سوڈان میں مسیحی ریاست کا منصوبہ
انڈونیشیا میں مشرقی تیمور کو ریفرنڈم کے ذریعے الگ کر کے ایک عیسائی ریاست قائم کرنے کے عمل کو ابھی چند سال ہی گزرے ہیں کہ سوڈان میں دارفور کے جنوبی علاقہ کو سوڈان سے الگ کر کے ایک الگ مسیحی ریاست کی شکل دینے کے منصوبہ پر کام آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔ انڈونیشیا آبادی کے لحاظ سے دنیا میں مسلمانوں کا سب سے بڑا ملک ہے جبکہ سوڈان رقبہ کے لحاظ سے براعظم افریقہ کا سب سے بڑا ملک ہے جس کی آبادی چار کروڑ کے لگ بھگ بیان کی جاتی ہے اور مسلمانوں کا تناسب ۷۵ فیصد بتایا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
طالبان کا وجود اور ان کے ساتھ مذاکرات
روزنامہ جنگ راولپنڈی میں ۲۱ اکتوبر ۲۰۱۰ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق: ’’سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ اگر امریکہ طالبان حکومت کو تسلیم کر لیتا تو اسے اسامہ بن لادن کو تلاش کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ ہوسٹن کی ایشیا سوسائٹی ٹیکس سنٹر میں خطاب کے دوران سابق صدر پرویز مشرف نے کہا کہ عالمی برادری کو طالبان کے حوالے سے حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، طالبان کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کر لینا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دیوبندی بریلوی تصادم کی فضا پیدا کرنے کی مبینہ مہم
عالمی استعمار کے ایجنڈے کا ایک حصہ یہ ہے کہ پاکستان میں ’’صوفی اسلام‘‘ اور ’’مولوی کا اسلام‘‘ کے نام سے خودساختہ تفریق کو اجاگر کر کے قومی معاملات میں دیوبندی مکتب فکر کو کارنر کرنے کی کوشش کی جائے اور دیوبندی علماء کو عام مسلمانوں کے لیے ناقابل قبول اور اچھوت بنا دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس کا قومی تعلیمی بورڈ
مغربی دنیا کے تھنک ٹینکس کا یہ تجزیہ نیا نہیں ہے کہ جنوبی ایشیا یعنی پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت میں مسلمانوں کی دین کے ساتھ گہری وابستگی اور دفاعِ اسلام کے والہانہ جذبہ کا سب سے بڑا سبب عالم اسباب میں دینی مدارس ہیں۔ اور ان میں بھی سب سے نمایاں دیوبندی مکتب فکر ہے جو دینی روایات و اقدار کے ساتھ عام مسلمانوں کی کمٹمنٹ کا مسلسل پہرہ دے رہا ہے اور مغرب کی ثقافت و فلسفہ کے ساتھ ساتھ اس کی سیاسی بالادستی اور تسلط کے خلاف بھی اس نے ہر دور میں عَلمِ بغاوت بلند کیے رکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سعودی عرب اور پاکستان سے امت مسلمہ کی توقعات
سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان آل سعود پاکستان اور بھارت کا دورہ کر کے واپس تشریف لے جا چکے ہیں اور دونوں ملکوں کے ساتھ سعودی عرب کے بہت سے معاشی معاہدات کے بعد اب اس خطہ میں نئی اقتصادی منصوبہ بندی کا آغاز ہوگیا ہے۔ پاکستان کو اپنے قیام کے وقت سے ہی سعودی عرب کی پر خلوص دوستی، معاونت بلکہ بہت سے عالمی معاملات میں شراکت حاصل رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اکابر کا تذکرہ اور ان سے راہنمائی کا حصول
گزشتہ روز (۲۳ ستمبر) مجھے دھیرکوٹ آزاد کشمیر کے جامعہ انوار العلوم میں منعقدہ ایک سیمینار میں شرکت اور گفتگو کا موقع ملا جو شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ کی وفات پر تعزیتی نشست کے طور پر منعقد ہوا تھا، اس میں آزاد کشمیر کے بہت سے علماء کرام اور دیگر طبقات کے راہنماؤں نے خطاب کیا۔ راقم الحروف نے اس سیمینار میں جو گفتگو کی اس کا صرف ایک حصہ قارئین کی نذر کر رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جہاد، دہشت گردی اور جد و جہد آزادی میں فرق
آزاد کشمیر کے حالیہ سفر میں مجھے ۲۲ ستمبر کو باغ کی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں وکلاء کے ساتھ گفتگو کا موقع بھی ملا۔ میری گفتگو کے بعد ایک وکیل صاحب نے دلچسپ سوال کیا کہ عام طور پر تاثر یہ ہے کہ علماء دیوبند عمومی سطح پر دہشت گردی کے خلاف بات نہیں کرتے اور دہشت گردوں کے خلاف اجتماعی فتویٰ کی حمایت نہیں کر رہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جعلی ڈگریاں، معاشرتی ناسور
ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے ارکان اسمبلی کی ڈگریوں کی پڑتال اور جعلی ڈگریوں کی نشاندہی کا سلسلہ جاری ہے جس پر ملک کی سیاست میں ایک بھونچال کی کیفیت دکھائی دے رہی ہے۔ جعلی ڈگریوں کا یہ معاملہ صرف اسمبلیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ دیگر قومی شعبوں میں بھی اس کے اثرات نظر آرہے ہیں اور مختلف اداروں میں جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر ملازموں کی برخواستگی کی خبریں سامنے آنے لگی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
طلاق، ایک متعدی بیماری
روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ میں ۷ جولائی ۲۰۱۰ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق طبی اور نفسیاتی ماہرین نے کہا ہے کہ دنیا میں طلاق ایک متعدی بیماری کی طرح پھیل رہی ہے جس کی زد میں دوست احباب، خاندان اور اپنے پرائے سب آرہے ہیں۔ اس سماجی بیماری کی طرف اگر فوری توجہ نہ دی گئی تو اس سے ذہنی اور جسمانی بیماریوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ امریکی ماہرین کی اس تحقیق کے مطابق اس وقت دنیا کے بعض خطوں میں طلاق کی شرح ۷۵ فی صد تک پہنچ چکی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سعودی عرب میں نکاح صغیرہ کی ممانعت
روزنامہ اردو نیوز جدہ میں ۱۳ جولائی ۲۰۱۰ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق سعودی عرب کی وزارت انصاف شادی کے لیے لڑکی کی کم از کم عمر ۱۷ برس مقرر کرنے والی ہے، اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کا احتساب کیا جائے گا۔ المدینہ اخبار نے بتایا ہے کہ عدالتی مشیر ڈاکٹر صالح اللحیدان کا کہنا ہے کہ وزارت انصاف اس قرارداد کا جائزہ لے رہی ہے، جلد ہی یہ قرار داد جاری کر دی جائے گی، اس کے بموجب ۱۷ برس سے کم عمر کی لڑکی کو شادی کی اجازت نہیں ہو گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 192
- 193
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »