خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف میں رسول اکرمؐ کے موئے مبارک کی زیارت

خانقاہ سراجیہ شریف میں حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد، حضرت مولانا خواجہ عزیز احمد اور ملک بھر سے آئے ہوئے مختلف بزرگوں سے ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ بہت سے امور پر تبادلۂ خیالات کا موقع ملا اور خواجہ صاحب نے سب سے بڑی شفقت یہ فرمائی کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک کی زیارت سے شاد کام کیا جو خانقاہ شریف میں پورے احترام و انتظام کے ساتھ محفوظ ہیں اور ہر سال ۲۶ رمضان المبارک کے دن خانقاہ میں آنے والے حضرات کو ان کی زیارت کرائی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ مارچ ۲۰۱۹ء

کینیڈا کی طرف سے ایٹمی مواد کی فراہمی کا مسئلہ اور وفاقی وزیر اطلاعات

قائد جمعیۃ علماء اسلام مولانا مفتی محمود نے گزشتہ روز پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا کہ کینیڈا نے کراچی کے ایٹمی بجلی گھر کے لیے ایندھن وغیرہ سے جو انکار کیا ہے وہ ہماری خارجہ پالیسی کی کمزوری کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی اتنی کامیاب نہیں جتنی کہ اس کی تشہیر کی جاتی ہے چنانچہ میں نے ایک موقع پر قومی اسمبلی میں خارجہ پالیسی پر بحث کرنا چاہی تھی مگر حکومت اس مسئلہ پر بحث سے گریزاں ہے۔ (روزنامہ نوائے وقت لاہور ۔ ۵ جنوری ۱۹۷۷ء) ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جنوری ۱۹۷۷

وزیر اوقاف پنجاب رانا اقبال احمد خان اور نظام شریعت کنونشن کی کسک

پنجاب کے وزیر اوقاف رانا اقبال احمد خان نے گزشتہ روز گوجرانوالہ میں کہا کہ نظام شریعت کانفرنس دراصل حکومت کے خلاف ایک سازش تھی جس میں مولانا مفتی محمود نے تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے (روزنامہ امروز، لاہور ۵ جنوری ۱۹۷۷ء)۔ معلوم ہوتا ہے کہ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے زیر اہتمام اکتوبر ۱۹۷۵ء کے دوران گوجرانوالہ میں منعقد ہونے والا کل پاکستان نظام شریعت کنونشن صوبائی وزیر اوقاف کی کمزوری بن گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جنوری ۱۹۷۷ء

وفاقی وزیر جناب کوثر نیازی اور دینی مدارس

یادش بخیر جناب کوثر نیازی وفاقی وزیر مذہبی امور طویل عرصہ کی معنی خیز خاموشی کے بعد گزشتہ دنوں پشاور میں چہکے ہیں اور ان کی گفتگو کا عنوان وہی پرانا ہے جو ان کے ذمہ ہے یعنی دینی مدارس اور حکومت کی پالیسی۔ نیازی صاحب نے جو کچھ فرمایا روزنامہ نوائے وقت ۳ جنوری ۱۹۷۷ء کے مطابق اس کا خلاصہ کچھ یوں ہے: مولانا مفتی محمود کا یہ الزام درست نہیں ہے کہ حکومت دینی مدارس کو سرکاری تحویل میں لینا چاہتی ہے۔ دینی مدارس کو سرکاری تحویل میں لینے سے اخراجات بڑھ جائیں گے اور تعلیمی بجٹ کو نقصان پہنچے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جنوری ۱۹۷۷ء

جمعیۃ کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں اہم فیصلے

جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس عاملہ اور صوبائی امراء و نظماء کا مشترکہ اجلاس ۷ محرم الحرام ۱۳۹۷ھ بروز بدھ صبح ساڑھے دس بجے دارالعلوم حنفیہ عثمانیہ ورکشاپی محلہ راولپنڈی میں منعقد ہوا جس میں ملک کی تازہ ترین سیاسی صورتحال پر غور و خوض کے بعد متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ حضرت الامیر مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم علالت کی وجہ سے اجلاس میں شریک نہ ہو سکے، اس لیے اجلاس کی صدارت نائب امیر اول حضرت مولانا محمد شریف وٹو مدظلہ العالی نے فرمائی اور مندرجہ حضرات اجلاس میں شریک ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ جنوری ۱۹۷۷ء

شراب پر پابندی کا بل اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی

گزشتہ روز قومی اسمبلی کے حوالہ سے ایک افسوسناک خبر قومی اخبارات میں نظر سے گزری کہ قانون سے متعلق قائمہ کمیٹی کے ایک غیر مسلم رکن ڈاکٹر رامیش کمار نے ملک میں شراب پر پابندی کے بارے میں بل پیش کیا جو مسترد کر دیا گیا۔ ڈاکٹر رامیش کمار کا تعلق ہندو مذہب سے ہے اور وہ ایک عرصہ سے شراب پر پابندی کے حوالہ سے مسلسل آواز اٹھاتے چلے رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ شراب اسلام کی طرح ہندو مذہب میں بھی حرام ہے مگر پاکستان میں غیر مسلموں کے نام پر شراب کی خریدوفروخت کا سلسلہ جاری ہے جو درست نہیں ہے، اسے ختم ہونا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ مارچ ۲۰۱۹ء

دنیا میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۱ فروری ۲۰۱۱ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایک امریکی تھنک ٹینک نے بتایا ہے کہ دنیا میں مسلمانوں کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے جو اس وقت ایک ارب ساٹھ کروڑ کے لگ بھگ ہے اور آئندہ بیس سالوں میں دو ارب بیس کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ یہ بات جو مسلمانوں کی افرادی قوت میں اضافے کے حوالہ سے مسلمانوں کے لیے خوش کن ہے مغربی ممالک کے لیے اسی درجہ میں قابل تشویش بھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۱ء

توہین رسالتؐ کا قانون اور وزارت قانون کی سمری

وزارت قانون کی طرف سے بھیجی جانے والی سمری پر وزیر اعظم کے دستخط ثبت ہو جانے کے ساتھ وہ تکلیف دہ بحث و مباحثہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا ہے جو ایک عرصہ سے توہین رسالتؐ پر موت کی سزا کے حوالہ سے قومی حلقوں میں جاری تھا اور جس میں عالمی حلقے اور لابیاں بھی بھرپور شرکت کا اظہار کر رہی تھیں۔ اس سمری کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوا کہ وزارت قانون سے مختلف اطراف سے یہ تقاضہ کیا جا رہا تھا کہ وہ تحفظ ناموس رسالتؐ کے قانون پر کیے جانے والے اعتراضات کے بارے میں اپنا موقف واضح کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۱ء

مبینہ دہشت گردی کے اصل اسباب

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۳ فروری ۲۰۱۱ء کی خبر کے مطابق صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری نے جاپان کے تین روزہ سرکاری دورے کے موقع پر جاپانی سرمایہ کاروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’پاکستان میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے دہشت گردی کے خاتمہ میں مدد ملے گی اور عالمی امن کو تقویت حاصل ہو گی۔‘‘ جہاں تک پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے بیرونی سرمایہ کاروں کو توجہ دلانے کا مسئلہ ہے یہ ملکی معیشت کی ایک اہم ضرورت ہے اور اس کے لیے حکمرانوں کی کوششوں کو ہم سراہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۱ء

پنجاب میں مسجد مکتب اسکیم کا مکمل خاتمہ

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۹ جنوری ۲۰۱۱ء کی خبر کے مطابق پنجاب اسمبلی کے اسپیکر رانا محمد اقبال خان نے مسجد مکتب اسکیم کی بندش پر وزیر تعلیم مجتبیٰ شجاع الرحمن کو ہدایت کی ہے کہ اس پر نظر ثانی کی جائے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ ارکان اسمبلی وارث کلو، سعید اکبر نوانی، علی اصغر منڈا اور دیگر ارکان نے اسمبلی میں اس بات پر احتجاج کیا کہ مسجد مکتب سکیم کو صوبائی محکمہ تعلیم نے بند کر دیا ہے جو غریب لوگوں کے ساتھ زیادتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۱ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter