مولانا فضل الرحمان کیا کر رہے ہیں؟

ان دنوں جہاں بھی جا رہا ہوں ایک سوال کا کم و بیش ہر جگہ سامنا کرنا پڑ رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کیا کر رہے ہیں اور ان کا رخ کدھر ہے؟ میرا جواب عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ رخ تو ان کا صحیح سمت ہی ہے البتہ رفتار اور لہجے کے بارے میں کبھی کبھی سوچنے لگ جاتا ہوں کہ کیا وہ ضرورت سے زائد تو نہیں ہے؟ ہماری مقتدر قوتوں اور میڈیا دونوں کی یہ مجبوری چلی آرہی ہے کہ ہر الیکشن سے پہلے وہ اس بات کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ قومی سیاست میں دینی حلقوں کے تناسب کو کم سے کم کرنے کا ماحول پیدا کیا جائے، مکمل تحریر

۹ فروری ۲۰۱۹ء

حضرت علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کا مشن

حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود ان دنوں پاکستان تشریف لائے ہوئے ہیں اور جامعہ اشرفیہ لاہور میں دورۂ حدیث شریف کے طلبہ کو بخاری شریف کے اسباق پڑھانے کے علاوہ مختلف علماء کرام سے ملاقاتوں اور دینی و قومی معاملات میں گفتگو اور راہنمائی کے کاموں میں مصروف ہیں۔ گزشتہ شب مولانا عبد الرؤف فاروقی، قاری محمد عثمان رمضان اور اپنے دو پوتوں ہلال خان اور ابدال خان کے ہمراہ جامعہ اشرفیہ حاضر ہوا تو بہت خوشی کا اظہار کیا اور دعاؤں سے نوازا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ فروری ۲۰۱۹ء

صدر قذافی کا جنرل اسمبلی سے خطاب

لیبیا کے صدر معمر القذافی نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا جو ان کے چالیس سالہ دور اقتدار میں اس عالمی فورم پر ان کا پہلا خطاب تھا۔ انہوں نے مغربی ملکوں کی پالیسیوں اور اقوام متحدہ کے کردار پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیل کی طرفداری کر رہے ہیں اور انہوں نے عراق اور افغانستان پر ناجائز فوج کشی کی ہے، انہوں نے سوال کیا کہ اگر وٹیکن میں مذہبی ریاست ہو سکتی ہے تو طالبان کی مذہبی حکومت کو کیوں برداشت نہیں کیا جا رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۹ء

خونی انقلاب، معاشی انصاف اور جعلی نظام

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۹ ستمبر ۲۰۰۹ء کی ایک خبر کے مطابق پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف نے ایوان کارکنان میں یوم پاکستان کے سلسلہ میں منعقد ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خونی انقلاب ہر گھر کے دروازے پر دستک دے رہا ہے اگر حکمرانوں نے عوام کے لیے روٹی، تعلیم، معاشی و معاشرتی انصاف کا انتظام نہ کیا تو عوام اس جعلی نظام کو زمین بوس کر دیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۹ء

توہین رسالتؐ پر سزا کا قانون پھر موضوع بحث

توہین رسالت پر موت کی سزا کا قانون اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا دستوری فیصلہ ایک بار پھر قومی سیاست میں موضوع بحث بنے ہوئے ہیں اور مختلف اطراف سے ان پر اظہارِ خیال کا سلسلہ جاری ہے ۔ متحدہ قومی موومنٹ کے سر براہ الطاف حسین نے ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں قادیانیوں کو مظلوم قرار دیتے ہوئے ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۹ء

معراج النبیؐ: ایک سبق، ایک پیغام

معراج اور اسراء جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سے ہیں۔ اسراء اس سفر کو کہتے ہیں جو نبی اکرمؐ نے مسجد حرام سے مسجد اقصٰی تک کیا، اور معراج وہ سفر ہے جو زمین سے ساتوں آسمانوں اور اس سے آگے سدرۃ المنتہیٰ تک ہوا، اور اس میں رسالتمآبؐ نے سات آسمانوں، عرش و کرسی اور جنت و دوزخ کے بہت سے مناظر دیکھے جن کا تذکرہ قرآن کریم میں بھی ہے اور سینکڑوں احادیث میں ان کی تفصیلات مذکور ہیں۔ عام طور پر روایات میں آتا ہے کہ یہ دونوں سفر ایک ہی رات میں ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جولائی ۲۰۰۹ء

اسرائیل کی ہٹ دھرمی اور مغربی دنیا

ہفت روزہ اردو ٹائمز نیویارک کے ۱۳ اگست ۲۰۰۹ء کے شمارہ میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق اسرائیلی وزیر خارجہ اویگڈر لیبرمین نے امریکی کانگریس کے ارکان سے بات چیت کرتے ہوئے امن مذاکرات کے لیے فلسطینی مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن معاہدہ محض ایک تخیل ہے اور اس سلسلہ میں اسرائیلی پالیسی حقائق پر مبنی ہے، انہوں نے کہا کہ البتہ امن مذاکرات سے فلسطین کی اقتصادی اور سیکیورٹی صورت میں بہتری آ سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۹ء

مغرب میں قبولِ اسلام کا بڑھتا ہوا رجحان

بی بی سی کے سابق ڈائریکٹر جنرل لارڈ برٹ کے بیٹے جوناتھن برٹ نے کچھ عرصہ قبل اسلام قبول کیا تھا اور اب وہ یحییٰ برٹ کے نام سے اسلام کی دعوت و تبلیغ کے کام میں مصروف ہیں۔چند سال قبل لندن میں ورلڈ اسلامک فورم کی طرف سے یحییٰ برٹ کے اعزاز میں ایک فکری نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں مولانا محمد عیسٰی منصوری اور دیگر حضرات کے علاوہ راقم الحروف نے بھی شرکت کی، اس نشست میں یحییٰ برٹ نے اپنے قبولِ اسلام کا واقعہ اور اس کے بعد کے تاثرات بیان کیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۹ء

امریکہ میں مسلمانوں کی سر گرمیاں

میں اٹھارہ جولائی سے امریکہ میں ہوں اور تین ستمبر تک گوجرانوالہ واپس پہنچنے کا ارادہ ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔جامعہ نصرۃ العلوم میں سالانہ امتحان اور جلسہ دستار بندی کے بعد امریکہ آجاتا ہوں اور کم و بیش ایک ’’چلہ‘‘ یہاں گزر جاتا ہے، مختلف مقامات پر دینی مدارس اور مساجد میں حاضری ہوتی ہے اور مسلمان بھائیوں کے ساتھ دینی موضوعات پر گفتگو کا موقع بھی مل جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۹ء

سوات آپریشن کے متاثرین کی امداد اور دینی مدارس

گزشتہ دنوں ایک روز کے لیے کراچی جانے کا اتفاق ہوا اور جامعہ دار العلوم کورنگی، جامعہ اسلامیہ کلفٹن اور جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن کی مختلف علمی نشستوں میں شرکت کے ساتھ ساتھ کراچی کے مختلف دینی اداروں کی طرف سے سوات آپریشن کے متاثرین کی امداد کی سر گرمیوں کے بارے میں معلومات بھی حاصل کیں اور بے حد خوشی ہوئی کہ ہمارے بڑے دینی مدارس اپنے مظلوم اور متاثر بھائیوں کی امداد اور بحالی کے لیے پوری دلچسپی کے ساتھ سر گرم عمل ہیں، مجھے بتایا گیا کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۹ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter