انٹرنیشنل کرائسس گروپ کا پاکستان میں شرعی قوانین ختم کرنے کا مطالبہ

روزنامہ جنگ لاہور میں ۲۰ دسمبر ۲۰۱۱ء کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ ملاحظہ فرمائیے! ’’اسلام آباد (طاہر خلیل) پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے ایک اور حربہ کے طور پر برسلز میں قائم مغربی ترجمان انٹرنیشنل کرائسس گروپ نے وفاقی شرعی عدالت کو ختم اور اسلامی نظریاتی کونسل کے اختیارات محدود کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ آئی سی جی نے ’’پاکستان میں اسلامی پارٹیاں‘‘ کے عنوان سے رپورٹ جاری کر دی ہے۔ تازہ رپورٹ میں جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن)، جمعیت علمائے اسلام (سمیع الحق) ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۲ء

خواتین کے حقوق کا بل

روزنامہ اسلام لاہور (۲۳ دسمبر ۲۰۱۱ء) کی ایک خبر کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی اور سینٹ کے منظور کردہ خواتین کے حقوق کے بل پر دستخط کر دیے ہیں جس سے یہ بل قانون کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔یہ قانون پارلیمنٹ کے منظور کردہ دو مسودوں پر مشتمل ہے جس کے مطابق: خواتین کی جبری شادی پر ۳ سے ۷ سال کی سزا ہو گی۔ خواتین کو وراثت سے محروم کرنے پر ۵ سے ۱۰ سال سزا ہو گی اور دس لاکھ روپے جرمانہ ہو گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۲ء

بے حیائی کا مسلسل فروغ اور ہماری کوتاہیاں

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۳ دسمبر ۲۰۱۱ء کی ایک خبر کے مطابق بھارت کی ایک مسلمان تنظیم ’’ آل انڈیا مسلم کمیٹی‘‘ نے ایک معروف پاکستانی اداکارہ کی شرمناک حرکات کے باعث اسے مسلم کمیونٹی سے خارج قرار دے کر بھارتی مسلمانوں سے اس کے سماجی بائیکاٹ کی اپیل کی ہے، کمیٹی کے بیان کے مطابق پاکستانی اداکارہ کی قابل اعتراض اور نازیبا تصاویر اور ریئلٹی شو میں نکاح کی توہین کا رویہ اسلامی معاشرے میں منفی رجحانات کو فروغ دے سکتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۲ء

تعلیمی نظام کے حوالہ سے چیف جسٹس پاکستان کے ارشادات

چیف جسٹس آف پاکستان محترم جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے نجی تعلیمی اداروں کی فیسوں میں اضافہ کے بارے میں کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ ۷۰ سال ہو گئے ہیں لیکن وطن عزیز میں تعلیم کو وہ اہمیت نہیں دی گئی جو دینی چاہیے تھی، ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں، پاکستان میں تعلیم، تعلیم اور صرف تعلیم کے حوالہ سے آگاہی کی مہم چلائی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے پرائیویٹ اسکولوں کے معاملہ کو سن لیں اس کے بعد معاملہ حکومت کے ساتھ ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ اپریل ۲۰۱۹ء

میمو کمیشن اور منصور اعجاز

ان دنوں میمو کمیشن کا اجلاس جاری ہے اور ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ منصور اعجاز لندن سے اپنا بیان ریکارڈ کرا رہے ہیں جن کا کہنا ہے کہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو انتہا پسندوں سے محفوظ رکھنے کے لیے امریکہ سے امداد طلب کی تھی اور پاکستان کے آرمی چیف کو ان کے منصب سے الگ کرانے کی تحریک کی تھی۔ میمو کمیشن کی کاروائی جاری ہے اس لیے ہم ان امور کے بارے میں کچھ عرض کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۲ء

بلوچستان کی صورتحال اور لمحۂ فکریہ

دفاع پاکستان کونسل نے ۲۷ فروری کو کوئٹہ میں بلوچستان کی صورتحال پر آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے کونسل کے سربراہ مولانا سمیع الحق اور دیگر راہنما مسلسل متحرک ہیں۔ دوسری طرف وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بلوچستان پر اے پی سی منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس کی تیاریاں جاری ہیں۔ادھر امریکی کانگریس میں بلوچستان کو خودمختاری دیے جانے کی قرارداد پیش ہوئی ہے جس پر پاکستان کے سرکاری و غیر سرکاری حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۲ء

ویلنٹائن ڈے کے دو مناظر

۱۴ فروری کو دنیا بھر میں ’’ویلنٹائن ڈے ‘‘ منایا گیا اور پاکستان میں بھی اس عنوان سے محبت کے نام پر بے حیائی کے مختلف مناظر دیکھنے میں آئے جن میں سے ایک منظر روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ (۱۵ فروری ۲۰۱۲ء) کے مطابق یہ ہے کہ: ’’جلال پور جٹاں میں دوشیزہ نے ویلنٹائن ڈے پر پھول پیش نہ کرنے پر منگیتر کی بھرے بازار میں پٹائی کر دی۔ جبکہ سمبڑیال میں طالبہ نے پھول پیش کرنے پر دو منچلوں کی چھترول کر دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۲ء

تجارت میں عورت کی نمائش اور تضحیک

روزنامہ جنگ لاہور (۱۳ فروری ۲۰۱۲ء) کی ایک خبر کے مطابق جیو ٹی وی کے پروگرام ’’عوام کی عدالت‘‘ میں جیوری نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ۶۵ فیصد کی واضح اکثریت کے ساتھ یہ تسلیم کیا ہے کہ اشتہارات میں عورت کی غیر ضروری نمائش خواتین کی تضحیک ہے۔ اس موضوع پر عوام کو رائے دینے کے لیے کہا گیا تھا جس پر اس قرارداد کے حق میں اور اس کے خلاف لوگوں نے رائے دی اور جیوری کے مطابق ۶۵ فیصد عوام نے اس موقف سے اتفاق کیا کہ اشتہارات میں عورت کی نمائش اس کی تضحیک ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۲ء

چند دینی تقریبات میں شرکت

۱۴ اپریل اتوار کا دن خاصا مصروف گزرا، حسب معمول فجر کی نماز الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں پڑھا کر مختصر درس دیا اور حافظ شاہد میر کے ہمراہ اسلام آباد روانہ ہوگیا جہاں ادارہ علوم اسلامی بھارہ کہو میں مولانا جہانگیر محمود کے ادارہ ’’ینگ علماء لیڈر شپ پروگرام‘‘ کے تحت علماء کرام کے لیے تربیتی ورکشاپ ہو رہی ہے۔ میں نے دس سے بارہ بجے تک کی نشست میں شرکت کی اور علماء کرام سے معاشرتی قیادت کے حوالہ سے کچھ گزارشات کیں جن کا خلاصہ یہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ اپریل ۲۰۱۹ء

یورپ کی سب سے بڑی مسجد بنانے کا اعلان

نیویارک سے اردو میں شائع ہونے والے جریدہ ہفت روزہ ’’ایشیا ٹربیون‘‘ کے ۲۴ نومبر کے شمارہ میں خبر شائع ہوئی ہے کہ: ’’سوئیٹزرلینڈ میں مساجد اور ان کے میناروں کے خلاف مہم چلانے والے معروف سیاستدان نے قبول اسلام کے بعد اب سوئیٹزرلینڈ میں یورپ کی سب سے بڑی مسجد بنانے کا اعلان کر دیا ہے جس کے مینار سوئیٹزرلینڈ میں واقع کسی بھی مسجد سے بلند ہوں گے۔ سوئس پیپلز پارٹی ایس وی پی سے وابستہ ڈینئیل اسٹریج کی جانب سے قبول اسلام پر مقامی تنظیموں نے تحفظات کا اظہار کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۱ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter