دیوبندی بریلوی تصادم کی فضا پیدا کرنے کی مبینہ مہم

عالمی استعمار کے ایجنڈے کا ایک حصہ یہ ہے کہ پاکستان میں ’’صوفی اسلام‘‘ اور ’’مولوی کا اسلام‘‘ کے نام سے خودساختہ تفریق کو اجاگر کر کے قومی معاملات میں دیوبندی مکتب فکر کو کارنر کرنے کی کوشش کی جائے اور دیوبندی علماء کو عام مسلمانوں کے لیے ناقابل قبول اور اچھوت بنا دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۰ء

دینی مدارس کا قومی تعلیمی بورڈ

مغربی دنیا کے تھنک ٹینکس کا یہ تجزیہ نیا نہیں ہے کہ جنوبی ایشیا یعنی پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت میں مسلمانوں کی دین کے ساتھ گہری وابستگی اور دفاعِ اسلام کے والہانہ جذبہ کا سب سے بڑا سبب عالم اسباب میں دینی مدارس ہیں۔ اور ان میں بھی سب سے نمایاں دیوبندی مکتب فکر ہے جو دینی روایات و اقدار کے ساتھ عام مسلمانوں کی کمٹمنٹ کا مسلسل پہرہ دے رہا ہے اور مغرب کی ثقافت و فلسفہ کے ساتھ ساتھ اس کی سیاسی بالادستی اور تسلط کے خلاف بھی اس نے ہر دور میں عَلمِ بغاوت بلند کیے رکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۰ء

سعودی عرب اور پاکستان سے امت مسلمہ کی توقعات

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان آل سعود پاکستان اور بھارت کا دورہ کر کے واپس تشریف لے جا چکے ہیں اور دونوں ملکوں کے ساتھ سعودی عرب کے بہت سے معاشی معاہدات کے بعد اب اس خطہ میں نئی اقتصادی منصوبہ بندی کا آغاز ہوگیا ہے۔ پاکستان کو اپنے قیام کے وقت سے ہی سعودی عرب کی پر خلوص دوستی، معاونت بلکہ بہت سے عالمی معاملات میں شراکت حاصل رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ فروری ۲۰۱۹ء

اکابر کا تذکرہ اور ان سے راہنمائی کا حصول

گزشتہ روز (۲۳ ستمبر) مجھے دھیرکوٹ آزاد کشمیر کے جامعہ انوار العلوم میں منعقدہ ایک سیمینار میں شرکت اور گفتگو کا موقع ملا جو شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ کی وفات پر تعزیتی نشست کے طور پر منعقد ہوا تھا، اس میں آزاد کشمیر کے بہت سے علماء کرام اور دیگر طبقات کے راہنماؤں نے خطاب کیا۔ راقم الحروف نے اس سیمینار میں جو گفتگو کی اس کا صرف ایک حصہ قارئین کی نذر کر رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ ستمبر ۲۰۱۰ء

جہاد، دہشت گردی اور جد و جہد آزادی میں فرق

آزاد کشمیر کے حالیہ سفر میں مجھے ۲۲ ستمبر کو باغ کی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں وکلاء کے ساتھ گفتگو کا موقع بھی ملا۔ میری گفتگو کے بعد ایک وکیل صاحب نے دلچسپ سوال کیا کہ عام طور پر تاثر یہ ہے کہ علماء دیوبند عمومی سطح پر دہشت گردی کے خلاف بات نہیں کرتے اور دہشت گردوں کے خلاف اجتماعی فتویٰ کی حمایت نہیں کر رہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۰ء

جعلی ڈگریاں، معاشرتی ناسور

ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے ارکان اسمبلی کی ڈگریوں کی پڑتال اور جعلی ڈگریوں کی نشاندہی کا سلسلہ جاری ہے جس پر ملک کی سیاست میں ایک بھونچال کی کیفیت دکھائی دے رہی ہے۔ جعلی ڈگریوں کا یہ معاملہ صرف اسمبلیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ دیگر قومی شعبوں میں بھی اس کے اثرات نظر آرہے ہیں اور مختلف اداروں میں جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر ملازموں کی برخواستگی کی خبریں سامنے آنے لگی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۰ء

طلاق، ایک متعدی بیماری

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ میں ۷ جولائی ۲۰۱۰ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق طبی اور نفسیاتی ماہرین نے کہا ہے کہ دنیا میں طلاق ایک متعدی بیماری کی طرح پھیل رہی ہے جس کی زد میں دوست احباب، خاندان اور اپنے پرائے سب آرہے ہیں۔ اس سماجی بیماری کی طرف اگر فوری توجہ نہ دی گئی تو اس سے ذہنی اور جسمانی بیماریوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ امریکی ماہرین کی اس تحقیق کے مطابق اس وقت دنیا کے بعض خطوں میں طلاق کی شرح ۷۵ فی صد تک پہنچ چکی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۰ء

سعودی عرب میں نکاح صغیرہ کی ممانعت

روزنامہ اردو نیوز جدہ میں ۱۳ جولائی ۲۰۱۰ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق سعودی عرب کی وزارت انصاف شادی کے لیے لڑکی کی کم از کم عمر ۱۷ برس مقرر کرنے والی ہے، اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کا احتساب کیا جائے گا۔ المدینہ اخبار نے بتایا ہے کہ عدالتی مشیر ڈاکٹر صالح اللحیدان کا کہنا ہے کہ وزارت انصاف اس قرارداد کا جائزہ لے رہی ہے، جلد ہی یہ قرار داد جاری کر دی جائے گی، اس کے بموجب ۱۷ برس سے کم عمر کی لڑکی کو شادی کی اجازت نہیں ہو گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۰ء

عالم اسلام کے تکفیری گروہ ۔ خوارج کی نشاۃ ثانیہ

جدہ سے شائع ہونے والے روزنامہ اردو نیوز نے ۱۳ جولائی ۲۰۱۰ء کی اشاعت میں خبر دی ہے کہ سعودی عرب کی وزارت تعلیم و تربیت نے سعودی اسکولوں میں انتہا پسندانہ افکار پھیلانے پر دو ہزار سے زائد اساتذہ کو برطرف کر دیا ہے۔ مشیر معاون وزیر داخلہ برائے فکری سلامتی ڈاکٹر عبد الرحمن الہدیق نے یہ اطلاع دیتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ اساتذہ اسباق میں نصاب تعلیم کے اہداف و مقاصد کو پس پشت ڈال کر انتہا پسندانہ افکار اور تشدد پر مبنی خیالات پھیلا رہے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۰ء

دیوبندی مدارس اور دہشت گردی

روزنامہ جنگ ملتان کی خبر کے مطابق امریکی کانگرس کی خارجہ امور کمیٹی میں دہشت گردی سے متعلقہ سب کمیٹی کے رکن ایڈورکسے نے کہا ہے کہ ہم نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ دیوبندی مدارس کو بند کرے کیونکہ وہ گریجویٹ دہشت گردوں کی کھیپ پیدا کر رہے ہیں اور امریکہ اور بھارت جیسے جمہوری ملکوں پر حملوں کے لیے دہشت گرد تیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ۸۰۰ دیوبندی مدارس ہیں جن کا جہاد پر فوکس ہے اور یہ مدارس نوجوانوں کو بنیاد پرستی کی تعلیم اور دہشت گرد حملوں کی تربیت دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۰ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter