قاہرہ میں صدر اوباما کا خطاب

امریکہ کے صدر جناب باراک حسین اوباما نے ۴ جون کو قاہرہ یونیورسٹی میں مسلمانوں سے خصوصی خطاب کیا ہے اور مسلمانوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ امریکہ اسلام اور مسلمانوں کا دشمن نہیں ہے اور وہ مسلمانوں اور امریکہ کے درمیان غلط فہمیاں دور کر کے منافرت کی وہ فضا ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو مسلم دنیا میں امریکہ کے بارے میں پائی جاتی ہے۔ صدر اوباما نے اس سے قبل استنبول میں بھی اسی نوعیت کا خطاب کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۹ء

امام اہلسنتؒ کی رحلت

عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی قدس اللہ سرہ العزیز کی وفات کو ابھی ایک سال ہی گزرا ہے کہ والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر نور اللہ مرقدہٗ بھی ہم سے رخصت ہو گئے ہیں، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ۵ مئی کو صبح ایک بجے کے لگ بھگ ان کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی، اس وقت قریب میں کوئی ڈاکٹر صاحب میسر نہ آئے، چند لمحے تکلیف میں رہے، ہمارے چھوٹے بھائی ڈاکٹروں کی تلاش میں رہے۔ والد محترم کے اصل معالج ڈاکٹر فضل الرحمان کو اطلاع کی گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۹ء

سوات کے حالات، قومی کمیشن قائم کیا جائے

سوات اور دیگر ملحقہ علاقوں میں آپریشن جاری ہے، آبادی کا وسیع پیمانے پر انخلا ایک مستقل مسئلہ ہے اور ہزاروں خاندان کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، سینکڑوں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں پر امن شہریوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ بظاہر پاک فوج اس خطہ میں حکومتی رٹ قائم کرنے اور مبینہ دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے لیے یہ وسیع فوجی آپریشن کر رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۹ء

مذاہب اور مذہبی اکابر کی اہانت کا حق

سہ روزہ دعوت دہلی کی یکم اپریل ۲۰۰۹ء کی اشاعت میں بتایا گیا ہے کہ: ’’جنیوا میں تقریباً ۲۰۰ افراد اور میڈیا گروپوں سے وابستہ دانشوروں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل سے کہا ہے کہ وہ اسلامی ممالک کی جانب سے پیش کی گئی اس تجویز کو مسترد کر دے جس میں انہوں نے عالمی پیمانے پر ایسا قانون تیار کرنے کی مانگ کی ہے جس کے ذریعے مذہبی رہبروں اور مختلف ادیان کی اہانت سے لوگوں کو روکا جا سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۹ء

سوات کے مظلوم عوام کا مقدمہ

۱۱ اپریل کو بادشاہی مسجد لاہور میں منعقد ہونے والی ’’قومی ختم نبوت کانفرنس‘‘ میں راقم الحروف کو بھی کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع دیا گیا لیکن میں نے کانفرنس سے خطاب کی دعوت دینے پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عرض کیا کہ کانفرنس کے موضوع پر بہت سے مقررین آپ سے خطاب کریں گے اس لیے میں اپنے معمول کے خلاف کانفرنس کے موضوع سے ہٹ کر ملک بھر سے آنے والے علماء اور دینی کارکنوں کے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۹ء

قومی ختم نبوت کانفرنس اور اس کے اہداف

۱۱ اپریل ۲۰۰۹ء کو بادشاہی مسجد لاہور میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام قومی ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت امیر مرکزیہ حضرت خواجہ خان محمد دامت برکاتہم آف کندیاں شریف کے فرزند جانشین حضرت صاحبزادہ عزیز احمد صاحب زیدمجدہم نے کی اور مختلف مکاتِب فکر کے سرکردہ علماء کرام نے کانفرنس سے خطاب کیا۔ ملک بھر سے ہزاروں علماء کرام، دینی کارکنوں اور عوام نے شریک ہو کر کانفرنس کے موضوع اور مقاصد کے ساتھ ہم آہنگی اور یکجہتی کا اظہار کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۹ء

سوات میں شرعی عدالتوں کا آغاز

مولانا صوفی محمد کے ساتھ صوبہ سرحد کی حکومت کے معاہدہ کے تحت سوات اور ملحقہ علاقوں میں شرعی عدالتوں نے کام کا آغاز کر دیا ہے اور عدالتوں میں مختلف مقامات کے فیصلے کیے گئے ہیں۔ مولانا صوفی محمد خود ان فیصلوں اور مقدمات کے نظام کی نگرانی کر رہے ہیں اور رفتہ رفتہ لوگوں کا اعتماد بحال ہوتا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۹ء

ہانگ کانگ میں مسلمانوں کی سرگرمیاں

ربیع الاول کے وسطی عشرہ میں مجھے چار پانچ روز کے لیے ہانگ کانگ جانے کا موقع ملا ۔ ہانگ کانگ مشرق بعید کا ایک اہم جزیرہ ہے جو کم و بیش ایک صدی تک برطانیہ کے زیرنگیں رہا اور ۱۹۹۷ء میں عوامی جمہوریہ چین نے اسے برطانیہ سے واپس لیا ہے۔ انیسویں صدی کے وسط میں جب پوری دنیا میں برطانیہ کا طوطی بولتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ برطانیہ عظمٰی کی سلطنت اس قدر وسیع ہے کہ اس میں سورج غروب ہی نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۹ء

مسلمان ممالک کا اسرائیل کو دہشت گرد قرار دینے پر اتفاق

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۲ فروری ۲۰۰۹ء کی خبر کے مطابق سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں گزشتہ دنوں بچوں کے بارے میں منعقد ہونے والی مسلمان ملکوں کی دوسری سالانہ بین الاقوامی کانفرنس میں ۳۶ مسلمان ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اسرائیل کو ایک دہشت گرد ملک قرار دیتے ہوئے اسے دنیا میں مسلمانوں کے اجتماعی فورم کی طرف سے دہشت گرد ملک کے طور پر متعارف کرانے کی مہم چلائی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۹ء

عالم اسلام کے خیالات اور امریکہ

روزنامہ پاکستان لاہور میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق امریکہ کی وزیر خارجہ محترمہ ہیلری کلنٹن گزشتہ روز جب انڈونیشیا کے دورے پر پہنچیں تو انڈونیشیا کے کئی شہروں میں امریکہ کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی صورت میں عوام نے امریکہ کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کیا، بلکہ انڈونیشیا کی ایک بڑی مسلمان تنظیم محمدیہ کے سر براہ جناب شمس الدین نے امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ دعوت میں شرکت کی دعوت مسترد کر کے امریکہ کو انڈونیشیا عوام کے جذبات سے باخبر کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۹ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter