حیا اور سنتِ نبویؐ

   
مرکزی جامع مسجد، شالیمار ٹاؤن، گوجرانوالہ
۲۴ ستمبر ۲۰۲۶ء

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ابھی یہاں حاضر ہوا تو جامع مسجد کے خطیب مولانا محمد لقمان شمس سے گوجرانوالہ کے لہجے میں پوچھا کہ گفتگو کا کوئی موضوع متعین ہے یا   فری سٹائل گفتگو کرنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ’’حیا اور سنت ِنبویؐ‘‘ کے حوالہ سے بات ہو جائے تو بہتر ہے، تو اسی کے بارے میں چند باتیں ترتیب کے ساتھ عرض کرنا چاہوں گا۔

پہلی بات یہ کہ ’’حیا‘‘ کیا ہے؟ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جنت میں حضرت آدم علیہ السلام اور حوا علیہا السلام کے قیام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ان سے کہا گیا تھا کہ جنت میں جو چیز چاہو کھاؤ مگر ایک مخصوص درخت کے قریب جانے سے منع کر دیا گیا۔ مگر جب انہوں نے اس درخت کا پھل چکھا تو اس کے ساتھ ہی ان کے جسم سے جنت کا لباس اتر گیا اور وہ ننگے ہو گئے جس پر انہوں نے بے ساختہ درختوں کے پتے توڑ کر اپنی شرم گاہوں کو ڈھانپنا شروع کر دیا۔ اس سے دو تین باتیں سمجھ میں آتی ہیں۔

ایک یہ کہ وہ جنت میں بے لباس نہیں تھے بلکہ لباس میں تھے جس سے ان کی شرم گاہیں ڈھکی ہوئی تھیں۔ دوسری بات یہ کہ انہیں کسی نے درختوں کے پتے توڑ کر اپنے جسم کو چھپانے کا نہیں کہا تھا بلکہ وہ خود ہی بے ساختہ ایسا کرنے لگے تھے۔ اور تیسری بات یہ کہ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ اس حالت میں انہیں کوئی دیکھ لے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی اصل لباس ہے اور ننگا ہونا اس کی فطرت کے خلاف ہے۔ اور یہ جذبہ کہ انسان اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ اسے اس حالت میں کوئی دیکھ لے، جس کو نیچر اور فطرت کہتے ہیں، جبکہ آج کی دنیا میں لباس کو تکلف اور بے لباسی کو نیچر سے تعبیر کیا جا رہا ہے جیسا کہ نیچرل کلبوں میں عام طور پر دیکھا جاتا ہے۔ قرآن کریم اس کی نفی کرتے ہوئے لباس اور ستر کو انسان کی فطرت اور نیچر قرار دیتا ہے اور اس سے انسان کو محروم کر کے بے لباس کر دینے کو شیطان کی کارروائی بتاتا ہے۔

دوسری بات یہ کہ دنیا میں آنے کے بعد بھی آدم علیہ السلام کی اولاد کو سب سے زیادہ خبردار اسی خطرہ سے کیا گیا کہ ’’لا یفتننکم الشیطان‘‘ تمہیں شیطان پھر فتنہ میں نہ ڈال دے جیسے تمہارے ماں باپ حضرت آدم و حوا علیہما السلام کو بے لباس کر دیا تھا، تمہیں بھی دنیا میں اس طرح بے لباس نہ کر دے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جنت میں تمہیں بے لباس کرنے سے اس کا مقصد جنت سے نکلوانا تھا اور اب دنیا میں وہ یہ کام جنت میں واپس جانے سے روکنے کے لیے کرے گا، اس لیے اس سے ہوشیار رہنا۔ اسلامی تہذیب اور کفر کی تہذیب میں یہی فرق ہے کہ اسلام لباس اور حیا کو تہذیب و ثقافت کی بنیاد قرار دیتا ہے جبکہ کفر کی تہذیب بے لباسی اور عریانی کو تہذیب و ثقافت کی علامت کے طور پر پیش کرتی ہے۔

تیسری بات یہ کہ قرآن کریم نے لباس کے چار مقاصد بیان کیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے تم پر لباس اتارا ہے (۱) جو تمہاری شرم گاہوں کو ڈھانپتا ہے (۲) تمہارے لیے زینت ہے (۳) تمہیں سردی گرمی سے بچاتا ہے اور (۴) تمہیں ایک دوسرے کی پکڑ سے محفوظ رکھتا ہے۔ یعنی لباس پردے کی جگہوں کو ڈھانپنے کے لیے ہے، زینت کے لیے ہے، موسمی اثرات سے حفاظت کے لیے ہے اور دشمن کے حملے سے بچاؤ کے لیے ہے، اور جو لباس اِن مقاصد کو پورا نہیں کرتا وہ محض تکلف ہے۔

اس حوالہ سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد گرامی کا حوالہ بھی دینا چاہوں گا جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ بتائی کہ ’’نسآء کاسیات عاریات‘‘ عورتیں لباس پہنے ہوئے بھی ننگی ہوں گی یعنی لباس پہن کر بھی بے لباس ہوں گی کہ لباس اپنے مقصد کو پورا نہیں کر رہا ہو گا۔ اس کی تشریح محدثین نے یوں فرمائی ہے کہ لباس اتنا باریک ہو گا کہ جسم نظر آئے گا یا اتنا تنگ ہو گا کہ جسم کے اعضاء الگ الگ دکھائی دیں گے۔ یعنی لباس اگر اپنے مقصد کو پورا کر رہا ہے تو لباس ہے ورنہ نہیں ہے۔

ان تین اصولی باتوں کے بعد جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ میں تین واقعات عرض کروں گا تاکہ یہ بات ہم سمجھ سکیں کہ حیا کا دائرہ کیا ہے اور کون کون سی چیز حیا میں شمار ہوتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کے نزول سے قبل جب قریش بیت اللہ کی تعمیر کر رہے تھے تو اس میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک ہوئے۔ دونوں چچا بھتیجا بھی تھے اور ہم عمر ہونے کے باعث بے تکلف دوست بھی تھے۔ اس موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کندھے پر پتھر اٹھا کر لا رہے تھے، حضرت عباسؓ نے یہ دیکھ کر بے تکلفی سے آپؐ کی چادر اتاری اور اسے لپیٹ کر کندھے پر پتھر کے نیچے رکھ دی تاکہ کندھے کو پتھر سے تکلیف نہ ہو۔ یہ اُس وقت کے ماحول میں کوئی عجیب بات نہ تھی مگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اچانک تھی کہ وہ بے لباس ہو گئے تھے، یہ دیکھتے ہی آپؐ بے ہوش ہو کر گر گئے اور ’’ازاری ازاری‘‘ میری چادر میری چادر پکارنے لگے۔ آپؐ کی چادر دوبارہ لپیٹی گئی تو ہوش میں آ گئے۔ سیرت نگار حضرات بتاتے ہیں کہ یہ زندگی میں ایک بار ہی ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بلا ارادہ بے لباس ہوئے اور اس پر فورً‌ا بے ہوش ہو گئے۔ حیا اسی کو کہتے ہیں کہ انسان خود کو کسی ایسی کیفیت میں برداشت نہ کرے جس میں دوسروں کا دیکھنا اسے پسند نہ ہو۔

یہ تو خود حیادار ہونے کی بات ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں کی حیا کو بھی پسند کرتے تھے اور اس کا احترام کرتے تھے۔ مشہور واقعہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں بے تکلفی کے ساتھ تکیہ سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے اور ایک گھٹنے سے چادر ہٹی ہوئی تھی، اتنے میں حضرت ابوبکرؓ آئے تو آپؐ اسی طرح بیٹھے رہے، تھوڑی دیر کے بعد حضرت عمرؓ آئے تو بھی اسی طرح تشریف فرما رہے، مگر باہر سے حضرت عثمانؓ کی آواز آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور گھٹنہ بھی ڈھانپ لیا۔ مجلس ختم ہوتے ہی کسی نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے آنے پر آپؐ بدستور بے تکلفی کے ساتھ بیٹھے رہے مگر حضرت عثمانؓ کی آواز آنے پر آپ نے اپنی کیفیت بدل لی؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عثمانؓ بہت حیادار آدمی ہے، مجھے خدشہ ہوا کہ وہ مجھے اس طرح بے تکلفی کے ماحول میں بیٹھا دیکھ کر حیا کے باعث واپس نہ لوٹ جائے اس لیے میں نے نشست بدل لی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خود حیا کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کی حیا کا احترام کرنا بھی سنتِ نبویؐ ہے۔

اس کے ساتھ ایک تیسرا واقعہ بھی عرض کرتا ہوں کہ حیا جس طرح اعمال میں ہے اسی طرح گفتگو اور بول چال میں بھی ہوتی ہے۔ حدیث میں ہے کہ ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسئلہ پوچھنے آئی تو مسئلہ غسل کے بارے میں تھا اور بات حیا کے دائرے کی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسئلہ بتایا تو وہ کیفیت پوچھنے لگی کہ جو کام آپ بتا رہے ہیں وہ کرنا کیسے ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حیا کے باعث خاموشی اختیار کر لی جس پر ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا اس خاتون کو پکڑ کر دوسری طرف لے گئیں اور کہا کہ آؤ میں بتاتی ہوں کہ یہ کام کیسے کرنا ہے۔

یہ چند باتیں میں نے ’’حیا‘‘ کے بارے میں عرض کی ہیں کہ حیا کسے کہتے ہیں؟ اس کا دائرہ کیا ہے؟ اور اس کے بارے میں قرآن کریم کے احکام اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ِمبارکہ کے چند واقعات عرض کر دیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

2016ء سے
Flag Counter