں سے زمین پر اتارے۔ ’’اھبطوا منھا جمیعا‘‘ (البقرۃ ۳۸) ۔ ’’اھبطا منھا جمیعا‘‘ (طہ ۱۲۳) ۔ آدم علیہ السلام کو اور حوا علیہا السلام کو جنت سے زمین پہ اتارا گیا۔ نقطۂ آغاز یہ ہے۔
اُس وقت اللہ رب العزت نے اس جوڑے کو دو تین باتیں بنیادی طور پر فرمائی تھیں۔ ایک یہ ’’ولکم فی الارض مستقر ومتاع الیٰ حین‘‘ (الاعراف ۲۴)۔ زمین میں مستقر بھی ہو گا، رہنے کی جگہ ہو گی۔ ’’ متاع‘‘ زندگی کے اسباب بھی ہوں گے، جو زندگی کی ضروریات ہیں، ملیں گی۔ اور لمیٹڈ ہوں گی ’’الیٰ حین‘‘ ایک وقت تک۔ یہ تین باتیں زمین پہ اتارتے ہوئے اللہ پاک نے فرمایا۔ آج کی زبان میں اللہ پاک نے فرمایا: جاؤ زمین پہ رہو، روٹی، کپڑا، مکان ملے گا۔ اللہ رب العزت نے اتارتے ہی ساتھ ہی فرما دیا ’’مستقر‘‘ بھی ہو گا، ’’متاع‘‘ بھی ہو گا، لیکن ہو گا ’’الیٰ حین‘‘۔ ایک بات اور بھی فرمائی ’’بعضکم لبعض عدو‘‘ (الاعراف ۲۴)۔ جتنا عرصہ بھی زمین پہ رہو گے ایک دوسرے سے لڑتے رہو گے۔
یہ اللہ پاک نے چار باتیں پہلے دن فرما دی تھیں۔ لڑتے رہو گے، اور کھانا پینا ملے گا، ٹھکانہ ملے گا۔ ایک وقت ہو گا۔ ایک فرد کا ’’حین‘‘ ہے ساٹھ، ستر، اَسی سال۔ ایک انسانیت کا ’’حین‘‘ ہے قیامت تک۔ وہ بتایا نہیں۔ نہ یہ بتایا ہے، نہ وہ بتایا ہے۔ یہ باتیں فرما کر اللہ پاک نے فرمایا کہ مقصد کیا ہے، کیوں اتارا ہے تمہیں، دنیا میں کرنا کیا ہے؟ اس کو دوسرے لفظوں میں، انسانی سماج کا ایجنڈا کیا ہے؟ ’’فاما یاتینکم منی ھدًی فمن تبع ھدای فلا خوف علیھم ولاھم یحزنون۔ والذین کفروا وکذبوا باٰیاتنا اولئک اصحاب النار ھم فیھا خالدون‘‘ (البقرۃ ۳۸، ۳۹)۔ ہدایات میری طرف سے آئیں گی، اپنی مرضی نہیں کرنی۔ ڈائریکشن میں دوں گا، ہدایات میری طرف سے آئیں گی، اُن ہدایات کی پابندی ضروری ہو گی۔ ایجنڈا میں دوں گا۔ آج کی زبان میں، تمہیں دنیا میں رہ کر کرنا کیا ہے؟ ایجنڈا میں دوں گا۔ ہدایات ہوں گی اور ان ہدایات کی پابندی ضروری ہو گی۔ جو اُن ہدایات کی پابندی کرے گا وہ واپس آئے گا اپنے پرانے گھر میں۔ اور جو نہیں کرے گا وہ دوسرے گھر میں جائے گا۔ یہ سادہ سی، بنیادی بات، انسانی سماج ، جس کا آغاز جوڑے سے ہوا تھا۔
درمیان میں ایک بات اور کہہ دوں۔ یہ ایک مستقل جھگڑا ہے ہمارا فلسفے کا اور تاریخ کا کہ انسانی معاشرے کی، سماج کی بنیاد فرد پر ہے یا فیملی پر ہے۔ زیرو پوائنٹ فرد ہے یا فیملی؟ میں گزارش کیا کرتا ہوں کہ فرد نہیں، فیملی ہے۔ مغرب کا فلسفہ یہ کہتا ہے کہ فرد نقطۂ آغاز ہے، اس لیے وہ سارا نظام فرد کے گرد گھماتا ہے۔ انڈویجوئلزم۔ مغربی فلسفے کی بنیاد کیا ہے کہ انسانی سوسائٹی کا نقطۂ آغاز کیا ہے؟ فرد۔ فرد کی آزادی، فرد کے حقوق، اس کو انڈویجوئلزم کہتے ہیں۔ اور کہتے ہیں وہاں سے آغاز ہوا تھا، پورے مغربی فلسفے کا مدار فرد کی آزادی، فرد کے حقوق، فرد کے اختیارات پر ہے۔ لیکن ہمارا آغاز، قرآن پاک ہمیں بتاتا ہے کہ فرد سے نہیں، فیملی سے آغاز ہوا تھا۔ اس لیے ہم فیملی کے حوالے سے، اجتماعیت کے حوالے سے ساری باتیں سوچتے ہیں اور سب کچھ کرتے ہیں۔ ایک بنیادی فرق تو یہ ہے کہ فیملی آئی تھی۔
فرمایا ’’اما یاتینکم منی ھدًی‘‘۔ ہدایات میری طرف سے آئیں گی، ڈائریکشن میں دوں گا، اس کی پابندی ضروری ہو گی۔ ’’فمن تبع ھدای فلا خوف علیھم ولاھم یحزنون والذین کفروا وکذبوا باٰیاتنا اولئک اصحاب النار ھم فیھا خالدون‘‘ ۔ یہ انسانی سماج کا آغاز ہے اور اللہ پاک نے پہلے دن بتا دیا تھا کہ دنیا میں جو کچھ کرنا ہے وہ میری ہدایات کے مطابق کرنا ہے۔ اب اس پر یہ اصول قائم ہوا کہ دنیا میں انسان، فرد ہو، فیملی ہو، سوسائٹی ہو، ریاست ہو، وہ پابند ہیں کس کے؟ ’’اما یاتینکم من ھدًی‘‘۔ پابند ہیں۔ قرآن پاک پورے سماج کو پابند بناتا ہے۔
وہ ھدیً کیا ہے؟ ھدًی کا خلاصہ یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والتسلیمات اللہ کی طرف سے ہدایات لے کر آتے رہے۔ اور جس کو مکمل کیا قرآن پاک نے۔ آسمانی تعلیمات کا، آسمانی ہدایات کا فائنل ایڈیشن کیا ہے؟ قرآن پاک۔ اس لیے قرآن پاک نے اپنا تعارف ہی اس لفظ سے کروایا ہے ’’ذٰلک الکتاب لا ریب فیہ ھدًی للمتقین‘‘ (البقرۃ ۲) ۔ وہ ھدیً جو تھا نا، وہ یہ ہے۔ اس کا فائنل ایڈیشن، آخری مکمل ایڈیشن قرآن پاک۔
اس لیے ہمارے ہاں ہر نظام کی بنیاد وحی ہے۔ ایک جگہ اللہ رب العزت نے۔ یہ سارا جو فکری اور فلسفیانہ کشمکش ہے نا، دو تین جملوں میں اللہ پاک نے سارا منظر بیان کیا ہے۔ اصل موجودہ کشمکش شروع سے چلی آ رہی ہے۔ وہ کیا ہے؟ ’’ان یتبعون الا الظن وما تھوی الانفس ولقد جاءھم من ربھم الھدیٰ‘‘ (النجم ۲۳)۔ فرمایا ، یہ دو چیزوں کی پیروی کرتے ہیں: گمان کیا ہے اور خواہش کیا ہے؟ اس کا سادہ ترجمہ، ہم سوچتے کیا ہیں، چاہتے کیا ہیں، یہ آج کے فلسفے کی بنیاد ہے۔ ’’ان یتبعون الا الظن وما تھوی الانفس‘‘ ۔ دو چیزیں بنیاد ہیں، ہم سوچتے کیا ہیں اور ہم چاہتے کیا ہیں۔ فرمایا، یہ تمہاری بات ہے۔ ’’ولقد جاءھم من ربھم الھدیٰ‘‘۔ ہدایت اللہ کی طرف سے ہے۔ یعنی ہدایت والا نظام وحی کی بنیاد پر ہے۔ اور باقی نظام سوچ کی بنیاد پر، خواہش کی بنیاد پر ہیں۔
آج پوری دنیا کا یہ جو آزاد نظام کہلاتا ہے اور ڈیموکریسی کہلاتی ہے ۔ انسان سوچتا کیا ہے؟ سوسائٹی کیا سوچتی ہے، سوسائٹی کیا چاہتی ہے؟ ووٹ اور الیکشن تو صرف سوسائٹی کی خواہش معلوم کرنے کا ذریعہ ہے۔ ووٹ خود کوئی نظام نہیں ہے۔ ووٹ صرف ایک کام کرتا ہے کہ سوسائٹی کیا چاہتی ہے، یہ بتاتا ہے، سوسائٹی کیا سوچتی ہے، یہ بتاتا ہے۔ ووٹ کا اتنا ہی کردار ہے اور اس سے زیادہ کوئی کردار نہیں ہے۔ سوسائٹی جو چاہتی ہے اور سوسائٹی جو سوچتی ہے ۔ ’’ظن‘‘۔
ایک مغالطہ تھوڑا سا اور دور کر دوں۔ ظن کیا ہے؟ عقل کی بنیاد پر جو بات بھی آپ کریں گے۔ ذرا ایک بات نوٹ فرما لیں۔ عقل فرد کی ہو، سوسائٹی کی ہو، یا نسل کی ہو، اس کا آخری نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ جس چیز کے بعد مزید کا امکان ہو وہ یقین تو نہیں ہوتا۔ ظن اور یقین میں کیا فرق ہے؟ اور یقین کہاں سے آتا ہے؟ ظن کہاں رک جاتا ہے؟ ایک انسان سوچے، یا پارلیمنٹ سوچے، یا طبقہ سوچے، جو بھی سوچے گا، اس سے آگے سوچنے کا امکان باقی رہتا ہے یا نہیں رہتا؟ اگر آگے سوچنے کا امکان باقی ہے تو یہ یقین نہیں ہے۔ ظنِ غالب ہے۔ اللہ پاک فرماتے ہیں، تمہارے فیصلے عقل پر ہوتے ہیں، خواہش پر ہوتے ہیں، ہدایت میری طرف سے آتی ہے۔
اس بنیاد پر میں اگلی بات کرتا ہوں۔ ماضی کے اللہ رب العزت نے جن اچھے حکمرانوں کا ذکر کیا ہے۔ ایک تاریخ قرآن پاک نے ماضی کی بیان بھی کی ہے۔ مثلاً تورات، انجیل، زبور، قرآن پاک۔ ’’ولقد جاءھم من ربھم الھدیٰ‘‘ کے سب سے بڑے مظاہر چار ہیں: تورات ہے، انجیل ہے، زبور ہے، قرآن پاک ہے۔ اللہ رب العزت نے ان کا ذکر کیا۔ یہ اللہ کے احکام، اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحی ، یہ حکم کے لیے تھی۔ ’’انا انزلنا التوراۃ فیھا ھدًی و نور یحکم بھا النبیون‘‘ (المائدۃ ۴۴)۔ تورات صرف پڑھنے کی کتاب نہیں تھی، قانون کی کتاب بھی تھی۔ تورات کا ذکر کیا کہ تورات کیا ہے۔ ’’یحکم بھا النبیون‘‘۔ انبیاء کرامؑ حکومت کرتے تھے، فیصلے کرتے تھے، بنیاد کیا ہوتی تھی؟ تورات۔ جہاں زبور کا ذکر کیا، زبور نازل ہوئی حضرت داؤد علیہ السلام پر۔ ’’یا داوٗد انا جعلناک خلیفۃ فی الارض فاحکم بین الناس بالحق‘‘ (ص ۲۶)۔ زبور کی بنیاد بھی کیا ہے؟ حکومت، قانون۔ انجیل نازل کی، انجیل کا کیا ایجنڈا بیان کیا؟ ’’والیحکم اھل الانجیل بمآ انزل اللہ فیہ‘‘۔ تورات کا ایجنڈا بھی حکومت تھا، زبور کا ایجنڈا بھی حکومت تھا، انجیل کا ایجنڈا بھی حکومت تھا۔ یہ تینوں بیان کر کے پھر فرمایا ’’انا انزلنا الیک الکتاب بالحق لتحکم بین الناس بما اراک اللہ‘‘ (النساء ۱۰۵)۔ قرآن پاک کا ایجنڈا بھی یہی ہے۔
یہ ہے ھدًی۔ پہلے وحی آتی رہی، پھر کتاب آئی۔ کتاب ایک، دو، تین، پھر صحفِ ابراہیم و موسیٰ، بہت سارے ہیں۔ لیکن میں نے یہ عرض کیا کہ اسلام کا نظامِ اجتماعیت، سیاسی نظام کہہ لیں، کوئی کہہ لیں، اس کی بنیاد وحی الٰہی ہے۔ اسی لیے جب ہم حکومت کی تشکیل کی بات کرتے ہیں، نظام کی بات کرتے ہیں، تو ایک بنیادی مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ فائنل اتھارٹی کون ہے؟ سارے سسٹم میں فائنل اتھارٹی کون ہے؟ حاکمیتِ اعلیٰ کس کی ہے؟ آج کے نظاموں میں ’’حاکمیتِ اعلیٰ‘‘ جمہور کی ہے۔ جس کو وہ آخری اتھارٹی، پارلیمنٹ جو فیصلہ کر دے، بذریعہ نمائندے۔ اصل حاکمیتِ اعلیٰ کس کی ہے؟ عوام کی۔ بذریعہ کس کے؟ نمائندوں کے۔ عوام جو فیصلہ کر دیں، جو چاہتے ہیں ٹھیک ہے۔ عوام ایک بات کو صحیح سمجھتے ہیں، وہ صحیح ہے۔ غلط سمجھتے ہیں، غلط ہے۔ جائز سمجھتے ہیں، جائز ہے۔ ناجائز سمجھتے ہیں، ناجائز ہے۔ ذریعہ الیکشن ہے۔ تو یہ حاکمیتِ اعلیٰ کس کی ہے؟ جمہوریت کا معنی کیا ہے؟ عوام کی حکومت، عوام پر حکومت، عوام کے ذریعے حکومت۔ ہمارے ہاں نہیں ہے۔ حاکمیتِ اعلیٰ اللہ کی ہے۔ ہدایات اس کی ہیں۔ ’’اما یاتینکم منی ھدًی‘‘۔ اللہ کہہ رہا ہے ایجنڈا میں دوں گا، تم اپنی مرضی نہیں کرو گے۔ تو اسلام کے نظامِ حکومت اور نظامِ سیاست کی بنیاد کس پر ہے؟ اللہ کی حاکمیت پر۔ عوام کی حاکمیت نہیں۔ یہ ہماری بنیاد ہے۔
اس وقت ہمارے ہاں تین نظام عام ہیں، چار نظام سمجھ لیں۔ ایک تو بادشاہت ہے۔ بادشاہت، طاقتور خاندان جس نے قبضہ کر لیا ہے وہ بادشاہ ہے اور اس کی حکومت ہے۔ اس میں نہ ووٹ، نہ وحی، نہ کچھ نہ کچھ۔ طاقتور نے قبضہ کر لیا، جو انہوں نے چاہا، صحیح چاہا ہے تو صحیح ہے، غلط چاہا ہے تو [غلط]، لیکن جو انہوں نے چاہا ہے۔ بادشاہ کی صوابدید کا نام قانون ہے۔ ہم نے بھی ہزار سال کی ہے۔ یہ مغل بادشاہت تھی۔ ہزار بارہ سو سال ہم نے بھی کی ہے۔ یہ الگ بات ہے ہم چونکہ مسلمان تھے، ہم ترجیح اسلام کو دیتے تھے، لیکن بہرحال فیصلے کی اتھارٹی تو بادشاہ ہے۔ دوسرا پارلیمنٹ۔ ہمارے ہاں عالمِ اسلام میں تین نظام ہیں معروضی صورتحال میں۔ ایک تو بادشاہت ہے۔ سعودی عرب میں بادشاہت ہے۔ شاہی خاندان۔ امرِ مَلکی۔ وہاں آخری درجہ کیا ہے؟ امرِ مَلکی۔ بادشاہ کا حکم ہے جناب۔ بس خلاص، ہر چیز ختم۔ وہاں سب سے فائنل چیز کیا ہے؟ امرِ ملکی، بادشاہ کا آرڈر ہے جی، ٹھیک ہے۔ اور بادشاہ کون ہو گا؟ ابا جی، یا بیٹا جی، یا بھائی جان، یا بھتیجا جی۔ ایک خاندان کے افراد بادشاہ چلے آ رہے ہیں۔ سو سال سے وہی چلا آ رہا ہے۔
پاکستان میں ہمیں کیا درپیش آئی صورتحال جب پاکستان بنا۔ ہمارا ہزار بارہ سو سال کا دور تو بادشاہت کا ہے۔ طاقت ہمارے پاس تھی۔ مغلوں کے پاس تھی، تغلق کے پاس تھی، ایبک کے پاس تھی، محمود غزنوی کے پاس تھی۔ طاقت ہمارے پاس تھی، ہم نے ہزار بارہ سو سال نے حکومت کی ہے۔ پاکستان جب بنا تو ہمیں ایک عجیب مسئلہ پیش آگیا کہ پاکستان کا نظامِ حکومت کیا ہو گا۔ میں اسے پاکستان کے جمہور علماء کے اجتہادی فیصلوں میں شمار کیا کرتا ہوں۔ دو بنیادی فیصلے ہم نے کیے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد پاکستان کے اہلِ علم کو دو مسئلے بڑے سنگین پیش آ گئے تھے:
(۱) ایک یہ کہ اگر تو سعودیہ کی طرح بادشاہت کرنی ہے تو پھر قائد اعظم کا خاندان موجود ہے۔ ایک آپشن یہ تھا۔ نیا ملک تھا۔ بادشاہت ہے تو بادشاہت کس کی ہو گی پھر؟ قائد اعظم کی۔ ان کی بہن بھی تھی اور خاندان بھی تھا۔ اچھا، اگر جمہوریت کرنی ہے تو پھر پاکستان بنانے کی ضرورت کیا تھی؟ پاکستان کے سیاسی نظام اجتماعی نظام کی بنیاد کیا ہو گی، اس پر دو تین سال بحث ہوتی رہی کہ کیا کرنا ہے۔ متعارف نظام دو ہیں: یا بادشاہت، یا جمہوریت۔ وہ بھی شریعت اجازت نہیں دیتی، یہ بھی نہیں دیتی۔
تو ہم نے پھر ایک درمیانہ راستہ نکالا۔ یہ پاکستان کے علماء کرام کا، تمام مکاتبِ فکر کے، یہ اللہ کی مہربانی ہوئی ، کہ ہم پہ سب سے بڑا الزام یہ تھا کہ ان کا اسلام الگ الگ ہے، لیکن علماء نے، سب نے، جو بھی تھے، مل کر، اسلام ایک ہے ہمارا۔ تین بنیادیں طے کیں ہم نے۔ یہ جمہور علمائے پاکستان کا پہلا اجتماعی اجتہادی فیصلہ تھا۔ تین بنیادیں طے کیں:
- ہمارے دستور میں حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے۔ حاکمیتِ اعلیٰ ،حاکمیتِ مطلقہ کس کی ہے؟ اللہ کی۔
- اس کے بعد حکومت کا حق کس کو ہے؟ یہاں ہم نے ایک قدم بڑھایا کہ حقِ حکمرانی عوام کے منتخب نمائندوں کو ہے۔ یہ دوسرا اصول ہے۔
- تیسرا اصول یہ طے ہوا کہ حکمران قرآن و سنت کے پابند ہوں گے۔
اس کو کہتے ہیں ’’قراردادِ مقاصد‘‘۔ تین اصول ہیں: حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے۔ حقِ حکمرانی عوام کے منتخب نمائندوں کو ہے۔ اور ریاست، حکومت اور پارلیمنٹ پابند ہیں قرآن و سنت کے۔ یہ ہمارے ہاں ترتیب اختیار کی گئی۔ تمام مسائل کا اجتماعی حل نکالا گیا۔ اور قراردادِ مقاصد کی بنیاد پر پاکستان ایک اسلامی ریاست دستوری طور پہ کہلاتا ہے۔ اور دستور کی حد تک ہے بھی۔ عملاً ہم جو بھی ہیں۔ دستوری بنیادیں تینوں ٹھیک ہیں۔ اور عملاً؟ میں اس کو تعبیر کیا کرتا ہوں کہ ایک آدمی کلمہ پڑھ لے، بس کلمہ پڑھ لیا ہے، پڑھتا رہتا ہے، باقی سب کچھ اپنی مرضی سے کرتا ہے۔ ہم وہ مسلمان ہیں۔ جب تک قراردادِ مقاصد دستور کی بنیاد ہے، ہم ایک اسلامی ریاست تو اصولاً ہیں۔ کلمہ پڑھا ہوا ہے ہم نے۔ اور اب بھی پڑھتے رہتے ہیں۔ لیکن عملاً جو کچھ بھی ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔ یہ ایک الگ مسئلہ ہے۔ لیکن میں یہ عرض کرتا ہوں کہ ایک فیصلہ ہم نے یہ کیا۔ پاکستان کے تمام مکاتبِ فکر کے علماء، کسی کو پیچھے نہیں رہنے دیا۔ دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث، شیعہ، جماعت اسلامی، سب کا متفقہ فیصلہ یہ تین بنیادیں ہیں۔ اور یہ دستور کی بنیاد بھی ہے۔
(۲) دوسرا مسئلہ ہمیں درپیش ہوا تھا قادیانیت پر۔ بڑا سنگین مسئلہ تھا۔ ایک اسلامی ریاست میں، منکرینِ ختمِ نبوت، مرتد ہیں، ان کو رہنے کا حق ہے؟ اگر نہیں ہے تو اِن سب کو قتل کریں گے؟ ہم یہاں پھنس گئے تھے آ کر۔ منکرینِ ختم نبوت کو حضرت صدیق اکبرؓ نے تو حق نہیں دیا تھا۔ ہمارا اصل روایتی فیصلہ کیا ہے؟ توبہ کرو، ورنہ ہم ’’توبہ‘‘ کرا دیں گے۔ لیکن یہاں یہ ممکن نہیں تھا۔ تو یہاں ہم نے اقبالؒ کی تجویز قبول کی کہ غیرمسلم اقلیت قرار دے کر غیر مسلم کے ٹائٹل کے ساتھ ملک کا شہری رہ سکتے ہیں۔ یہ ہمارا دوسرا بڑا اجتہادی فیصلہ تھا اجتماعی۔ اور اللہ کی قدرت، اس میں بھی سب شریک تھے۔ بطور غیر مسلم، مسلمان کے ٹائٹل کے ساتھ نہیں، غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ بطور غیر مسلم کے ملک کے شہری ہوں گے، اور جو شہریوں کے حقوق ہیں اِن کے ہوں گے۔ وہ اس کو تسلیم نہیں کر رہے، جھگڑا جاری ہے۔ تو یہ میں نے عرض کیا۔
ایک لطیفہ اور عرض کر دیتا ہوں۔ ہمارے ہاں تو حاکمیت ِاعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے۔ اسلام کے ٹائٹل کے ساتھ، مذہبی عنوان کے ساتھ ایران نے بھی دستور بنایا ہے۔ وہاں حاکمیتِ اعلیٰ کس کی ہے؟ نہ جمہور کی، نہ اللہ کی۔ میں نے پورا سٹڈی کیا ہے ،وہاں جا کے کیا ہے۔ ایران کے دستور پہ بہت لکھا ہے میں نے۔ وہاں حاکمیتِ اعلیٰ امامِ غائب کی ہے۔ ایران کے دستور میں سب سے پہلی بنیاد یہ ہے کہ حاکمیتِ اعلیٰ امامِ غائب کی ہے۔ اب امام تو غائب ہے، تو حکومت کون کرے گا؟ آپ نے ایک اصطلاح سنی ہو گی ’’ولایتِ فقیہ‘‘۔ ملک کے منتخب فقہاء جس کو لیڈر بنا لیں وہ امامِ غائب کا نمائندہ ہے۔ اس کا ٹائٹل ہے ولایتِ فقیہ۔ اس کو امامِ غائب کے تمام اختیارات حاصل ہیں، جب تک امامِ غائب ظاہر نہیں ہو جائیں گے۔ میں کسی خطیب کی تقریر نہیں نقل کر رہا، دستور نقل کر رہا ہوں۔ دستور کا فرق تو سمجھ میں آنا چاہیے نا۔ حاکمیتِ اعلیٰ امامِ غائب کی ہے۔ امام کی جو غیبوبت کا دور ہے، اس میں امام کے نمائندہ کون ہوں گے؟ ولایتِ فقیہ۔ ’’ولایتِ فقیہ‘‘ کیا ہے؟ ملک میں، شوریٰ نگہبان کہتے ہیں اسے۔ اس میں چھ چوٹی کے علماء ہیں، اور میرا خیال ہے پانچ یا چھ چوٹی کے قانون دان ہیں، اس کو شوریٰ نگہبان کہتے ہیں۔ نگران شوریٰ، سب سے اوپر ہے یہ۔ اور وہ جس کو رہبر منتخب کر لے۔ پہلے خمینی صاحب تھے۔ اب کون ہیں؟ خامنہ ای صاحب۔ اب وہ زیادہ ضعیف ہو گئے، اب نئے کی تلاش ہو رہی ہے، وہی شوریٰ نگہبان۔ شوریٰ نگہبان کے ساتھ ہماری ایک مستقل، دو گھنٹے کی ہم نے ان کے ساتھ میٹنگ کی ہے۔ ۱۹۸۷ء میں ہم گئے تھے۔
خیر، یہ لمبی بات نہ ہو جائے۔ لیکن میں نے ایک فرق بتایا ہے کہ بنیاد ہوتی ہے دستور کی کہ حاکمیت ِاعلیٰ کس کی ہے، فائنل اتھارٹی کون سی ہے، کس کے فیصلے کو آگے اپیل نہیں کیا جا سکتا؟ جمہوریت میں پارلیمنٹ ہے۔ ہمارے دستور کے مطابق اللہ تبارک و تعالیٰ ہیں اور اس کا اظہار قرآن و سنت کی شکل میں ہے۔ اور ایران کے دستور میں کون ہیں؟ امامِ غائب۔
اچھا، اب تیسری بات، حقِ حکمرانی۔ حکومت کی تشکیل کیسے ہو گی؟ اس کا ایک تو، فقہاء نے جو خلافت کے انتخاب کی صورتیں بیان کی ہیں، خلیفہ کیسے منتخب ہو گا۔ لیکن ایک سوال میرا ہوتا ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں جو حکومت تھی، اس کو ہم ریاستِ مدینہ کہتے ہیں۔ خلافت تو حضورؐ کے بعد شروع ہوئی ہے نا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں حضورؐ کی حکومت قائم ہوئی تھی، آٹھ سال، نو سال، وصال تک رہی ہے، اس کو ہم کیا کہتے ہیں؟ ریاستِ مدینہ۔ وہ پھر منتقل ہوئی تھی حضرت صدیق اکبرؓ کو، اس کو ہم خلافت کہتے ہیں۔ یعنی دو دور ہوئے نا۔ یہاں میں ایک بات پوچھا کرتا ہوں کہ ریاستِ مدینہ حضورؐ نے قائم کی تھی، ابتدا میں یثرب اور اس کے گرد و نواح پر، حضورؐ نے قبضہ کر کے قائم کی تھی؟ ریاستِ مدینہ کی تشکیل قبضہ کر کے ہوئی تھی؟ لڑائی کر کے ہوئی تھی؟ کیسے ہوئی تھی؟ یہ تو مہاجر تھے، چھپتے چھپاتے آئے تھے، آتے ہی حکومت کیسے بن گئی؟ یہ بڑا بنیادی سوال ہے۔ چھپتے چھپاتے، چار اُدھر سے، پانچ اُدھر سے، رات کو سفر کرتے ہیں، دن کو نہیں کرتے، ڈرتے ڈراتے، چھپتے چھپاتے آئے ہیں۔ اور آ کے پہنچے، حکومت بن گئی، یہ کیسے بن گئی؟
اس پر ایک لطیفہ نما واقعہ بھی ہے، بخاری شریف کی روایت عرض کرتا ہوں۔ بخاری شریف نے بڑے مزے سے یہ قصہ بیان کیا ہے۔ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے۔ ہجرت کے بعد کا اور بدر سے پہلے کا۔ سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، یہ سردار تھے خزرج کے۔ بنو اوس کے سردار سعد بن معاذؓ تھے۔ دونوں سعد تھے اور واقعتاً سعد تھے۔ یہ پہاڑی علاقے پہ رہتے تھے، حضورؐ ان کی بیمار پرسی کے لیے گئے تو وہاں راستے میں ایک اجتماع تھا۔ کوئی غمی خوشی کا، علاقے کا محلے کا کوئی اجتماع تھا۔ مسلمان بھی اس میں بیٹھے ہوئے تھے، اس میں یہودی بھی تھے، دوسرے بھی تھے۔ عبد اللہ بن اُبی بھی بیٹھا ہوا تھا۔ عبد اللہ بن اُبی نے ابھی کلمہ نہیں پڑھا تھا۔ پڑھا بعد میں بھی نہیں تھا۔ لیکن ابھی رسماً بھی کلمہ نہیں پڑھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جا رہے ہیں سعد بن عبادہؓ کی بیمار پرسی کے لیے۔ حضورؐ کا معمول تھا ، جہاں کوئی اجتماع دیکھتے تھے تو فائدہ اٹھاتے تھے۔ ’’بزرگو دوستو‘‘ کرتے تھے وہاں۔ جہاں کسی حوالے سے بھی لوگ جمع ہوتے تھے، حضورؐ وہاں کچھ نہ کچھ ’’بزرگو، دوستو‘‘ کرتے تھے۔ حضورؐ کھڑے ہو گئے۔ خشک موسم تھا، خچر پر سوار تھے، دھول اڑ رہی تھی۔ یہ پاس سے گزرے تو دھول اڑی اور لوگوں کی ناک تک گئی تو عبد اللہ بن اُبی نے نفرت سے ناک پہ رومال رکھا: ’’وہ ادھر چل کے، ہمارے ناک میں کیوں غبار گھسیڑ رہے ہو، اُدھر ہو کے چلو‘‘۔ پھر حضورؐ کھڑے ہو گئے۔ حضورؐ نے، جو معمول تھا، قرآن پاک پڑھا، دعوت دی۔ اس پر عبد اللہ بن اُبی نے کہا: او بھائی۔ ’’یا رجل‘‘۔ ’’یہ باتیں اچھی ہوں گی، اپنے گھر میں کیا کرو، ہمیں نہ آ کے سنایا کرو، یہاں ہماری مجلسوں میں مت آیا کرو، تمہارے پاس کوئی آئے، سناؤ اس کو‘‘۔ اتفاق کی بات، عبد اللہ بن رواحہؓ وہاں سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ ان کو غصہ آیا، انہوں نے کہا تو کون ہے روکنے والا؟ یا رسول اللہ! فرمائیں، ہم سنیں گے۔ دو عبد اللہ لڑ پڑے وہاں۔ روایت میں یہ ہے کہ ایک دوسرے پر کود پڑے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی مشکل سے چپ کروایا لوگوں کو ۔ آرام سے بیٹھو، میری بات سنو نہ سنو، لڑو تو نہیں نا۔
یہ واقعہ ہو گیا۔ واقعہ کے بعد حضورؐ گئے سعد بن عبادہؓ کے پاس۔ وہ عبد اللہ بن اُبی بھی خزرجی تھا۔ اس کے سردار بھی سعد بن عبادہؓ تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شِکوے کے انداز میں ، تمہیں پتہ چلا ہے ’’ما فعل ابو الحباب؟‘‘۔ ابو الحباب، عبد اللہ بن اُبی کی کنیت تھی۔ آپ کو پتہ چلا کیا کیا اس نے؟ انہوں نے کہا ، جی چل گیا ہے پتہ۔ مجھے رپورٹ مل گئی ہے کہ راستے میں۔ حضورؐ نے شکوے کے انداز میں کہ میں نے دو باتیں کی ہیں اور یہ حرکت کر دی ہے اس نے۔ سعد بن عبادہؓ نے پھر ایک بات کی، اصل ساری کہانی یہ بات سنانے کے لیے ہے۔ یا رسول اللہٓ! عبد اللہ بن اُبی نے جو کچھ کیا وہ غلط کیا، مجھے پتہ چل گیا، بہت بری حرکت کی ہے، لیکن عبد اللہ بن اُبی کے ساتھ جو ہوا ہے وہ بھی تو آپؐ کو پتہ ہو گا نا۔
سعد بن عبادہؓ کہہ رہے ہیں کہ آپؐ کے آنے سے پہلے ’’اھل ھذہ البحیرہ‘‘۔ یہ سمندری پٹی۔ یہ ینبع سے مدینہ تک پوری پٹی ہے۔ ’’اھل ھذہ البحیرہ‘‘ ۔ اِس بحیرہ کے، اس سمندری پٹی کے قبائل نے آپس میں فیصلہ کر لیا تھا کہ ہم نے باقاعدہ حکومت قائم کرنی ہے، ہم نے ایک ریاست بنانی ہے۔ قبائلی نظام تھا پہلے۔ حکومت قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا، حدود طے کر لی تھیں، اور عبد اللہ بن اُبی کو حاکم منتخب کر لیا تھا، صرف دستار بندی باقی تھی۔ ’’یعصبونہ اور یتوجونہ‘‘۔ دستار بندی باقی تھی، باقی فیصلے ہو چکے تھے۔ آپؐ تشریف لے آئے، اُس کی حکومت گئی۔ یہ ہوا ہے اُس کے ساتھ۔ سارے معاملات، میں کہا کرتا ہوں، الیکشن ہو گیا تھا، حلف اٹھانا تھا۔ ’’یعصبونہ اور یتوجونہ‘‘۔ اس کی تیاری کر رہے تھے کہ اس کو تاج پہنائیں گے یا دستار بندی کریں گے۔ آپؐ آ گئے۔ اب وہ غصہ نکال رہا ہے۔ ساری زندگی غصہ ہی نکالتا رہا۔
یہ ریاست تھی، ریاستِ مدینہ کا آغاز۔ ’’اہل ھذہ البحیرہ‘‘۔ اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال، کتنے عرصے کے بعد، دس سال کے بعد ہے؟ اُس وقت ریاست کا دائرہ کیا تھا؟ یمن بھی اس میں تھا، بحرین بھی اس میں تھا، نجد بھی اس میں تھا، نجران بھی اس میں تھا۔ یہ پوری جزیرۃ العرب۔ حضورؐ نے جو اقتدار منتقل کیا ہے صدیق اکبرؓ کو، پورے جزیرۃ العرب کا تھا۔ یہ ریاست کیسے قائم ہوئی ہے؟ ایک بات۔
اس کے لیے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا محنت کی ہے؟ ذرا وہ اس میں شامل کر لیں۔ انصارِ مدینہ دو سال گئے ہیں حج پہ۔ بیعت عقبۂ اولیٰ، بیعت عقبۂ ثانیہ۔ بیعت عقبۂ اولیٰ میں بارہ آدمی تھے۔ بیعت عقبۂ ثانیہ میں سترہ آدمی تھے۔ ان میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہ نقیب مقرر کیے ہیں۔ یہ نقیب اور یہ نمائندے دو سال کیا کرتے رہے ہیں؟ اس کی سیاسی تعبیر یہ ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی دعوت پر آنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور ہوم ورک کے لیے یہ بارہ آدمی منتخب کیے تھے جنہوں نے پورے علاقے کے لوگوں کو اعتماد میں لیا تھا۔ دو سال ہوم ورک ہوا ہے۔ نقباء نے کیا ہے۔ ان میں عبادہ بن صامت بھی ہیں، رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ اور بھی ہیں۔ دو سال کی محنت۔ ورنہ یہ ممکن نہیں ہے کہ ستر اَسی مہاجر آئے ہیں، آ کر حکومت بنا لی۔ کیسے بن گئی؟ جب پوری تسلی کی رپورٹ ملی ہے تو پھر حضورؐ نے آمد کا فیصلہ کیا ہے۔
اس پر ایک اور روایت شامل کر لیں، بخاری ہی کی ہے۔ آخری بیعت ہوئی ہے نا، منیٰ کے غار میں، سعد بن معاذؓ بھی ہیں، سعد بن عبادہؓ بھی ہیں، سردار سارے بیعت کر رہے ہیں، فائنل ہو رہا ہے کہ حضورؐ اب تشریف لائیں گے۔ تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ، جناب ابو طالب کی طرح، اُنہوں نے تو کلمہ نہیں پڑھا، لیکن اِنہوں نے بہت آخر میں پڑھا ہے، فتح مکہ کے قریب پڑھا ہے کلمہ انہوں نے، لیکن اُس میں بھی بھتیجے کے ساتھ تھے۔ حضرت عباسؓ اُس زمانے میں بھی حضورؐ کے ساتھ تھے۔ کئی واقعات، ان میں ایک یہ بھی ہے۔ غار میں خفیہ مذاکرات ہیں انصارِ مدینہ کے نمائندوں کے ساتھ۔ خفیہ مذاکرات ہیں، جس میں یہ طے ہو رہا ہے کہ کب جانا ہے ، کہاں جانا ہے، اُس میں عباسؓ حضورؐ کے ساتھ تھے۔ سعد بن معاذؓ نے حضورؐ سے کہا ، یا رسول اللہ، ٹھیک ہے فیصلہ ہے، تشریف لائیے آپ۔
عباسؓ نے سعد بن معاذؓ کو ٹوکا۔ سعد! کیا کہہ رہے ہو؟ تم میرے بھتیجے کو یثرب آنے کی دعوت دے رہے ہو، تمہیں پتہ ہے اِس کا مطلب کیا ہے؟ پاؤں میں وزن ہے؟ یہ عباسؓ نے سوال کیا سعد بن معاذؓ سے۔ بیعت عقبۂ ثانیہ میں۔ غار میں بیٹھ کر۔ سوچ کے بات کرو کیا کر رہے ہو، پورے جزیرۃ العرب سے لڑنا پڑے گا تمہیں۔ میرے بھتیجے کو دعوت دینا ایسے آسان نہیں ہے۔ سوچ کے بات کرو۔ اگر سنبھال سکتے ہو تو بات کرو، ورنہ ہم ان کے دفاع کے لیے ہاشمی کافی ہیں۔ وہ حضورؐ کے ساتھ کس بنیاد پر تھے؟ ہاشمیت ہونے کے۔ ابو طالب بھی ساتھ تھے، عباسؓ بھی ساتھ تھے۔ یہ جملہ فرمایا کہ سعد! ہوش سے بات کرو ، اگر سنبھال سکتے ہو، پورے جزیرۃ العرب سے لڑنا پڑے گا تمہیں۔ سنبھال سکتے ہو تو بات کرو، ورنہ حفاظت کے لیے ہم کافی ہیں۔ سعد بن معاذؓ نے کہا، عباس! میں سوچ سمجھ کے بات کر رہا ہوں، مجھے پتہ ہے کیا ہو گا۔ ہم تیار ہیں اور ہم نے فیصلہ کر لیا ہے۔ سارے نتائج میرے سامنے ہیں، کیا ہو گا ، کیا کرنا ہے، کیا نہیں ہونا۔
یہ پس منظر ہے ریاستِ مدینہ کا۔ ریاستِ مدینہ کا پس منظر ذہن میں آیا کہ ریاستِ مدینہ قائم کیسے ہو گئی اور پھر بڑھتے بڑھتے بڑھتے آٹھ نو سال میں پورے عرب کو گھیرے میں کیسے لے لیا۔
پھر خلافت کیسے قائم ہوئی تھی؟ حضرت صدیقِ اکبرؓ نے قبضہ کیا تھا؟ انہوں نے دعویٰ بھی نہیں کیا۔ دونوں بابے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کہتے ہیں، وہ کہتے ہیں اِس کی بیعت کرو، وہ کہتے ہیں اِس کی بیعت کرو۔ حضرت صدیق اکبرؓ نے خلافت کے قیام کے لیے قبضہ کیا تھا، لڑائی لڑی تھی؟ اس وقت مدینہ منورہ میں جو طبقات موجود تھے اُن طبقوں کے درمیان تین دن مذاکرات ہوتے رہے۔ انصار کے الگ، مہاجرین کے الگ، پھر سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار اور مہاجرین کے۔ اور سب سے آخر میں کس طبقے کو اعتماد میں لیا گیا ہے، تین دن کے بعد؟ اہلِ بیت کو۔ واقعات تو ہم پڑھتے ہیں، واقعات کا پس منظر بھی دیکھیں نا۔ تیسرے دن حضرت علیؓ نے بیعت کی تھی۔ کیا شِکوہ کر کے کی تھی؟ بخاری میں روایت ہے ساری۔ بخاری سب کچھ بیان کرتا ہے، ہم پڑھیں سہی۔ سقیفہ بنی ساعدہ میں بیعت ہو گئی۔ انصار نے بھی کر لی، مہاجرین نے بھی کر لی۔ اہل ِبیت میں سے کوئی نہیں تھا وہاں۔ باتیں چلیں، بھئی اصل فیملی تو وہ ہے، پیچھے کیوں رہ گئے؟ ان کی گفتگو ہوئی آپس میں۔ جو مسجد نبوی میں تیسرے دن ظہر کے بعد اجتماع میں حضرت علیؓ نے اٹھ کے، حضرت علیؓ کے الفاظ ہیں کہ ہم نے بھی امام اسی کو بنانا تھا جس کو حضورؐ نے ہماری نماز کا امام بنایا تھا لیکن ہمیں اعتماد میں تو لو۔ ہمارا شِکوہ یہ نہیں ہے کہ ہمیں خلافت نہیں دے رہے، ہم بھی یہیں رہتے ہیں یار، ہم سے پوچھو تو سہی۔ اہلِ بیت کے پورے نظام کو، پورے طبقے کو، میرا شِکوہ یہ ہے کہ آپ نے ہمیں اس قابل نہیں سمجھا کہ ہم سے پوچھیں۔
حضرت صدیق اکبرؓ نے وہاں خطاب فرمایا، بھئی! میت گھر میں ہو تو گھر والوں کو کسی اور کام میں نہیں لگایا جاتا۔ جس گھر میں میت ہو، اس گھر والوں کو کسی اور کام میں مصروف نہیں کیا جاتا۔ اس لیے ہم نے تمہیں نہیں چھیڑا، اب جو کہتے ہو کر لیتے ہیں۔ ہاتھ پکڑائیں، بیعت کرتے ہیں۔
یہ بات میں نے کہی ہے کہ تین دن تک مسلسل مذاکرات ہوتے رہے مختلف طبقات کے درمیان ، شکوے شکایتیں، دعوے۔ سعد بن عبادہؓ کو تو بنا لیا تھا انصار نے۔ وہ تو یہ پہنچ گئے۔ تو میرا بنیادی سوال یہ ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت قبضہ کر کے ہوئی تھی، دعویٰ کر کے ہوئی تھی، یا مفاہمت کے نتیجے میں ہوئی تھی؟ ریاستِ مدینہ بھی مفاہمت پہ بنی ہے۔ خلافتِ صدیق اکبرؓ کس پہ بنی ہے؟ باہمی اعتماد اور مفاہمت پہ۔
اب آج کی گفتگو کی آخری بات عرض کرتا ہوں۔ فقہاء کی طرف چلتے ہیں۔ انعقادِ خلافت کی کتنی صورتیں بیان کی ہیں انہوں نے۔ آج کے دور کو سامنے رکھ کر۔ پانچ صورتیں بیان کی ہیں۔ ہماری اصطلاح ہے، انعقادِ خلافت کی کیا شکل ہو گی، یعنی حکومت کی تشکیل کیسے ہو گی؟ فقہاء نے، تقریباً سب فقہاء نے، شامیؒ نے بھی یہی لکھا ہے، شاہ ولی اللہؒ نے بھی یہی لکھا ہے، باقی فقہاء بھی۔ پانچ صورتیں ہیں:
- پہلی بیعتِ عامہ، یعنی معاشرے میں موجود تمام طبقوں کو اعتماد میں لے کر۔ اور مثال حضرت صدیق اکبرؓ۔ سب سے پہلی صورت خلافت کے انعقاد کی ہے کہ لوگوں کے تمام طبقات کے اعتماد کے ساتھ کسی کو منتخب کیا جائے۔
- دوسری صورت، وصیت۔ حضرت صدیق اکبرؓ نے وصیت کی تھی کس کو؟ حضرت عمرؓ کو۔
- تیسری صورت انعقادِ خلافت کی فقہاء کیا بیان فرماتے ہیں؟ ایک کمیٹی بنا دی جائے۔ حضرت عمرؓ نے اپنے بعد خلیفہ کے انتخاب کے لیے کیا کیا تھا؟ کتنے ممبر تھے؟ چھ تھے یا ساڑھے چھ تھے؟ ساڑھے چھ تھے۔ چھ آدمی مقرر کیے تھے کہ ان میں سے خلیفہ منتخب کرنا ہے۔ عبد اللہ بن عمرؓ کو کہ یہ تمہارے ساتھ مشورے میں شریک ہو گا، خلیفہ نہیں بنے گا۔ یہ آبزرور ہو گا۔ اس کا ووٹ نہیں ہے۔ یہ کہا، عبد اللہ بن عمرؓ کو کہ یہ ساتھ مشاورت میں شریک ہو گا لیکن خلیفہ نہیں بنے گا یہ۔ یہ تیسری صورت۔ حضرت عثمانؓ اس سے بنے تھے۔
- حضرت علیؓ کیسے بنے تھے؟ چوتھے خلیفہ بنے تھے، ساری امت مانتی ہے، ہم بھی مانتے ہیں۔ خلیفہ بنے کیسے تھے؟ جب ان کی خلافت کی بیعت کرنے سے کچھ حضرات نے انکار کیا تو حضرت علیؓ نے اپنی خلافت کے انعقاد کا جواز کیا پیش کیا تھا؟ کچھ یاد ہے؟ فرمایا تھا کہ اصحابِ شوریٰ جو مدینہ میں موجود تھے اُنہوں نے میری بیعت کی تھی۔ مجھے شوریٰ نے منتخب کیا ہے۔ اور مدینہ منورہ میں حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد جو اصحابِ شوریٰ موجود تھے، انہوں نے ہی منتخب کیا تھا۔ چوتھا طریقہ کیا ہے؟ اصحابِ شوریٰ کسی کو منتخب کر لیں۔
- پانچویں صورت، فقہاء نے جو لکھی ہے۔ کوئی اہل آدمی اقتدار پہ قبضہ کر لے۔ ہو اَہل۔ دو شرطیں ہیں: (۱) خلافت کا اہل خلافت پہ قبضہ کر لے۔ (۲) اور امت اسے قبول کر لے۔ریفرنڈم ہو جائے یا الیکشن ہو جائے۔ امت قبول کر لے۔ حضرت معاویہؓ کی خلافت۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ، حضرت علیؓ کے زمانے میں مقابل امیر کے طور پر ان کا شمار کیا جاتا ہے، اور ان کو خطا پر کہا جاتا ہے۔ حضرت معاویہؓ امیر المومنین متفقہ بنے ہیں حضرت حسنؓ کی بیعت کے بعد۔ حضرت حسنؓ کی بیعت کو ہمارے فقہاء کیا شمار کرتے ہیں؟ امت کا قبول کرنا۔ اب کوئی مدِ مقابل رہا نہیں تھا۔ ساڑھے انیس سال حکومت کی ہے۔ تو یہ کونسی ہے کہ قبضہ کر کے حکومت قائم کرنا۔ لیکن دو شرطیں ہیں۔ پہلی شرط کیا ہے؟ خود خلافت کا اہل ہو۔ اور دوسری شرط یہ ہے کہ اس کے قبضے کو امت تسلیم کر لے، جس صورت میں بھی کر لے۔
یہ پانچ صورتیں فقہاء نے لکھی ہیں۔ ان میں سے آج کے دور میں قابلِ عمل کون کون سی ہے؟ وصیت والی تو گئی کہ خلیفہ ہو گا تو وصیت کرے گا نا۔ خلیفہ ہے جو کسی کو مقرر کرے؟ شوریٰ کس نے بنانی ہے؟ کمیٹی کس نے بنانی ہے؟ یہ درمیان والے تین تو گئے۔ اس کے لیے خلافت کا موجود ہونا ضروری ہے۔ اس لیے آج کے دور میں پہلا یا آخری۔ کسی مسلمان ملک کی پارلیمنٹ، منتخب لوگ، پوری قوم کے اعتماد کے ساتھ خلافت کا اعلان کریں اور منتخب کریں، ایک راستہ یہ ہے۔ اور دوسرا، کوئی قبضہ کرے، ہو اَہل، اور امت قبول کر لے۔ تیسری صورت آج کے دور میں کوئی قابلِ عمل نہیں۔ اللہ کرے کوئی صورت نکل آئے۔
میں نے آج کی گفتگو میں یہ چند باتیں کی ہیں۔ بہرحال آج دنیا میں کشمکش یہی ہے۔ ہم اپنے درمیان کے راستے پہ کھڑے ہیں، قراردادِ مقاصد پر۔ حکومت کا ایک نظام سیاسی ہے، ووٹ ہوتے ہیں لوگوں کے۔ ایک نظام جماعتی بھی ہے، جن میں پبلک الیکشن نہیں ہوتے، کمیونسٹ پارٹی حکومت کرتی ہے۔ یا بادشاہت ہے۔ (۱) جمہوری حکومت (۲) بادشاہت (۳) پارٹی گورنمنٹ۔ کمیونسٹ ملکوں میں پارٹی گورنمنٹ ہے۔ چین میں، روس میں پارٹی حکومت کرتی ہے، جو پارٹی ہے وہی کرے گی۔ (۴) یا پھر ہمارا، اگر عملاً ہو جائے تو ایک اسلامی ریاست بن جائے گی۔ اللہ کرے۔ لیکن دستوری طور پر یہ اسلامی ریاست ہے۔ عملاً اللہ پاک ہمیں توفیق عطا فرمائے۔ یہ میں نے ایک مختصر سی کمنٹری کی ہے صورتحال پر۔ باقی کبھی موقع ملا تو باقی باتیں بھی ان شاء اللہ۔

