پاکستان میں غیر ملکی این جی اوز کی سرگرمیاں

پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار احمد خان نے گزشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس کے دوران پاکستان میں کام کرنے والی متعدد این جی اوز کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ کہ ملکی مفاد کے خلاف کسی کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور غیر قانونی کام کرنے والی این جی اوز کو بند کر دیا جائے گا۔ پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں این جی اوز (غیر سرکاری تنظیمیں) مختلف سطحوں پر کام کر رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۵ء

اراکانی مسلمانوں کی حالت زار

میانمار (برما) میں مظلوم روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے ، اس کے بارے میں دو تازہ رپورٹیں ملاحظہ فرمائیں۔ایک رپورٹ روزنامہ پاکستان لاہور نے ۱۵ جون ۲۰۱۵ء کو اقوام متحدہ کے ہیومینیٹیرین آفس کے حوالہ سے شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ: ’’میانمار کی مغربی ریاست راکھینی (اراکان) میں تین برسوں سے جاری خانہ جنگی سے تباہ حال پانچ لاکھ افراد کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد کی ضرورت ہے، ان افراد میں زیادہ تر مسلمان ہیں، ان لوگوں میں سے ۴ لاکھ ۱۶ ہزار سے زیادہ کی تعداد کو مدد کی شدید ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۵ء

سود سے پاک معاشی نظام اور دستوری تقاضہ

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۷ جنوری کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جناب یاسین انور نے کہا ہے کہ پاکستان میں اسلامی بینکاری کا مستقبل روشن ہے جبکہ پچھلے چار عشروں میں عالمی سطح پر اسلامی مالیات میں بہت پیشرفت ہوئی ہے، مشرقی وسطیٰ کی روایتی اسلامی منڈیوں کے علاوہ مختلف مغربی ممالک کے مالی مراکز بھی اس متبادل مالی نظام کی قوت اور افادیت کو تسلیم کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۴ء

ہم جنس پرستی اور انجیل مقدس

روزنامہ پاکستان لاہور میں ۲۱ جنوری کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق برطانیہ کی انڈیپنڈس پارٹی کے ایک کونسلر ڈیوڈ سلوسٹر نے کہا ہے کہ برطانیہ میں حالیہ طوفانی سیلاب ہم جنس پرستوں کی شادیوں کے باعث خدائی عذاب کی علامت ہیں، اور وزیر اعظم نے ہم جنس پرستوں کی شادیوں کو قانونی قرار دے کر انجیل مقدس کے فرمان کی خلاف ورزی کی ہے اس لیے حالیہ طوفان اور سیلاب آئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۴ء

اسلامی نظریاتی کونسل کے خلاف افسوسناک مہم

گزشتہ دنوں سینٹ آف پاکستان میں پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے راہنماؤں نے اسلامی نظریاتی کونسل کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ روزنامہ پاکستان لاہور میں ۲۱ جنوری کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ان دونوں سیاسی جماعتوں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور کی باقیات میں سے ہے اور اپنا کام مکمل کر چکی ہے اس لیے اس کے باقی رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۴ء

کشمیر، افغانستان اور صدر ٹرمپ

امریکہ کے صدر جناب ڈونلڈ ٹرمپ کے دو بیانات اس وقت ہمارے ہاں زیادہ تر زیر بحث ہیں، ایک کشمیر کے بارے میں ہے اور دوسرا افغانستان کے حوالہ سے، ان دونوں خطوں کے ساتھ ہماری ثقافتی، دینی اور جذباتی وابستگی ہے اس لیے فطری طور پر بحث و مباحثہ میں تنوع اور جذباتیت کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کے دورۂ امریکہ کے موقع پر کشمیر کے مسئلہ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی تھی جسے پاکستان نے تو قبول کر لیا مگر بھارت کی طرف سے مثبت جواب نہیں آیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ اگست ۲۰۱۹ء

ایران میں گیارہ روز: ایرانی انقلاب کے اثرات، معاشرتی تبدیلیاں، اور اہل سنت کے مسائل

کوئٹہ کی جامع مسجد سفید کے خطیب مولانا قاری عبد الرحمٰن ایرانی انقلاب کے ان پرجوش حامیوں میں شمار ہوتے ہیں جو نہ صرف خود انقلابِ ایران کے محاسن و فضائل کے پرچار میں مصروف رہتے ہیں بلکہ ان کی مسلسل کوشش رہتی ہے کہ پاکستان کے دینی حلقوں کے روابط ایرانی انقلاب کے رہنماؤں کے ساتھ مثبت بنیادوں پر استوار ہوں اور پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد کے سلسلہ میں ایران کے انقلابی رہنماؤں کے تجربات سے استفادہ کیا جائے۔ گزشتہ سال حج بیت اللہ کے موقع پر مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ میں ان سے ملاقات ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ فروری ۱۹۸۷ء

قادیانی مسئلہ اور صدر ٹرمپ

چند روز قبل امریکہ کے صدر جناب ٹرمپ کے ساتھ ایک قادیانی وفد کی ملاقات کی خبر سے قادیانی مسئلہ ایک نیا رخ اختیار کر گیا ہے، بتایا جاتا ہے کہ قادیانی وفد نے امریکی صدر سے شکایت کی ہے کہ پاکستان میں انہیں مسلمان تسلیم نہیں کیا جاتا اس کے جواب میں صدر امریکہ نے کیا کہا اس کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا مگر اس کے بارے میں سوشل میڈیا پر جو بحث و تمحیص کا سلسلہ ازسرنو شروع ہو گیا ہے وہ بہرحال توجہ طلب ہے۔ اس حوالہ سے بنیادی سوال یہ ہے کہ یہ شکایت صدر امریکہ کے سامنے پیش کرنے کا مقصد کیا ہے؟ مکمل تحریر

۳ اگست ۲۰۱۹ء

تبلیغی جماعت اور دینی سیاست

حضرت مولانا طارق جمیل سے منسوب یہ بات میرے لیے تعجب کا باعث بنی ہے جس میں انہوں نے اپنے عقیدت مندوں کو تلقین کی ہے کہ وہ سیاست میں فریق نہ بنیں اور کسی سیاسی جماعت کا حصہ نہ بنیں، یہ بات اگر انہوں نے کہی ہے تو مجھے اس سے اتفاق نہیں ہے مگر انہیں اپنی رائے کا پورا حق حاصل ہے اور ان کے اس حق کا احترام کیا جانا چاہیے۔ البتہ اس سے مجھے ایک پرانا قصہ یاد آگیا ہے کہ گوجرانوالہ کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب استاذ العلماء حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ ہم سب کے مخدوم تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اگست ۲۰۱۹ء

دور حاضر کا ایک اہم علمی و فکری چیلنج

۱۹۸۸ء کے لگ بھگ کی بات ہے امریکی ریاست جارجیا کے ایک شہر اگستا میں گکھڑ سے تعلق رکھنے والے اپنے ایک پرانے دوست افتخار رانا کے ہاں کچھ دنوں کے لیے ٹھہرا ہوا تھا۔ میں نے رانا صاحب سے کہا کہ کسی سمجھدار سے مسیحی مذہبی راہنما سے ملاقات و گفتگو کو جی چاہتا ہے، انہوں نے جارجیا کے صدر مقام اٹلانٹا کے ایک پادری صاحب سے، جو بیپٹسٹ فرقہ کے اس علاقہ کے چیف تھے، بات کر کے وقت لے لیا اور ملاقات کا اہتمام کیا، جبکہ رانا صاحب خود بطور ترجمان گفتگو میں شریک رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ جولائی ۲۰۱۹ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter