نیکی اور اس کی حفاظت

میں نے آپ کے سامنے سورۃ الکہف کے آخری رکوع کی ایک آیت کریمہ تلاوت کی ہے جس میں اللہ تعالٰی نے ایک اہم مسئلہ کی طرف ہمیں توجہ دلائی ہے، وہ یہ کہ دنیا میں ہر مسلمان کی خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمائے اور ثواب والے کام کرے تاکہ یہ ثواب اور نیکیاں آخرت میں اسے کام آئیں، لیکن جس طرح نیکیاں کمانا ضروری ہے اسی طرح ان کی حفاظت بھی ضروری ہے کیونکہ بسا اوقات کمائی ہوئی نیکیاں برباد ہو جاتی ہیں اور کیے ہوئے نیک اعمال غارت ہو جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ مئی ۲۰۰۳ء

حضرت مولانا محمد عبد اللہؒ درخواستی کی یاد میں

’’حافظ الحدیث نمبر‘‘ کے حوالہ سے ہمارے بزرگ حضرات مولانا مجاہد الحسینی جو تبصرہ کر چکے ہیں میں اس میں کسی اور اضافے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا، البتہ اس حوالہ سے کچھ عرض کرنا چاہوں گا کہ اس خصوصی نمبر کی اشاعت سے جہاں نئی نسل کے علماء اور کارکنوں کو حضرت درخواستیؒ اور ان کی جدوجہد سے روشناس ہونے کا موقع ملے گا وہاں میرے جیسے پرانے کارکنوں کے لیے بھی یہ خصوصی نمبر بہت سی یادوں کو تازہ کرنے کا باعث ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ مئی ۲۰۰۳ء

امریکہ کی موجودہ صورتحال سابق صدر جمی کارٹر کی نظر میں

جمی کارٹر امریکہ کے سابق صدر ہیں اور صدارت کے منصب سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی امریکہ کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ امریکہ کے شہر اٹلانٹا (جارجیا) میں ’’دی کارٹر سینٹر‘‘ کے نام سے ایک مرکز ہے جس کے ذریعے وہ اور ان کی اہلیہ روزالن امریکی قوم کی علمی و فکری راہنمائی کے لیے مختلف موضوعات پر تحقیقی و مطالعاتی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ امریکہ میں سابق صدور وائٹ ہاؤس سے تو ریٹائر ہوتے ہیں لیکن عملی زندگی میں بقیہ زمانہ ’’شو پیس‘‘ کے طور پر نہیں گزارتے بلکہ علمی اور فکری محاذ پر متحرک ہو جاتے ہیں اور قوم کو راہنمائی فراہم کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ تا ۱۹ ستمبر ۲۰۰۶ء

روزنامہ وزارت لاہور کا انٹرویو

دینی جماعتیں وقتی ایجنڈے اور دباؤ کے تحت متحد ہوتی ہیں، مثلاً انتخابات یا کسی دینی ایشو، خاص طور پر ختم نبوت جیسے خاص اور حساس معاملات پر دینی جماعتوں کا اتحاد وجود میں آتا ہے لیکن انہوں نے کبھی کسی سنجیدہ اور مثبت ایجنڈے پر اتحاد نہیں بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ کسی خاص ضرورت کے لیے معرض وجود میں آنے والا اتحاد وقت گزرنے کے ساتھ شکست و ریخت کا شکار ہو جاتا ہے۔ حالانکہ قیام پاکستان کے بعد تمام مکاتب فکر کے اکابرین اور علماء کرام نے بائیس نکات کی صورت میں اپنا ایک ایجنڈا طے کیا تھا، وہ ایجنڈا آج بھی دینی سیاسی جماعتوں کے لیے ایک مثالی اتحاد کی معقول ترین بنیاد بن سکتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ ستمبر ۲۰۱۲ء

حدیث و سنت کی اہمیت اور امام بخاری کا اسلوبِ استدلال

عزیز طلبہ اور طالبات سے گزارش ہے کہ مدرسہ کے ماحول میں چند سال گزارنے کے بعد اب وہ عملی زندگی میں قدم رکھیں گے تو انہیں ایک نئے ماحول کا سامنا کرنا ہو گا، بہت سی نئی باتیں دیکھنے میں آئیں گی اور تغیرات محسوس ہوں گے۔ وہ مدرسہ کے محدود ماحول سے نکل کر سوسائٹی کے وسیع ماحول میں داخل ہو رہے ہیں جسے میں یوں تعبیر کیا کرتا ہوں کہ وہ جزیرہ سے نکل کر سمندر میں کود رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مئی ۲۰۱۴ء

علماء کرام کی تین اہم ذمہ داریاں

مجھے یہ کہا گیا ہے کہ آج کے حالات میں علماء کرام کی ذمہ داریوں کے عنوان پر آپ حضرات سے کچھ عرض کروں۔ میرے نزدیک یہ دو الگ الگ موضوع ہیں، آج کے حالات مستقل گفتگو کے متقاضی ہیں اور اپنے اندر اس قدر وسعت اور تنوع رکھتے ہیں کہ اگر ان پر بات شروع ہو گئی تو دوسرے عنوان پر کچھ کہنے کا وقت باقی نہیں رہے گا۔ جبکہ علماء کرام کی ذمہ داریاں ایک الگ موضوع ہے اور اس کا تقاضہ بھی یہ ہے کہ اس پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ مارچ ۲۰۰۳ء

قربانی کے بارے میں چند شبہات کا ازالہ

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ بخاری شریف میں حضرت براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی کے روز نماز عید کے لیے عید گاہ میں تشریف لائے، نماز پڑھائی، اس کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا، اور اس میں یہ فرمایا کہ جس نے نماز کے بعد قربانی کی اس نے ہماری سنت کو پا لیا اور جس نے نماز عید سے قبل قربانی کر لی اس نے عام دنوں کی طرح گوشت کھایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ فروری ۲۰۰۳ء

دینی و عصری تعلیم کے حوالہ سے چند ضروری گزارشات

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ دینی مدارس کے تعلیمی سال کا اس عشرہ میں آغاز ہو رہا ہے اور پورے جنوبی ایشیا میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں دینی مکاتب و مدارس سالِ رواں کے تعلیمی دورانیہ کا سلسلہ شروع کر رہے ہیں، اس لیے میں اس موقع پر دینی مدارس کے حوالہ سے کچھ سوالات کا جائزہ لینا چاہوں گا تاکہ دینی مدارس کے تعلیمی کام کی اہمیت کا آج کے تعلیم یافتہ لوگوں کو تھوڑا بہت اندازہ ہو جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جون ۲۰۱۹ء

نسل انسانی کا امتیاز و اعزاز اور اس کی شکر گزاری

اللہ تعالٰی نے انسان کو باقی مخلوقات پر جو امتیاز بخشا ہے، قرآن کریم میں اس کا مختلف مقامات پر مختلف حوالوں سے تذکرہ کیا گیا ہے۔ مثلاً ایک جگہ فرمایا کہ ہم نے انسان کو ’’احسن تقویم‘‘ میں پیدا کیا ہے یعنی سب سے اچھے سانچے میں ڈھالا ہے۔ یہ احسن تقویم جسمانی ساخت کے حوالہ سے بھی ہے اور صلاحیتوں اور استعداد کے دائرے میں بھی ہے، جس کا مشاہدہ ہم روزمرہ کرتے رہتے ہیں، لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ ہم اسے ’’اسفل سافلین‘‘ کے درجے میں بھی اتار دیتے ہیں، یعنی وہ سب سے نچلے درجے میں چلا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اگست ۲۰۲۰ء

حرمین شریفین کی حاضری ۔ احساسات و تاثرات

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ آج کی نشست میں سفرِ حج کے کچھ تاثرات بیان کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ پورے بیان کرنا تو مشکل ہے، ہلکی پھلکی گفتگو ہو گی۔ پہلی گزارش یہ ہے کہ حج اور اللہ تعالٰی کے گھر کی حاضری اللہ تعالٰی کی عنایت سے ہوتی ہے، طلبی ہوتی ہے تبھی حاضری ہوتی ہے۔ اور میں تو اس کا عینی شاہد ہوں کہ طلبی ہو تو اچانک ہو جاتی ہے، نہ ہو تو بندہ جا کے بھی رک جاتا ہے۔ میں دونوں کا شاہد ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اکتوبر ۲۰۱۵ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter