دینی و عصری تعلیم کی تقسیم کا ذمہ دار کون؟

جامعہ خیر المدارس ملتان میں حاضری میرے لیے سعادت کی بات ہے، یہ ہمارے بزرگوں کی جگہ ہے، رائیس الاخیار حضرت مولانا خیر محمد جالندھری رحمہ اللہ تعالیٰ کے فیوض و برکات کا مرکز ہے، آج یہاں ملک بھر کے أخیار کا اجتماع ہے اور اس میں حاضری و شرکت کا موقع فراہم کرنے پر حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کا شکرگزار ہوں، مجھے کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں علماء کرام کی ذمہ داریوں اور ان کو درپیش چیلنجز کے حوالہ سے کچھ عرض کروں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ مارچ ۲۰۱۹ء

سرکردہ علماء کرام کے ساتھ آرمی چیف کی ایک خوشگوار نشست

چیف آف آرمی اسٹاف محترم جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ گزشتہ روز زندگی میں دوسری ملاقات کا موقع ملا، پہلی ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب انہوں نے سپہ سالار کا منصب سنبھالنے کے بعد اپنے آبائی شہر گکھڑ ضلع گوجرانوالہ کے سرکردہ شہریوں کے ساتھ گوجرانوالہ کینٹ میں اجتماعی نشست کی تو میں بھی اس میں شامل تھا اور اس کے تاثرات اسی کالم میں عرض کر دیے تھے کہ صاف گو اور بے تکلف آدمی ہیں اور بات کہنے کے ساتھ ساتھ سننے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ اپریل ۲۰۱۹ء

قومی رواداری کے عنوان پر ایک اہم سیمینار

۲۷ مارچ کو اسلام آباد میں ایک اہم سیمینار میں شرکت کا موقع ملا جس کا اہتمام سابق وفاقی وزیر مملکت برائے مذہبی امور صاحبزادہ پیر سید محمد امین الحسنات شاہ نے کیا اور انہی کی صدارت میں منعقد ہوا ۔ ۔ ۔ ۔ ’’اعلامیہ (میثاق پاکستان)۔ بتاریخ ۲۷ مارچ ۲۰۱۹ء، اسلام آباد ہوٹل، اسلام آباد۔ پاکستان میں امن اور رواداری کے فروغ کے لیے مختلف سیاسی، مذہبی، سماجی حلقوں کی طرف سے متفقہ طور پر جاری کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ مارچ ۲۰۱۹ء

حضرت الامیر کے انقلابی اعلانات اور ہماری ذمہ داریاں

حضرت الامیر مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم نے یکم مئی کی محنت کش کانفرنسوں، جماعتی انتخابات کے نظام الاوقات میں تبدیلی اور ستمبر کے آخر میں کل پاکستان نظام مصطفٰی کانفرنس کے بارے میں جو انقلابی اعلانات فرمائے ہیں وہ اخبارات میں آپ حضرات پڑھ چکے ہوں گے، اس سلسلہ میں ملک بھر کے جماعتی احباب اور شاخوں سے گزارش ہے کہ وہ ان اعلانات کی اہمیت کے پیش نظر ان پر عملدرآمد کی طرف خصوصی توجہ دیں اور مندرجہ ذیل گزارشات کا بطور خاص خیال رکھیں۔ مکمل تحریر

۴ مئی ۱۹۷۹ء

گوجرانوالہ میں مدارس پر چھاپے اور علماء کرام کی گرفتاریاں

چند روز قبل گوجرانوالہ میں ریل بازار کی پولیس چوکی میں علی الصبح بم دھماکے کے بعد مقامی پولیس نے دینی مدارس پر چھاپوں اور علماء کرام و دینی کارکنوں کی گرفتاریوں کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے اور اس پر مسلسل احتجاج کیا جا رہا ہے۔ پولیس کی بھاری نفری نے جلیل ٹاؤن میں واقع دارالعلوم گوجرانوالہ کا محاصرہ کر لیا جو کم و بیش چار گھنٹے جاری رہا، اس دوران طلبہ کے کمروں اور اساتذہ کی رہائش گاہوں کی لیڈی پولیس اور سراغرساں کتوں کے ذریعہ تفصیلی تلاشی کی گئی۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۱ء

اسلام کے بارے میں مسلم حکمرانوں کا افسوسناک طرزعمل

سہ روزہ ’’دعوت‘‘ دہلی ۱۶ مارچ ۲۰۱۱ء میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق مصر کے سابق مفتی اعظم ڈاکٹر نصر فرید الواصل نے بتایا ہے کہ مصر کے سابق صدر حسنی مبارک نے ان پر اسرائیل کو قدرتی گیس کی فروخت کے حق میں فتویٰ دینے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ایک عربی ٹی وی ’’الحیاۃ ‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق مصری مفتی اعظم نے کہا ہے کہ حسنی مبارک کی طرف سے ان پر کئی مرتبہ یہ دباؤ ڈالا گیا کہ وہ قاہرہ اور تل ابیب کے درمیان طے پانے والے تمام معاہدوں کے حق میں مہر تصدیق ثبت کریں اور اسلام کی رو سے انہیں جائز قرار دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۱ء

قرآن کریم کو نذر آتش کرنے کی مذموم کاروائی

امریکی پادری ٹیری جونز کی طرف سے قرآن کریم کو نذر آتش کرنے کی مذموم کاروائی کے بعد پاکستان بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جن میں ہر طبقہ کے لوگ شریک ہو رہے ہیں اور امریکی پادری کی مذمت کرتے ہوئے امریکی حکومت سے اس کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جبکہ صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری نے بھی امریکی حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس ملعون پادری کے خلاف کاروائی کرے کیونکہ اس نے یہ شرمناک حرکت کر کے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان مکافرت کو بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۱ء

قاری محمد عبد اللہؒ کی وفات

گزشتہ دنوں جامعہ نصرۃ العلوم کے شعبہ حفظ کے سابق صدر مدرس قاری محمد عبد اللہ صاحبؒ طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے پرانے ساتھی اور رفیق کار تھے، ان کا تعلق منڈیالہ تیگہ کے قریب بستی کوٹلی ناگرہ سے تھا، ان کے والد محترم حاجی عبد الکریم صاحبؒ جمعیۃ علماء اسلام کے سر گرم حضرات میں سے تھے اور مفتی شہر حضرت مولانا مفتی عبد الواحد صاحبؒ اور امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے ساتھ خصوصی تعلق رکھتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۱ء

قومی خود مختاری کا سوال اور ہماری سیاسی قیادت

مسلسل ڈرون حملوں نے تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی خود مختاری پر پہلے ہی سوالیہ نشان لگا رکھا تھا مگر شیخ اسامہ بن لادن شہید ؒ کے حوالہ سے ’’ایبٹ آباد آپریشن ‘‘نے اس سوالیہ پہلو کو اور زیادہ نمایاں کر دیا ہے اور پوری قوم وطن عزیز کی خود مختاری کی اس شرمناک پامالی پر چیخ اٹھی ہے۔ پوری قوم مضطرب ہے، بے چین ہے اور ایک ’’اتحادی‘‘ کی اس حرکت پر تلملا رہی ہے مگر حکومتی پالیسیوں کے تسلسل میں کوئی فرق دیکھنے میں نہیں آرہا اور وہ پالیسیاں جن کو ملک کی عوام نے گزشتہ الیکشن میں کھلے بندوں اپنے ووٹوں کے ذریعے مسترد کر دیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۱ء

سائنسی ایجادات، نعمت یا مصیبت؟

بھارتی پنجاب میں آئینی طور پر قائم ’’خواتین کمیشن‘‘ کی خاتون چیئر پرسن گورودیوکور سنگھ نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ: ’’تقریباً نوے فیصد نئے شادی شدہ مرد و عورت صرف اس لیے طلاق کا مطالبہ کرتے ہیں کہ لڑکا یا اس کے گھر والے سمجھتے ہیں کہ دلہن فون پر کسی دوسرے مرد سے بات کر رہی ہے جبکہ بیشتر معاملات میں حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے سسرالی معاملات میں اپنے والدین سے مشورہ کر رہی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۱ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter